أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ سَوّٰٮهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ‌ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡــئِدَةَ ‌ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

پھر اس (کے پتلے) کو ہموار کیا اور اس میں اپنی طرف سے روح گھون کی اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے ‘ تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو

پھر فرمایا : پھر اس (کے پتلے) کو ہموار کیا اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی اور تمہارے لیے کان ‘ آنکھیں اور دل بنائے ‘ تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو (السجدہ : ٩)

اللہ کی طرف روح کی اضافت کا معنی 

اس آیت کے دو محمل ہیں ایک یہ کہ اس آیت میں ضمیریں حضرت آدم کی طرف لوٹ رہی ہیں ‘ یعنی حضرت آدم کے پتلے کو ہموار اور معتدل کیا اور ان میں اپنی طرف سے روح پھونکی ‘ اور اس کے بعد حضرت آدم کی اولاد کا ذکر کیا اور تمہارے لیے کان آنکھیں اور دل بنائے ‘ تم بہت کم شکر کرتے ہو۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٤ ص ٨٥)

اور اس کا دوسرا محمل ہے کہ یہ ضمیریں ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد اور انسان کی طرف لوٹ رہی ہیں اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ پھر اس نطفہ کو معتدل کیا اور ماں کے رحم میں اس کے اعضاء کو مکمل کیا اور اس کی تصویر اس کی صلاحیت کے مطابق جیسی چاہیے تھی ویسی بنائی ‘ اور اس میں اپنی روح پھونکی ‘ روح کی اپنی طرف اضافت اس کو مشرف کرنے کے لیے ہے جیسے بیت اللہ اور ناقۃ اللہ میں ہے اور یہ بتانے کے لیے کہ یہ بہت عظیم مخلوق ہے۔ (روح المعانی جز ٢١ ص ١٨٨)

روح کی تحقیق 

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں روح پھونکنے کا جو ذکر ہے وہ اطلاق مجازی ہے ‘ اور اس سے مراد یہ ہے کہ روح کو بدن کے متعلق کردیا ‘ اور یہ ان کے مذہب کے موافق ہے جو کہتے ہیں کہ روح بدن سے مجرد ہے ‘ اور بدن میں داخل نہیں ہے ‘ یہ فلاسفہ اور بعض متکلمین کا مذہب ہے ‘ امام غزالی (رح) کا بھی یہی مذہب ہے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ یہاطلاق حقیقی ہے اور جو فرشتہ رحم کے ساتھ مقرر ہوتا ہے اس کو حکم دیا جاتا ہے کہ چارہ ماہ بعد جب نطفہ جسمانی صورت میں بنادیا جائے تو پھر اس میں روح پھونک دی جائے ‘ اور اس طرف وہ لوگ گئے ہیں جو کہتے ہیں کہ روح ہوا کی طرح جسم لطیف ہے اور اس کا بدن میں اس طرح حلول ہے جس طرح گلاب کے پانی کا گلاب میں حلول ہوتا ہے اور آگ کا انگارے میں حلول ہوتا ہے ‘ اور ظاہر احادیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں اور علامہ ابن قیم جوزی نے اس پر سود لیلیں قائم کی ہیں۔ (روح المعانی جز ٢١ ص ١٨٨‘ مطبوعہ الفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

روح کا لغوی اور اصطلاحی معنی 

علامہ ابو السعادت المبارک بن محمد بن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

قرآن اور حدیث میں روح کا کئی بارذکر آیا ہے ‘ اور اس کا کئی معانی پر اطلاق کیا گیا ہے ‘ اور اس کا غالب اطلاق اس چیز پر ہے جس کے ساتھ جسم قائم ہے اور جس کے سبب سے جسم میں حیات ہے ‘ اس کے علاوہ اس کا اطلاق ‘ قرآن ‘ وحی ‘ رحمت اور جبریل پر بھی کیا گیا ہے۔ (النہایہ ج ٢ ص ٢٤٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

علامہ سید محمد مرتضیٰ زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

ابوبکر انباری نے کہا روح اور نفس ایک ہی چیز ہے البتہعربی زبان میں روح کا لفظ مذکر ہے اور نفس کا لفظ مئونث ہے ‘ فرا نے کہا روح وہ چیز ہے جس کے سبب سے انسان زندہ ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی روح کا علم نہیں دیا ‘ اور ابوالہیثم نے کہا روح انسان کا سانس ہے اور جب سانس نکل جاتا ہے تو انسان کی زندگی ختم ہوجاتی ہے ‘ اور انسان کی آنکھیں اسکو دیکھتی رہتی ہیں حتیٰ کہ اس کی آنکھوں کو بند کردیا جاتا ہے۔ (تاج العروس ج ٢ ص ١٤٧‘ مطبوعہ مطبعہ میمنہ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

علامہ محمد طاہر پٹنی متوفی ٩٨٦ ھ لکھتے ہیں :

جمہور کے نزدیک روح کا معنی معلوم ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ وہ خون ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ وہ جسم لطیف ہے اور ظاہری اعضاء کی طرح اس کے بھی اعضاء ہیں ‘ اشعری نے کہا وہ سانس ہے جو آرہا ہے اور جارہا ہے ایک قول یہ ہے کہ وہ حیات ہے۔ (مجمع بحار الا نوارج ٢ ص ٣٩٤۔ ٣٩٣‘ مطبوعہ مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ‘ ١٤١٥ ھ)

