اَمْ حَسِبْتُمْ اَنۡ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ﴿۱۴۲﴾

ترجمۂ کنزالایمان: کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں کی آزمائش کی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تم اس گمان میں ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تمہارے مجاہدوں کا امتحان نہیں لیا اور نہ(ہی) صبر والوں کی آزمائش کی ہے۔

{ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنۡ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ: کیا تم اس گمان میں ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے؟ }یہاں مسلمان پر آنے والی آزمائشوں کی حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگر تمہیں آزمائشیں آتی ہیں تو اس پر بے قرار اور حیرت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ ہم تو مسلمان ہیں ، ہمیں اللہ تعالیٰ کیوں تکلیفوں میں مبتلا فرما رہا ہے؟یاد رکھو کہ تمہارا امتحان کیا جائے گا، تمہیں ایمان کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے کیسے زخم کھاتے اور تکلیف اُٹھاتے ہو اور کتنا ثابت قدم رہتے ہو۔ تھوڑی سی تکلیف پر چِلّا اٹھنا اور دہائی دینا شروع کردینا ایمان والوں کا شیوہ نہیں۔ جنت میں داخلہ مطلوب ہے تو ان آزمائشوں پر پورا اترنا پڑے گا، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں قربانی دینا پڑے گی اور ہر حال میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔

زباں پہ شکوہِ رنج و اَلَم لایا نہیں کرتے

نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے

اِس میں اُن لوگوں کو سرزنش (تنبیہ) ہے جو اُحد کے دن کفار کے مقابلہ سے بھاگے تھے۔نیز اس آیت کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنے اعمال اور اپنی حالت پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اگر ہمیں راہِ خدا میں اپنا مال یا وقت دینا پڑے تو ہم اس میں کتنا پورا اترتے ہیں ؟ افسوس کہ ہماری حالت کچھ اچھی نہیں۔ فضولیات میں خرچ کرنے کیلئے پیسہ بھی ہے اور وقت بھی لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کرتے وقت نہ پیسہ باقی رہتا ہے اور نہ وقت۔

تنبیہ: آیت میں علم کا لفظ ہے ، یہاں اس سے مراد آزمائش کرنا ہے۔