أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ؕ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞

ترجمہ:

اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور قدیم جاہلیت کی طرح اپنے بنائو سنگھار کی نمائش نہ کرنا ‘ اور نماز پڑھتی رہو اور زکوۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتی رہو ‘ اے رسول کے گھر والو ! اللہ صرف یہ ارادہ فرماتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی نجاست کو دور رکھے اور تم کو خوب ستھرا پاکیزہ رکھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور قدیم جاہلیت کی طرح اپنے بنائو سنگھار کی نمائش نہ کرنا ‘ اور نماز پڑھتی رہو اور زکوۃ دیتی رہو اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرتی رہو ‘ اے رسول کے گھر والو ! اللہ صرف یہ ارادہ فرماتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی نجاست کو دور رکھے اور تم کو خوب ستھرا اور پاکیزہ رکھے اور تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیتوں اور حکمت کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے ‘ ان کو یاد کرتی رہو ‘ بیشک اللہ ہر باریکی کو جاننے والا ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے (الاحزابٖ : ٣٤۔ ٣٣)

بغیر شرعی ضرورت کے خواتین کو گھروں سے نکلنے کی ممانعت 

اس آیت میں ایک لفظ ہے وقرن ‘ یہ جمع مونث ‘ امر حاضر کا صیغہ ہے ‘ اس میں دو احتمال ہیں یا تو یہ قرار سے بنا ہے ‘ اس صورت میں اس کا معنی ہوگا : اے نبی کی بیویو ! اپنے گھروں میں سکونت پذیر رہو اور بغیر شرعی ضرورت کے گھروں سے باہر نہ نکلو ‘ لیکن اس کا حکم تمام مسلمان عورتوں کو شامل ہے اور کسی مسلمان عورت کے لیے شرعی ضرورت کے بغیر گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ عورت سراپا چھپانے کی چیز (واجب الستر) ہے ‘ جب عورت گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کو تکتا رہتا ہے۔ (سنن الترمذی رقمالحدیث : ١١٧٣‘ صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ١٦٨٥‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٥٩٨‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٠١١٥‘ الکامل لابن عدی ج ٣ ص ١٢٥٩ )

حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آنکھ زانیہ ہے اور جب عورت معطرہو کر کسی مجلس سے گزرتی ہے تو وہ زانیہ ہوتی ہے۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٧٨٦‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤١٧٣‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٥١٤١‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٩٤‘ مسند البز اررقم الحدیث : ١٥٥١‘ صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ١٦٨١‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٤٢٤‘ المستدرک ج ٢ ص ٣٩٦‘ سنن کبری ج ٣ ص ٢٤٦ )

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں کے اس بنائو سنگھار کو دیکھ لیتے جو اب عورتوں نے ایجاد کرلیا ہے تو ان کو (مساجد میں نماز پڑھنے سے) اس طرح منع فرمادیتے جس طرح بنو اسرائیل کی عورتوں کو مساجد میں نماز پڑھن سے منع کردیا گیا تھا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٤٥‘ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٦٩‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٦٩ )

حضرت ام حمید (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے شوہر ہم کو آپ کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع کرتے ہیں ‘ او ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتی ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا گھروں میں نماز پڑھنا بیرونی کمروں میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور تمہارا بیرونی کمروں میں نماز پڑھنا حویلیوں میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور تمہارا حویلیوں میں نماز پڑھنا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔(المعجم الکبیر ج ٢٥ ص ١٤٨‘ صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ١٦٨٩‘ السنن الکبری للبیھقی ج ٣ ص ١٣٣۔ ١٣٢)

حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورتوں کی سب بہتر نماز وہ ہے جو ان کے گھروں کے اندرونی حصہ میں ہو۔(مسند احمد ج ٦ ص ٢٩٧‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٧٢٠٥‘ صحیح ابن خریمہ رقم الحدیث : ١٦٨٣‘ المستدرک ج ١ ص ٢٠٩)

تبرج اور جاہلیت اولیٰ کی تفسیر 

نیز اس آیت میں فرمایا ہے : زمانہ جاہلیت کی طرح تبرج نہ کرو ‘ تبرج کا معنی ہے زینت اور خوب صورتی کا اظہار کرنا اور عورت کا اپنے محاسن مردوں کو دکھانا ‘ عورتوں کے مٹک مٹک کر چلنے کو بھی تبرج کہا جاتا ہے۔

جاہلیت اولیٰ کی کئی تفسیریں ہیں :

امام ابن جریر نے الحکم سے نقل کیا کہ حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیان آٹھ سو سال تھے ‘ ان کی عورتیں بدصورت اور مرد خوب صورت ہوتے تھے ‘ انکی عورتیں مردوں کو اپنی طرف مائل اور راغب کرنے کے لیے بنائو سنگھار کرتی تھیں اور یہ قدیم جاہلیت ہے۔

عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ حضرت نوح اور حضرت ادریس کے درمیان ایک ہزار سال کا عرصہ تھا ‘ حضرت آدم کی نسل سے ایک گروہ میدانوں میں رہتا تھا وہ ایک گروہ پہاڑوں میں رہتا تھا ‘ سال میں ایک بار ان کی عید ہوتی تھی اور ان کی باہم ملاقات ہوتی تھی ‘ ایک مرتبہ عید کے موقع پر ایک گروہ نے دوسرے گروہ پر حملہ کردیا اور ان میں فواحش کا ظہور ہو اور یہ جاہلیت اولیٰ ہے۔

عامر سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیانی عرصہ کو جاہلیت اولیٰ کہا جاتا ہے۔(جامع البیان جز ٢٢ ص ٧۔ ٦‘ ملخصا مرتبا دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

معرور بیان کرتے ہیں کہ میری حضرت ابو ذر (رض) سے ربذہ میں ملاقت ہوئی ان پر ایک حلہ تھا اور ان کے غلام پر بھی ایک حلہ تھا ‘ میں نے ان سے اس کا سبب پوچھا ‘ انہوں نے کہا میں نے ایک شخص کو برا کہا اور اس کو اس کی ماں سے عار دلایا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو ذر ! کیا تم نے اس کو اس کی ماں سے عار دلایا ہے ؟ تم ایسے شخص ہو کہ تم میں زمانہ جاہلیت کی خصلت ہے ‘ تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں ‘ اللہ نے ان کو تمہارا ماتحت کردیا ہے ‘ سو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو وہ اس کو وہ طعام کھلائے جس کو وہ خودکھاتا ہے اور اس کو وہ لباس پہنائے جس کو وہ خود پہنتا ہو اور ان کو اس کام کا مکلف نہ کے جو ان پر دشوار ہو اور اگر تم ان کو مکلف کرو تو امن کی مدد کرو۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٦١‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥١٥٧‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٤٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦٩٠)

