أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ‌ ۚ وَيُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ‌ ۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِى الۡاَرۡحَامِ‌ ؕ وَمَا تَدۡرِىۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدًا‌ ؕ وَّمَا تَدۡرِىۡ نَـفۡسٌۢ بِاَىِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ۞

ترجمہ:

بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے ‘ وہی بارش نازل فرماتا ہے اور وہی (ازخود) جانتا ہے کہ (مائوں کے) رحموں میں کیا ہے اور کوئی (ازخود) نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی شخص (ازخود) نہیں جانتا کہ وہ کس جگہ مرے گا ‘ بیشک اللہ ہی بہت جاننے والا سب کی خبر رکھنے والا ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے ‘ وہی بارش نازل فرماتا ہے ‘ اور وہی (ازخود) جانتا ہے کہ (مائوں کے) رحموں میں کیا ہے ‘ اور کوئی شخص (ازخود) نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی شخص (ازخود) نہیں جانتا کہ وہ کس جگہ مرے گا ‘ بیشک اللہ ہی بہت جاننے والا سب کی خبر رکھنے والا ہے (لقمان : ٣٤)

علوم خمسہ کی نفی کی آیت کا شان نزول 

امام الحسین بن مسعود البغوی المتوفی ٥١٦ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

یہ آیت دیہاتیوں میں سے الحارث بن عمرو بن حارثہ کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر قیامت اور اس کے وقت کے متلعق سوال کیا اور کہا ہماری زمین قحط زدہ ہے ‘ پس بارش کب نازل ہوگی ؟ اور میں نے اپنی بیوی کو حاملہ چھوڑا ہے ‘ اس کے ہاں بچہ کب پیدا ہوگا ؟ اور مجھے یہ معلوم ہے کہ میں کہاں پیدا ہوا ہوں ‘ سو میں کس جگہ مروں گا ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے الخ۔

حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مفاتیح الغیب (غیب کی چابیاں) پانچ ہیں ‘ بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے ‘ وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی (ازخود) جانتا ہے کہ (مائوں کے) رحموں میں کیا ہے ‘ اور کوئی شخص (ازخود) نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی شخص (ازخود) نہیں جانتا کہ وہ کس جگہ مرے گا۔

(معالم التنزیل ج ٣ ص ٤٩٣‘ الجامع لاحکام القرآن جز ١٤ ص ٧٧‘ روح البیان ج ٧ ص ١٢٣‘ روح المعانی جز ٢١ ص ١٦٤ )

مخلوق سے علوم خمسہ کی نفی 

اس آیت میں ان علوم خمسہ کا اللہ عزوجل کی ذات مقدسہ میں انحصار بیان فرمایا ہے ‘ سو بعض علماء یہ مسلک ہے کہ ان پانچ چیزوں کا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی علم نہیں ہے۔

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ان پانچ چیزوں کا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو علم نہیں ہے ‘ انکو ‘ کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبی مرسل ‘ اور جس نے یہ عویٰ کیا کہ وہ ان پانچ چیزوں میں سے کسی کو جانتا ہے ‘ اس نے قرآن مجید کے ساتھ کفر کیا ‘ کیونکہ اس نے قرآن مجید کی مخالفت کی ‘ پھر انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ تعالیٰ کے بتلانے سے بہ کثرت غیب کا علم ہے اور اس آیت سے کاہنوں اور نجومیوں کے قول کو باطل کرنا مقصود ہے ‘ اور زیادہ تجربہ سے انسان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ عورت کے پیٹ میں مذکر کا حمل ہے یا مئونث کا ‘ اور کبھی تجربہ اور عادت کے خلاف ہوجاتا ہے اور صرف اللہ عزوجل کا علم باقی رہ جاتا ہے۔

روایت ہے کہ ایک یہودی ستاروں کے حساب کو جانتا تھا اس نے حضرت ابن عباس سے کہا اگر آپ کو آپ کے بیٹے کا ستارہ بتائوں اور یہ کہ وہ دس دن بعد مرجائے گا ‘ اور آپ موت سے پہلے نابینا ہوجائیں گے اور میں اس سال کے مکمل ہونے سے پہلے مرجائوں گا ‘ حضرت ابن عباس نے اس سے پوچھا اے یہودی تم کس جگہ مرو گے ؟ اس نے کہا یہ میں نہیں جانتا ! حضرت ابن عباس نے فرمایا اس نے سچ کہا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کون کس جگہ مرے گا ‘ حضرت ابن عباس جب لوٹ کر آئے تو ان کے بیٹے کو بخار چڑھا ہوا تھا ‘ اور وہ دس دن بعد فوت ہوگیا اور سال پورا ہونے سے پہلے وہ یہودی فوت ہوگیا اور جب حضرت ابن عباس فوت ہوئے تو اس سے پہلے نابینا ہوچکے تھے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٦٩٧‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٥١٣٣‘ عالم الکتب بیروت)

مخلوق سے علوم خمسہ کی نفی کی احادیث

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مفاتیح الغیب ہیں ان کا علم کے سوا کسی کونہیں ہے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہو اللہ کے سوا ان پیٹوں کو کوئی نہیں جانتا جو گھٹتے (یا بڑھتے ہیں اوراللہ کے سوا کوئی شخص نہیں جانتا کہ بارش کب ہوئی اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس جگہ مرے گا اور اللہ کے سوا کوئی شخص نہیں کہ قیامت کب قائم ہوگی ۔ بخاری رقم الحدیث ۴۹۹ مسند احمد بيروت)

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ‘ بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے ‘ بیشک وہی بارش کو نازل کرتا ہے ‘ وہی جانتا ہے کہ (مائوں کے) رحموں میں کیا ہے ‘ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا ‘ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس جگہ مرے گا ‘ بیشک اللہ بہت جاننے والا ‘ بےحد خبر رکھنے والا ہے۔ (اس حدیث کی سند صحیح ہے)(مسند احمد ج ٥ ص ٣٥٣ طبع قدیم ‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٢٨٨٢‘ دارالحدیث قاہرہ)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے ان پانچ چیزوں کے سوا ہر چیز کی چابیاں دی گئی ہیں ‘ بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے ‘ بیشک وہی بارش کو نازل کرتا ہے ‘ وہی جانتا ہے کہ (مائوں کے) پیٹوں میں کیا ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا ‘ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس جگہمرے گا ‘ بیشک اللہ بہت جاننے والا ‘ بےحد خبر رکھنے والا ہے (اس حدیث کی سند صحیح ہے) ۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٨٦‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٥٥٧٩)

