اُولٰٓىٕكَ جَزَآؤُهُمْ اَنَّ عَلَیْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىٕكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ(۸۷) خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَۙ(۸۸) اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا۫-فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۸۹)

ترجمۂ  کنزالایمان: ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں کی سب کی۔ ہمیشہ اس میں رہیں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہواور نہ انہیں مہلت دی جائے۔ مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور آپاسنبھالا تو ضرور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: یہی وہ لوگ ہیں جن کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور انسانوں سب کی لعنت ہے۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے، نہ ان سے عذاب ہلکا ہو گااور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے کفر کے بعد توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کرلی تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

{اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ: مگر جنہوں نے کفر کے بعدتوبہ کرلی۔} حارث بن سُوَید انصاری کو کفارکے ساتھ جا ملنے کے بعد ندامت ہوئی تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس پیغام بھیجا کہ سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے دریافت کریں کہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ،تب وہ مدینہ منورہ میں تائب ہو کر حاضر ہوئےاور سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔(در منثور، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۸۹، ۲ / ۲۵۷)

                یاد رہے کہ توبہ ہرگناہ سے مقبول ہے حتّٰی کہ اِرْتِداد سے بھی توبہ قبول ہے۔