علامہ بد رالدین عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

بعض علماء نے کہا روح خون ہے ‘ اور اس کی تعریف میں ستر قول ذکر کیے گئے ہیں ‘ اس میں اختلاف ہے کہ آیا روح اور نفس ایک ہی چیز ہیں یا نہیں ! زیادہ صحیح یہ ہے کہ روح اور نفس متغایر ہیں ‘ نفس انسانی وہ چیز ہے جس کی طرف ہم میں سے ہر شخص ” میں “ یا ” ہم “ سے اشارہ کرتا ہے ‘ اور اکثر فلاسفہ نے روح اور نفس میں فرق نہیں کیا ‘ انہوں نے کہا نفس لطیف بخاری جوہر ہے (اسٹیم اور بھاپ کی طرح ہے) جو حیات ‘ حس اور حرکت ارادیہ کی قوت کا حامل ہے وہ اس کا نام روح حیوانی رکھتے ہیں اور یہ نفس ناطقہ اور بدن کے درمیان واسطہ ہے ‘ امام غزالی نے کہا روح ایک جو ہر حادث ہے جو بنفسہ قائم ہے غیر متحیز ہے (یعنی وہ جگہ نہیں گھیرتا) وہ جسم میں نہ داخل ہے نہ خارج ہے وہ جسم سے متصل ہے نہ منفصل ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ روح جسم کی صورت کی طرح ایک لطیف عضو ہے اس کی دو آنکھیں ‘ دو کان ‘ دو ہاتھ اور دو پیر ہیں ‘ اور جسم کے ہر عضو کے مقابلہ میں اس کا ایک لطیف عضو ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ وہ انسان کے بدن میں ایک لطیف جسم ہے اور اس کا انسان کے جسم میں اس طرح حلول ہے جس طرح گلاب کے پانی کا گلاب میں حلول ہوتا ہے ‘ حکماء اور علماء متقدمین اور متاخرین کا روح کی تعریف میں بہت اختلاف ہے۔ (عمدۃ القاری جز ٢ ص ٢٠١‘ مطبوعہ مصر ‘ ١٣٤٨ ھ)

علامہ میر سید شریف جرجانی متوفی ٨١٦ ھ لکھتے ہیں :

روح انسانی ایک ایسی لطیف چیز ہے جس کو علم اور ادراک ہوتا ہے اور وہ روح حیوانی پر سوار ہوتی ہے ‘ وہ عالم امر سے نازل ہوئی ہے عقلیں اس کی حقیقت کا ادراک کرنے سے عاجز ہیں ‘ اور یہ روح کبھی بدن سے مجرد ہوتی ہے اور کبھی بدن سے متعلق ہوتی ہے اور اس میں تصرف کرتی ہے۔ (التعریفات ص ٨٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

روح کے مصداق میں مختلف اقوال 

علامہ شمس الدین ابو عبداللہ بن قیم الجوزیہ المتوفی ٧٥١ ھ لکھتے ہیں :

امام رازی نے کہا ہے کہ انسان اس جسم مخصوص کا نام ہے جو اس جسم کے اندر ہے ‘ اور اس کے مصداق میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(1) انسان ان اخلاط اربعہ ( سوداء ‘ صفراء ‘ خون اور بلغم) کا نام ہے جن سے انسان پیدا ہوتا ہے 

(2) انسان خون ہے۔

(3) جسم کی بائیں جانب دل کے پاس روح لطیف ہے جو تمام اعضاء کی شریانوں میں نفوذ پذیر ہے ‘ وہی انسان ہے۔

(4) انسان وہ روح ہے جو قلب میں دماغ کی طرف چڑھ رہی ہے اور وہ قوت حفظ ‘ فکر اور ذکر کی صلاحیت رکھتی ہے۔

(5) وہ دل میں ایک غیرمنقسم جز ہے۔

روح کی صحیح تعریف 

روح ایک ایسا جسم ہے جس ماہیت اس جسم محسوس کی مخالف ہے ‘ وہ جسم نورانی علوی خفیف ہے ‘ زندہ ہے متحرک ہے جو تمام اعضاء میں نفوذ کرتا ہے اور اس کا ان اعضاء میں اس طرح حلول ہے جس طرح پانی کا گلاب میں حلول ہے اور تیل کا زیتوں میں ‘ اور آگ کا انگارہ میں حلول ہے۔ اور جب تک اس جسم لطیف کا ان اعضاء میں حلول رہتا ہے ان اعضاء سے حس اور حرکت ارادیہ کے آثار ظاہر ہوتے رہتے ہیں ‘ اور جب خلاط غلیظہ کے غلبہ سے یہ اعضاء فاسد ہوجائیں اور حس اور حرکت ارادیہ کے آثار قبول نہ کرسکیں تو روح بدن سے نکل جاتی ہے اور عالم ارواح کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔

مذکورالصدر روح کے متعلق چھٹا قول ہی صحیح ہے اور اس کے علاوہ باقی تمام اقوال باطل ہیں ‘ کتاب ‘ سنت ‘ اجماع صحابہ ‘ دلائل عقلیہ اور فطریہ سے روح کی یہی تعریف ثابت ہے۔

روح کے جسم لطیف ہونے ‘ بدن میں حلول کرنے ‘ منتقل ہونے اور درد اور لذت ۔۔۔۔۔۔ کا ادراک کرنے کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیات 

اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منا مھا ج فیمسک التی قضی علیھا الموت ویرسل الاخری الی اجل مسمی۔ (الزمر : ٤٢ )

اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت ‘ اور جنہیں موت نہیں آئی ان کی نیند کے وقت قبض کرلیتا ہے ‘ پھر جن کی موت کا فیصلہ فرما چکا ہے ‘ ان (کی روحوں) کو روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک میعاد معین تک چھوڑ دیتا ہے۔ (الزمر : ٤٢ )

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبردی ہے کہ وہ روحوں کو قبض کرلیتا ہے ‘ ان کو روک لیتا ہے اور ان کو چھوڑ دیتا ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روح جسم ہے اس کو پکڑا ‘ روکا اور چھوڑا جاسکتا ہے اور یہ ایک لطیف جسم ہے جو پہلے جسم میں تھی پھر اس کو پکڑ کر جسم سے نکال لیا گیا۔

ولو تری اذالظلمون فی غمرت الموت والملئکۃ باسطو آ ایدیہم ج اخرجو آ انفسکم ط الیوم تجزون عذاب الھون۔ (الانعام : ٩٣)

اور گر آپ وہ وقت دیکھتے جب یہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے (ان کی طرف) ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے ( اور کہہ رہے ہوں گے) اب اپنی روح کو نکالو ! آج تم کو ذلت والا عذاب دیا جائے گا۔ (الانعام : ٩٣)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ روح کو پکڑنے کے لیے فرشتے اپنے ہاتھ بڑھائیں گے اور یہ تب ہوگا جب روح جسم ہو ‘ اور کہیں گے کہ اپنی روحوں کو نکالو ‘ اور یہ جب ہوگا کہ ورح کا جسم میں حلول ہو اور روح کو اس دن عذاب ہوگا اور عذاب درد کے ادراک کو کہتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ روح میں ادراک کی صلاحیت ہے۔ نیز اس آیت کے بعد فرمایا : ولقد جئتمونا فرادی (الانعام : ٩٤) آج تم ہمارے پاس الگ الگ آئے ہو اس سے معلوم ہوا کہ روحیں آتی جاتی ہیں ‘ یہ کل سات دلائل ہوئے۔(الانعام : ٩٣)

وھوالذی یتوفکم بالیل ویعلم ما جرحتم بالنھار ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمی۔ (الانعام : ٦٠) اور وہی ہے جو رات میں تمہاری روح کو قبض کرلیتا ہے اور اس کو علم ہے جو کچھ تم دن میں کرتے ہو پھر وہ تم کو دوبارہ اٹھائے گا تاکہ میعاد معین پوری کی جائے۔ (الانعام : ٦٠ )

نیز فرمایا :

حتی اذا جآء احدکم الموت توفتہ رسلنا وھم لا یفرطون (الانعام : ٦١) حتیٰ کہ جب تم میں سے کسی ایک کے پاس موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ بالکل کوتاہی نہیں کرتے۔ (الانعام : ٦١ )

ان آیتوں میں تین دلیلیں ہیں (١) فرشتے رات کو روحوں کو عارضی طور پر قبض کرتے ہیں (٢) دن میں ان روحوں کو واپس جسموں میں لوٹا دیتے ہیں (٣) موت کے وقت فرشتے روحوں کو قبض کرتے ہیں۔ اور یہ تبھی ہوگا جب روح جسم لطیف ہو اور اس کا جسم میں حلول ہو ‘ اب یہ دس دلیلیں ہوگئیں۔

یا یتھا النفس المطمئنۃ لا ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبدی لا وادخلی جنتی (الفجر : ٣٠۔ ٢٧ )

اے مطمئن روح تو اپنے رب کی طرف اس کیفیت میں لوٹ جا کہ تو اس سے خوش ہو ‘ وہ تجھ سے خوش ہو سو تو میرے خاص بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ ( الفجر : ٣٠۔ ٢٧ )

ان آیتوں میں بھی چار دلیلیں ہیں (١) روح کو لوٹنے کا حکم دیا (٢) خاص بندوں میں داخل ہونے کا حکم دیا (٣) اور اس کو خوش ہونے کا حکم دیا (٤) اور اس کو جنت میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ یہ چودہ دلیلیں ہوگئیں کہ روح جسم ہے وہ آتی جاتی ہے ‘ حکم سنتی ہے اور خوش ہوتی ہے۔

روح کے جسم لطیف ہونے اور مذکورہ صفات کے حامل ہونے کے ثبوت میں احادیث 

حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب روح قبض کی جاتی ہے تو آنکھ اس کا پیچھا کرتی ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٠ ٩٢‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣١١٨‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٤٥٤‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٨٢٨٥)

اس حدیث میں مذکور ہے کہ روح کو قبض کیا جاتا ہے اور آنکھ اس کو دیکھتی ہے۔ یہ اس کے جسم ہونے کی دلیل ہے اور کل سولہ دلیلیں ہوگئیں۔

حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک روح ‘ دوسری روح سے (خواب میں) ملاقات کرتی ہے۔ (مسند احمدج ٥ ص ٢١٥۔ ٢١٤‘ مجمع الزوائد ج ٧ ص ١٨٢‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٠١٧ ٤٢ )

