أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ وَقَذَفَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا ۞

ترجمہ:

اور جن اہل کتاب نے ان حملہ آور مشرکوں کی مدد کی تھی اللہ نے ان کو ان قلعوں سے اتار لیا اور ان کے دلوں میں رعب طاری کردیا کہ تم ان کے ایک گروہ کو قتل کررہے ہو اور ایک گروہ کو قید کررہے ہو

بنو قریظہ کو ان کی غداری کی سزا دینا 

اس کے بعد فرمایا : اور جن اہل کتاب نے ان حملہ آور مشرکوں کی مدد کی تھی اللہ نے ان کو قلعوں سے اتار لیا اور ان کے دلوں میں رعب طاری کردیا کہ تم ان کے ایک گروہ کو قتل کررہے ہو اور ایک گروہ کو قید کررہے ہو۔ (الاحزاب : ٢٦۔ ٢٥ )

اس سے پہلے یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ جب کفار اور مشرکین کی فوجوں نے مدینہ کا محاصرہ کیا تو بنو قریظہ نے اس معاہدہ کو توڑ دیا جو انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا ہوا تھا ‘ یہودیوں کے سردار کعب بن اسد کو حیی بن اخطب نے بد عہدی پر آمادہ کیا تھا بنو قریظہ نے اس معاہدہ کو توڑنے کا اعلان کردیا جس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو سخت صدمہ ہوا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمان مظفر اور منصور ہو کر خوشی خوشی مدینہ آگئے ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر کی تھکاوٹ اتارنے کے لیے حضرت ام سلمہ کے گھر غسل فرما رہے تھے تو حضرت جبریل عمام باندھے ہوئے ایک خچر پر سوار آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ نے ہتھیار اتار دیئے ‘ آپ نے فرمایا ہاں ‘ حضرت جبریل نے کہا لیکن فرشتوں نے ابھی تک اپنے ہتھیار نہیں اتارے اور کہا اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ بنو قریظہ پر حملہ کریں۔

پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوراً روانہ ہوئے اور مسلمانوں کو بھی بنو قریظہ کی طرف روانہ ہونے کا حکم دیا ‘ یہ ظہر کی نماز کے بعد کا واقعہ ہے ‘ بنو قریظہ کا قلعہ وہاں سے چند میل کی مسافت پر تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر شخص عصر کی نماز بنو قریظہ میں پہنچ کر پڑھے ‘ مسلمان روانہ ہوئے انہیں راستہ میں عصر کی نماز کا وقت آگیا ‘ بعض مسلمانوں نے راستہ میں عصر کی نماز پڑھ لی ‘ اور کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صرف یہ ارادہ تھا کہ ہم جلدی روانہ ہوں ‘ اور بعض مسلمانوں نے کہا نہیں ہم بنو قریظہ کے قلعہ کے پاس پہنچ کر ہی نماز پڑھیں گے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سے کسی فریق کو بھی ملامت نہیں کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود ان کے پیچھے بنو قریظہ کے قلعوں پر پہنچ گئے ‘ آپ نے مدینہ میں حضرت ابن ام مکتوم کو چھوڑ دیا تھا ‘ اور جھنڈا حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو عطا فرمایا تھا ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پچیس روز تک ان کا محاصرہ کیا تو انہوں نے کہا ہم اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ (رض) کا حکم پر قلعہ سے نکل آئیں گے ‘ کیونکہ زمانہ جاہلیت میں قبیلہ اوس یہودیوں کا حلیف تھا ‘ اور ان کا یہ گمان تھا کہ حضرت سعد ان کے ساتھ اسی طرح مصلحت اندیشی سے پیش آئیں گے جس طرح عبداللہ بن ابی ابن سلول بنو قینقاع کے ساتھ پیش آیا تھا ‘ اور ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ حضرت سعد (رض) کے بازو کی ایک رگ میں ان کی طرف سے ایک تیر پیوست ہوچکا تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوہا گرم کر کے ان کے زخم پر داغ لگایا تھا ‘ اور ان کو مسجد کے ایک خیمہ میں ٹھہرایا تھا تاکہ قریب سے ان کی عیادت کرسکیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مدینہ سے بلایا تاکہ وہ بنو قریظہ کے متعلق فیصلہ کریں ‘ جب حضرت سعد دراز گوش پر سوار ہو کر آئے قبیلہ اوس نے ان سے بنو قریظہ کی سفارش کی کہ ان کے متعلق نرم فیصلہ کریں جب انہوں نے بہت اصرار کیا تو حضرت سعد بن معاذ (رض) نے کہا اب اس بات کا وقت آگیا ہے کہ سعد اس بات کا ثبوت دے کہ اسے اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے ملامت کی فکر نہیں ہے ‘ حضرت سعد نے بنو قریظہ کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ بنو قریظہ میں جس قدر جنگجو ہیں ان کو قتل کردیا جائے۔ ان کی اولاد کو قید کرلیا جائے اور ان کے اموال پر قبضہ کرلیا جائے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے سعد ! تم نے ان کے متعلق وہی فیصلہ کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کا ساتویں آسمان کے اوپر حکم تھا ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے ان کو باندھا گیا اور ان کی گردنیں اڑادی گئیں یہ سات ‘ آٹھ سو نفر تھے ‘ ان کی عورتوں اور بچوں کو قید کرلیا گیا اور ان کے اموال کو ضبط کرلیا گیا۔(تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٥٢٤۔ ٥٢٣‘ مطبوعہ دار الفکر بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

