یَسْتَبْشِرُوۡنَ بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللہِ وَفَضْلٍ ۙ وَّاَنَّ اللہَ لَا یُضِیۡعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۷۱﴾ۚ

ترجمۂ کنزالایمان: خوشیاں مناتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل کی اور یہ کہ اللہ ضائع نہیں کرتا اجر مسلمانوں کا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:وہ اللہ کی نعمت اور فضل پر خوشیاں منارہے ہیں اور اس بات پر کہ اللہ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں فرمائے گا ۔ 

{ یَسْتَبْشِرُوۡنَ بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللہِ وَفَضْلٍ:وہ اللہ کی نعمت اور فضل پر خوشیاں منارہے ہیں۔ } شہداء اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی نعمت پر خوشیاں مناتے ہیں اور ان کے ہر زخم کے بدلے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بارشیں ان پر نازل ہوتی ہیں۔ 

شہدا ء کے چھ فضائل:
(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس کسی کے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں زخم لگا وہ روزِ قیامت ویسا ہی آئے گا جیسا زخم لگنے کے وقت تھا ، اس کے خون میں خوشبو مشک کی ہوگی اور رنگ خون کا ۔ (بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب من یجرح فی سبیل اللہ عزوجل، ۲/۲۵۴، الحدیث: ۲۸۰۳)
(2)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، ،سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ ’’شہید کو قتل سے تکلیف نہیں ہوتی مگر ایسی جیسی کسی کو ایک خراش لگے۔ (ترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب ما جاء فی فضل المرابط، ۳/۲۵۲، الحدیث: ۱۶۷۴)
(3) …حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’شہید کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں سوائے قرض کے ۔(مسلم ، کتاب الامارۃ، باب من قتل فی سبیل اللہ کفرت خطایاہ الا الدّین، ص۱۰۴۶، الحدیث: ۱۱۹(۱۸۸۶))
(4)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جنت میں جانے کے بعد شہید یہ تمنا کرے گا کہ مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے اور دس بار (اللہ کے راستے میں ) قتل کیا جاؤں۔ (مسلم ، کتاب الامارۃ، باب فضل الشہادۃ فی سبیل اللہ تعالی، ص۱۰۴۳، الحدیث: ۱۰۹(۱۸۷۷))
(5)… حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے: میری یہ تمنا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کروں ، پھر شہید کیا جاؤں ، پھر جہاد کروں ، پھر شہید کیا جاؤں ، پھر جہاد کروں پھر شہید کیا جاؤں۔ (مسلم ، کتاب الامارۃ، باب فضل الجہاد والخروج فی سبیل اللہ، ص۱۰۴۲، الحدیث: ۱۰۳(۱۸۷۶))
(6) …حضرت اسلم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ دعا مانگی ’’اللہُمَّ ارْزُقْنِی شَہَادَۃً فِی سَبِیلِکَ ، وَاجْعَلْ مَوْتِی فِی بَلَدِ رَسُولِکَ‘‘اے اللہ عَزَّوَجَلَّ، مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا فرما اور مجھے اپنے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے شہر میں وفات نصیب فرما۔ (بخاری، کتاب فضائل المدینۃ، ۱۳- باب، ۱/۶۲۲، الحدیث: ۱۸۹۰)