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ نے لکھا ہے جاہلیت سے مراد اسلام سے پہلے زمانہ فترت ہے ‘ اس کو جاہلیت اس لیے فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں کفار کی بہ کثرت جہالات تھیں۔(عمدۃ القاری ج ١ ص ٣٢٣۔ ٣٢٢‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت میں چار خصلتیں زمانہ جاہلیت کی ہیں ‘ جن کو لوگ ہرگز ترک نہیں کریں گے ‘ نوحہ کرا ‘ حسب اور نسب میں طعن کرنا ‘ مرض کو ازخود متعدی یقین کرنا ک کہ ایک اونٹ کو خارش ہوئی تو گمان کرنا اس سے دوسرے اونٹ کو خارش ہوگی ‘ پہلے اونٹ میں خارش کس نے پیدا کی ؟ اور ستاروں کے سبب سے بارش کو گمان کرنا اور یہ کہنا کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٠٠١‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٩١)

علامہ ابوبکر محمد بن عبد اللہ ابن العربی المتوفی ٥٤٣ ھ لکھتے ہیں :

یہ کام گناہ ہیں ‘ اور میری امت کے لوگ ان کاموں کو حرام کا ننے کے باوجود کرتے رہیں گے ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ غیب کی خبریں دی ہیں ‘ جن کا انبیاء کے سوا اور کسی کو علم نہیں ہوتا اور آپ کی دی ہوئی تمام خبروں کا حق ہونا ظاہر ہوگیا۔(عارضۃ الا حوذی ج ٤ ص ١٧٨‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

ہم اس آیت کی تفسیر میں حضرت عائشہ کے گھر سے نکلنے کی وضاحت کریں گے اور جنگ جمل کا پس منظر اور پیش منظر بھی بیان کریں گے فنقول وباللہ التوفیق 

جنگ جمل میں حضرت عائشہ کے گھر سے نکلنے پر اعتراض کا جواب 

اس آیت میں فرمایا ہے : (اے نبی کی بیویو ! ) تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو ‘ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت ام المومنین سید عائشہ صدیقہ (رض) نے جنگ جمل میں مسلمانوں کی قیادت کی اور آپ گھر سے نکلیں اور یہ بہ ظاہر اس حکم کی مخالفت ہے۔

سید محمود آلوسی حنفی متوفی ٠ ١٢٧ ھ اس اعتراض کے جواب میں لکھتے ہیں :

رافضیوں نے حضرت ام المومنین عائشہ (رض) پر طعن کرنے میں اس آیت سے استدلال کیا ہے ‘ حالانکہ حضرت عائشہ (رض) کا دامن ہر طعن کے داغ سے بری اور صاف ہے ‘ حضرت عائشہ (رض) پہلے حج کرنے کے لیے مدینہ منورہ سکے مکہ مکرمہ گئیں اور پھر وہاں سے بصرہ گئیں اور اسی جگہ جنگ جمل ہوئی ‘ رافضیوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں اور باہر نہ نکلیں اور حضرت عائشہ نے اس حکم اور اس ممانعت کی مخالفت کی۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ازواج مطہرات کو اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی ممانعت مطلقاً نہیں ہے ‘ ورنہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو حج اور عمرہ کے لیے اپنے ساتھ نہ لے جاتے اور ان کو اپنے ساتھ غزوات میں نہ لے جاتے اور ان کو والدین کی زیارت ‘ بیماروں کی عیادت اور رشتہ داروں کی تعزیت کے لیے جانے کی اجازت نہ دیتے (کیونکہ یہ سورت ٥ ہجری میں نازل ہوئی ہے اور ٦ ہجری میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ بنو المصطلق میں حضرت عائشہ (رض) کو اپے ساتھ لے گئے تھے ‘ اور اسی سال واقعہ افک کے بعد آپ نے حضرت عائشہ (رض) کو اپنے والدین سے ملاقات کے لیے ان کے گھر جانے کی اجازت دی تھی ‘ اور اسی سال عمرۃ الحدیبیہ میں آپ دیگر ازواج مطہرات کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے اور ٧ ھ میں غزوہ خیبر میں آپ ازواج مطہرات کو لے گئے اور اسی طرح باقی غزوات میں بھی آپ مختلف ازواج کو ساتھ لے ئے اور ١٠ ھ میں آپ حجۃ الوداع میں تمام ازواج مطہرات کو ساتھ لے گئے تھے ‘ اس تفصیل سے معلوم ہوگیا کہ ازواج مطہرات کو مطلقاً گھروں سے باہر نکلنے سے منع نہیں کیا گیا تھا سعیدی غفرلہ) اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ حضرت سودہ (رض) اور حضرت زینب بنت حجش (رض) کے علاوہ باقی تمام ازواج مطہرات نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد حج کیا ہے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ سمیت تمام صحابہ میں سے کسی نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے سال اپنی ازواج مطہرات سے فرمایا یہ تمہارا حج ہے اس حج کے بعد تم گھروں میں منحصر رہنا۔ پھر حضرت زینب بنت حجش اور حضرت سودہ بنت زمعہ کے علاوہ تمام باقی ازواج مطہرات نے اس کے بعد بھی حج کیا اور وہ دونوں یہ کہتی تھیں : اللہ کی قسم ! جب سے ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد سنا ہے اس کے بعد ہم نے کسی سواری کو نہیں ہنکایا۔(مسند احمد ج ٦ ص ٣٢٤‘ مسند البز اررقم الحدیث : ١٠٧٧‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٧١٥٤ )

اور حدیث صحیح میں وارد ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ازواج مطہرات سے فرمایا تم کو ضرورت کی بناء پر گھر سے نکلنے کی اجازت دی گئی ہے (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٩٥۔ ٥٢٣٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٠ ٢١) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ازواج مطہرات کو جو گھروں میں ٹھہرنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے مقصود یہ ہے کہ ازواج مطہرات کو باقی خواتین سے امتیاز حاصل رہے کہ ازواج مطہرات اکثر اور غالب اوقات میں اپنے گھروں میں رہیں اور انکا راستوں ‘ بازاروں اور لوگوں کے گھروں میں زیادہ آنا جانا نہ رہے اور یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ وہ حج کے لیے گھر سے باہر نکلیں یا اور کسی دینی مصلحت کی بناء پر ستر اور حجاب اور وقار کے ساتھ گھر سے باہر نکلیں۔

حضرت عائشہ کا اصلاح کے قصد سے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر وغیرھما کے ساتھ بصرہ روانہ ہونا 