اس حدیث میں خواب میں روح کی روح سے ملاقات کا ذکر ہے ‘ اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ زندوں کی روحیں اور مردوں کی روحیں خواب میں ملاقات کرتی ہیں اور ایک دوسرے سے سوال کرتی ہیں۔ یہ سترہ دلیلیں ہوگئیں۔

حضرت ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ جب چاہے تمہاری روحیں ( نیند میں) قبض فرما لیتا ہے اور جب چاہے واپس فرما دیتا ہے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٥‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٢٩٨٥‘ عالم الکتب)

اس حدیث میں دو دلیلیں ہیں روحوں کو قبض کرنا اور ان کو واپس کرنا ‘ یہ ان کے جسم ہونے اور جسم میں حلول کی دلیلیں ہیں اور اب انیس دلیلیں ہوگئیں۔

حضرت کعب بن مالک انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کی روح پرندہ ہے جو جنت کے درخت میں لٹکا ہوا ہے۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٤٥٧۔ ٤٥٦ طبع قدیم)

اس حدیث میں دو دلیلیں ہیں مومن کی روح کو پرندہ فرمایا اور درخت کے ساتھ لٹکا ہوا فرمایا۔ اب اکیس دلیلیں ہوئیں۔

شہداء کی روحوں کو جنت کا رزق ملنا 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نےآل عمران : ١٦٩ کے متعلق آپ سے سوال کیا تھا : آپ نے فرمایا : شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں ہیں اور ان کے لیے عرش میں قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں ‘ وہ جہاں سے چاہتے ہیں جنت میں چرتے ہیں ‘ پھر ان قندیلوں میں لوٹ آتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہو کر فرماتا ہے ‘ تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے ‘ وہ کہتے ہیں کس چیز کی خواہش کریں ‘ ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں وہاں جا کر چرلیتے ہیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٨٧‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٠١١‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٨٠١)

اس حدیث میں چھ دلیلیں ہیں (١) روحیں پرندوں کے پیٹ میں ہیں (٢) وہ جنت میں چرتی ہیں (٣) جنت کا پھل کھاتی ہیں اور جنت کے دریا سے پانی پیتی ہیں (٤) وہ قندیلوں میں لوٹ جاتی ہیں اور وہیں بسیرا کرتی ہیں (٥) اللہ تعالیٰ ان سے کلام فرماتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا جواب دیتی ہیں (٦) وہ دنیا میں واپس جانے کو طلب کرتی ہیں تاکہ پھر شہید ہوں۔

یہ ستائیس دلیلیں ہوئیں۔

حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں مقام الغابہ میں اپنا مال لینے کے لیے گیا ‘ مجھے رات ہوگئی تو میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن حزام (رض) کی قبر کے پاس پہنچا میں نے قبر سے اتنی حسین آواز سنتی کہ اس سے پہلے میں نے اتنی حسین آواز نہیں سنی تھی ‘ یہ قرآن پڑھنے کی آواز تھی میں اس آواز سے مانوس ہوگیا اور میں صبح تک قرأت سنتا رہا ‘ پھر میں نے جا کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا یہ عبداللہ بن عمرو تھے ‘ اے طلحہ ! کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ عزوجل نے شہداء کی روحوں کو قبض کیا اور ان کو زمرد اور یاقوت کی قندیل میں رکھا اور اس قندیل کو جنت کے وسط میں رکھ دیا جب رات آتی ہے تو ان کی روحیں وہیں لوٹا دی جاتی ہیں جہاں پر وہ تھیں۔ (کنزالعمال رقم الحدیث : ٣٧٢٦١ )

اس حدیث میں مزید چار دلیلیں ہیں (١) روحوں کا قندیل میں ہونا (٢) ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا (٣) قبر کے پاس قرآن پڑھنا (٤) ان کا کسی مکان میں پہنچنا۔

