وَ قَالَتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ(۷۲)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور کتابیوں کا ایک گروہ بولا وہ جو ایمان والوں پر اترا صبح کو اس پر ایمان لاؤ اور شام کو منکر ہوجاؤ شاید وہ پھر جائیں۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور کتابیوں کے ایک گروہ نے کہا : جو ایمان والوں پرنازل ہوا ہے صبح کو اس پر ایمان لاؤ اور شام کو انکار کردو۔ ہوسکتا ہے (کہ اس طرح مسلمان بھی اسلام سے) پھر جائیں۔

{وَ قَالَتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ: اور کتابیوں کے ایک گروہ نے کہا۔} یہودی اسلام کی مخالفت میں رات دن نئی نئی سازشیں کیا کرتے تھے۔ خیبرکے بارہ یہودی علماء نے آپس میں مشورہ کرکے یہ سازش تیار کی کہ ان کی ایک جماعت صبح کے وقت اسلام لے آئے اور شام کو مرتد ہوجائے اور لوگوں سے کہے کہ ہم نے اپنی کتابوں میں جو دیکھا تو ثابت ہوا کہ محمد مصطفٰی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ وہ نبی نہیں ہیں جن کی ہماری کتابوں میں خبر ہے تاکہ اس حرکت سے مسلمانوں کواپنے دین میں شبہ پیدا ہوجائے اور یہ اپنے دین سے پھر جائیں(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۷۲، ۱ / ۲۶۲-۲۶۳)

لیکن اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرما کر ان کا یہ راز فاش کردیا اور ان کا یہ مکر نہ چل سکا اور مسلمان پہلے سے خبردار ہوگئے۔ اس بات سے باخبر رہنا چاہیے کہ کافروں کی طرف سے سازشوں کاسلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ آج بھی ایسی سازشیں پکڑی جاتی ہیں کہ جھوٹی فلموں ، جھوٹی رپورٹوں اور جھوٹی تصویروں کے ذریعے لوگوں کو اسلام سے مُتَنَفِّر کیا جاتا ہے۔ اس وقت کفار میڈیا کو اس مقصد کیلئے بطورِ خاص استعمال کررہے ہیں۔