وَمَا یَفْعَلُوۡا مِنْ خَیۡرٍ فَلَنۡ یُّکْفَرُوْہُؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌۢ بِالْمُتَّقِیۡنَ﴿۱۱۵﴾

ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ جو بھلائی کریں ان کا حق نہ مارا جائے گا اور اللہ کو معلوم ہیں ڈر والے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہ لوگ جونیک کام کرتے ہیں ہرگز اِن کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ ڈرنے والوں کو جانتا ہے۔

{ فَلَنۡ یُّکْفَرُوْہُ:ہرگز اِن کی ناقدری نہیں کی جائے گی ۔} یہودیوں نے حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے ساتھیوں سے کہا تھا کہ تم دین اسلام قبول کرکے خسارے میں پڑے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی کہ وہ تو بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں بلند درجات کے مستحق ہوئے اور وہ تو اپنی نیکیوں کی جزا پائیں گے جبکہ یہودیوں کی گفتگو بے معنیٰ ہے۔