وَمَا جَعَلَہُ اللہُ اِلَّا بُشْرٰی لَکُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوۡبُکُمۡ بِہٖؕ وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنۡدِ اللہِ الْعَزِیۡزِ الْحَکِیۡمِ﴿۱۲۶﴾ۙ

ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ فتح اللہ نے نہ کی مگر تمہاری خوشی کے لئے اور اسی لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے اور مدد نہیں مگر اللہ غالب حکمت والے کے پاس سے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ نے اس امداد کو صرف تمہاری خوشی کے لئے کیا اور اس لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے اور مدد صرف اللہ کی طرف سے ہوتی ہے جو زبردست ہے حکمت والا ہے۔

{ وَمَا جَعَلَہُ اللہُ اِلَّا بُشْرٰی لَکُمْ: اور اللہ نے اس امداد کو صرف تمہاری خوشی کے لئے کیا۔} فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اتار کر جو تمہاری مدد فرمائی وہ صرف تمہاری خوشی کے لئے کی اور اس لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو اطمینان نصیب ہواور دشمن کی کثرت اور اپنی قِلَّت سے تمہیں پریشانی او ربے قراری نہ ہو ۔ مسلمانوں کو ویسے ہی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حقیقی مدد اسباب سے نہیں بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہوتی ہے لہٰذا چاہئے کہ بندہ صرف اَسباب پر نہیں بلکہ مُسَبِّبُ الاسباب پر نظر رکھے اور اسی پر توکل کرے۔

صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی عظمت:

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی خوشی اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے کہ ان کی خوشی کیلئے ان کی مدد کی گئی۔