أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِىۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَىۡءٍ خَلَقَهٗ‌ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اسی نے ہر چیز کو حسین بنایا اور انسان کی تخلیق مٹی سے کی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اسی نے ہر چیز کو حسین بنایا اور انسان کی تخلیق مٹی سے کی پھر ایک حقیر پانی کے نچوڑ سے اس کی نسل بڑھائی پھر اس (کے پتلے) کو ہموار کیا اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو (٩۔ ٧)

ہر چیز اور ہر مخلوق کو حامل حسن بنانا 

اس آیت میں احسن کا لفظ ہے ‘ جس کا مصدر احسان ہے ‘ احسان کے دو معنی ہیں ‘ ایک معنی ہے کسی پر انعام اور افضال کرنا ‘ اور دوسرا معنی ہے کسی انسان کا حامل حسن ہونا ‘ خواہ یہ حسن اس کے اقوال میں ہو یا اس کے افعال میں ہو۔ یا اس کی صورت میں ہو یا اس کی حقیقت میں ہو۔ 

اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو حسین بنایا اس کا معنی ہے ہر چیز کو اس کی استعداد اور صلاحیت کے تقاضے کے مطابق بنایا۔ اور ہر چیز کو حکمت اور مصلحت کے اعتبار سے بنایا جانوروں کے پیر اور ان کی گردنیں لمبی بنائیں تاکہ ان پر رزق کا حصول دشوار نہ ہو ‘ اسی طرح انسان کے تمام اعضاء اس طرح بنائے جس میں اس کی مصلحت ہو اور انسان کی تخلیق کو سب سے افضل قرار دیا۔ فرمایا :

لقد خلقنا الانسان فیٓ احسن تقویم (التین : ٤) بیشک ہم نے انسان کا حسین قوام بنایا (اس کے اجزاء ترکیبی اور اعضاء سب سے اچھے بنائے) ۔

تمام جانداروں میں انسان کے جسم کی فضیلت ہے۔ انسان کے علاوہ اور کسی کی قامت سیدھی نہیں ہے ‘ سب منہ نیچا کر کے کھاتے ہیں انسان طعام اٹھا کر منہ تک لے جاتا ہے منہ کھانے تک نہیں لے جاتا ‘ اور یوں ہر مخلوق کو اس کی مصلحت اور اس کی صلاحیت کے اعتبار سے بہت اچھا اور بہت حسین بنایا ہے۔

جو جاندار بہ ظاہر بد صورت ہیں وہ بھی اس لحاظ سے حسین ہیں کہ وہ اللہ کی تخلیق ہیں ‘ بعض چیزیں بہ ظاہر مضرہوتی ہیں لیکن ان میں بھی اللہ تعالیٰ نے منفعت رکھی ہے ‘ ان میں سے بعض چیزوں کی مصلحت اور ان کی افادیت کا پہلے علم نہ تھا ان کا اب علم ہوگیا ہے۔ جیسے انسان کی پنڈلیوں میں کچھ زائد اور فالتو شریانیں ہوتی ہیں اور جب انسان کے دل کی شریانیں کلسٹرول اور چربی سے بلاک (بند) ہوجاتی ہیں اور ان سے خون کا دوران نہیں ہوسکتا تو سرجری کے ذریعہ ناکارہ شریانوں کے ساتھ پنڈلی کی زائد شریانوں کو نکال کر ان کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے ‘ سو ان شریانوں کی افادیت کا اب علم ہوگیا ہے اسی طرح کائنات کے اور سربستہ راز ہیں جو بہ تدریج کھل رہے ہیں اور قیامت تک اسی طرح ان کا علم ہوتا رہے گا سو اللہ نے ہر چیز میں اور ہر مخلوق میں حسن رکھا ہے ‘ کسی چیز کا حسن آنکھوں سے نظر آتا ہے اور کسی چیز کے حسن کا عقل ادراک کرتی ہے اور اس کی پیدا کی ہوئی کوئی چیز حسن اور خوبی سے خالی نہیں خواہ ہم کو وہ حسن نظر آئے یا نہ آئے۔

انسان کو مٹی سے بنانا 

اور فرمایا : اور انسان کی تخلیق مٹی سے کی۔ اس اریاد کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ انسان سے مراد حضرت آدم ہیں۔ اور ان کو مٹی سے بنایا ہے ‘ دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہے ‘ اور عام انسان بہ ظاہر نطفہ سے پیدا ہوتا ہے اور اس کے مٹی سے پیدا ہونے کے دو محمل ہیں ایک یہ کہ عطا خراسانی سے روایت ہے کہ فرشتہ انسان کے مدفن سے مٹی اٹھا کر لاتا ہے اور اس کو انسان کے نطفہ پر چھڑک دیتا ہے اس سے اس کا خمیر تیار کیا جاتا ہے (معالم التنزیل ج ٣ ص ٢٦٥‘ الدرالمثور ج ٥ ص ٥١٣) ۔

اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ نطفہ خون سے بنتا ہے اور خون غذا سے بنتا ہے اور غذا زمین اور مٹی کی پیداوار سے حاصل ہوتی ہے تو اس طرح نطفہ کا مآل بھی مٹی ہے اور یوں ہر انسان مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 32 السجدة آیت نمبر 7