حضرت عائشہ (رض) حج کرنے کے لیے اپنے گھر سے باہر نکلی تھیں ‘ اور حضرت ام سلمہ اور حضرت صفیہ (رض) بھی ان کے ساتھ حج کے لیے گھر سے باہر نکلیں تھیں ‘ لیکن جب انہوں نے یہ سنا کہ حضرت عثمان (رض) شہید کردیئے گئے ہیں اور حضرت عثمان (رض) کے قاتلین ‘ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کے گرد جمع ہورہے ہیں تو ان کو اس سے بہت سخت رنج پہنچا اور ان کو یہ خیال ہوا کہ اب مسلمانوں میں باہم فتنہ اور فساد ہوگا اور قتل اور خون زیری ہوگی ‘ وہ اسی سوچ و بچار میں تھیں کہ ان کے پاس حضرت طلحہ ‘ حضرت زبیر ‘ حضرت نعمان بن بشیر ‘ حضرت کعب بن عجرہ (رض) اور دیگر بہت سے صحابہ ‘ حضرت عثمان کے قاتلین کے خوف سے مدینہ سے بھاگ کر مکہ مکرمہ آگئے ‘ کیونکہ قاتلین حضرت عثمان (رض) کو قتل کرکے بہت خوش ہورہے تھے اور اس پر بہت فخر کررہے تھے اور برسر عام حضرت عثمان کو برا بھلا کہہ رہے تھے ‘ اور ان کے عزائم یہ تھے کہ وہ حضرت عثمان کے خیر خواہوں کو بھی ان ہی کی طرح شہید کردیں اور ان صحابہ کرام میں ان قاتلین سے مقابلہ کرنے کی قدرت اور طاقت نہیں تھی ‘ اس لیے وہ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت ام المومنین کی پناہ میں آگئے ‘ اور آپ کو یہ واقعہ سنایا ‘ حضرت ام المومنین نے فرمایا مصلحت اس میں ہے کہ جب تک یہ قاتلین مدینہ میں ہیں اور یہ حضرت علی (رض) کی مجلس میں ہیں اور حضرت علی (رض) ان سے قصاص لینے یا ان کو دور کرنے پر قادر نہیں ہیں ‘ اس وقت تک تم لوگ مدینہ واپس نہ جائو ‘ سو تم کسی ایسے شہر میں رہو جس میں تم امن سے رہ سکو اور اس کا نتظار کرو کہ حضرت امیر المومنین کی مجلس سے نکل جائیں اور وہ ان سے قصاص لینے پر قادر ہوں تاکہ پھر کوئی ایسی جرأت نہ کرسکے۔ ان حضرات صحابہ نے حضرت ام المومنین کی رائے کو پسند کیا اور اس کی تحسین کی ‘ اور انہوں نے بصرہ میں رہائش اختیار کرنے کو پسند کیا کیونکہ وہاں مسلمانوں کا لشکر موجود تھا اور انہوں نے حضرت امالمومنین سے بھی اصرار کیا کہ وہ بھی ان کے ساتھ بصرہ چلیں حتی کہ یہ فتنہ ختم ہوجائے اور امن قائم ہوجائے اور حضرت علی کی خلافت کا معاملہ منظم اور مستحکم ہوجائے ‘ صحابہ کرام کا خیال یہ تھا کہ حضرت ام المومنین ان کے ساتھ ہوں گی تو ان کا زیادہ احترام ہوگا اور ان کی زیادہ طاقت ہوگی کیونکہ حضرت عائشہ (رض) ام المومنین ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سب سے زیادہ محبوب اور مکرم زوجہ ہیں ‘ خلیفہ اول حضرت ابوبکر (رض) کی صاجزادی ہیں ‘ سو حضرت عائشہ (رض) اصلاح کے قصد سے اور کبار صحابہ کی حفاظت کے ارادہ سے ان کے ساتھ روانہ ہوگئیں اور ان کے ساتھ ان کے بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) بھی تھے اور آپ کے ساتھ جس قدر صحابہ تھے وہ حکماً آپ کے محرم تھے اور آپ کے بیٹوں کے حکم میں تھے۔

(تاریخ ابن خلدون ج ٢ ص ٤٩٤۔ ٤٩٣ ذ ملخصا داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

قاتلین عثمان کا ان صحابہ کے تعاقب میں حضرت علی کو بصرہ ——-

روانہ کرنا اور فریقین میں صلح کے مذاکرات 

قاتلین عثمان نے حضرت علی (رض) کو حضرت عائشہ اور ان صحابہ کے بصرہ جانے کی خبر کوئی اور رنگ دے کر سنائی اور حضرت علی کو اس پر تیار کیا کہ وہ بصرہ جا کر ان لوگوں کو سزادیں ‘ اور حضرت حسن ‘ حضرت حسین اور حضرت عبداللہ بن جعفر اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے یہ مشورہ دیا کہ آپ اس وقت تک بصرہ نہ جائیں جب تک کہ صورت حال واضح نہ ہوجائے لیکن حضرت علی (رض) نے انکار کیا تاکہ انجام کار تقدیر کا لکھا پورا ہوجائے ‘ پس حضرت علی (رض) ان اشرار اہل فتنہ کے ہم راہ بصرہ روانہ ہوگئے ‘ جب یہ لوگ بصرہ کے قریب پہنچے تو انہوں نے حضرت القعقاع (رض) کو ام المومنین ‘ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی طرف بھیجاتا کہ ان کے قمصاد معلوم ہوں اور وہ ان مقاصد کو حضرت علی کے سامنے پیش کریں ‘ حضرت القعقاع (رض) نے حضرت ام المومنین کے پاس جا کر کہا : اے امی ! آپ کس مقصد سے اس شہر میں آئی ہیں ؟ آپ نے فرمایا اے بیٹے میں لوگوں کے درمیان اصلاح کے لیے آئی ہوں ‘ پھر آپ نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کو بلایا ‘ حضرت القعقاع نے ان سے کہا آپ لوگ بتائیں کہ صلح کا کیا طریقہ ہوگا ؟ انہوں نے کہا حضرت عثمان (رض) کے قاتلین پر حد قائم کی جائے اور ان کے وارثوں کا کلیجہ ٹھنڈا کیا جائے ‘ پھر یہ ہمارے امن کا سبب ہوگا ‘ اور بعد والوں کے لیے عبرت کا باعث ہوگا ‘ حضرت القعقاع نے کہا یہ تبھی ہو سکے گا جب تمام مسلمان متحد ہوجائیں اور فتنہ کی آگ ٹھنڈی ہوجائے سو تم لوگوں پر لازم ہے کہ اس وقت صلح کرلو ‘ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے کہا تم نے درست بات کہی اور اچھا فیصلہ کیا۔

(تاریخ ابن خلدون ج ١ ص ٥٠٠‘ ملخصا مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