غزوہ بنو قریظہ کے متعلق احادیث 

ہم نے حافظ ابن کثیر کے حوالہ سے جو تفسیر ذکر کی ہے وہ سب ذیل احادیث میں ہے :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ خندق سے لوٹے اور آپ نے ہتھیار اتار کر رکھ دیئے اور غسل کیا تو آپ کے پاس حضرت جبریل (علیہ السلام) آئے اور کہا آپ نے ہتھیار رکھ دیئے ہیں ‘ اللہ کی قسم ! ہم نے ابھی تک ہتھیار نہیں رکھے آپ ان کی طرف روانہ ہوں ‘ آپ نے فرمایا کہاں ؟ حضرت جبریل نے کہا وہاں اور بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف روانہ ہوگئے۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤١١٧‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣١٠١‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٧١٠)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں جب حضرت جبریل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئے تھے اور ان کے چلنے کی وجہ سے بنو غنم کی گلیوں میں گردوغبار اڑرہا تھا ‘ گویا کہ میں اب بھی اس گردوغبار کو دیکھ رہا ہوں۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤١١٨)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوۃ الاحزاب کے دن فرمایا تم میں سے ہر شخص عصر کی نماز بنو قریظہ میں پڑھے ‘ بعض مسلمانوں کو راستہ میں عصر کی نماز کا وقت آگیا ‘ تو ان میں سے بعض نے کہا ہم بنو قریظہ پہنچ کر ہی عصر کی نماز پڑھیں گے ‘ اور بعض نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ مراد نہیں تھی اور انہوں نے وہیں راستہ میں عصر کی نماز پڑھ لی ‘ پھر انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان میں سے کسی فریق کو اس پر ملامت نہیں کیا۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤١١٩‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٧٠)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہی صحابہ نے اپنے باغات سے چند کھجور کے درخت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے متعین کردیتے تھے (تاکہ ان درختوں کے پھل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجے جائیں) حتیٰ کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے قبائل فتح ہوگئے ( تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ہدیوں کو واپس کردیا) تو میرے گھر والوں نے کہا جائو ہم نے جو کھجوریں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی تھیں وہ سب یا ان کا کچھ حصہ تم بھی جا کرلے آئو ‘ ادھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کھجوریں حضرت ام ایمن (رض) کو دے چکے تھے ‘ اسی اثناء میں وہ بھی آگئیں اور میری گردن میں کپڑا ڈال کر کہنے لگیں ہرگز نہیں ! اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ‘ اب یہ کھجوریں تمہیں نہیں ملیں گی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یو کھجوریں مجھے دے چکے ہیں ‘ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تم ان کھجوروں کے بدلہ میں مجھ سے اتنی چیزیں لے لو (اور ان کی کھجوریں ان کو واپس کردو) انہوں نے کہا نہیں ! اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں ! حتی کہ آپ نے ان کو تقریباً دس گنا کھجوریں عطا کرنے کے لیے فرمایا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤١٢٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٧١‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١٥٥٧ )