عبداللہ بن مسلمہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا پانچ چیزوں کے سوا تمہارے نبی کو ہر چیز دی گئی ہے ‘ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے سورة لقمان کی مذکورہ آیت پڑھی (لقمان : ٣٤)(مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٣١٧١٨‘ ج ٦ ص ٣٢١ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٦ ھ)

مخلوق سے علوم خمسہ کی نفی کا محمل اور مفاتیح الغیب کا معنی 

تحقیق یہ ہے کہ بعض فرشتوں ‘ نبیوں اور خصوصاً سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ان پانچ میں سے چار چیزوں کا علم ثابت اور واقع ہے ‘ اس لیے اس آیت کا محمل یہ ہے کہ بغیر تعلیم کے اور بغیر کسی واسطے کے ان پانچ چیزوں کا علم اللہ عزوجل کے ساتھ خاص ہے ‘ اور جن احادیث میں مخلوق سے ان پانچ چیزوں کے علم کی نفی کی گئی ہے ان کا بھی یہی محمل ہے ‘ اور جن احادیث میں ان پانچ چیزوں کو مفاتیح الغیب فرمایا ہے سو مفاتیح الغیب سے مراد ہے ان پانچ چیزوں کا کلی علم بایں طور کہ ان پانچ چیزوں کی ہر ہر جزی کا علم ہو اور ان پانچ چیزوں کی کوئی جزی بھی اس علم سے خارج نہ ہو ‘ مثلاً ابتداء آفرینش سے قیامت تک تمام ہونے والی بارشوں کا علم ہو ‘ اور تمام انسانوں ‘ حیوانوں ‘ چرندوں ‘ پرندوں ‘ درندوں اور حشرات الارض کی مادائوں کے پیٹ میں کیا ہے اس کا علم ہو ‘ اور ہر جان دار کے متعلق علم ہو کہ وہ کل کیا کرے گا ‘ اور ہر جن دار کے متعلق علم ہو کہ وہ کسی جگہ مرے گا ‘ ایسا علم محیط صرف اللہ عزوجل کو ہے اور یہ علم کسی مخلوق کو نہیں دیا گیا۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا مجھے ان پانچ چیزوں کے سوا ہر چیز کی چابیاں دی گئی ہیں اسی طرح حضرت ابن مسعود نے جو فرمایا : پانچ چیزوں کے سوا تمہارے نبی کو ہر چیز دی گئی ہے ‘ اس کا یہی محمل ہے ‘ اور ان پانچ چیزوں کی چابیوں سے یعنی ان پانچ چیزوں کے علم کلی سے بعض جزئیات کا علم مخلوق کو بھی عطا کیا گیا ہے اور جس مخلوق کا جتنا زیادہ مرتبہ ہے اس کو اتنی زیادہ جزئیات کا علم دیا گیا ہے اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب سے زیادہ جزئیات کا علم دیا گیا ہے۔

بارش کے نزول کا علم 

اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ بارش کب ہوگی اس کا علم بھی صرف اللہ کو ہے اس کا بھی یہی معنی ہے کہ اس کا کلی علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے ‘ ورنہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی بارش نازل ہونے کی خبر دی ہے :

ثم یاتی من بعد ذلک عام فیہ یغاث الناس و فیہ یعصرون (یوسف : ٤٩) اس کے بعد جو سال آئے گا اس میں لوگوں پر خوب بارش نازل کی جائے گی اور اس سال انگور کا رس بھی خوب نچوڑیں گے۔

اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی بارش کے نزول کی خبردی ہیں :

امام شافعی نے کتاب الام میں اور امام ابن ابی الدنیا نے کتاب المطر میں المطلب بن حنطب سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رات اور دن کی ہر ساعت میں بارش نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے اس بارش کو لے جاتا ہے۔ (مسند شافعی ‘ بیروت ص ٨٢‘ الدر المثور ج ١ ص ٧٩‘ داراحیاء التراث العربی ‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٢١٥٩٠)

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : کوئی سال دوسرے سال سے زیادہ بارش والا نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ اس بارش کو جہاں چاہتا ہے لے جاتا ہے اور بارش کے ساتھ فلاں فلاں فرشتے نازل ہوتے ہیں اور وہ لکھتے ہیں کہ کہاں بارش ہو رہی ہے اور کس کو رزق مل رہا ہے اور اس کے قطروں سے کیا نکل رہا ہے۔ (یہ حدیث ہرچند کہ صراحتاً موقوف ہے لیکن حکماً مرفوع ہے) (المستدرک ج ٢ ص ٤٠٣‘ الدرالمثور ج ١ ص ٧٩‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٢١٦١٣)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس وقت تک قیامت واقع نہیں ہوگی جب تک اتنی زبردست بارش نہ ہو جس سے کوئی پختہ بنا ہوا گھر محفوظ رہے گا نہ خیمہ ‘ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔(مسند احمدج ٢ ص ٢٦٢ طبع قدیم ‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٧٥٥٤‘ مجمع الزوائد ج ٧ ص ٣٣١)

حضرت نواس بن سمعان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دجال اور یاجوج ماجوج کا تفصیل سے ذکر فرمایا اس کے اخیر میں ہے : پھر اللہ کے نبی اور ان کے اصحاب دعا کریں گے تب اللہ تعالیٰ یا جوج اور ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا تو صبح کو وہ یک لخت مرجائیں گے ‘ پھر اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ اور ان کے اصحاب زمین پر اتریں گے مگر زمین پر ایک بالشت برابر جگہ بھی ان کی گندگی اور بدبو سے خالی نہیں ہوگی ‘ پھر اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ اور ان کے اصحاب اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ بختی اونٹوں کی گردنوں کی مانند پرندے بھیجے گا یہ پرندے ان لاشوں کو اٹھائیں گے اور جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا وہاں پھینک دیں گے ‘ پھر اللہ ایک بارش بھیے جو زمین کو دھودے گی اور ہر گھر خواہ وہ مٹی کا بنا ہوا ہو یا کھال کا خیمہ ہو وہ آئینہ کی طرف صاف ہوجائے گا۔ الحدیث (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩٣٧‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٣٢١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٤٠‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٧٦۔ ٤٠٧٥‘ مسند احمد ج ٣ ص ٣٦٨‘ ج ٤ ص ١٨١)

مائوں کے رحم کا علم 

قرآن مجید میں ہے کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق کی بشارت دی اور حضرت سارہ کے پٹ میں لڑکے کی خبر دی : قالوا لاتخف وبشروہ بغلم علیم (الذاریات : ٢٨) فرشتوں نے کہا آپ مت ڈریں اور ان کو علم والے لڑکے کی بشارت دی۔

