أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمۡشِ فِى الۡاَرۡضِ مَرَحًا ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍۚ ۞

ترجمہ:

اور لوگوں سے تکبر کے ساتھ اپنا چہرہ نہ پھیرنا اور نہ زمین میں اکڑتے ہوئے چلنا ‘ بیشک اللہ کسی اکڑنے والے متکبر کو پسند نہیں کرتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حکیم لقمان نے مزید نصیحت کی) اور لوگوں سے تکبر کے ساتھ اپنا چہرہ نہ پھیرنا اور زمین میں اکڑتے ہوئے چلنا ‘ بیشک اللہ کسی اکڑنے والے متکبر کو پسند نہیں کرتا اور اپنی رفتار درمیانہ رکھنا ‘ اور اپنی آواز پست رکھنا ‘ بیشک تمام آوازوں میں سب سے بری آواز گدھے کی ہے (لقمان : ١٩۔ ١٨)

لاتصعر کا معنی 

لاتصعر کا لفظ صعر سے بنا ہے ‘ تصعیر کا معنی ہے تکبر سے گردن پھیرلینا۔ (المفردات ج ٢ ص ٦٩٩)

علامہ المبارک بن محمد ابن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

حضرت عمار (رض) کی حدیث میں ہے :

لا یلی الامر بعد فلان الا اصعر او ابتر۔ فلاں کے بعد اس حکومت کا والی ہر وہ شخص ہوگا جو ازرا ہے تکبر اپنا چہرہ پھیرنے والا ہوگا۔

نیز حدیث میں ہے : کل صعارملعون ہر وہ شخص جو تکبر کے ساتھ لوگوں سے رخ پھیرتا ہو وہ ملعون ہے۔

حضرت کعب بن مالک نے کہا فانا الیہ اصعر میں اسی کی طرف مائل ہوں۔ (صحیح مسلم ‘ التوبہ : ٥٣‘ مسند احمد ج ٣ ص ٤٥٧) (النہایہ ج ٣ ص ٢٩‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

اسی معنی میں یہ حدیث ہے :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ‘ ایک دوسرے سے حسد نہ رکھو ‘ ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو ‘ اور سب اللہ کے بندے بھائی ‘ بھائی بن جائو ‘ اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٧٦‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٥٩‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٩١٠)

ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے سے مراد ہے ‘ دشمنی رکھنا ‘ یا ایک دوسرے سے تعلق منقطع کرنا ‘ کیونکہ ایسی صورت میں انسان ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرتا ہے ‘ اور حسد کا معنی ہے کسی کی نعمت کے زوال کی تمنا کرنا ‘ اور سب اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جائو ‘ اس کا معنی ہے ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں کی طرح رہو ‘ نرمی اور دوستی رکھو اور خیر میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔ اور جو شخص تکبر کی وجہ سے کسی سے چہرے پھیرے اس میں بھی اپن نفس کو ذلت میں نہ ڈالے۔

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے نفس کی تحقیر نہ کرے۔ صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی شخص اپنے نفس کی تحقیر کیسے کرے گا ؟ آپ نے فرمایا وہ یہ جانتاہو کہ اللہ کی رضا کے لیے اس نے ایک بات کہنی ہے ‘ پھر وہ اس بات کو نہ کہے ‘ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے فرمائے گا تم کو میرے متعلق ‘ فلاں ذ فلاں بات کہنے سے کس نے منع کیا ؟ وہ کہے گا لوگوں کے خوف نے ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں اس بات کا زیادہ مستحق تھا کہ تم مجھ سے ڈرتے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٠٨‘ مسند احمد ج ٣ ص ٣٠)

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو ذلیل نہ کرے ‘ صابہ نے پوچھا وہ اپنے نفس کو کیسے ذلیل کرے گا ؟ آپ نے فرمایا وہ ایسی آزمائش کے درپے ہو جس کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٥٤‘ العلل رقم الحدیث : ٢٤٢٨ )

اور فرمایا : اور نہ زمین میں اکڑتے ہوئے چلنا۔

ابن عائذ الازدی غضیف بن الحارث سے روایت کرتے ہیں کہ میں اور عبد اللہ بن عبید بن عمیر بیت المقدس گئے اور وہاں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کے پاس جا کر بیٹھ گئے انہوں نے فرمایا کہ جب بندہ کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو وہ کہتی ہے اے ابن آدم ! تجھے کس چیز نے مجھ سے دھوکے میں رکھا ‘ کیا تو نہیں جانتا تھا کہ میں تنہائی کا گھر ہوں ! کیا تو نہیں جانتا تھا کہ میں اندھیروں کا گھر ہوں ! کیا تو نہیں جانتا تھا کہ میں برحق گھر ہوں ! اے ابن آدم ! تجھے کس چیز نے مجھ سے دھوکے میں رکھا ‘ تو مجھ پر فداد کی طرح چلتا تھا۔ ابن عائذ نے کہا میں نے غضیف سے پوچھا : اے ابو السماء ! فداد کیا چیز ہے ؟ فداد کیا چیز ہے ؟ انہوں نے کہا اے میرے بھتیجے ! جس طرح تم کبھی کبھی چلتے ہو یہ فداد کی طرح چلنا ہے ‘ ابو عبید نے کہا فداد اس کو کہتے ہیں جو بہت مال دار اور بہت تکبر کرنے والا ہو۔ (الجامع لا حکام القرآن جز ٤ ص ٦٦‘ دارلفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اپنے کپڑے کو ازراہ تکبر (ٹخنوں سے نیچے) لٹکایا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : کبھی کبھی میرے تہبذ کا ایک پلڑا (ٹخنوں سے نیچے) لٹک جاتا ہے سوا اس کے کہ میں اس کا خیال رکھوں ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ایسے لوگوں میں سے نہیں ہو جو ازراہ تکبر ایسا کرتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٦٥‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٤٨٨٤‘ عالم الکتب)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 18