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ بنو قریظہ نے کہا ہم حضرت سعد بن معاذ (رض) کے فیصلہ کے مطابق اپنے قلعوں سے باہر آجائیں گے ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد بن معاذ (رض) کو بلوایا وہ ایک دراز گوش پر سوار ہو کر لائے گئے جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو آپ نے انصار سے فرمایا اپنے سردار ( کو دراز گوش سے اتارنے کے لیے ان) کی طرف کھڑے ہو ‘ آپ نے فرمایہ یہ لوگ تمہارے فیصلہ کو مان کر قلعوں سے نکل آئے ہیں ‘ حضرت سعد نے کہا ان کے جنگجو لوگوں کو قتل کردیا جائے اور ان کے بچوں کو قید کرلیا جائے ‘ آپ نے فرمایا تم نے اللہ کے حکم مطابق فیصلہ کیا ہے ‘ ایک اور روایت میں ہے ان کے اموال کو تقسیم کرلیا جائے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤١٢٢۔ ٤١٢١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٨٩)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ حضرت سعد (رض) نے دعا کی اے اللہ ! بیشک تو جانتا ہے کہ میرے نزدیک اس سے زیادہ اور کوئی چیز محبوب نہیں ہے کہ میں تیری راہ میں ان لوگوں کے خلاف جہاد کروں جنہوں نے تیرے رسول کی تکذیب کی ہے ‘ اور ان کو ان کے شہر سے نکالا ہے ‘ اے اللہ ! بیشک مجھے یقین ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ کو روک دیا ہے ‘ اگر آئندہ قریش سے کوئی جنگ باقی ہو تو مجھے اس جنگ کے لیے باقی (زندہ) رکھ ‘ حتیٰ کہ میں تیری راہ میں جہاد کروں اور اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ کے سلسلہ کو ختم کردیا ہے ‘ تو میرے زخم (سے خون) کو پھر جاری کر دے ‘ اور اسی میں میری موت واقع کر دے ‘ سو ان کی ہنسلی (سینہ کا بالائی حصہ) سے خون جاری ہوگیا ‘ مسجد نبوی میں بنوغفار کا بھی ایک خیمہ تھا جب ان کی طرف خون بہہ کر آیا تو وہ گھبراگئے ‘ انہوں نے کہا اے خیمے والو ! تمہاری طرف سے ہماری طرف یہ خون کیوں آرہا ہے ! انہوں نے دیکھاتو حضرت سعد (رض) کے زخم سے خون بہہ رہا تھا اسی میں ان کی وفات ہوگئی۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤١٢٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٦٩‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣١٠٣‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٧١٠)

حضرت سعد نے جو موت کی دعا کی تھی اس پر اعتراضات کے جوابات 

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ حضرت سعد (رض) نے اپنی موت کی دعا کی حالانکہ موت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اس دعا سے حضرت سعد کی غرض یہ تھی کہ ان کو شہادت کی صورت میں موت آئے تو گویا کہ انہوں نے یہ دعا کی اے اللہ ! اگر اس جنگ کے بعد کفار قریش سے جنگ ہونی ہے تو مجھ زندہ رکھ ‘ اور اگر اس جنگ کے بعد ان سے جنگ نہیں ہونی تو مجھے اس شہادت کے ثواب سے محروم نہ فرما۔

حضرت سعد اسی زخم کی وجہ سے فوت ہوگئے ‘ کتب سیر میں مذکور ہے کہ جب حضرت سعد فوت ہوگئے تو حضرت جبریل ریشمی عمامہ پہنے ہوئے آئے اور کہنے لگے : اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کون فوت ہوا ہے ‘ جس کے استقبال کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں اور عرش ہل رہا ہے ‘ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلدی سے تہبند گھسیٹتے ہوئے ان کی طرف کھڑے ہوئے اور آپ نے حضرت سعد کو فوت شدہ پایا ‘ جب ان کے جنازہ کو اٹھا یا تو وہ بہت ہلکا تھا ‘ آپ نے فرمایا مسلمانوں کے علاوہ فرشتے بھی ان کے جنازہ کو اٹھائے ہوئے ہیں ‘ ابن عائذ نے کہا حضرت سعد کے جنازہ میں ستر ہزار ایسے فرشتے آئے تھے جو اس سے پہلے زمین پر نازل نہیں ہوئے تھے۔ (عمدۃ القاری ١٧ ص ٢٥٨۔ ٢٥٧‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤٢١ ھ)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :

بعض شارحین نے یہ کہا ہے کہ حضرت سعد (رض) نے اپنی دعا میں یہ کہا تھا : اے اللہ اگر تو نے کفار قریش کے ساتھ ہماری جنگ کا سلسلہ ختم کردیا ہے تو میری موت واقع کردے ‘ ان کا یہ قول صحیح نہیں تھا ‘ کیونکہ اس کے بعد کے غزوات میں بھی قریش کے ساتھ جنگ ہوتی رہی ہے ‘ اس کا محمل یہ ہے کہ ان کی یہ دعا قبول نہیں ہوئی اور اس کے عوض اللہ تعالیٰ ان کو آخرت میں اجر عطا فرمائے گا ‘ یا اس کا محمل یہ ہے کہ حضرت سعد کا مطلب یہ تھا کہ اگر اسی غزوہ میں کفار کی جماعتوں کے ساتھ جنگ ختم ہوچکی ہے تو مجھے موت عطا فرمادے ‘ اور میرے نزدیک اسکا جواب یہ ہے کہ حضرت سعد کی دعا صحیح تھی ‘ اور ان کی دعا کا محمل یہ ہے کہ اے اللہ ! اگر کفار قریش کی طرف سے حملہ کرنے کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے تو مجھے اسی زخم میں موت عطا فرما دے ‘ اور اس کے بعد کبھی کفار قریش اور مشرکین نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی ابتداء نہیں کی ‘ کیونکہ غزوہ خندق پانچ ہجری میں ہوا تھا ‘ اس کے بعد چھ ہجری میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کرنے کے لیے جانے نہیں دیا اور اس پر صلح ہوگئی کہ آپ اگلے سال عمرہ کرنے آئیں اور جنگ نہیں ہوئی ‘ پھر اگلے سال سات ہجری میں آپ نے خیبر پر حملہ کرکے اس کو فتح کیا اور اسی سال حدیبیہ کے عمرہ کی قضاء کی اور آٹھ ہجری میں آپ نے مکہ پر حملہ کر کے اس کو فتح کرلیا اور نو ہجری میں آپ غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے اور دس ہجری میں آپ نے حجۃ الوداع کیا اور اگلے سال ایک یا دو ربیع الاول کو آپ کا وصال ہوگیا ‘ اور اس تمام عرصہ میں کبھی مشرکین نے مسلمانوں پر حملہ نہیں کیا لہٰذا حضرت سعد کی دعا سے اعتراض ساقط ہوگیا۔ (فتح الباری ج ٨ ص ١٧٦‘ موضحا ‘ دالفکر بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

ان مفتوحہ علاقوں کے محامل جہاں صحابہ نہیں پہنچے تھے 

امام ابو جعفر محمد بن جزیر طبری متوفی ٣١٠ ھ لکھتے ہیں :

اس میں اختلاف ہے کہ اس زمین سے کون سی زمین مراد ہے ‘ حسن نے کا اس سے روم اور فارس کی زمین مراد ہے ‘ اور یزید بن رومان نے کہا اس سے خیبر کی زمین مراد ہے ‘ اور ابن زید نے کہا اس سے بنو قریظہ اور بنو نضیر کے علاقے مراد ہیں۔

امام ابو جعفر فرماتے ہیں اس مسئلہ میں صحیح قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبردی کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو بنو قریظہ کی زمین ‘ ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا وارث بنادیا اور اس زمین کا بھی وارث بنادیا جہاں ابھی تک وہ نہیں گئے تھے ‘ اور اس وقت تک مکہ فتح ہوا تھا نہ خیبر ‘ اور نہ فارس ‘ نہ روم اور نہ یمن ‘ اور نہ ان علاقوں میں ابھی تک مسلمان گئے تھے ‘ اور یہ تمام علاقے اس آیت کے عموم میں داخل ہیں جس میں فرمایا ہے اور اس زمین کا بھی وارث بنادیا جس پر ابھی تم چل کر نہیں گئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی علاقے کی تخصیص نہیں کی ‘ نیز فرمایا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان علاقوں کو بھی وارث بنایا اور بہت فتوحات عطا فرمائیں اور یہ سب چیزیں اس کی قدرت میں داخل ہیں۔(جامع البیان جز ٢١ ص ١٨٧۔ ١٨٦ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

علامہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے لکھا ہے کہ قیامت تک مسلمانوں کو جو فتوحات حاصل ہوں گی وہ اس آیت کے عموم میں داخل ہیں۔(الجامع لاحکام القرآن جز ١٤ ص ١٤٨‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

علامہ آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس زمین کا وارث بنادیا جہاں وہ ابھی تک نہیں گئے تھے ‘ اس پر یہ اعتراض ہے کہ وارث بنادیا تو ماضی کا صیغۃ ہے ‘ حالانکہ مسلمان تو مستقبل میں ان علاقوں کے وارث ہوں گے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ جس چیزکا مستقبل میں تحقق ضروری ہو اس کو ماضی کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے تاکہ اس پر تنبیہ ہو کہ یہ واقعہ ضرور ہونا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 26