اس بشارت کا ذکر الحجر : ٥٣ میں بھی ہے۔

اسی طرح فرشتوں نے حضرت زکریا کو حضرت یحییٰ کی بشارت دی قرآن مجید میں ہے :

فنادتہ الملئکۃ وھو قآئم یصلی فی المحراب ان اللہ یبسرک بیحیٰ ۔ (آل عمران : ٣٩) پڑھ رہے تھے کہ آپ کو اللہ یحییٰ کی بشارت دیتا ہے۔

اور حضرت جبریل نے حضرت مریم کو پاکیزہ لڑکے کی بشارت دی اور انہوں نے یہ خبر دی کہ ان کے پیٹ میں کیا ہے :

قال انما انا رسول ربک لاھب لک غلما زکیا (مریم : ١٩)

جبریل نے کہا میں صرف آپ کے رب کا فرستادہ ہوں تاکہ آپ کو ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔

اور فرشتوں کو بتلا دیا جاتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی اور فرشتے ماں کے پیٹ میں لکھ دیتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ عزوجل نے رحم میں ایک فرشتہ مقرر کیا ہے وہ کہتا ہے اے رب ! یہ نطفہ ہے ‘ اے رب ! یہ جماہوا خون ہے ‘ اے رب ! یہ گوشت کا لوتھڑا ہے ‘ پھر جب اللہ اس کی تخلیق کا ارادہ فرماتا ہے تو فرشتہ پوچھتا ہے یہ مذکر ہے یا مؤنث ؟ یہ بدبخت ہے یا نیک بخت ؟ اس کا رزق کتنا ہے ؟

اس کی مدت حیات کتنی ہے ‘ پھر وہ ماں کے پیٹ میں لکھ دیتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣١٨‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٤٦ )

اسی طرح ہمارے نبی سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر دی کہ سیدنا فاطمہ (رض) کے ہاں حسن پیدا ہوں گے۔

قابوس بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام الفضل (رض) نے کہا یارسول اللہ ! میں نے خواب دیکھا ہے کہ ہمارے گھر میں آپ کے اعضاء میں سے ایک عضو ہے ‘ آپ نے فرمایا تم نے اچھا خواب دیکھا ہے ‘ عنقریب فاطمہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا اور تم اس کو دودھ پلائو گی ‘ پھر حضرت فاطمہ کے ہاں حضرت حسین یا حضرت حسن پیدا ہوئے اور انہوں نے حضرت قسم بن عباس کے ساتھ ان کو دودھ پلایا۔ ( سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٢٣‘ مشکوۃ المصابیح رقم الحدیث : ٦١٨٠)

حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے بھی پیٹ کی خبردی کہ ان کی بنت خارجہ سے ایک بیٹی پیدا ہونے والی ہے۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے ان کو اپنے غابہ کے مال سے بیس وسق کھجوریں عطا فرمائیں ‘ پھر جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے کہا : اے بیٹی ! مجھے اپنے بعد تمام لوگوں کی بہ نسبت تمہارا خوش حال ہونا سب سے زیادہ پسند ہے ‘ اور اپنے بعد تمہارا تنگ دست ہونا مجھ پر سب سے زیادہ شاق ہے ‘ اور میں نے تم کو درخت پر لگی ہوئی کھجوروں میں سے بیس وسق کھجوریں دی تھی ‘ اگر تم ان کھجوروں کا اندازہ کرکے درختوں سے توڑ لیتیں تو وہ تمہاری ہوجاتیں ‘ اب آج کے دن وہ وارث کا مال ہے ‘(وفات کے وقت) اور اب تمہارے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں ‘ اب تم اس مال کو کتاب اللہ کے مطابق تقسیم کرلینا ‘ حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں نے کہا : اے میرے اباجان ! اگر یہ مال اس سے بہت زیادہ بھی ہوتا تو میں اس کو چھوڑ دیتی مگر میری بہن تو صرف ایک ہے ‘ اور حضرت اسماء ہیں تو دوسری بہن کون سی ہیں ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا وہ ان کی زوجہ بنت خارجہ سے پیدا ہوں گی۔ (موطاء امام مالک رقم الحدیث : ١٥٠٣‘ تنویر الحوالک ص ٥٦٠‘ القبس ج ٣ ص ٤٧٠)

علامہ محمد بن عبدالباقی الزرقانی المتوفی ١١٢٢ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

حضرت ابوبکر صدیق کے گمان کے مطابق ان کی زوجہ بنت خارجہ سے ایک لڑکی پیدا ہوئی اس کا نام ام کلثوم تھا۔

(شرح الزرقانی علی الموطاء ج ٤ ص ٦١‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

حافظ ابو عمر ابن عبدالبر متوفی ٤٦٣ ھ نے بھی لکھا ہے کہ بنت خارجہ ان کی زوجہ تھی اس سے ایک لڑکی ام کلثوم پیدا ہوئی۔

(الاستذ کار ج ٢٢ ص ٢٩٨‘ مطبوعہ دارقنبیہ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)

کل کا اور آئندہ ہونے والے واقعات کا علم 

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے آئندہ پیش آنے والے واقعات کے سلسلے میں بتایا کہ مصر والے پہلے سات سال کا شت کاری کر کے غلہ جمع کریں ‘ پھر اس کے بعد سات سال قحط کے آئیں گے ان میں جمع شدہ غلہ کام میں لائیں گے۔ قرآن مجید میں ہے :

قال تذرعون سبع سنین دابا فما حصدتم فذروہ فی سنلہ الا قلیل مما تاکلون ثم یاتی من بعد ذلک سبع شداد یاکلن ما قدمتم لھن الا قلیلا مما تحصنون (یوسف : ٤٨۔ ٤٧ )

یوسف نے کہا تم لگاتار سات سال معمول کے مطابق کاشت کاری کرنا اور فصل کاٹ کر اس کو خوشوں میں رہنے دینا سوا اپنے کھانے کی تھوڑی سی چیزوں کے اس کے بعد سات سخت قحط کے سال آئیں گے وہ تمہارے ذخیرہ کیے ہوئے غلہ کو کھاجائیں گے سو اس تھوڑے سے غلے کے جس کی تم حفاظت کرو گے۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم سے صرف کل کی نہیں چودہ سال کی پہلے سے خبردی تھی۔

اسی طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قید خانے کے دو ساتھیوں کو ان کے انجام کے متعلق بتایا :