قاتلین عثمان کا سازش کر کے بصرہ میں مسلمانوں کے دو فریقوں میں جنگ کرادینا 

حضرت القعقاع (حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : حضرت القعقاع بن عمرو تمیمی صحابی ہیں ‘ ان سے کئی احادیث مروی ہیں ‘ یہ جنگ قادسیہ میں شریک تھے ‘ حضرت عمر (رض) نے حضرت سعد بن ابی وقاض (رض) سے پوچھا جنگ قادسیہ میں کون سب سے تیز گھوڑے سوار تھا ‘ انہوں نے کہا قعقاع بن عمرو۔ انہوں نے ایک دن میں تیس حملے کئے اور ہر حملہ میں متعدد دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ الاصابہ رقم الحدیث : ٧١٤٢۔ )حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے پاس واپس گئے اور ان مذاکرات کی خبردی ‘ حضرت امیر یہ سن کر خوش اور مطمئن ہوئے اور واپس جانے کا فیصلہ کیا اور تین دن وہاں ٹھہرے اور کسی کو صلح کے متعلق کوئی شک نہ تھا ‘ جب چوتھی رات ہوئی اور فریقین کے درمیان صلح کے لیے پیش قدمی کی کوشش ہورہی تھی اور حضرت امیر کرم اللہ وجہ الکریم حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) سے ملاقات کے لیے جارہے تھے ‘ اس موقع پر وہ قاتلین حاضر نہ تھے اور سخت اضطراب اور پریشانی میں مبتلا تھے اور ان کو اپنے پیروں کے نیچے سے زمین نکلتی ہوئ معلوم ہو رہی تھی ‘ انہوں نے باہم گٹھ جوڑ کر کے یہ سازش کی کہ رات کو ان مسلمانوں پر حملہ کردیں جو حضرت عائشہ (رض) کے ساتھ ہیں تاکہ وہ لوگ یہ گمان کریں کہ حضرت امیر کرم اللہ وجہ کی طرف سے عہد شکنی ہوئی ہے ‘ پھر حضرت امیر کا لشکر ان پر ٹوٹ پڑے گا کہ حضرت عائشہ کی طرف سے بد عہدی ہوئی ہے ‘ اور فریقین میں جنگ چھڑ جائے گی ‘ سو ایسا ہی ہوا جب ان قاتلین نے اپنی سازش کے مطابق حضرت عائشہ اور حضرت طلحہ وغیرھما کے ساتھیوں پر اچانک حملہ کیا تو انہوں نے یہ گمان کیا کہ حضرت علی کے اصحاب نے بد عہدی کی سو حضرت عائشہ (رض) کے ساتھ جو مسلمان تھے انہوں نے حضرت امیر کے لشکر پر حملہ کردیا اور قاتلین عثمان نے شور مچانا شروع کردیا کہ انہوں نے عہد شکنی کی اور غداری کی ہے سو فریقین میں شدت کے ساتھ جنگ چھڑ گئی ‘ حضرت امیر کرم اللہ وجہ حیرت کے ساتھ یہ منظر دیکھ رہے تھے اور دونوں طرف سے مسلمانوں کا خون بہہ رہا تھا اور ان کے لیے اس جنگ میں مشغول ہونے کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا۔ (تاریخ ابن خلدون ج ١ ص ٥٠٣۔ ٥٠٤‘ ملخصا تاریخ طبری ج ٣ ص ٥٢٦‘ ٥٢٢ ملخصا)

قاتلین عثمان کا حضرت امیر المومنین علی کرم اللہ وجہ الکریم پر کس قدر تسلط اور تغلب تھا اس کا اندازہ شیعہ کی مستند ‘ مسلم اور مقبول کتاب نہج البلاغۃ کے اس اقتباس سے ہوتا ہے۔

قاتلین عثمان کا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم پر تسلط اور تغلب 

جب حضرت علی (رض) کے ہاتھ پر خلاف کی بیعت کی گئی تو آپ کے بعض اصحاب نے کہا کاش آپ ان لوگوں کو سزادیتے جنہوں نے قتل عثمان کے لیے لشکر جمع کیا تھا تو امیر المومنین (علیہ السلام) نے فرمایا :

اے بھائیو ! جو بات تم جانتے ہو میں بھی اس سے بیخبر نہیں ہوں لیکن میرے پاس ان پر قابو پانے کی طاقت کہاں ہے ‘ حالت تو یہ ہے کہ جس گروہ نے قتل عثمان کے لیے لشکر کشی کی وہ پوری قوت اور طاقت کے ساتھ ہنوز باقی ہے ‘ یہ لوگ مجھ پر تسلط اور تغلب رکھتے ہیں میں ان پر تسلط اور تغلب نہیں رکھتا ‘ اور آگاہ ہوجائو کہ قاتلین عثمان ایسے لوگ ہیں کہ تمہارے غلام تک ان کے پر جوش حامی ہیں ‘ اور تمہارے بادیہ نشین ان سے ملے ہوئے ہیں ‘ اور یہ قاتلین عثمان (کہیں باہر نہیں) خود تم میں موجود ہیں ‘ ہنوز مدینہ سے باہر نہیں نکلے ہیں ‘ اور تمہیں ہر طرح کا ضرر پہنچا سکتے ہیں ‘ اور کیا تمہیں اس کا کوئی امکان نظر آتا ہے کہ تم ان پر غالب آسکو ‘ کوئی شبہ نہیں کہ یہ قتل اہلیت کی بناء پر کیا گیا ہے ‘ ان لوگوں کے پاس کمک اور امداد کی کمی نہیں ہے او جب لوگوں کو ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے کہا جائے گا تو لوگ چند فرقوں میں تقسیم ہوجائیں گے ‘ ایک فرقہ تو وہ ہوگا جس کی رائے تمہارے موافق ہوگی ‘ اور دوسرا فرقہ وہ ہوگا جس کی رائے تمہارے خلاف ہوگی اور تیسرا فرقہ وہ ہوگا جس کی رائے نہ یہ ہوگی نہ وہ۔ سو تم صبر سے کام لو حتی کہ لوگ مطمئن ہوجائیں اور لوگوں کے حقوق آسانی کے ساتھ حاصل ہو سکیں (الی قولہ) میں جلدی ہی مروت کے ساتھ اصلاح کروں گا اور جب میرے لیے کوئی چارہ کار نہیں رہے گا تو آخری دوا گرم لوہے سے دا لگانا ہے۔ (نہج البلاغۃ خطبہ نمبر ١٦٦‘ ص ٥٩٠‘ انتشار ات زرین ایران نہج البلاغۃ ‘ خطبہ نمبر ١٦٧ ص ٤٥٩‘ شیخ غلام علی اینڈ سنز کراچی)

شیخ کمال الدین میثمعلی بن میثم البحرانی المتوفی ٦٧٩ ھ اس خطبہ کی شرح میں لکھتے ہیں :

حضرت علی (رض) کا یہ خطبہ ‘ حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) کے قاتلین سے قصاص لینے کی تاخیر کے سلسلہ میں ہے۔ اس عذر کا حاصل یہ ہے کہ حضرت امیر کو قاتلین عثمان پر کماحقہ قدرت نہیں تھی ‘ اسی لیے فرمایا میں ان سے قصاص کس طرح لے سکتا ہوں اور قاتلین عثمان کو اسی طرح قوت اور شوکت حاصل ہے ‘ اور حضرت الامیر کے کلام کا صدق اس سے ظاہر ہے کہ اکثر اہل مدینہ ان لوگوں میں سے تھے جو حضرت عثمان کے خلاف چڑھائی کرنے کے لئے آئے تھے وہ لوگ اہل مصر سے تھے ‘ اور کوفہ سے بھی ایک بڑی جماعت آئی تھی ‘ وہ دور دراز سے سفر کرے آئے تھے اور بہت سے بادیہ نشین اور غلام ان سے مل گئے تھے ‘ ان کی بہت بڑی طاقت تھی اسی لیے فرمایا ” وہ تمہیں ہر طرح کا آزار پہنچا سکتے ہیں “۔

