أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآئِفَةٌ مِّنۡهُمۡ يٰۤـاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا‌ ۚ وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمُ النَّبِىَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَة‌ٌ  ‌ۛؕ وَمَا هِىَ بِعَوۡرَةٍ ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ۞

ترجمہ:

اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا تھا اے یثرب والو ! اب تمہارا یہاں کوئی ٹھکانا نہیں ہے تم واپس جائو ‘ اور ان کا دوسرافریق نبی سے جانے کی اجازت طلب کررہا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں حالانکہ وہ غیر محفوظ نہ تھے ‘ وہ صرف بھاگنا چاہ رہے تھے

احادیث صحیحہ اور فقہاء اسلام کے اقوال سے مدینہ منورہ کو یثرب کہنے کی ممانعت 

اس وقت ان میں سے ایک گروہ نے کہا اے اہل یثرب ! یثرب سے مراد مدینہ ہے ‘ صحیح حدیث میں ہے :

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میں مکہ سے اس جگہ کی طرف ہجرت کروں گا جہاں کھجوروں کے درخت ہیں ‘ میرا خیال اس طرف گیا کہ وہ جگہ یمامہ ہے ‘ پس وہ جگہ مدینہ یثرب تھی۔ (صحیح البخاری کتاب المناقب ‘ با با ھجرۃ النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الی المدینۃ)

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی نے لکھا ہے کہ یثرب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شہر کا نام ہے اور یہ غیر منصرف ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١٧ ص ٤٩‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

حافظ شہاب الدین ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کو یثرب اس وقت فرمایا جب آپ نے اس کا نام طیبہ نہیں رکھا تھا۔ (فتح الباری ج ٧ ص ٦٣٣‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مدینہ طیبہ ہے یہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جس طرح آگ چاندی کے زنگ کو مٹا دیتی ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٠ ٤٠٥‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٨٤‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٠٢٨‘ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ١١٣)

حضرت جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٨٥‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٠ ٤٢٦ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اس شہر میں جانے کا حکم دیا گیا ہے جو دوسرے شہروں کو کھاجائے گا ‘ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں ‘ اور وہ مدینہ ہے وہ (برے) لوگوں کو اس طرح نکال دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نکال دیتی ہے۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٨٢‘ صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٨٧١‘ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٤٢٦١ )

حضرت البراء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے مدینہ کو یثرب کہا وہ اللہ عزوجل سے استغفار کرے ‘ یہ طابہ ہے یہ طابہ ہے۔

(مسند احد ج ٤ ص ٢٨٥‘ مسند ابو یعلی رقم الحدیث : مجمع الزوائد ج ٣ ص ٣٠٠‘ حافظ زین نے کا اسکی سند میں ایک راوی یزید بن ابی زیادہ ضعیف ہے ‘ لیکن صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں اس کے شواہد ہیں ‘ حاشیہ مسند احمد رقم الحدیث : ١٨٤٢٨‘ قاہرہ ‘ اور حافظ الھیشمی نے کہا اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں)

علامہ یحییٰ بن شرف نوادی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں :

منافق مدینہ کو یثرب کہتے تھے ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کا نام مدینہ ہے اور یہ طابہ اور طیبہ ہے ‘ اور حدیث میں یہ تصریح ہے کہ مدینہ کو یثرب کہنا مکروہ ہے ‘ مسند احمد میں بھی مدینہ کو یثرب کہنے کی ممانعت ہے ‘ عیسیٰ بن دینارنے کہا جو مدینہ کو یثرب کہے گا اس کا گناہ لکھا جائے گا ‘ مدینہکو یثرب کہنا اس لیے مکروہ ہے کہ تثریب کا معنی جھڑکنا اور ملامت کرنا ہے اور قرآن مجید میں منافقین کا قول نقل کیا ہے جنہوں نے یا اھل یثرب کہا تھا۔ (الاحزاب : ١٣)

(صحیح مسلم بشرح النوادی ج ٦ ص ٣٦٩٨۔ ٣٦٩٧‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ)

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برے نام کو اچھے نام سے بدل دیتے تھے اس لیے آپ نے یثرب کو طیبہ اور طابہ سے بدل دیا ‘ طیبہ خوشبودار ہوا کو کہتے ہیں اور یہ مدینہ میں موجود ہے ‘ اور مدینہ کی ہوا میں ‘ اس کی مٹی میں اور اس کی تمام چیزوں میں خوش بو ہے ‘ مدینہ کو طیبہ اس لیے فرمایا کہ اس میں اسلام کی اشاعت ہوئی اور یہ شہر کفر سے پاک کردیتا ہے۔ (کمال المعلم بفوائدمسلم ج ٦ ص ٥٠١‘ دارالوفاء بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

علامہ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ لکھتے ہیں :

بعض منافقین مدینہ کو یثرب کہتے تھے اور جو نام اس شہر کے لائق ہے وہ مدینہ ہے ‘ اس لیے بعض علماء نے کہا کہ مدینہ کو یثرب کہنا مکروہ ہے ‘ اور قرآن مجید میں ہے کہ غیر مومنین نے مدینہ کو یثرب کہا تھا ‘ اور امام احمد نے حضرت البراء بن عازب (رض) سے مرفوعاً روایت کیا ہے جس نے مدینہ کو یثرب کہا تو وہ توبہ کرے یہ طابہ ہے یہ طابہ ہے ‘ اور اس کراہت کا سبب یہ ہے کہ یثرب یا تو تثریب سیبنا ہے جس کا معنی ملامت کرنا ہے اور یاثرب سے بنا ہے جس کا معنی فساد کرنا ہے ‘ اور یہ دونوں نام قبیح ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اچھے نام کو پسند فرماتے تھے اور برے نام کو ناپسند فرماتے تھے ‘ اور عمر بن شبہ نے ابو ایوب سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کو یثرب کہنے سے منع فرمایا ہے اور عیسیٰ بن دینار مالکی نے کہا جس نے مدینہ کو یثرت کہا اسکا گناہ لکھاجائے گا۔ حضرت نوح کے پر پوتے کے پر پوتے یثرب بن قانیہ نے اس شہر کو سب سے پہلے مسکن بنایا تھا اسی کی نام پر اس علاقہ کا نام یثرب پڑگیا۔ (فتح الباری ج ٤ ص ٥٧٣۔ ٥٧٢۔ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