یصاحبی السجن امآ احدکما فیسقی ربہ خمرا واما الاخرفیصلب فتاکل الطیر من راسہ قضی الامر الذیی فیہ تستفتین (یوسف : ٤١ )

اے میرے قید خانہ کے ساتھیو ! تم دونوں میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کو شراب پلانے پر مقرر ہوجائے گا اور رہا دوسرا تو اس کو سولی دی جائے گی اور پرندے اس کا سرنوچ نوچ کر کھائیں گے ‘ تم دونوں جس چیز کے متعلق سوال کررہے تھے اس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔

اس آیت میں بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان دونوں کے مستقبل کی خبردے دی۔

اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو قیامت تک بلکہ دخول جنت اور دخول نار تک کے واقعات کی خبردے دی۔

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مقام پر کھڑے ہوئے اور ہم کو ابتداء آفرینش سے خبریں دینی شروع کیں حتیٰ کہ اہل جنت اپنی منازل میں داخل ہوگئے اور اہل نار اپنی منازل میں داخل ہوگئے جس نے یادرکھا اس نے یاد رکھا اور جس نے بھلا دیا اس نے بھلا دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣١٩٢)

اور بالخصوص کل کی خبر دیتے ہوئے آپ نے فرمایا :

لاعطین الرایۃ غدا یفتح اللہ علی یدیہ۔ کل میں جھنڈا اس کو عطا کروں گا جس کے ہاتھوں پر اللہ خیبر کو فتح کرے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٧٠١‘ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ١١٠١٥‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٤٠٦)

اور آپ نے بدر میں کفار کے مقتول ہونے کے متعلق فرمایا :

ھکذا مصرع فلان انشاء اللہ غدا۔ انشاء اللہ کل فلاں کافر اس جگہ گرے گا۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٧٣‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٠٧٣)

اور آپ نے فرمایا :

منزلنا غدا انشاء اللہ اللہ بخیف بنی کنانہ۔ کل انشاء اللہ ہماری منزل خیف بن کنانہ میں ہوگی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٥٨٩‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣١٤‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٠١١)

مرنے کی جگہ کا علم 

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے قید کے ایک ساتھی سے فرمایا تھا تمہیں سولی دی جائے گی (یوسف : ٤١) اس کا معنی یہ ہے کہ آپ نے بتادیا کہ تمہیں پھانسی کے تختہ پر موت آئے گی ‘ اس سے واضح ہوگیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس کے مرنے کی جگہ کا علم تھا۔

نیز حضرت عزرائیل (علیہ السلام) انسانوں کی روح قبض کرتے ہیں سو ان کو علم ہوتا ہے کہ انہوں نے کس شخص کی روح کس جگہ قبض کرنی ہے۔

علامہ محمود بن عمر الزمخشری الخوارزمی المتوفی ٥٣٨ ھ لکھتے ہیں :

روایت ہے کہ ملک الموت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس سے گزرے ‘ ان کی مجلس میں ایک شخص بیٹھے ہوئے تھے وہ ان میں سے ایک شخص کو گھور گھور کر دیکھ رہے تھے ‘ اس شخص نے حضرت سلیمان سے پوچھا یہ شخص کون ہے ؟ انہوں نے کہا یہ ملک الموت ہے ‘ اس نے کہا لگتا ہے کہ یہ میری روح قبض کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ‘ اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ ہوا کو حکم دیں کہ وہ مجھے اڑا کرلے جائے اور ہندوستان کے کسی شہر میں پہنچا دے ‘ حضرت سلیمان نے ایسا کردیا ‘ پھر ملک الموت نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کہا جو اس شخص کو گھور گھور کر دیکھ رہا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے اس پر تعجب تھا کہ مجھے ہندوستان کے ایک شہر میں اس کی روح قبض کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور وہ یہاں آپ کے پاس موجود تھا۔ (الکشاف ج ٣ ص ٥١٢‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

علامہ ابو البرکات نسفی متوفی ٧١٠ ھ ‘ علامہ آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ اور شیخ قنوجی متوفی ١٣٠٧ ھ ‘ نے بھی اس روایت کا ذکر کیا ہے ‘ علامہ آلوسی نے اس روایت کا مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے لیکن مصنف میں یہ روایت نہیں ہے۔(مدارک علی ھامش الخازن ج ٣ ص ٤٧٤‘ روح المعانی جز ٢١ ص ١٧٠‘ فتح البیان ج ٥ ص ٣١٢)

اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقتولین بدر کے متعلق فرمایا یہ کل فلاں کے گرنے کی جگہ ہے اور یہ کل فلاں کے گرنے کی جگہ ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٧٣‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٠٧٣)

قیامت کا علم 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیامت کی علامات بتائیں کہ قرب قیامت مہدی کا ظہور ہوگا (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٢٩٠) اور فرمایا قیامت سے پہلے دھواں نکلے گا ‘ دجال خروج ہوگا ‘ دآبۃ الارض کا ظہور ہوگا ‘ سورج مغرب سے طلوع ہوگا ‘ حضرت عیسیٰ کا نزول ہوگا ‘ یا جوج ماجوج کا ظہور ہوگا ‘ ایک بار مشرق کی زمین دھنسے گی ‘ ایک بار مغرب کی زمین دھنسے گی اور ایک بار جزیرۃ العرب کی زمین دھنسے گی ‘ اور آخر میں یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ہانک کر محشر کی طرف لے جائے گی (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩٠١) اور آپ نے فرمایا محرم کی دس تاریخ کو قیامت واقع ہوگی ( فضائل الاوقات للبیھقی ص ٤٤١) اور یہ بھی فرمایا کہ جمعہ دن قیامت آئے گی (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٥٤) اور یہ بھی بتادیا کہ جمعہ کے دن عصر اور مغرب کے درمیان آئے گی۔ (الاسماء والصفات للبیھقی ص ٢٨٣)

آپ نے قیامت کے وقت کے بارے میں سب کچھ بتادیا صرف سن نہیں بتایا ‘ کیونکہ اگر آپ سن بھی بتا دیتے تو ہمیں آج معلوم ہوتا کہ قیامت کے آنے میں اتنے سال رہ گئے ہیں اور قیامت کا آنا اچانک نہ رہتا ‘ حالانکہ اللہ نے فرمایا ہے :

لاتا تیکم الا بغتۃ۔ (الاعراف : ١٨٧) قیامت تمہارے پاس اچانک ہی آئے گی۔

فیاتیہم بغتۃ وھم لا شعرون (الشعراء : ٢٠٢) ان کے سروں پر قیامت اچانک آجائے گی اور ان کو اس کا شعور نہ ہوگا۔

اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامت کے سن بھی بتا دیتے تو قیامت کا آنا اچانک نہ رہتا اور قرآن جھوٹا ہوجاتا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن کے مصدق بن کر آئے تھے اس کے مکذب بن کر نہیں آئے تھے ‘ سو آپ نے قرآن کی تصدیق کے لیے قیامت کا سن نہیں بتایا اور اپنے علم کے اظہار کے لیے وقوع قیامت کی تمام نشانیاں مہینہ ‘ تاریخ ‘ دن اور دن کا مخصوص وقت سب کچھ بتادیا۔

خلاصہ یہ ہے کہ ان پانچ چیزوں کا بالذات ‘ بلاواسطہ اور از خود علم تو اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے ‘ اور ان پانچ چیزوں کا کلی علم بھی اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی تعلیم اور اس کے بتانے سے ان کی جزئیات کا علم فرشتوں کو بھی ہے اور نبیوں اور رسولوں کو بھی ہے اور اولیاء اللہ کو بھی ہے ‘ اور جس کا جتنا مرتبہ زیادہ ہے اس کو اتنا زیادہ علم ہے اور سب سے زیادہ ان کی جزئیات کا علم ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے۔

علوم خمسہ کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہونا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ———

کو علم عطا کرنے کے منافی نہیں ہے 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

یہ جاننا چاہیے کہ ہر غیب کا علم اللہ عزوجل کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے ‘ اور مغیبات کا حصر ان پانچ چیزوں میں نہیں ہے۔

اس آیت میں اللہ کے غیر سے ان پانچ چیزوں کے علم کی نفی اس لیے کی ہے کہ کفار اور مشرکین ان کے متعلق بہ کثرت سوال کرتے تھے۔

اور لوگوں کو ان کے جاننے کا اشتیاق تھا ‘ علامہ قسطلانی نے کا کہ ان پانچ چیزوں کا ذکر فرمایا حالانکہ غیب تو غیر متاناہی ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ پانچ کی تخصیص دوسرے عدد کی نفی نہیں کرتی۔

علامہ قسطلانی کی بیان کردہ توجیہ صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض پسندیدہ بندو کو ان پانچ چیزوں میں سے کسی ایک کے علم پر مطلع فرمادے ‘ اور یا اللہ تعالیٰ اس کو ان پانچ چیزوں کا اجمالی علم عطا فرمادے اور جو علم اللہ عزوجل کے ساتھ خاص ہے وہ علم محیط ہے جو ان پانچ چیزوں کے ہر ہر احوال کو مکمل تفصیل کے ساتھ شامل ہے۔

الجامع الصغیر میں یہ حدیث ہے پانچ چیزوں کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے (الجامع الصغیر : ٣٩٦٣) علامہ عبد الرؤف مناوی متوفی ١٠٠٣ ھ نے اس کی شرح میں لکھا ہے : اللہ تعالیٰ کے سوا ان پانچ چیزوں کا علم کسی کو علی وجہ الاحاطہ والشمول نہیں ہے ‘ یعنی ایسا علم جو ان پانچ چیزوں کی تمام جزئیات کو محیط اور شامل ہو ‘ اور یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض خواص کو ان پانچ چیزوں کی تمام جزئیات کو محیط اور شامل ہو ‘ اور یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض خواص کو ان پانچ چیزوں کی بعض جزئیات کا علم عطا فرمادے کیونکہ وہ قابل شمار جزئیات ہیں اور معتزلہ جو اس کا انکار کرتے ہیں اور محض ہٹ دھرمی ہے۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر ج ٦ ص ٣٠٩٧۔ ٣٠٩٦‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز ‘ ١٤١٨ ھ)

فیض القدیر کی عبارت نقل کرنے کے بعد علامہ آلوسی لکھتے ہیں ‘ ہم نے جو ذکر کیا ہے اس سے یہ معلوم ہوگا کہ ان پانچ چیزوں اور دیگر غیوب کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان غیوب کی خبریں دینے میں کوئی تعارض نہیں ہے ‘ اسی طرح علامہ قسطلانی نے ذکر کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی جگہ بارش نازل فرمانا چاہتا ہے تو جو فرشتے بارش نازل کرنے پر مامور ہیں ان کو مطلع فرماتا ہے اور وہ ان جگہوں پر بادلوں کو ہانک کرلے جاتے ہیں اور ان کو علم ہوتا ہے کہ بارش کب ہوگی اور کس جگہ وہ گی ‘ اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت انس سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحم میں ایک فرشتہ مقرر کیا ہوا ہے جو یہ شقی ہے یا سعید ہے ‘ سو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خبریں دینا اور فرشتوں کو مائوں کے رحموں کا علم ہونا اس کے منافی نہیں ہے کہ غیب کا علم اور خصوصاً ان پانچ چیزوں کا علم اللہ عزوجل کے ساتھ خاص اور اسی میں منحصر ہے ‘ کیونکہ اللہ عزوجل کے ساتھ وہ علم خاص ہے جو علم کلی ہے ہر ہر جزی کو محیط اور شامل ہے ‘ لہٰذا فرشتوں کو جو علم ہے اور بعض خواص کو جو علم دیا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کے مقابلہ میں بہت کم ہوتا ہے ‘ اور ملا علی قاری نے شرح شفا میں کہا ہے کہ ہرچند کہ اولیاء اللہ پر بعض چیزیں منکشف ہوجاتی ہیں لیکن ان کا علم یقینی نہیں ہوتا اور ان کا الہام ظنی ہوتا ہے ‘ اور نجومیوں کا علم تو بہت بعید ہے (اسی طرح الٹرا سائونڈ اور دیگر آلات سے جو ماں کے پیٹ کا حال معلوم ہوجاتا ہے اس کا بھی اس آیت سے معارضہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ علم آلات کے واسطے سے ہے اور اللہ تعالیٰ کا علم بلاواسطہ ہے) اور اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو قیامت کا علم عطا فرمایا ہے وہ غایت اجمال میں ہے اگرچہ دوسرے انسانوں کے مقابلہ میں آپ کا علم بہت کامل ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب (علیہ الصلوۃ والسلام) کو قیامت کا علم کا مل طریقہ پر عطا فرمایا ہو ‘ لیکن آپ نے کسی کو اس پر مطلع نہ فرمایا ہو اور اللہ سبحانہ نے کسی حکمت کی وجہ سے آپ پر یہ واجب کردیا ہو کہ آپ اس علم کو مخفی رکھیں اور یہ چیزنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خواص میں سے ہو لیکن میرے پاس اس بات کی کوئی یقینی دلیل نہیں ہے۔ (رو المعانی جز ٢١ ص ١٧٠۔ ١٦٨‘ ملخصا دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