روایت ہے کہ حضرت الامیر نے لوگوں کو جمع کر کے وعظ کیا پھر فرمایا حضرت عثمان کے قاتلین کھڑے ہوجائیں تو چند آدمیوں کے سوا تمام لوگ کھڑے ہوگئے ‘ حضرت علی کا یہ فعل اس بات کے صدق کی شہادت ہے قاتلین عثمان اسی طرح طاقت ور تھے اور جب ان حالات کی تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ آپ کو ان کے خلاف کسی اقدام کرنے کی بالکل طاقت نہیں تھی ‘ پھر آپ نے قصاص کا مطالبہ کرنے والوں سے فرمایا : بیشک یہ قتل عثمان زمانہ جاہلت کی کارروائی ہے ‘ اس کا کوئی شرعی جواز نہ تھا ‘ اور حضرت عثمان سے کوئی ایسا کام صادر نہیں ہوا تھا جس کی سزا میں ان کو قتل کیا جاتا ‘ اور ان قاتلین کے بہت حامی اور مددگار ہیں۔ (الی قولہ) پھر آپ نے لوگوں کو انتظار کرنے کے لیے کہا اور ان کو ڈرایا کہ اگر قصاص میں جلدی کی گئی تو دین کی شوکت کمزور پڑجائے گی اور اس سے بڑا فتنہ نمودار ہوجائے گا ‘ اس لیے مناسب یہ ہے کہ حالات کے پرسکون ہونے تک انتظار کیا جائے پھر شرعی طریقہ کے مطابق حضرت عثمان کے بیٹے معین کر کے بتائیں کہ فلاں فلاں قاتل ہیں اور فلاں فلاں محاصرہ کرنے والے ہیں اور امام کے پاس مقدمہ پیش کریں تاکہ امام اللہ کے حکم کے مطابق شرعی فیصلہ کرے۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا اور اہل شام نے شرعی مطالبہ کرنے کی بجائے میرے حکم کی مخالفت کی اور طاقت اور غلبہ سے قصاص کا مطالبہ کیا اور پھر اس کے نتیجہ میں جو ہوا وہ ہوا۔ (شرح نہج البلاغۃ ج ٣ ص ہ ٣٢۔ ٣٢١‘ دارالعالم الاسلامی بیروت)

قاتلین عثمان سے قصاص نہ لینے پر سید مودودی کا تبصرہ 

یہ تین رخنے تھے جن کے ساتھ حضرت علی (رض) نے خلافت راشدہ کی زمام کار اپنے ہاتھ میں لے کر کام شروع کیا۔ ابھی انہوں نے کام شروع کیا ہی تھا اور شورش برپاک کرنے والے دوہزار آدمیوں کی جمعیت مدینے میں موجود تھی کہ حضراطلحہ و زبیر (رض) چند دوسرے اصحاب کے ساتھ ان سے ملے اور کہا کہ ہم اقامت حدود کی شرط پر آپ سے بیعت کی ہے ‘ اب آپ ان لوگوں سے قصاص لیجئے جو حضرت عثمان (رض) کے قتل میں شریک تھے۔ حضرت علی (رض) نے جواب دیا ” بھائیو ! جو کچھ آپ جانتے ہیں اس سے میں بھی ناواقف نہیں ہوں ‘ مگر میں ان لوگوں کو کیسے پکڑوں جو اس وقت ہم پر قابو یافتہ ہیں نہ کہ ہم ان پر۔ کیا آپ حضرات اس کام کی کوئی گنجائش کہیں دیکھ رہے ہیں جسے آپ کرنا چاہتے ہیں ؟ “ سب نے کہا ” نہیں “۔ اس پر حضرت علی (رض) نے فرمایا ” خدا کی قسم میں بھی وہی خیال رکھتا ہوں جو آپ کا ہے۔ ذرا حالات سکون پر آنے دیجئے تاکہ لوگوں کے حواس برجا ہوجائیں ‘ خیالات کی پراگندگی دور ہو اور حقوق وصول کرنا ناممکن ہوجائے۔ “

اس کے بعد یہ دونوں بزرگ حضرت علی (رض) سے اجازت لے کر مکہ معطمہ تشریف لے گئے اور وہاں ام المومنین حضرت عائشہ (رض) کے ساتھ مل کر ان کی رائے یہ قرار پائی کہ خون عثمان (رض) کا بدلہ لینے کے لیے بصرہ کوفہ سے ‘ جہاں حضرت طلحہ و زبیر (رض) کے بکثرت حامی موجود تھے۔ فوجی مدد حاصل حاصل کی جائے ‘ چناچہ یہ قافلہ مکہ سے بصرے کی طرف روانہ ہوگیا۔ (خلافت و ملوکیت ص ١٢٨۔ ١٢٧‘ ادارہ ترجمان القرآن لاہور ‘ ١٩٧٥ ھ)

اس کے بعد سید مودودی لکھتے ہیں :

دوسری طرف حضرت علی (رض) ‘ جو حضرت معاویہ (رض) کو تابع فرمان بنانے کے لیے شام کی طرف جانے کی تیاری کررہے تھے ‘ بصرے کی اس اجتماع کی اطلاعات سن کر پہلے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے مجبور ہوگئے ‘ لیکن بکثرت صحابہ رضوان اللہ علیہم اور ان کے زیر اثر لوگ جو مسلمانوں کی خانہ جنگی کو فطری طور پر ایک فتنہ سمجھ رہے تھے ‘ اس مہم میں ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہی قاتلین عثمان (رض) جن سے پیچھا چھڑانے کے لیے حضرت علی (رض) موقع کا انتظار کررہے تھے ‘ اس تھوڑی سے فوج میں جو حضرت علی (رض) نے فراہم کی تھی ‘ ان کے ساتھ شامل رہے۔ یہ چیز ان کے لیے بدنامی کی موجب بھی ہوئی اور فتنے کی موجب بھی۔

بصرے کے باہر جب ام الموومنین حضرت عائشہ (رض) اور امیر المومنین حضرت علی (رض) کی فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں ‘ اس وقت درد مند لوگوں کی ایک اچھی اصی تعداد اس بات کے لیے کوشاں ہوئی کہ اہل ایمان کے ان دونوں گروہوں کو متصادم نہ ہونے دیا جائے۔ چناچہ ان کے درمیان مصالحت کی بات چیت قریب قریب طے ہوچکی تھی۔ مگر ایک طرف حضرت علی (رض) کی فوج میں وہ قاتلین عثمان (رض) موجود تھے جو یہ سمھجتے تھے کہ اگر ان کے درمیان مصالحت ہوگئی تو پھر ہماری خیر نہیں ‘ اور دوسری طرف ام المومنین (رض) کی فوج میں وہ لوگ تھے جو دونوں کو لڑا کر کمزور کردینا چاہتے تھے ‘ اس لیے انہوں نے بےقاعدہ طریقے سے جنگ برپا کردی اور وہ جنگ برپا کردی اور وہ جنگ جمل برپا ہو کر رہی جسے دونوں طرف کے اہل خیر روکنا چاہتے تھے۔

جنگ جمل کے آغاز میں حضرت علی (رض) نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کو پیغام بھیجا کہ میں آپ دونوں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ دونوں حضرات تشریف لے آئے اور حضرت علی (رض) نہ نے ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات یاد دلا کر جنگ سے باز رہنے کی تلقین کی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ حضرت زبیر (رض) میدان جنگ سے ہٹ کر الگ چلے گئے اور حضرت طلحہ (رض) آگے کی صفوں سے ہٹ کر پیچھے کی صفوں میں جاکھڑے ہوئے۔ لیکن ایک ظالم عمرو بن جرموز نے حضرت زبیر (رض) کو قتل کردیا ‘ اور مشہور روایت کے مطابق ‘ حضرت طلحہ (رض) کو مروان بن الحکم نے قتل کردیا۔

