وَسَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرْضُۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیۡنَ﴿۱۳۳﴾ۙ 

ترجمۂ کنزالایمان: اور دوڑو اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین آ جائیں پرہیزگاروں کے لئے تیار رکھی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑوجس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ وہ پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

{ وَسَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ: اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو۔} فرمایا گیا کہ گناہوں سے توبہ کرکے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرائض کو ادا کرکے، نیکیوں پر عمل پیرا ہوکر اور تمام اعمال میں اخلاص پید اکرکے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بخشش اور جنت کی طرف جلدی کرو۔ پھر جنت کی وسعت اس طرح بیان فرمائی کہ لوگ سمجھ سکیں کیونکہ لوگ جو سب سے وسیع چیز دیکھتے ہیں وہ آسمان و زمین ہی ہے، اس سے وہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اگرتمام آسمانوں اور زمینوں کوترتیب سے ایک لائن میں رکھ کرجوڑ دیا جائے تو جو وسعت بنے گی اُس سے جنت کی چوڑائی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جنت کتنی وسیع ہے ۔ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے دریافت کیا گیا کہ جنت آسمان میں ہے یا زمین میں ؟ فرمایا: کون سی زمین اور کون سا آسمان ایسا ہے جس میں جنت سما سکے۔ عرض کیا گیا :پھر کہاں ہے؟ فرمایا: آسمانوں کے اوپر ، عرش کے نیچے۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۳۳، ۱/۳۰۱) 

جنت نہایت عظیمُ الشان جگہ ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دیدارکا مقام ہے۔ قرآنِ پاک میں جنت کی عظمت کو بکثرت بیان کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے صدقے ہمیں جنت الفردوس میں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا پڑوس نصیب فرمائے۔ یہ بات بھی سامنے رکھیں کہ اس آیت اور اس سے اوپر کی آیت ’’ وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡۤ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیۡنَ ‘‘ سے ثابت ہوا کہ جنت و دوزخ پیدا ہوچکی ہیں اور دونوں موجود ہیں کیونکہ دونوں آیتوں میں ماضی کے زمانے میں جنت و دوزخ کے تیار ہونے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