فَمَنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ الْکَذِبَ مِنۡۢ بَعْدِ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴿۹۴﴾

ترجمۂ کنزالایمان:تو اس کے بعد جو اللہ پر جھوٹ باندھے تو وہی ظالم ہیں

ترجمۂ کنزالعرفان:پھر اس کے بعد بھی جو اللہ پر جھوٹ باندھے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔

فَمَنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ الْکَذِبَ: پھر جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔} یعنی اس بات کی وضاحت تو ہوگئی کہ بنی اسرائیل پر جو کچھ کھانے حرام ہیں یہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام سے نہیں ہیں بلکہ بعد میں حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حرام کرنے سے ہوئے، تو جو اِس حقیقت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے اور کہے کہ’’ ملتِ ابراہیمی میں اونٹوں کے گوشت اور دودھ اللہ تعالیٰ نے حرام کئے تھے‘‘ وہ ظالم ہے۔اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علم کے باوجود گناہ کرنا زیادہ سخت ہے نیز حلال کو اپنی طرف سے بلا دلیل حرام کہنا اللہ تعالیٰ پر اِفتراء کرنا ہے۔