ہم نے تبیان القرآن ج ٤ ص ٤٨٤۔ ٤٦٩‘ میں علم غیب پر مفصل بحث کی ہے اور آپ کے علم غیب ‘ علم ماکان ومایکون اور علم قیامت کے متعلق چھیاسی احادیث ذکر کی ہیں اور ہر ہر حدیث کو متعدد کتب حدیث کے حوالہ جات کے ساتھ بیان کیا ہے ‘ اس کے مطالعہ سے قارئین کو یہ اندازہ ہوجائے گا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے جو علم غیب عطا فرمایا تھا وہ علم کا ایسا عظیم سمندر ہے جس کا تصور بھی ہم لوگ نہیں کرسکتے۔

نیز علوم خمسہ کے متعلق بھی ہم نے تبیان القرآن ج ٤ ص ٤٦١۔ ٤٤١ میں مفصل بحث کی ہے ‘ تاہم اس مقام کی اہمیت اور اس کی خصوصیت کے پیش نظر ہم اس مبحث کے بعض اقتباسات کو قارئین کی ضیافت طبع کے لیے دوبارہ پیش کررہے ہیں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علوم خمسہ و علم روح وغیرہ دیئے جانے کے متعلق جمہور علماء اسلام کی تصریحات 

علامہ ابو العباس احمد عمر بن ابراہیم المالکی القرطبی المتوفی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں :

فمن ادعی علم شیٔ منھا غیر مسند الی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کان کاذبا فی دعواہ۔ (المفہم ج ١ ص ١٥٦‘ مطبوعہ دارابن کثیر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ) جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت کے بغیر ان پانچ چیزوں کے جاننے کا دعوی کرے وہ اس دعوی میں جھوٹا ہے۔

علامہ بدرالدین عینی حنفی ‘ علامہ ابن حجر عسقلانی ‘ ملاعلی قاری اور شیخ عثمانی نے بھی اپنی شروح میں علامہ قرطبی کی اس عبارت کو ذکر کیا ہے : (عمدۃ القاری ج ١ ص ٢٩٠‘ فتح الباری ج ١ ص ١٢٤‘ ارشاد الساری ج ١ ص ١٣٨‘ مرقات ج ١ ص ٦٥‘ فتح الملھم ج ١ ص ١٧٢)

علامہ ابن حجر عسقلانی شافعی لکھتے ہیں :

قال بعضھم لیس فی الایۃ دلیل علی ان اللہ لم یطلع نبیہ علی حقیقۃ الروح بل یحتمل ان یکون اطلعہ ولم یامرہ انہ یطلعھم وقد قالوا فی علم الساعۃ نحو ھذا واللہ اعلم۔ (فتح الباری ج ٨ ص ٤٠٣) بعض علماء نے کہا ہے کہ (سورۃ بنی اسرائیل کی) آیت میں یہ دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روح کی حقیقت پر مطلع نہیں کیا ‘ بلکہ احتمال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو روح کی حقیقت پر مطلع کیا اور آپ کو اس کی اطلاع دینے کا حکم نہ دیا ہو ‘ قیامت کے علم کے متعلق بھی علماء نے اسی طرح کہا ہے۔ واللہ اعلم۔

علامہ احمد قسطلانی الشافعی نے بھی یہ عبارت نقل کی ہے۔ (ارشاد الساری ج ٧ ص ٢٠٣)

علامہ زرقانی ” المواہب “ کی شرح میں لکھتے ہیں :

وقد قالوا فی علم الساعۃ و باقی الخمس المذکورۃ فی ایۃ ان اللہ عندہ علم الساعۃ (نحو ھذا) یعنی انہ علمھا ثم امر بکتمھا۔ (شرح المواہب اللدنیہ ج ١ ص ٢٦٥) علم قیامت اور باقی ان پانچ چیزوں کے متعلق جن کا سورة لقمان کی آخری آیت میں ذکر ہے علماء نے یہی کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان پانچ چیزوں کا علم عطا فرمایا اور آپ کو انہیں مخفی رکھنے کا حکم دیا گیا۔

ذھب بعضھم الی انہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اوتی علنم الخمس ایضا وعلم وقت الساعۃ والروح وانہ امربکتم ذالک۔ اور بعض علماء نے یہ بیان ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امور خمسہ کا علم دیا گیا ہے اور وقوع قیامت کا اور روح کا بھی علم دیا گیا ہے اور آپ کو ان کے مخفی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

(شرح الصدور ص ٣١٩‘ مطبوعہ بیروت ‘ الخصائص الکبریٰ ج ٢ ص ٣٣٥‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ صاوی مالکی لکھتے ہیں :

قال العلماء الحق انہ لم یخرج نبینا من الدنیا حتی اطلعہ اللہ علی تلک الخمس ولکنہ امرہ بکتمھا۔ (تفسیر صاوی ج ٣ ص ٢١٥) علماء کرام نے فرمایا کہ حق بات یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دنیا سے اس وقت تک وفات نہیں پائی ‘ جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر اس چیز کا علم نہیں دے دیا جس کا علم دینا ممکن تھا۔ (روح المعانی ج ١٥ ص ١٥٤ )

نیز علامہ آلوسی لکھتے ہیں :

ویجوز ان یکون اللہ تعالیٰ قد اطلع حبیبہ (علیہ الصلوۃ والسلام) علی وقت قیامھا علی وجہ کامل لکن لا علی وجہ یحا کی علمۃ تعالیٰ بہ الا انہ سبانہ او جب علیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کتمہ لحکمۃ ویکون ذلک من خواصہ (علیہ الصلوۃ والسلام) و لیس عندی مایفید الجزم بذلک۔ (روح المعانی ج ٢١ ص ١١٣)

امام رازی لکھتے ہیں :

عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ المخصوص وھوقیام القیامۃ احداثم قال بعدہ لکن من ارتضی من رسول۔ (تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٧٨) اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے وہ اپنے مخصوص غیب یعنی قیامت قائم ہونے کے وقت پر کسی کو مطلع نہیں فرمایا ‘ البتہ ان کو مطلع فرماتا ہے جن سے وہ راضی ہوتا ہے اور وہ اللہ کے رسول ہیں۔

علامہ علائو الدین خازن نے بھی یہی تفسیر کی ہے۔ (تفسیرخازن ج ٤ ص ٣١٩)

علامہ تفتازانی لکھتے ہیں :

