اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ(۹۰)

ترجمۂ  کنزالایمان: بیشک وہ جو ایمان لاکر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور وہی ہیں بہکے ہوئے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے پھر کفر میں اور بڑھ گئے تو ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ: بیشک وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے۔} یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے کے بعد حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور انجیل کے ساتھ کفر کیا ،پھر کفر میں اور بڑھے اور سیدُ الانبیاء محمد مصطفٰی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور قرآن کے ساتھ کفر کیا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں نازل ہوئی جورسولِ اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بعثت سے پہلے تو اپنی کتابوں میں آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت و صفت دیکھ کر آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان رکھتے تھے اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ظہور کے بعد کافر ہوگئے اور پھر کفر میں اور شدید ہوگئے۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۹۰، ۱ / ۲۷۰)

  ایمان و کفر میں شدت کی کیفیت کے اعتبار سے کمی زیادتی ہوتی ہے، جیسے قرآن پاک میں بکثرت ایمان میں اضافہ ہونے کی آیات ہیں ، اسی طرح کفر میں شدت کی آیات بھی ہیں۔ یہ آیات اس معنیٰ میں ہے کہ کسی کا ایمان زیادہ قوی اور مضبوط ہوتا ہے جبکہ کسی کا ایمان کمزور ہوتا ہے یونہی کسی کا کفرزیادہ شدید ہوتا ہے اورکسی کا کم شدت والا ہوتا ہے۔ آیت میں فرمایا کہ’’ جو کفر کرے اور اس میں بڑھتا جائے اس کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی‘‘ اس کا یاتو یہ معنیٰ ہے کہ ’’ان کی معافی نہیں ،کیونکہ یہ توبہ ہی نہیں کرتے یا یہ معنیٰ ہے کہ’’ ان کی توبہ مقبول نہیں ، کیونکہ ان کی توبہ دل سے نہیں بلکہ منافقانہ ہوتی ہے ، دل میں کفر بھرا ہوتا ہے اور زبان سے توبہ کررہے ہوتے ہیں ایسی توبہ ہرگز قبول نہیں۔ البتہ جو توبہ دل سے کی جائے وہ ضرور مقبول ہے۔