بہرحال یہ جنگ برپا ہو کر رہی اور اس میں دونوں طرف کے دس ہزار آدمی شہید ہوئے۔ یہ تاریخ اسلام کی دوسری عظیم ترین بدقسمتی ہے جو شہادت عثمان (رض) کے بعد رونما ہوئی ‘ اور اس نے امت کو ملوکیت کی طرف ایک قدم اور دھکیل دیا۔ حضرت علی (رض) کے مقابلے میں جو فوج لڑی تھی وہ زیادہ تر بصرہ و کوفہ ہی سے فراہم ہوئی تھی۔ جب حضرت علی (رض) کے ہاتھوں اس کے پانچ ہزار آدمی شہید اور ہزاروں آدمی مجروح ہوگئے تو یہ امید کیسے کی جاسکتی تھی کہ اب عراق کے لوگ اس یک جہتی کے ساتھ ان کی حمایت کریں گے جس یک جہتی کے ساتھ شام کے لوگ حضرت معاویہ (رض) کی حمایت کررہے تھے ‘۔ جنگ صفین اور اس کے بعد کے مراحل میں حضرت معاویہ (رض) کے کیمپ کا اتحاد اور حضرت علی (رض) کے کیمپ کا تفرقہ بنیادی طور پر اسی جنگ جمل کا نتیجہ تھا۔ یہ اگر پیش نہ آئی ہوتی تو پچھلی ساری خزابیوں کے باوجود ملوکیت کی آمد کو روکنا عین ممکن تھا۔ حقیقت میں حضرت علی (رض) اور حضرت طلحہ (رض) و زبیر (رض) کے تصادم کا یہی نتیجہ تھا جس کے رونما ہونے کی توقع مروان بن الحکم رکھتا تھا ‘ اسی لیے وہ حضرت طلحہ (رض) و زبیر (رض) کے ساتھ لگ کر بصرے گیا تھا ‘ اور افسوس کہ اس کی یہ توقع سوفی صدی پوری ہوگئی۔ (خلافت و ملوکیت ص ١٣٠۔ ١٢٩‘ ادارہ ترجمان القرآن لاہور ‘ ١٩٧٥ ھ)

نیز سید مودودی لکھتے ہیں :

حضرت علی (رض) نے اس پورے فتنے کے زمانے میں جس طرح کام کیا وہ ٹھیک ٹھیک ایک خلیفہ راشد کے شایان شان تھا۔ البتہ صرف ایک چیز ایسی ہے جس کی مدافعت میں مشکل ہی سے کوئی بات کہی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کہ جنگ جمل کے بعد انہوں نے قاتلین عثمان (رض) کے بارے میں اپنا رویہ بدل دیا۔ جنگ جمل تک وہ ان لوگوں سے بےزار تھے ‘ بادل ناخواستہ ان کو برداشت کررہے تھے ‘ اور ان پر گرفت کرنے کیلیے موقع کے منتظر تھے ‘ حضرت عائشہ (رض) اور حضرت طلحہ و زبیر (رض) سے گفتگو کرنے کے لیے جب انہوں نے حضرت قعقاع بن عمرو کو بھیجا تھا تو ان کی نمائیندگی کرتے ہوئے حضرت قعقاع نے کہا تھا کہ ” حضرت علی (رض) نے قاتلین عثمان (رض) پر ہاتھ ڈالنے کو اس وقت تک مؤخر کر رکھا ہے جب تک وہ انہیں پکڑنے پر قادر نہ ہوجائیں ‘ آپ لوگ بیعت کرلیں تو پھر خون عثمان (رض) کا بدلہ لینا آسان ہوجائے “۔ پھر جنگ سے عین پہلے جو گفتگو ان کے اور حضرت طلحہ و زبیر (رض) کے درمیان ہوئی اس میں حضرت طلحہ (رض) نے ان پر الزام لگایا کہ آپ خون عثمان (رض) کے ذمہ دار ہیں ‘ اور انہوں نے جواب میں فرمایا لعن اللہ قتلۃ عثمان ( عثمان کے قاتوں پر خدا کی لعنت) ۔ لیکن اس کے بعد بتدریج وہ لوگ ان کے اں تقرب حاصل کرتے چلے گئے جو حضرت عثمان (رض) کے خلاف شوزش برپا کرنے اور بالآخر انہیں شہید کرنے کے ذمہ دار تھے ‘ حتی کہ انہوں نے مالک بن حارث الاشتر اور محمد بن ابی بکر کو گورنری کے عہدے تک دے دیئے ‘ دراں حالی کہ قتل عثمان (رض) میں ان دونوں صاحبوں کا جو حصہ تھا وہ سب کو معلوم ہے۔ حضرت علی (رض) کے پورے زمانہ خلافت میں ہم کو صرف یہی ایک کام ایسا نظر آتا ہے جس کو غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ (خلافت و ملوکیت ص ١٤٦‘ مطبوعہ ادارہ ترجمان القرآن لاہور ‘ ١٩٧٥ ھ)

مشاجرات صحابہ میں مصنف کا نظریہ 

سید ابو الا علیٰ مودودی نے اپنی اس کتاب میں حضرت عثمان ‘ حضرت معاویہ ‘ ام لمومنین حضرت عائشہ ‘ حضرت طلحہ ‘ حضرت زبیر اور دیگر صحابہ (رض) حتی کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بھی غلطیاں گنوائی ہیں ‘ اس سلسلہ میں ہمارا موقف یہ ہے کہ صحابہ کرام (رض) کے مشاجرات اور ان کے اختلافات میں ہمیں کسی فریق پر انگشت نمائی نہیں کرنی چاہیے اور ان کے تمام کاموں کی اچھی اور نیک تاویل کرنی چاہیے ‘ بعض صحابہ سے بعض معاملات میں اجتہادی غلطیاں سرزد ہوئیں لیکن وہ سب عنداللہ ماجور ہیں۔

جنگ جمل میں حضرت عائشہ (رض) کے لشکر کی طرف سے حضرت طلحہ عبید اللہ (رض) شہید ہوگئے یہ عشرہ مبشرہ سے ہیں ‘ جنگ احد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے مدافعت کرتے ہوئے انہوں نے متعدد زخم کھائے حتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور آج طلحہ نے جنت کو واجب کرلیا ‘ حضرت علی (رض) جنگ جمل کے مقتولین کو دیکھ رہے تھے ‘ جب حضرت طلحہ (رض) کی لاش کو دیکھا تو ان کے چہرے سے گرد صاف کرنے لگے اور کہا اے ابو محمد ! تم پر اللہ کی رحمت ہو ‘ آسمان کے ستاروں کے نیچے تم کو اس طرح دیکھنا مجھ پر سخت دشوار ہے ‘ اور اللہ کی قسم ! مجھے یہ پسند ہے کہ میں اس حادثہ سے بیس سال پہلے مرگیا ہوتا۔ (الدایہ والنہایہ ج ٥ ص ٣٤٤‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٢ ھ)