والجواب ان الغیب ھھنا لیس للعموم بل مطلق اومعین ھو وقت وقوع القیمۃ بقرینۃ السیاق ولا یبعدان یطلع علیہ بعض الرسل من المئکۃ او البشر۔ (شرح المقاصد ج ٥ ص ٦‘ طبع ایران)

اور جواب یہ ہے کہ یہاں غیب عموم کے لیے نہیں ہے بلکہ مطلق ہے یا اس سے غیب خاص مراد ہے یعنی وقت وقوع قیامت ‘ اور آیات کے سلسلہ ربط سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے اور یہ بات مستبعد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض رسولوں کو وقت وقوع قیامت پر مطلع فرمائے خواہ رسل ملائکہ ہوں یا رسل بشر۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں :

وحق آنست کہ در آیت دلیلے نیست بر آنکہ حق تعالیٰ مطلع نگر دانیدہ است حبیب خود راصلے اللہ وسلم برماھیت روح بلکہ احتمال دارد کہ مطلع گردانیدہ باشد وامر نکرد اور کہ مطلع گرداند ایں قوم راو بعضی از علماء در علم ساعت نیز ایں معنی گفتہ اندالی ان قال ولے گوید بندہ مسکین خصہ اللہ بنور العلم والیقین و چگونہ جرات کند مومن عارف کہ نفی علم بہ حقیقت روح سیدالمرسلین و امام العارفین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کند و دادہ است اور احق سبحانہ علم ذات وصفات خود و فتح کردہ بروے فتح مبین از علوم اولین و اخرین روح انسانی چہ باشد کہ در جنب حقیقت جامعہ وے قطرہ ایست از دریائے ذرہ از بیضائے فافھم وباللہ التوفیق۔ (مدارج النبوۃ ج ٢ ص ٤٠ )

حق یہ ہے کہ قرآن کی آیت میں اس بات پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روح کی حقیقت پر مطلع نہیں کیا بلکہ جائز ہے کہ مطلع کیا ہو اور لوگوں کو بتلانے کا حکم آپ کو نہ دیا ہو۔ اور بعض علماء نے علم قیامت کے بارے میں بھی یہی قول کیا ہے ‘ اور بندہ مسکین (اللہ اس کو نور علم اور یقین کے ساتھ خاص فرمائے) یہ کہتا ہے کہ کوئی مومن عارف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روح کے علم کی کیسے نفی کرسکتا ہے وہ جو سید المرسلین اور امام العارفین ہیں ‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور صفات کا علم عطا فرمایا ہے اور تمام اولین اور آخرین کے علوم آپ کو عطا کیے ‘ ان کے سامنے روح کے علم کی کیا حیثیت ہے۔ آپ کے علم کے سمندر کے سامنے روح کے علم کی ایک قطرہ سے زیادہ کیا حقیقت ہے۔

سید عبدالعزیز دباغ عارف کامل فرماتے ہیں :

وکیف یخفی امر الخمس علیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والواحد من اھل التصرف من امتہ الشریفۃ لا یمکنہ التصرف الا بمعرفۃ ھذہ الخمس۔ (الابریز ص ٤٨٣)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان پانچ چیزوں کا علم کیسے مخفی ہوگا ‘ حالانکہ آپ کی امت شریفہ میں سے کوئی شخص اس وقت تک صاحب تصرف نہیں ہوسکتا جب تک اس کو ان پانچ چیزوں کی معرفت نہ ہو۔ (الابریز ص ٤٨٣)

علامہ احمد قسطلانی شافعی متوفی ٩١١ ھ تحریر فرماتے ہیں :

لایعلم متی تقوم الساعۃ الا اللہ الا من ارتضی من رسول فانہ یطلعہ علی من یشاء من غیبہ والو لی تابع لہ یا خذ عنہ۔ کوئی غیر خدا نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی سوا اس کے پسندیدہ رسولوں کے کہ انہیں اپنے جس غیب پر چاہے اطلاع دے دیتا ہے۔ (یعنی وقت قیامت کا علم بھی ان پر بند نہیں) رہے اولیاء وہ رسولوں کے تابع ہیں ان سے علم حاصل کرتے ہیں۔ (ارشاد الساری ج ٧ ص ١٧٨)

اعلیٰ حضرت احمد رضا فاضل بریلوی کے تفحص اور تتبع سے حب ذیل حوالہ جات ہیں :

علامہ بیجوری شرح بردہ شریف میں فرماتے ہیں :

لم یخرج (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الدنیا الا بعد ان اعلمہ اللہ تعالیٰ بھذہ الامورای الخمسہ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے تشریف نہ لے گئے مگر بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور کو ان پانچوں غیبوں کا علم دے دیا۔

علامہ شنوانی نے جمع النہایہ میں اسے بطور حدیث بیان کیا ہے کہ :

قدوردان اللہ تعالیٰ لم یخرج النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حتی اطعہ علی کل شیٔ۔ بیشک وارد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دنیا سے نہ لے گیا جب تک کہ حضور کو تمام اشیاء کا علم عطا نہ فرمایا۔

حافظ الحدیث سیدی احمد مالکی غوث الزماں سیدشریف عبدالعزیز مسعود حسنی (رض) سے راوی :

ھو (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لا یخفی علیہ شیٔ من الخمس المذکورۃ فی الایۃ الشریفۃ وکیف یخفی علیک ذالک والا قطاب السبعۃ من امتہ الشریفۃ یعلمونھا وھم دون الغوث فکیف بالغوث فکیف بسید الاولین والا خرین الذی ھو سبب کل شیٔ و منہ کل شیٔ۔

یعنی قیامت کب آئے گی ‘ مینہ کب اور کہاں اور کتنا برسے گا۔ مادہ کے پیٹ میں کیا ہے ‘ کل کیا ہوگا۔ فلاں کہاں مرے گا۔ یہ پانچوں غیب جو آیہ کریمہ میں مذکور ہیں ان میں سے کوئی چیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مخفی نہیں اور کیونکر یہ چیزیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوشیدہ ہیں حالانکہ حضور کی امت سے ساتوں قطب ان کو جانتے ہیں اور ان کا مرتبہ غوث کے نیچے ہے۔ غوث کا کیا کہنا پھر ان کا کیا پوچھنا جو سب اگلوں پچھلوں سارے جہان کے سردار اور ہر چیز کے سبب ہیں اور ہر شے انہیں سے ہے۔ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) 

(خالص الاعتقاد ص ٤٣‘ مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی ‘ کراچی)

اللہ تعالیٰ کی ذات میں علوم خمسہ کے انحصار کی خصوصیت کا باعث 

سورۃ لقمان کی آخری آیت میں فرمایا گیا ہے :

