وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُۚ-وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۸۵)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں سے ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اوردین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

{وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا:اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اوردین چاہے گا ۔} اللہ تعالٰی نے واضح طور قرآن پاک میں کئی جگہ فرمادیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک پسندیدہ دین صرف اسلام ہے اور اسلام کے علاوہ کوئی دین اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں اس زمانے میں معتبر نہیں۔ اسلام کے علاوہ کوئی کسی دین کی اخلاقی باتوں پر جتنا چاہے عمل کرلے جب تک مکمل طور پر بطورِ عقیدہ اسلام کو اختیار نہیں کرے گا اس کا کوئی عمل بارگاہِ الہٰی میں مقبول نہیں اور اب اسلام سے مراد وہ دین ہے جسے حضرت محمد مصطفٰی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ لے کر آئے۔