أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰبُنَىَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ فَتَكُنۡ فِىۡ صَخۡرَةٍ اَوۡ فِى السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِى الۡاَرۡضِ يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

(لقمان نے کہا) اے میرے پیارے بیٹے ! اگر ایک رائی کا دانہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں یا زمنیوں میں ‘ تو اللہ اس کو لے آئے گا بیشک اللہ ہر باریکی کا جاننے والا ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (لقمان نے کہا) اے میرے پیارے بیٹے ! اگر ایک رائی کا دانہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں یازمنیوں میں تو اللہ اس کو لے آئے گا ‘ بیشک اللہ ہر باریکی کو جاننے والا ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے اے میرے بیٹے ! تم نماز کو قائم رکھنا اور نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اور تم کو جو مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا ‘ بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں (لقمان : ١٧۔ ١٦)

تلاش رزق میں اعتدال چاہیے 

اس رکوع کو اللہ تعالیٰ نے حکیم لقمان کی ‘ ان نصیحتوں سے شروع کیا تھا جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھیں اور پہلی نصیحت یہ کی تھی کہ اے بیٹے تم شرک نہ کرنا ‘ اس کے بعد دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حکیم لقمان کی نصیحتوں کے درمیان اپنے کلام کا ذکر فرمایا اور ان آیتوں میں انسان کو یہ نصیحت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے تاہم اگر وہ اس کو کسی ناجائز کام کرنے کا حکم دیں اس میں ان کی اطاعت نہ کرے ‘ اس کے بعد پھر حکیم لقمان کی نصیحتوں کا سلسلہ شروع کیا :

رائی کا دانہ بہت باریک ہوتا ہے اور انسان اس کا وزن محسوس نہیں کرسکتا اور وہ ترازو کے پلڑے کو جھکا نہیں سکتا ‘ اس کے باوجود اگر انسان کا رزق رائی کے دانے کے برابر ہو اور وہ آسمانوں میں ہو یا زمینوں میں چھپا ہو پھر بھی اللہ تعالیٰ کی عبادات سے غافل نہیں ہونا چاہیے ‘ بلکہ پہلے اللہ تعالیٰ کے فرائض اور واجبات کو ادا کرے اور پھر حصول رزق اور کسب معاش کے لیے جدوجہد کرے ‘ جیسا کہ اس آیت میں ہے :

فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ واذکرو اللہ کثیرا لعلکم تفلحون (الجمعہ : ١٠) پھر جب نماز پڑھ لی جائے تو زمین میں پھیل جائو اور (کاروبار میں) اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کا ذکر بہ کثرت کرو تاکہ تم فلاح پائو۔ (الجمعہ : ١٠)

اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ انسان یہ یقین کر کے بیٹھ جائے کہ اس کے لیے جو رزق مقدر ہوچکا ہے وہ اس تک ہرحال میں پہنچے گا اور وہ حصول رزق کے لیے کوئی سعی اور کوشش نہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح فرمائی ہے جو تجارت اور کاروبار کرنے کے لیے ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر کرتے ہیں :

واخرون یضربون فی الارض یبتغون من فضل اللہ۔ (المزمل : ٢٠) اور دوسر لوگ زمین میں سفر کرتے ہیں اور (کاروبار میں) اللہ کے فضل کو تلاش کرتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ انسان کا رزق جو اس کے لیے مقدر ہوچکا ہے وہ خواہ کہیں ہو اور خواہ ایک رائی کے دانہ کے برابر ہو وہ اس کو ملے گا اس لیے رزق کی طلب میں ڈوب کر اور دنیاوی مشغلوں میں منہمک ہو کر انسان اللہ تعالیٰ کی یاد کو اور اس کی عبادت اور اس کے احکام کی اطاعت کو فراموش نہ کرے۔

انسان کا ہر چھوٹا بڑا عمل اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم میں ہے۔

اس آیت کا دوسرا محمل یہ ہے کہ انسان کے نیک اعمال یا برے اعمال خواہ وہ رائی کے برابر ہوں اور انسان خواہ وہ عمل کسی پہاڑ کے غار میں چھپ کر کرے ‘ یا کسی زمین دوز تہ خانے میں ‘ یا کسی کھلی جگہ پر وہ عمل کرے ‘ اللہ کے علم سے اسکا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ہے ‘ اور اس کے تمام اعمال چھوٹے ہوں یا بڑے سب قیامت کے دن حاضر کردیئے جائیں گے اور انسان کو اس کے ان اعمال کے مطابق جزا یا سزادی جائے گی۔ قرآن مجید میں ہے :

فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ (الزلزال : ٨۔ ٧)

سو جس نے ایک ذرہ کے برابر (بھی) نیکی کی وہ اس (کی جزا) کو دیکھ لے گا ‘ اور جس نے ایک ذرہ کے برابر (بھی) برائی کی وہ اس (کی سزا) کو دیکھ لے گا۔

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص ایسی بند چٹان میں کوئی عمل کرے جس میں کوئی کھڑکی ہو نہ روشن دان تو اس کا وہ عمل جیسا بھی ہو اللہ اس کو لوگوں پر ظاہر کردے گا۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٢٨ طبع قدیم ‘ ج ٣ ص ٣٥‘ رقم الحدیث : ١١٢٣٦‘ دارالکتب العملیہ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ)

کیونکہ اللہ تعالیٰ لطیف اور باریک بین ہے ‘ اس کا علم سب سے پوشیدہ چیز کو بھی محیط ہوتا ہے ‘ وہ ہر چیز کی خبر رکھتا ہے حتی کہ وہ اندھیری رات میں چلنے والی چیونٹی کی حرکات و سکنات سے بھی باخبر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 16