بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ(۷۶)

ترجمۂ  کنزالایمان: ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا عہد پورا کیا اور پرہیزگاری کی اور بیشک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: کیوں نہیں ، جو اپنا وعدہ پورا کرے اور پرہیزگاری اختیارکرے توبیشک اللہ پرہیزگاروں سے محبت فرماتا ہے۔

{بَلٰى: کیوں نہیں۔} یہودیوں کی بات کہ’’ دوسرے مذہب والوں سے بددیانتی کرنے پران سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی‘ ‘ بیان کی گئی ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنا قانون بیان فرمادیا کہ دوسروں سے بددیانتی کرنے پر پوچھ گچھ کیوں نہیں ہوگی؟ وعدہ پورا کرنا اور امانت کا ادا کرنا دونوں چیزیں پرہیزگاری کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور پرہیزگاری اللہ تعالٰی کو نہایت محبوب ہے تو جواللہ تعالٰی کی پسند پر چلے گا وہ اللہ تعالٰی کا محبوب بنے گا اور جو اللہ تعالٰی کی پسند کی مخالفت کرے گا اس پر ضرور مواخذہ کیا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو کسی سے وعدہ کیا جائے اسے ضرور پورا کیا جائے خواہ رب عَزَّوَجَلَّ سے کیا ہو یا عام انسانوں سے یا نبی سے یا اپنے پیر سے یا بوقت نکاح بیوی سے یا کسی اور عزیز سے۔