حضرت علی کے لشکر میں سے عمروبن جرموز نے حضرت زبیر بن العوام کا سر مبارک کاٹ دیا یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی صفیہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے متعلق فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں ‘ جب عمرو بن جرموز نے آپ کو شہید کردیا تو آپ کا سر مبارک کاٹ کر اس امید سے حضرت علی (رض) کے پاس لے گیا کہ وہ اس کو کوئی انعام دیں گے اور ملنے کی اجازت طلب کی آپ نے فرمایا اس کو ملنے کی اجازت نہ دو اور اس کو دوزخ کی بشارت دو ‘ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابن صفیہ کے قاتل کو دوزخ کی بشارت دینا ‘ ابن جرموز کے پاس حضرت زبیر کی تلوار تھی ‘ حضرت علی نے اسے دیکھ کر فرمایا اس تلوار نے کتنی بار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے کرب کو دور کیا ہے۔ ( البدایہ والنہایہ ج ٥ ص ٣٤٧۔ ٣٤٦‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

حضرت عائشہ اور حضرت علی کا جنگ جمل میں مسلمانوں کے خون بہنے پر غم اور افسوس کرنا 

اس بحث کے آخر میں علامہ آلوسی لکھتے ہیں :

پس جب کہ حضرت عائشہ (رض) ابتداء میں اپنے محارم کے ساتھ حج کرنے کے لیے مکہ مکرمہ گئی تھیں اور بعد میں مسلمانوں کے دو فریقوں کے درمیان صلح کرانے کے قصد سے بصرہ گئی تھیں اور آپ کا یہ نیک مقصد بھی حج سے کم نہیں تھا ‘ اور اس آیت مذکورہ میں مطلقاً گھر سے نکلنے کی ممانعت نہیں ہے اور نیک مقاصد کے لیے ازواج مطہرات کے گھروں سے نکلنا جائز اور مستحسن ہے تو حضرت عائشہ (رض) پر کوئی اعتراض نہیں رہتا ‘ اور بعد میں جو واقعات پیش آئے اور قاتلین عثمان کی سازش سے فریقین کے درمیان صلح کے بجائے جنگ جمل برپا ہوگئی اس کا تو حضرت عائشہ (رض) کو وہم و گمان بھی نہیں تھا ‘ اور ان واقعات کا حضرت عائشہ (رض) کو اس قدر افسوس ہوتا تھا کہ روتے روتے آپ کا دوپٹہ آنسوئوں سے بھیگ جاتا تھا۔

امام ابن النذر ‘ امام ابن ابی شیبہ اور امام ابن سعد نے مسروق سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت عائشہ (رض) ” وقرن فی بیوتکن “ کی تلاوت کرتیں تو آپ کو جنگ جمل کی یاد آجاتی جس میں بہ کثرت مسلمان شہید ہوگئے تھے ‘ اور آپ کے رونے کی یہ وجہ نہیں تھی کہ آپ نے اس آیت کا معنی پہلے نہیں سمجھا تھا یا گھر سے نکلتے وقت آپ اس آیت میں مذکور ممانعت کو بھول گئی تھیں ‘ بلکہ آپ بہ کثرت مسلمانوں کے قتل پر افسوس سے روتی تھیں اور آپ کا یہ افسوس ایسا ہی تھا جیسا کہ حضرت علی (رض) کو جنگ جمل کے بعد افسوس ہوا تھا ‘ حضرت ام المومنین کے ساتھ جو مسلمان تھے جب ان کو شکست ہوئی اور طرفین سے جنہوں نے قتل ہونا تھا وہ قتل ہوگئے تو حضرت علی (رض) اس مقتل کا طواف کررہے تھے اور افسوس سے اپنے زانو پر ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کاش میں اس واقعہ سے پہلے مرجاتا یا بھولا بسرا ہوجاتا۔

(تاریخ طبری ج ٣ ص ٥٤٢‘ ملخصا موسستہ الاعلمی للمطبوعات بیروت)

حضرت عائشہ کے متلعق شیعہ کی ناگفتنی روایات 

بعض روایت میں ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ازواج مطہرات سے فرمایا اور ان میں حضرت عائشہ بھی تھیں کہ میں تم میں سے ایک ایسی عورت کے ساتھ ہوں جس پر الحوأب کے کتے بھونکیں گے ‘ اور جب آپ بصرہ جارہی تھیں تو راستہ میں مقام حوأب آیا تھا اور وہ کتے آپ پر بھونکے تھے اور آپ نے واپسی کا قصد کیا تھا مگر آپکے ساتھ جو مسلمان تھے انہوں نے آپ کو واپس جانے نہیں دیا ‘ یہ سب غیر مستند اور غیر معتبر روایات ہیں۔

اسی طرح شیعہ کا یہ بھی زعم ہے کہ حضرت عائشہ نے مسلمانوں کو حضرت عثمان کے خلاف بغاوت اور ان کے قتل پر اکسایا تھا یہ سب جھوٹی اور بےاصل روایات ہیں۔

اسی طرح شیعہ کا یہ بھی زعم ہے کہ حضرت عائشہ (رض) صرف حضرت علی (رض) سے بغض کی وجہ سے بصرہ روانہ ہوئی تھیں یہ بھی کذب اور افتراء ہے ‘ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بہت سے فضائل بیان کیے ہیں ان میں سے یہ حدیث ہے جس کو امام دیلمی نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا علی کو محبت عبادت ہے ‘ اور ان واقعات کے بعد فرمایا میرے اور علی کے درمیان وہی تعلق تھا جو ایک عورت اور اس کے دیور میں ہوتا ہے۔

اور حضرت علی (رض) نے جنگ جمل کے خاتمہ پر حضرت عائشہ (رض) کو بہت عزت اور احترام کے ساتھ مدینہ منورہ بھجوادیا تھا اور آپ کے ساتھ بصرہ کی معزز اور مکرم خواتین کو بھیجا تھا اس موقع پر بھی شیعہ نے بعض ناگفتنی باتیں کہیں ہیں۔

حضرت عائشہ کے گھر سے نکلنے پر حضرت زینب اور حضرت سودہ۔–

کے گھر سے نہ نکلنے کے معارضہ کا جواب 

حضرت عائشہ (رض) جو حج کے لیے مکہ روانہ ہوئی تھیں اس پر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ حضرت سودہ اور حضرت زینب بنت حجش رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد حج کے لیے نہیں گئی تھیں ‘ اگر آپ کے بعد ازواج مطہرات کے لیے حج کرنا جائز ہوتا تو وہ بھی آپ کے بعد حج کے لیے جاتیں ‘ اس سلسلہ میں یہ حدیث ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے سال اپنی ازواج مطہرات سے فرمایا یہ (تمہارا) حج ہے ‘ اس کے بعد تم گھروں میں منحصر رہنے کو لازم کرلینا ‘ پھر حضرت زینب بنت جش اور حضرت سودہ بنت زمعہ کے علاوہ باقی تمام ازواج مطہرات نے اس کے بعد بھی حج کیا اور وہ دونوں یہ کہتی تھیں : اللہ کی قسم ! جب سے ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد سنا ہے ‘ اس کے بعد ہم نے کسی سواری کو نہیں ہنکایا۔

(مسند احمد ج ٦ ص ٣٢٤‘ مسند البز اررقم الحدیث : ١٠٧٧‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٧١٥٤‘ حافظ زین نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ حاشیہ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٦٦٣‘ دارالحدیث قاہرہ ‘ ١٤١٦ ھ)

