قُلْ یٰۤاَہۡلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوۡنَہَا عِوَجًا وَّ اَنۡتُمْ شُہَدَآءُؕ وَمَا اللہُ بِغٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوۡنَ﴿۹۹﴾ 

ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ اے کتابیو کیوں اللہکی راہ سے روکتے ہو اسے جو ایمان لائے اسے ٹیڑھا کیا چاہتے ہو اور تم خود اس پر گواہ ہو اور اللہ تمہارے کوتکوں سے بے خبر نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ :اے اہلِ کتاب! تم ایمان لانے والوں کو اللہ کے راستے سے کیوں روکتے ہو ؟تم ان میں بھی ٹیڑھا پن چاہتے ہو حالانکہ تم خود اس پر گواہ ہو اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔

{ قُلْ یٰۤاَہۡلَ الْکِتٰبِ: تم فرماؤ :اے اہلِ کتاب!} اس آیت میں بھی اہلِ کتاب ہی سے خطاب ہے کہ’’ اے اہلِ کتاب! تم ان لوگوں کو جن کے دلوں میں ابھی ایمان مضبوط نہیں ہوا، انہیں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی شان میں توریت کی آیتیں چھپا کر اور یہ کہہ کر کیوں بہکاتے ہو کہ’’ یہ وہ نبی نہیں جن کی خبر توریت و انجیل میں ہے۔یہ کہہ کرتم انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے راستے سے کیوں روکتے ہو؟ حالانکہ تم خود اس بات کے گواہ ہو کہ سید ِدو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی شان توریت میں لکھی ہوئی ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں جو دین مقبول ہے وہ صرف دین اسلام ہی ہے۔