اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ(۸۳)

ترجمۂ  کنزالایمان: تو کیا اللہ کے دین کے سوا اور دین چاہتے ہیں اور اسی کے حضور گردن رکھے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے اور مجبوری سے اور اُسی کی طرف پھریں گے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: کیا لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کوئی اور دین چاہتے ہیں حالانکہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کوئی بھی ہے وہ سب خوشی سے یا مجبوری سے اسی کی بارگاہ میں گردن جھکائے ہوئے ہیں اور سب کو اسی کی طرف لوٹایا جائے گا۔

{اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ: کیا اللہ کے دین کے علاوہ دین چاہتے ہیں۔}ارشاد فرمایا کہ’’ کیا لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین کے علاوہ کوئی اور دین چاہتے ہیں حالانکہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کوئی بھی ہے فرشتے، انسان اور جنات وہ سب کے سب خوشی سے یا مجبوری سے اسی کی بارگاہ میں جھکے ہوئے ہیں۔ فرشتے تو یوں خوشی سے فرمانبردار ہیں کہ اللہ تعالٰی نے انہیں پیدا ہی معصومیت پر کیا ہے اور مسلمان جن اور انسان اس طرح کہ  دلائل میں نظر کرکے اور انصاف اختیار کرکے فرمانبردار ہیں اور یہ اطاعت و فرمانبرداری مفید بھی ہے جبکہ کافر کسی خوف یا موت کے وقت عذاب دیکھ لینے کے وقت گردن جھکادیتا ہے لیکن اس وقت کا ایمان قیامت میں نفع نہ دے گا۔