مومن اور کافر کی روحوں کو قبر میں ان کے جسموں میں داخل کرنا 

حضرت البراء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک انصاری کے جنازہ میں گئے ہم ایک قبر کے پاس بیٹھے ‘ اس کی لحد بنائی جارہی تھی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے پاس اس طرح بیٹھ گئے گویا کہ ہمارے سروں پر قرندے بیٹھے ہوں ‘ آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کھرچ رہے تھے ‘ آپ نے سر اٹھا کر فرمایا عذاب قبر سے پناہ طلب کرو ‘ یہ آپ نے دو یا تین بار فرمایا ‘ پھر آپ نے فرمایا جب لوگ میت کو دفن کرکے چلے جاتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آہٹ سنتا ہے ‘ اس سے کہا جاتا ہے اے شخص ! تیرا رب کون ہے ‘ تیرا دین کیا ہے اور تیرا نبی کون ہے۔ ھناد نے کہا اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھا دیتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ‘ وہ اس سے پوچھتے ہیں : تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے ! وہ پوچھتے ہیں : یہ شخص کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا ؟ وہ کہتا ہے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ! وہ پوچھتے ہیں تمہیں کیسے معلوم ہوا ؟ وہ کہتا ہے میں نے کتاب اللہ میں پڑھا میں اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی ‘ پھر آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے کہ میرے بندہ نے سچ کہا اس کے لیے جنت سے فرش بچھا دو اور اس کو جنت کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف سے کھڑکی کھول دو ‘ پھر اس کے پاس جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آتی ہے اور اس کے لیے وہ جگہ منتہائے نظر تک کھول دی جاتی ہے اور فرمایا کافر کے جسم میں اس کی روح لوٹائی جاتی ہے اور اس کے پاس دو ٹرشتے آکر اس اس کو بٹھادیتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے افسوس میں نہیں جانتا ‘ پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے افسوس میں نہیں جانتا ‘ پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں یہ شخص کون ہے جو تم میں بھیجے گئے تھے ؟ وہ کہتا ہے افسوس میں نہیں جانتا ‘ پھر آسمان سے ایک مندی ندا کرتا ہے اس نے جھوٹ کہا اس کے لیے دوزخ کا فرش بچھا دو اور اس کو دوزخ کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے دوزخ کی ایک کھڑکی کھول دو ‘ پھر اس کے پاس دوزخ کی گرم ہوا اور اس کی تپش آئے گی ‘ اور اس پر قبر تنگ کردی جائے گی حتی کہ اس کی پسلیاں ایک طرف سے دوسری طرف نکل جائیں گی پھر اس پر ایک اندھا اور گونگا مسلط کردیا جائے گا اس کے پاس لوہے کا ایک ایسا گرز ہوگا کہ اگر اس کو پہاڑ پر مارا جائے تو وہ پہاڑ مٹی کا ڈھیر ہوجائے ‘ پھر وہ اس کو اس گرز سے مارے گا اور اس کی چیخ کو جن اور انس کے سوا تمام مشرق اور مغرب والے سنیں گے ‘ وہ مردہ مٹی ہوجائے گا اور اس میں اس کی روح پھر لوٹادی جائے گی۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٥٣‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٠٥٨‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٦٩‘ امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے اس کو اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ روح کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔

مومن اور کافر کی روحوں کی ان کے جسموں سے نکلنے کی کیفیت اور ان کے ۔۔۔۔۔۔۔۔

بزرخی حالات اور ان کا باہمی فرق 

حضرت البراء بن عازب (رض) کی یہ روایت زیادہ تفصیل سے مسند احمد میں ہے۔

حضرت البراء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک انصاری کے جنازہ میں گئے ‘ ہم قبر تک پہنچے ‘ جب لحد بنائی جارہی تھی ‘ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے گرد بیٹھ گئے ‘ گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے تھے ‘ آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے ‘ آپ نے سر اٹھا کردو بار یا تین بار فرمایا : عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرو ‘ پھر آپ نے فرمایا : جب بندہ مومن کے دنیا سے منقطع ہوے اور آخرت کی طرف روانہ ہونے کا وقت آتا ہے تو سفید چہرے والے فرشتے آسمان سے نازل ہوتے ہیں ’ گویا کہ ان کے چہروں میں آفتاب ہو ‘ ان کے پاس جنت کا کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے وہ منتہائے بصر تک اس بندہ مومن کے پاس بیٹھ جاتے ہیں ‘ پھر ملک الموت (علیہ السلام) آکر اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں ‘ اور کہتے ہیں اے پاکیزہ روح ! اللہ کی مغفرت اور اس کی رضا کی طرف نکل۔ پھر وہ روح جسم سے اس طرح نکلتی ہے جس طرح مشک سے پانی کے قطرے نکلتے ہیں ‘ پھر وہ اس روح کو پکڑ لیتا ہے ‘ پھر پکڑنے کے بعد پلک جھپکنے کی مقدار بھی اس کو فرشتے نہیں چھوڑتے حتی کہ اس کو کفن میں رکھ دیتے ہیں ‘ اور اس میں خوشبو لگا دیتے ہیں ‘ اور اس سے مشک سے زیادہ پاکیزہ خوشبو آتی ہے اور روئے زمین پر ایسی خوشبو نہیں ہوتی ‘ پھر فرشتے اس روح کو لے کر اوپر چڑھتے ہیں ‘ پھر وہ جن فرشتوں کے پاس سے گزرتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ کیسی پاکیزہ خوشبو ہے ‘ تو دنیا میں اس روح کا جو سب سے اچھا نام لیا جاتا تھا وہ نام ذکر کر کے فرشتے اس روح کا تعارف کراتے ہیں ‘ حتیٰ کہ وہ آسمان دنیا پر پہنچ جاتے ہیں ‘ پھر اس آسمان کا دروازہ کھلواتے ہیں اور ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کا استقبال کرتے ہیں اسی طرح وہ ساتویں آسمان پر پہنچ جاتے ہیں ‘ تب اللہ عزو جل فرماتا ہے میرے اس بندہ کا صحیفہ اعمال علین میں رکھ دو ‘ اور اس روح کو زمین پر لوٹا دو ‘ کیونکہ میں نے اس کو زمین (مٹی) سے ہی پیدا کیا ہے اور میں اس کو اسی میں لوٹائوں گا اور اسی سے اس کو دوبارہ اٹھائوں گا ‘ آپ نے فرمایا : پھر اس کی روح دوبارہ اس کے جسم میں لوٹا دی جائے گی ‘ پھر اس کے پاس دو فرشتے آکر اس کو بٹھائیں گے اور اس سے کہیں گے تمہارا رب کون ہے ؟ وہ کہے گا میرا رب اللہ ہے ‘ پھر فرشتے اس سے کہیں گے تمہارا دین کیا ہے ؟ وہ کہے گا میرا دین اسلام ہے ‘ پھر فرشتے اس سے کہیں گے یہ شخص کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا ؟ وہ کہے گا یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ‘ فرشتے کہیں گے تمہیں ان کا علم کیسے ہو ؟ وہ کہے گا میں نے اللہ کی کتاب پڑھی ہے سو میں ان پر ایمان لایا اور ان کی تصدیق کی ‘ پھر آسمان سے ایک مندی ندا کرے گا کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کے لیے جنت سے فرش بچھا دو اور اس کو جنت کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک کھڑکی کھول دو “ آپ نے فرمایا پھر اس کے پاس جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آئے گی ‘ اور اس کے لیے قبر میں منتہاء بصر تک وسعت کردی جائے گی ‘ پھر اس کے پاس ایک حسین شخص خوب صورت کپڑے پہنے ہوئے اور اچھی خوشبو لگائے ہوئے آئے گا اور کہے گا جس دن سے تم کو ڈرایا جاتا تھا آج تمہیں اس دن کی آسانی مبارک ہو ! وہ بندہ مومن کہے گا ! تم کون ہو اور تم کتنے حسین چہرے والے ہو ‘ وہ شخص کہے گا میں تمہارا نیک عمل ہوں ‘ وہ بندہ مومن کہے گا : اے میرے رب ! ابھی قیامت قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل اور مال کی طرف لوٹ جائوں ! آپ نے فرمایا اور جب بندہ کافر پر دنیا سے منقطع ہونے اور آخرت کی طرف جانے کا وقت آتا ہے تو آسمان سے سیاہ فام فرشتے اترتے ہیں ان کے پاس سخت موٹا ٹاٹ ہوتا ہے ‘ وہ منتہاء بصر تک بیٹھ جاتے ہیں ‘ پھر ملک الموت آکر اس کے سر ہانے بیٹھ جاتا ہے اور اس بندہ کافر سے کہتا ہے : اے خبیث روح اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے غضب کی طرف نکل ‘ پھر وہ روح اس کے جسم میں متفرق جگہ بکھر جاتی ہے ‘ فرشتے اس کی روح کو اس کے جسم سے اس طرح کھینچ کر نکالتے ہیں جس طرح بھیگے ہوئے اون سے سلاخ کو کھینچ کر نکالا جاتا ہے ‘ ملک الموت اس کی روح آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتا ہے اور اس بندہ کافر سے کہتا ہے : اے خبیث روح اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے غضب کی طرف نکل ‘ پھر وہ روح اس کے جسم میں متفرق جگہ بکھر جاتی ہے ‘ فرشتے اس کی روح کو اس کے جسم سے اس طرح کھینچ کر نکالتے ہیں جس طرح بھیگے ہوئے اون سے سلاخ کو کھینچ کر نکالا جاتا ہے ‘ ملک الموت اس کی روح کو پکڑ لیتا ہے اور فرشتے اس کو پکڑتے ہی پلک جھپکنے کی مقدار بھی اس کو نہیں چھوڑتے اور فوراً اس کو اس موٹے ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں وہ روح اس کے جسم سے نکلتی ہے تو وہ روئے زمین کی سب سے زیادہ سخت بدبو ہوتی ہے ‘ وہ اس روح کو لے کر جن فرشتوں کے پاس سے گزرتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ کیسی خبیث روح ہے ! تو فرشتے بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے اور اس کا وہ نام لیتے ہیں جو دنیا میں اس کا سب سے برا نام تھا ‘ حتیٰ کہ اس کو لے کر آسمان دنیا پر پہنچتے ہیں اور آسمان کا دروازہ کھلواتے ہیں تو آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی :

لا تفتح لھم ابواب السمآء ولا یدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط۔

( الاعراف : ٤٠) کافروں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزر جائے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کے صحیفئہ اعمال کو زمین کے سب سے نچلے طبقہ میں رکھ دو پھر اس روح کو پھینک دیا جائے گا ‘ پھر آپ نے اس آیت کو پڑھا :

ومن یشرک باللہ فکانما خر من السمآء فتخطفہ الطیر او تھوی بہ الریح فی مکان سحیق۔ (الحج : ٣١) اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے پس وہ گویا آسمان سے گرپڑا اب یا تو اس کو پرندے جھپٹ کرلے جائیں گے یا ہوا اس کو کسی دور دراز جگہ پھینک دے گی۔

پھر اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جائے گی اور اسکے پاس دو فرشتے آئیں گے جو اس کو بٹھادیں گے پس وہ اس سے کہیں گے تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہے گا افسوس میں نہیں جانتا ! پھر وہ اس سے کہیں گے تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہے گا افسوس میں نہیں جانتا ! پھر وہ کہیں گے یہ کون شخص ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا ‘ وہ کہے گا افسوس میں نہیں جانتا ! پھر آسمان سے ایک منادی ندا کرے گا اس نے جھوٹ بولا ‘ اس کے لیے دوزخ سے فرش بچھا دو اور اس کے لیے دوزخ کی کھڑکی کھول دو ‘ پھر اس کے پاس دوزخ کی تپش اور اس کی گرم ہوا آئے گی اور اس پر قبر تنگ ہوجائے گی حتیٰ کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر نکل جائیں گی۔ پھر اس کے پاس ایک بد صورت شخص آئے گا۔ جس کے کپڑے بھی بہت برے ہوں گے اور وہ سخت بد بودارہو گا وہ کہے گا تم کو مبارک ہو آج وہ برا دن ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا تھا وہ کافر کہے گا تم کون ہو ؟ تمہارا چہرہ کتنا بدصورت ہے ؟ وہ کہے گا میں تمہارا خبیث عمل ہوں ! تو وہ کہے گا : اے میرے رب ابھی قیامت قائم نہ کرنا۔