ان اللہ عندہ علم الساعۃ ج وینزل الغیث ج و یعلم ما فی الارحام ط وما تدری نفس ما ذاتکسب غدا ط وما تدری نفس بای ارض تموت ط ان اللہ علیم خبیر (لقمان : ٣٤)

بے شک اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم ‘ اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے جو رحموں میں ہے ‘ اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا ‘ اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں مرے گا ‘ بیشک اللہ ہی جاننے والا ‘ (جسے چاہے) خبر دینے والا ہے۔

اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان پانچ چیزوں کا ذاتی علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ‘ اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ ہر چیز کا ذاتی علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ‘ پھر ان پانچ چیزوں کی تخصیص کی کیا وجہ ہے ؟ اس کے دو جواب ہیں ‘ ایک یہ کہ مشرکین ان چیزوں کے متعلق سوال کرتے تھے اس لیے بتایا گیا کہ ان چیزوں کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ مشرکین کا اعتقاد یہ تھا کہ ان کے کاہنوں اور نجومیوں کو ان کا علم ہے اس لیے بتایا گیا کہ ان کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔

علامہ اسماعیل حقی لکھتے ہیں :

اس آیت میں ان پانچ چیزوں کا شمار کیا گیا ہے ‘ حالانکہ تمام مغیبات کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ان چیزوں کے متعلق سوال کرتے تھے ‘ روایت ہے کہ دیہاتیوں میں سے حارث بن عمر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ سے قیامت کے متعلق سوال کیا اور یہ کہ ہماری زمین خشک ہے میں نے اس میں بیج ڈالنے ہیں ‘ بارش کب ہوگی ؟ اور میری عورت حاملہ ہے اس کے پیٹ میں مذکر ہے یا مؤنث اور مجھے گزشتہ کل کا تو علم ہے لیکن آئندہ کل میں کیا کروں گا ؟ اور مجھے یہ علم تو ہے کہ میں کس جگہ پیدا ہوا ہوں لیکن میں کہاں مروں گا ؟ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔

نیز اہل جاہلیت نجومیوں کے پاس جا کر سوال کرتے تھے اور ان کا یہ زعم تھا کہ نجومیوں کو ان چیزوں کا علم ہوتا ہے ‘ اور اگر کاہن غیب کی کوئی خبردے اور کوئی شخص اس کی تصدیق کرے تو یہ کفر ہے ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص کاہن کے پاس گیا اور اس کے قول کی تصدیق کی تو اس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل شدہ دین کا کفر کیا۔

اور یہ بعض روایات میں ہے کہ انبیاء علہم السلام اور اولیاء کرام غیب کی خبریں دیتے ہیں تو ان کا یہ خبر دینا ‘ وحی ‘ الہام اور کشف کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم دینے سے ہوتا ہے ‘ لہٰذا ان پانچ چیزوں کے علم کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہونا اس بات کے منافی نہیں ہے کہ ان غیوب پر انبیاء ‘ اولیاء اور ملائکہ کے سوا اور کوئی مطلع نہیں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

علم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول۔ (جن : ٢٧۔ ٢٦) (اللہ) غیب جاننے والا ہے تو اپنے غیب پر کسی کو (کامل) اطلاع نہیں دیتا مگر جن کو اس نے پسند فرمالیا ‘ جو اس کے (سب) رسول ہیں۔

اور بعض غیوب وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے ساتھ خاص لیا ‘ جن کی اطلاع کسی مقرب فرشتے کو ہے اور نہ کسی نبی مرسل کو ‘ جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے :

وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الا ھو۔ (الانعام : ٥٩) اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں ‘ اس کے سوا (بذات خود) انہیں کوئی نہیں جانتا۔

قیامت کا علم بھی انہی امور میں سے ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے قوع قیامت کے علم کو مخفی رکھا ‘ لیکن صاحب شرع کی زبان سے اس کی علامتوں کو ظاہر فرمادیا ‘ مثلاً خروج دجال ‘ نزول عیسیٰ اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ‘ اسی طرح بعض اولیاء نے بھی الہام صحیح سے بارش ہونے کی خبردی اور یہ بھی بتایا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ‘ اسی طرح ابوالعزم اصفہانی شیراز میں بیمار ہوگئے انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے طرطوس میں موت کی دعا ہے اگر بالفرض شیراز میں مرگیا تو مجھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کردینا۔ (یعنی ان کو یقین تھا کہ ان کی موت طرطوس میں آئے گی) وہ تندرست ہوگئے اور بعد میں طر طوس میں ان کی وفات ہوئی ‘ اور میرے شیخ نے بیس سال پہلے اپنی موت کا وقت بتادیا تھا اور وہ اپنے بتائے ہوئے وقت پر فوت ہوئے تھے۔ (روح البیان ج ٧ ص ١٠٥۔ ١٠٣‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ‘ کوئٹہ)

حرف آخر 

آج مورخہ ٣ رجب ١٤٢٣ ھ /گیارہ ستمبر ٢٠٠٢ ء بہ روز بدھ بعد نماز ظہر سورة لقمان کی تفسیر مکمل ہوگئی۔ ١٤ اگست ٢٠٠٢ ء کو اس سورت کی تفسیر شروع کی گئی تھی اور گیارہ ستمبر ٢٠٠٢ ء کو یہ مکمل ہوگئی ‘ اس طرح ٢٩ دنوں میں اس سورت کی تفسیر مکمل ہوئی ‘ اللہ تعالیٰ کی بےحد حمد اور بےپناہ احسان ہے کہ میری کمزوری ناتوانی اور خرابی صحت اور مختلف النوع مصروفیات کے باوجود کم وقت میں اس سورت کی تفسیر کو مکمل کروادیا۔ الہ العلمین ! آپ اس کو اپنی بار گاہ میں مقبول فرمائیں اور اس کو عام مسلمانوں کے لیے فیض آفریں اور نفع آور بنادیں اور قرآن مجید کی بقیہ سورتوں کی تفسیر بھی اپنے فضل و احسان سے مکمل کرادیں ‘ میرے تمام گناہوں کو معاف فرمادیں اور محض اپنے فضل سے جنت ‘ اپنا دیدار اور اپنی رضا عطا فرمائیں اور دنیا اور آخرت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت اور شفاعت سے بہرہ مند فرمائیں۔ 

واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین خاتم النبیین شفیع المذنبین سیدنا محمد وعلی آلہ و اصحابہ وذریتہ اجمعین۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 34