أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاقۡصِدۡ فِىۡ مَشۡيِكَ وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ‌ؕ اِنَّ اَنۡكَرَ الۡاَصۡوَاتِ لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ۞

 ترجمہ:

اور اپنی رفتار درمیانہ رکھنا ‘ اور اپنی آواز پست رکھنا ‘ بیشک تمام آوازوں میں سب سے بری آواز گدھے کی ہے

آہستگی سے چلنے کی فضیلت اور بھاگ کر چلنے کی مذمت 

اس کے بعد فرمایا : اور اپنی رفتار درمیانہ رکھنا ‘ اور اپنی آواز پست رکھنا ‘ بیشک تمام آوازوں میں سب سے بری آواز گدھے کی ہے۔ (لقمان : ١٩)

اس آیت میں قصد کا لفظ ہے اور قصد کا معنی ہے متوسطذ اسی لفظ سے اقتصاد بنا ہے ‘ اس کا محمل یہ ہے کہ بہت تیز چلو نہ بہت آہستہ چلو ‘ حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جلدی جلدی چلنے سے مومن کی رونق (اور وقار) چلی جاتی ہے۔ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ (حلیۃ الاولیاء ج ١٠ ص ٢٩٠‘ مسند الفردوس ٣٣٢٥‘ الکامل لابن عدی ج ٥ ص ١٣‘ کنز العمال رقم الحدیث : ٤١٦٢٠‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٤٦٨٩‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٢٩٦٥ )

اس حدیث میں جو جلدی جلدی چلنے کی مذمت کی گئی اس سے مراد ہے اتنا تیز تیز چلنا جو بھاگنے کے مشابہ ہو ‘ کیونکہ بعض احادیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھی تیز تیز چلنے کا ذکر ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا ‘ آپ کا چہرہ آفتاب کی مانند تھا اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ کسی کو تیز چلتے ہوئے نہیں دیکھا گو یا کہ آپ کے لیے زمین کو لپیٹا جارہا ہو ‘ ہم (تیز چلنے سے) اپنے آپ کو تھکادیتے تھے اور آپ کو پرواہ نہیں ہوتی تھی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٦٤٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٨٠۔ ٣٥٠‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٣٠٩‘ شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٦٤٩‘ الکامل لا بن عدی ج ٣ ص ١٠١٣‘ قدیم)

گدھے کی آواز کی مذمت اور مرغ کی بانگ کی فضیلت 

نیز فرمایا اور اپنی آواز کو پست رکھنا ‘ یعنی ضرورت سے زیادہ آواز بلند کر کے مشقت نہ اٹھا نا ‘ اور گلاپھاڑ کر نہ چلانا ‘ کیونکہ اس سے تمہیں بھی تکلیف ہوگی اور سننے والے کو بھی تکلیف ہوگی ‘ بعض اوقات بہت بلند آواز اور ہولناک چیخ کانوں کے پردوں کو پھاڑ دیتی ہے۔

پھر فرمایا : بیشک تمام آوازوں میں سب سے بری آواز گدھے کی ہے۔

جب کسی کو بہت ملامت کی جائے اور اس کی زیادہ مذمت کی جائے تو اس کی گدھے کے ساتھ مثال دی جاتی ہے ‘ بعض لوگ گدھوں پر سواری کرنے کی بہ نسبت پیدل چالنے کو ترجیح دیتے ہیں ‘ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو دراز گوش پر سواری کرتے تھے وہ آپ کی تواضع اور انکسار پر محمول ہے اور جو آپ کی سواری کو کم تر خیال کرے وہ گدھے سے زیادہ ذلیل ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم مرغ کی بانگ سونو تو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو کیونکہ وہ فرشتے کو دیکھتا ہے ‘ اور جب تم گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو کیونکہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٠٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٢٩‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥١٠٢‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٤٥٩‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٣٩١‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٨٠٥٠ )

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

چونکہ مرغ بانگ دیتے ہوئے فرشتے کو دیکھتا ہے اسی لیے یہ حکم ہے کہ مرغ کی بانگ سن کر دعا کرو تاکہ فرشتے اس دعا پر آمین کہیں ‘ اور اس کے لیے استغفار کریں ‘ اور اس کے عجز اور اخلاص کی شہادت دیں ‘ اور اس کی دعا قبول ہو اور اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ نیک لوگوں کے آنے کے وقت جو دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے ‘ اور امام ابن حبان نے حضرت زید بن خالد جہنی سیروایت کی ہے : کہ مرغ کو برانہ کہو کیونکہ وہ نماز کی طرف بلاتا ہے۔ (صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٧٣١) اور امام بزار نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک مرغ نے بانگ دی تو ایک شخص نے کہا : اے اللہ ! اس پر لعنت کر ‘ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایسا نہ کہو یہ نماز کی طرف بلارہا ہے ‘ اور مرغ میں یہ خاصیت ہے کہ وہ نماز فجر سے پہلے بانگ دیتا ہے خواہ رات لمبی ہو یا چھوٹی ‘ اور اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرغ میں ادراک پیدا کیا ہے کہ وہ فرشتہ کو دیکھ لیتا ہے اور گدھے میں ادراک پیدا کیا ہے وہ شیطان کو دیکھ لیتا ہے ‘ گدھے کے چیخنے کے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا حکم دیا کیونکہ اس وقت وہاں شیطان موجود ہے لہٰذا اس کے شر سے پناہ طلب کی جائے۔ حضرت ابو رافع (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گدھا اس وقت تک نہیں چیختا جب تک کہ شیطان کو نہ دیکھے یا اس کے لیے شیطان متمثل نہ ہو ‘ اور جب ایسا ہو تو تم اللہ کو یاد کرو اور مجھ پر صلوٰۃ (درود شریف) پڑھو۔

دائودی نے کہا ہے کہ انسان کو مرغ سے پانچ چیزیں سیکھنی چاہئیں ‘ خوش آوازی ‘ سحری کے وقت اٹھنا ‘ سخاوت ‘ غیرت اور کثرت نکاح۔ ( عمدۃ القاری ج ١٥ ص ٢٦٥‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 19