(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٦٧٣٧‘ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ ‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٦٧٦٦‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤٢١ ھ ‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٣٨٢۔ ٠ ٣٨‘ مطبوعہ کراچی ‘ ١٤٠٦ ھ ‘ مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٨٥٥٣‘ جدید دارالحدیث قاہرہ ‘ ١٤١٦ ھ ‘ الشریعۃ للا اجری رقم الحدیث 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب مومن پر موت کا وقت آتا ہے تو فرشتے اس کے پاس ریشم کے کپڑے میں مشک اور پھولوں کا گلدستہ لاتے ہیں اور اس کے جسم سے روح اس طرح نکالی جاتی ہے جس طرح گندھے ہوئے آٹے سے بال نکالا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے اے نفس مطمئنہ ! اپنے رب کی طرف نکلو تم اس سے خوش وہ تم سے خوش ‘ پھر اس روح کو اس کپڑے میں لپیٹ کر علیین کی طرف لے جاتے ہیں۔ (حلیۃ الا ولیاء ج ٣ ص ١٠٤ قدیم ‘ رقم الحدیث : ٣٤١٠ جدید)

علامہ ابن قیم جوزی متوفی ٧٥١ ھ اس حدیث کے فوائد کے بیان میں لکھتے ہیں :

(١) ملک الموت مومن کی روح سے کہتا ہے یا یتھا النفس المطمنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ اس سے معلوم ہوا کہ روح خطاب کو سنتی اور سمجھتی ہے

(٢) اس حدیث میں ہے اے روح تو اللہ کی مغفرت اور اس کی رضا کی طرف نکل

(٣) اس حدیث میں ہے وہ روح جسم سے اس طرح بہتی ہوئی نکلتی ہے جس طرح پانی کا قطرہ مشک سے نکلتا ہے

(٤) اس میں ہے کہ فرشتے پلک جھپکنے کے لیے بھی اسے نہیں چھوڑتے اور فوراً اس روح کو پکڑ لیتے ہیں

(٥) اس میں ہے کہ وہ مشک سے معطر کیے ہوئے کفن میں اس کو رکھ دیتے ہیں اور اس پر خوشبو لگاتے ہیں ‘ اس سے معلوم ہوا کہ روح کو کفن میں رکھا جاتا ہے اور اس پر خوشبو لگائی جاتی ہے

(٦) اس میں ہے کہ پھر اس روح کو آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے

(٧) پھر ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس سے ملاقات کرتے ہیں

(٨) اس میں ہے کہ اس روح سے مشک سے زیادہ اچھی خوشبو آتی ہے

(٩) اس میں ہے کہ اس کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں

(١٠) ہر آسمان پر مقرب فرشتے اس روح کا استقبال کرتے ہیں حتیٰ کہ اسے اس کے رب کے پاس پہنچا دیتے ہیں

(١١) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس بندے کو زمین کی طرف لے جائو

(١٢) پھر اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جائے گی

(١٣) کافر کی روح کے متعلق فرمایا پھر اس کی روح اس کے جسم میں بکھر جائے گی اور فرشتے اس کی ورح کو کھینج کر نکالیں گے

(١٤) اس روح سے جو بدبو آئے گی وہ روئے زمین پر سب سے سخت بدبو ہوگی

(١٥) اس روح کو آسمان سے اٹھا کر زمین کی طرف پھینک دیا جائے گا

(١٦) جب فرشتے اس روح کو لے کر فرشتوں کے پاس سے گزریں گے تو فرشتے کہیں گے کہ یہ کیسی سخت بدبو ہے

(١٧) فرشتے اس کو قبر میں بٹھا کر پوچھیں گے کہ تم اس شخص کو کیا کہتے تھے ‘ اگر وہ روح سے یہ کہیں گے تو پھر یہ روح سے کلامکا ثبوت ہے اور اگر وہ بدن سے کہیں گے تو یہ آسمان سے روح کے لوٹائے جانے کے بعد ہوگا

(١٨) فرشتے اس روح کے متعلق اپنے رب سے کہیں گے کہ یہ تیرا فلاں بندہ ہے

(١٩) اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا اس روح کو لے جائو اور اس کو دکھائو میں نے اس کے لیے کیا معزز چیزیں تیار کی ہیں پھر مومن کی روح کو جنت اور کافر کی روح کو دوزخ دکھائی جائے گی

(٢٠) مومن کی روح پر آسمان کا ہر فرشتہ صلاۃ پڑھے گا۔ پس بنو آدم جسم پر صلاۃ پڑھتے ہیں اور فرشتے روح پر صلاۃ پڑھتے ہیں

(٢١) روح قیامت تک جنت یا دوزخ کو ( قبر کی کھڑکی سے) دیکھتی رہے گی ‘ بدن تو بوسیدہ ہو کر گل جائے گا اور ان دونوں ٹھکانوں کو روح دیکھتی رہے گی ‘ اور یہ روح کے آثار اور افعال پر تریپن دلیلیں ہوگئیں۔

