لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمْرِ شَیۡءٌ اَوْ یَتُوۡبَ عَلَیۡہِمْ اَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَاِنَّہُمْ ظٰلِمُوۡنَ﴿۱۲۸﴾ وَلِلہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرْضِؕ یَغْفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَیُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۱۲۹﴾٪ 

ترجمۂ کنزالایمان: یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں یا انہیں توبہ کی توفیق دے یا ان پر عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں۔اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے حبیب! آپ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ، اللہ چاہے تو انہیں توبہ کی توفیق دیدے اور چاہے توانہیں عذاب میں ڈال دے کیونکہ یہ ظالم ہیں۔ اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

{ لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمْرِ شَیۡءٌ: اے حبیب! آپ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔} ہجرت کے چوتھے سال صفر کے مہینے میں سرکارِ عالی وقارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ستر قاری صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو مکہ اور عسفان کے درمیان ایک جگہ بئر معونہ کی طرف بھیجا تاکہ وہاں لوگوں کو قرآنِ پاک اور دینی مسائل کی تعلیم دیں ، عامر بن طفیل نے دھوکے سے انہیں شہید کر دیا، ان کافروں کے خلاف حضور سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے بربادی کی دعا کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو روک دیا، اس کے متعلق یہ آیتِ کریمہ اتری ۔(صاوی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۲۸، ۱/۳۱۱-۳۱۲، مدارک، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۲۸، ص۱۸۴، ملتقطاً)

اور فرمادیا گیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ان کیلئے کوئی دعا نہ کریں۔ ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں ، اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں توبہ کی توفیق دے اور چاہے تو عذاب دے۔ یہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی وہ مبارک تربیت ہے جو ربُّ العالَمین عَزَّوَجَلَّ نے خود فرمائی اور ہرجگہ اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی کامل رہنمائی فرمائی۔