وَلَقَدْ کُنۡتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنۡ قَبْلِ اَنۡ تَلْقَوْہُ۪ فَقَدْ رَاَیۡتُمُوۡہُ وَاَنۡتُمْ تَنۡظُرُوۡنَ﴿۱۴۳﴾٪ 

ترجمۂ کنزالایمان:اور تم تو موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کے ملنے سے پہلے تو اب وہ تمہیں نظر آئی آنکھوں کے سامنے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم موت کا سامنا کرنے سے پہلے تو اس کی تمنا کیا کرتے تھے ،اب تم نے اسے آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا۔
{ وَلَقَدْ کُنۡتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ: اورتم موت کی تمنا کیا کرتے تھے۔} جب بدر کے شہداء کے درجے اور مرتبے اور ان پراللہ تعالیٰ کے انعام و احسان بیان فرمائے گئے تو جو مسلمان غزوہ بدر میں شریک نہ ہوئے تھے انہیں حسرت ہوئی اور انہوں نے آرزو کی کہ کاش کسی جہاد میں انہیں حاضری میسر آئے اور شہادت کے درجات ملیں ، اِنہی لوگوں نے حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے اُحد پر جانے کے لئے اِصرار کیا تھا اُن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی
(مدارک، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۴۳، ص۱۸۸)
کہ پہلے توشہادت کی موت کی تمنا کرتے تھے مگرجب میدانِ جنگ میں پہنچے تو بھاگنے لگے، یہ کیا ہے؟ یہ گویا ان کی تفہیم ہے یعنی انہیں سمجھایا گیا ہے۔