علامہ بدر الدرین عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔

(عمدۃ القاری ج ١٠ ص ٣٣٥ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

علامہ خفا جی حنفی متوفی ١٠٦٩ ھ اور علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے لکھا ہے کہ مدینہ کو یثرب کہنا مکروہ تنز یہی ہے۔

(حاثیۃ الخفا جی علی البیضاوی ج ٧ ص ٤٦٩‘ روح المعانی جز ٢١ ص ٢٤١ )

بعض عارفین نے کہا ہے کہ یثرب تثریب سے بنا ہے اور اس کام عنی ہے ملامت کرنا ‘ پہلے صحت مند لوگو مدینہ جاتے تھے تو بیمار ہوجاتے تھے ‘ اس لیے لوگ ملامت کرتے تھے کہ مدینہ کیوں گئے ! اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہجرت کرنے کے بعد اب وہ جگہ دارالشفاء بن گئی اب وہاں بیمار جائیں تو صحت مند ہوجاتے ہیں ‘ پہلے وہاں جانے پر ملامت کی جاتی تھی اب کوئی شخص حج کرنے جائے اور مدینہ ہو کر نہ آئے تو لوگ اس کو مدینہ نہ جانے پر ملامت کرتے ہیں ‘ حدیث میں ہے :

عن ابن عمر (رض) عنھما قال قال رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من حج البیت فلم یزرنی فقد جفانی۔ حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے بیت اللہ کا حج کیا پھر وہ میری زیارت کے لیے نہیں آیا تو اس نے میرے ساتھ بےوفائی کی۔ (اکامل لابن عدی ج ٨ ص ٢٤٨ طبع جدید ‘ الدر المثور ج ١ ص ٥٣٢‘ داراحیاء التراث العربی ‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ١٣٢٦٩ )

منافقوں کے اس قول کے محامل اے اہل یثرب ! واپس جائو 

منافقین کے ایک گروہ نے مومنوں سے کہا تھا : اے یثرب والو ! تمہارا یہاں کوئی ٹھکاناہ نہیں ہے ‘ تم واپس جائو 

منافقین ک کے اس قول کے حسب ذیل محامل بیان کیے گئے ہیں :

(١) تم مدینہ واپس چلے جائو تاکہ تم کفار کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچ جائو اور جب تم کفار کے لیے میدان خالی چھوڑ جائو گے تو ان کے دلوں میں بھی تمہارے لیے نرم گوشہ ہوگا۔

(٢) ان کی مراد یہ تھی کہ تم مقابلہ سے بھاگ جائو لیکن انہوں نے اس کو رجوع سے اس لیے تعبیر کیا تاکہ مسلمان یہ نہ گمان کریں کہ یہ بھاگنا مذموم ہے۔

(٣) اب (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین پر قائم رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ‘ سو اب تم پچھلے شرک کی طرف لوٹ جائو یا تم نے اسلام پر جو بیعت کی تھی اس سے رجوع کرلو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کے دشمنوں کے حوالے کردو۔

(٤) آج کے بعد یثرب اور اس کے مضافات میں قیام کرنا تمہارے لیے خطرناک ہے ‘ کیونکہ اب یہاں کفار اور مشرکین کا قبضہ ہوجائے گا اس لیے اب تم کفر کی طرف رجوع کرلو۔

(٥) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے ہم جنس منافقوں سے یہ کہا ہو کہ اب تمہارے نفاق کا بھانڈا پھوٹنے والا ہے اور خطرہ ہے کہ عنقریب تم کو قتل کردیا جائے گا اس لیے اب تم اسلام سے رجوع کرلو اور کافروں سے مل جائو اسی میں تمہاری بقاء اور سلامتی ہے ‘ لیکن پہلی توجیہات مقام کے زیادہ موافق اور مناسب ہیں۔

گھروں کے غیر محفوظ ہونے کے محامل 

اس کے بعد ارشاد فرمایا : اور ان کا دوسرا فریق نبی سے جانے کی اجازت طلب کررہا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں حالانکہ وہ غیرمحفوظ نہ تھے وہ صرف بھاگنا چاہ رہے تھے۔

حضرت ابن عباس اور حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ اس دوسرے فریق سے مراد بنو حارثہ ہیں۔

(تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٥١٩‘ الدرالمثور ج ٦ ص ٥١٠‘ روح المعانی جز ٢١ ص ٢٤٢ )

ان کی مراد یہ تھی کہ ہمارے گھروں کی دیواریں کمزور ہیں اور ہمیں اپنے گھروں میں چوری کا خطرہ ہے یا ہمارے گھروں کی دیواریں ٹوٹی ہوئی ہیں اور جو شخص بھی ان میں داخل ہونا چاہے وہ داخل ہوسکتا ہے یا ہمارے گھروں میں صرف عورتیں ہیں مرد نہیں ہیں اس لیے ہم کو خطرہ ہے یا ہم کو دشمنوں سے خطرہ ہے کہ وہ ہمارے گھروں کو خالی دیکھ کر ان پر قبضہ کرلیں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 13