حضرت ابو موسیٰ (رض) نے کہا مومن کی رح جسم سے نکلتی ہے تو مشک سے زیادہ خوشبودار ہوتی ہے ‘ جو فرشتے اس مومن پر وفات طاری کرتے ہیں وہ اس کی روح کو لے کر اوپر چڑھتے ہیں ‘ ان کی آسمان کے فرشتوں سے ملاقات ہوتی ہے ‘ وہ پوچھتے ہیں تمہارے ساتھ کون ہے ؟ وہ بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے اور اس کے نیک اعمال بتاتے ہیں ‘ وہ کہتے ہیں اللہ تم کو بھی زندہ رکھے اور جو تمہارے ساتھ ہے اس کو بھی زندہ رکھے ‘ پھر اس روح کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اس مومن کا چہرہ روشن ہوجاتا ہے ‘ پھر آسمان کے نزدیک ان کی دوسرے فرشتوں سے ملاقات ہوتی ہے ‘ وہ پوچھتے ہیں یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ وہ بتاتے ہیں کہ یہ فلاں شخص ہے اور اس کے برے اعمال کا ذکر کرتے ہیں ‘ وہ کہتے ہیں اس کو واپس لے جائو اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا ‘ پھر حضرت ابو موسیٰ نے یہ آیت پڑھی :

ولا ید خلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط۔ (الاعراف : ٤٠) اور کافر جنت میں داخل نہیں ہوں گے حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے ناکہ سے نہ گزر جائے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٢ ص ٣٨٣۔ ٣٨٢‘ مطبوعہ کراچی ‘ ١٤٠٦ ھ ‘ مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٢٠٦٠‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٦ ھ ‘ کتاب الروح ص ١٧٥‘ شرح الصدور ص ٦٦۔ ٦٥ )

علامہ ابن قیم جوزی نے کہا ہے اس حدیث میں دس دلیلیں ہیں :

(١) روح کا نکلنا (٢) اس کا خوشبو دار ہونا (٣) فرشتوں کا اس کو لے کر چلنا (٤) فرشتوں کا اس کی تعظیم کرنا (٥) فرشتوں کا روح کو پکڑنا (٦) فرشتوں کا اس کو لے کر چڑھنا (٧) اس کے نور سے آسمانوں کا روشن ہونا (٨) اس کو لے کر عرش پر پہنچنا (٩) فرشتوں کا اس کے متعلق سوال کرنا یہ کون ہے (١٠) کافر کی روح کے متعلق فرشتوں کا یہ کہنا اس کو زمین کے سب سے نچلے طبقہ میں لے جائو۔ یہ تریسٹھ دلیلیں ہوگئیں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب مومن کی روح جسم سے نکلتی ہے تو دو فرشتے اس کو لے کر اوپر چڑھتے ہیں ‘ اس کی خوشبو مشک کی طرح ہوتی ہے ‘ آسمان والے کہتے ہیں تو پاکیزہ روح ہے زمین کی طرف سے آئی ہے ‘ اللہ تیری مغفرت کرے ‘ اور اس جسم کی مغفرت کرے جس میں تو آباد تھی ‘ پھر فرشتہ اس کو اسکے رب عزوجل کے پاس لے جاتا ہے ‘ اللہ فرماتا ہے اس کو اس کی آخری مدت تک لے جائو ‘(یعنی اس کو علیین کی طرف لے جائو) اور جب کافر کی روح اس کے جسم سے نکلتی ہے تو سخت بدبو آتی ہے اور آسمان والے کہتے ہیں یہ خبیث روح ہے جو زمین کی طرف سے آئی ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٧٢‘ مشکوۃ شریف رقم الحدیث : ١٦٢٨‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٤٢١٧٠)

اس حدیث میں روح کی جسم لطیف ہونے پر چھ دلیلیں ہیں :

(١) روح سے فرشتے ملاقات کرتے ہیں (٢) روح کو آسمان کی طرف لے جاتے ہیں (٣) فرشتے کہتے ہیں کہ یہ پاکیزہ روح ہے جو زمین کی طرف سے آئی ہے (٤) فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں (٥) اس کی پاکیزہ خوشبو ہوتی ہے (٦) اس کو اللہ عزوجل کے پاس لے جاتے ہیں۔ اس حدیث سمیت یہ انہتر دلیلیں ہیں۔

اس نوع کی مزید احادیث ذکر کرکے علامہ ابن قیم جو زیہ متوفی ٧٥١ ھ نے تیس مزید دلیلیں نکالی ہیں اور ان سے یہ ثابت کیا ہے کہ روح ایک لطیف جسم ہے جس کا جسم عنصری میں حلول ہوتا ہے ‘ اس کو جسم سے نکال لیا جاتا ہے ‘ اس کو منتقل کیا جاتا ہے یہ دیکھتی ہے ‘ سنتی ہے ‘ کلام کرتی ہے ‘ مومن کی روح خوشبودار ہوتی ہے اور کافر کی روح بدبودار ہوتی ہے ‘ اور ان میں اور بھی امتیازات ہیں۔ ( کتاب الروح ص ١٨١۔ ١٧١‘ دارالحدیث قاہرہ ‘ ١٤١٠ ھ)

روح کے مزید مباحث اور نفس اور روح کے فرق کی تحقیق کے لیے تبیان القرآن ج ٦ ص ٧٩٣۔ ٧٨٦کا مطالعہ فرمائیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 32 السجدة آیت نمبر 9