أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ جَاهَدٰكَ عَلٰٓى اَنۡ تُشۡرِكَ بِىۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا‌ وَصَاحِبۡهُمَا فِى الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا‌ۖ وَّاتَّبِعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَىَّ ‌ۚ ثُمَّ اِلَىَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر وہ تجھ پر یہ دبائو ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اس کو شریک قرار دے جس کا تجھے علم نہیں ہے تو ان کی اطاعت نہ کرنا اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور اس کے طریقہ کی پیروی کرنا جس نے میری طرف رجوع کیا ہو ‘ پھر تم سب نے میری ہی طرف لوٹنا ہے سو میں تم کو ان کاموں کی خبر دوں گا جو تم کرتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر وہ تجھ پر یہ دبائو ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اس کو شریک قرار دے جس کا تجھے علم نہیں ہے تو تو ان کی اطاعت نہ کرنا ‘ اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا ‘ اور اس کے طریقہ کی پیروی کرنا جس نے میری طرف رجوع کیا ہو ‘ پھر تم سب نے میری ہی طرف لوٹنا ہے پھر میں تم کو ان کاموں کی خبردوں گا جو تم کرتے تھے (لقمان : ١٥)

کافر ماں باپ کی خدمت کرنے کا استحسان 

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ اگر کسی شخص کے ماں باپ کافر ہوں اور تنگ دست ہوں تو اس کو چاہیے کہ جہاں تک اس کے لیے ممکن ہو وہ ان کی مالی امداد کر کے ان کی خدمت کرتا رہے۔

حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق (رض) بیان کرتی ہیں کہ ان کے پاس ان کی ماں آئیں اور وہ مشرکہ تھیں ‘ اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین سے معاہدہ کیا ہوا تھا اور ان کی ماں کے والد سے بھی معاہدہ تھا ‘ وہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ مسئلہ معلوم کیا اور میں نے کہا میری ماں میرے پاس آئی ہے اور وہ اسلام سے اعراض کرنے والی ہے ! آپ نے فرمایا تم اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحم کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٧٩‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٦٦٨‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٠٣)

روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میری ماں بوڑھی ہوگئی ہے ‘ میں اس کو اپنے ہاتھ سے کھلاتا ہوں اور اپنے ہاتھ سے پلاتا ہوں اور اپنے ہاتھ سے وضو کراتا ہوں ‘ اور اس کو اپنے کندھے پر سوار کر کے لے جاتا ہوں ‘ آیا میں نے اس کا حق ادا کردیا ؟ آپ نے فرمایا نہیں ! یہ تو سو میں سے ایک بھی نہیں ہے ‘ اس نے پوچھا کیوں ؟ یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا : اس لیے کہ اس نے تمہاری خدمت اس وقت کی جب تم کمزور تھے اور وہ چاہتی تھی کہ تم زندہ رہو اور تم اس کی خدمت کرتے ہو اور یہ چاہتے ہو کہ وہ مرجائے ! لیکن بہر حال تم نیک عمل کررہے ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے کم عمل پر زیادہ اجر وثواب عطا فرمائے گا۔ ( روح البیان ج ٧ ص ٩٧‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت : ١٤٢١ ھ)

اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کا مصداق 

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اس کے طریقہ کی پیروی کرنا جس نے میری طرف رجوع کیا ہو۔

یہ آیت بھی انسان کو وصیت کرنے کے سیاق میں ہے ‘ اور اس میں تمام جہان کے انسانوں کے لیے وصیت ہے ‘ اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہے وہ انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین ہیں۔ نقاش نے بیان کیا ہے کہ اس آیت میں حضرت سعد کو حکم دیا گیا ہے ‘ اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اس سے مراد حضرت ابوبکر ہیں ‘ انہوں نے بیان کیا کہ جب حضرت ابوبکر اسلام لے آئے تو ان کے پاس حضرت عبدالرحمان بن عوف ‘ حضرت عثمان اور حضرت طلحہ اور حضرت سعید اور حضرت زبیر (رض) آئے اور حضرت ابوبکر سے پوچھا : آپ نے اسلام قبول کرلیا ؟ حضرت ابوبکر نے کہا ہاں ! اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی :

امن ھو قانت انآء الیل ساجدا وقآئما یحذرالا خرۃ ویرجوا رحمۃ ربہ۔ (الزمر : ٩)

بھلا جو شخص رات کے اوقات سجدہ اور قیام میں گزارتا ہو ‘ آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتاہو !

جب یہ آیت نزل ہوئی تو پھر یہ چھ افراد اسلام لے آئے اور اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی :

والذین اجتنبوا الطا غوت ان یعبدو ھا وانا بوآ الی اللہ لہم البشری ج فبشر عباد (الزمر : ١٧) اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت کرنے سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کیا ‘ ان ہی کے لیے بشارت ہے ‘ ہو آپ میرے بندوں کو بشارت دے دیجئے۔

اور ایک قول یہ ہے کہ جنہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا ہے اس سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٤ ص ٦٢‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 15