اور امام عبدین حمید اور امام المنذ رنے محمد بن سیرین سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت سودہ (رض) سے پوچھا گیا کیا وجہ ہے کہ آپ اس طرح حج اور عمرہ نہیں کرتیں جس طرح آپ کی دیگر صواحب کرتی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں حج اور عمرہ کرچکی ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں اپنے گھر میں ٹھہری رہوں ‘ پس اللہ کی قسم ! میں تاحیات اس گھر سے نہیں نکلوں گی ‘ محمد بن سیرن نے کہا : پس اللہ کی قسم ! وہ اپنے حجرے سے نہیں نکلیں حتی کہ حجرے سے ان کا جنازہ نکالا گیا۔ (لدر المثور ج ٦ ص ٥٢٩‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت زینب اور حضرت سودہ کا حج کے لیے اپنے حجروں سے نہ نکلنا ‘ ان کے اجتہاد پر مبنی ہے ‘ جیسا کہ دیگر ازواج کا حج کے لیے اپنے حجروں سے نکلنا ان کے اجتہاد پر مبنی ہے۔

رہا یہ کہ مسند احمد کی حدیث میں ہے آپ نے ازواج مطہرات سے فرمایا اس حج کے بعد تم اپنے گھروں میں منحصر رہنا ‘ اس میں یہ تصریح نہیں ہے کہ اس کے بعد تم کبھی حج نہ کرنا اور کسی حاجت شرعی کے باوجود گھروں سے نہ نکلنا ‘ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو آپ کے وصال کے بعد باقی ازواج مطہرات حج کے لیے نہ جاتیں اور صحابہ کرام اس پر خاموش نہ رہتے ‘ بلکہ یہ ثابت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اپنے عہد خلافت میں ان کو حج کے لیے روانہ کیا اور حضرت عثمان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کو ان کے ساتھ بھیجا اور ان سے فرمایا تم دونوں ان کے نیک فرزندوں کے حکم میں ہو تم میں سے ایک ان کے آگے رہے اور ایک ان کے پیچھے رہے ‘ اور صحابہ میں سے کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا تو یہ ازواج مطہرات کے حج کے جواز پر اجماع سکوتی ہوگیا ‘ سو حضرت زینب اور حضرت سودہ نے اس حدیث سے یہ سمجھا تھا کہ حجۃ الوداع کے بعد ان کے لیے اپنے حجروں سے نکلنا جائز نہیں ہے ‘ اسی لیے انہوں نے اس کے بعد حج نہیں کیا اور دیگر ازواج نے اس حدیث سے یہ سمجھا تھا کہ اس حج کی جنس سے کوئی عبادت ہو یا کوئی اور دینی مہم ہو تو اس کے لیے تم سفر کرنا اور جب اس عبادت یا اس مہم سے فارغ ہو جائو تو پھر مناسب یہ ہے کہ تم اپنے گھروں میں منحصر رہنا اور اس کا مفاد یہ تھا کہ تمہارے لیے گھروں سے نکلنا مباح ہے۔

اور جو شخص انصاف سے غور کرے تو اس پر منکشف ہوگا کہ اس حدیث میں حجۃ الوداع کے بعد ازواج مطہرات کے گھروں سے نکلنے کی مطلقاً ممانعت نہیں ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض الموت میں اپنی بیماری کے ایام حضرت عائشہ (رض) کے گھر گذارے ‘ اور دیگر ازواج نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت کے لیے اپنے حجروں سے نکل کر حضرت عائشہ (رض) کے حجرے میں آتی تھیں اور ان میں حضرت سودہ اور حضرت زینب بھی تھیں ‘ اور جن بیویوں کو اپنے شوہر سے بہت کم محبت بھی ہو وہ بھی ایسے موقع پر اپنے شوہر کی زیارت اور اس کی عیادت کے لیے ضرور آتی ہیں چہ جائیکہ وہ ازواج مطہرات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت اور آپ کی عیادت کے لیے نہ آتیں جن کی محبت ان کے ایمان کا جزو ہے ‘ اس سے واضح ہو یا کہ حجتہ الوداع کے بعد ازواج مطہرات کے لیے اپنے گھروں سے نہ نکلنا لازم نہیں تھا بلکہ ضرورت شرعی کے پیش نظر ان کا گھروں سے نکلنا جائز تھا۔ (روح المعانی جز ٢٢ ص ١٨۔ ١٣‘ ملخصا و مخرجا دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

حضرت عائشہ (رض) کے اصلاحی اقدام پر قرآن مجید سے دلائل 

علامہ ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی المالکی المتوفی ٥٤٣ ھ لکھتے ہیں :

ہمارے علماء نے کہا ہے ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے حضرت عثمان (رض) کے فتنہ میں مبتلا ہونے سے پہلے حج کی نذر مان لی تھی ‘ اور انہوں نے نذر پوری نہ کرنے کو جائز نہیں سمجھا اور اگر وہ فتنہ کی اس آگ سے بچ جاتیں تو بہتر ہوتا۔

باقی رہا ان کا جنگ جمل کی طرف جانا تو وہ جنگ کرنے نہیں گئیں تھیں ‘ لیکن مسلمانوں نے اس عظیم فتنہ کی ان سے شکایت کی کہ لوگ حرج میں مبتلا ہیں وہ چاہتے تھے کہ حضرت عائشہ اپنی برکت سے فریقین میں صلح کروادیں ‘ اور لوگوں کو امید تھی کہ فریقین حضرت عائشہ (رض) کے مقام کا احترام کریں گے اور ان کے حکم پر عمل کریں گے ‘ کیونکہ قرآن مجید کی نص صریح کے مطابق وہ تمام مومنوں کی ماں ہیں ‘ اور حضرت عائشہ (رض) نے ان آیات پر عمل کیا :

لاخیر فی کثیر من نجواھم الا من امر بصدقۃ او معروف او اصلاح بین الناس۔ (النساء : ١١٤)

ان کے اکثر پوشیدہ مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں ہے ‘ سوا اس شخص کے جو صدقہ دینے کا حکم دے یا کسی اور نیک کام کرنے کا لوگوں میں صلح کرانے۔

وان طآ ئفتن من المؤ منین اقتتلو فاصلحوا بینہما۔ (لحجرات : ٩)

اور اگر مومنوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرادو۔

مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کا جو حکم ہے اس کے مخاطب تمام مسلمان ہیں ‘ خواہ مرد ہوں یا عورت ‘ آزاد ہوں یا غلام ‘ سو حضرت عائشہ (رض) بھی اس حکم کے موافق مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کے حکم کی مکلف تھیں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی سابق تقدیر اور اس کے علم ازل میں یہ مقرر تھا کہ یہ صلح نہیں ہوگی ‘ دونوں فرقیوں کے درمیان بصرہ میں زبردست جنگ ہوئی جس سے قریب تھا کہ مسلمانوں کے دونوں فریق فنا ہوجاتے۔ پھر کسی شخص نے حضرت عائشہ (رض) کے اونٹ کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور جب وہ اونٹ پہلو کے بل گرگیا تو محمد بن ابی بکر نے حضرت عائشہ (رض) کو سنبھال لیا او ان کو بصرہ لے گئے ‘ اس جنگ میں حضرت طلحہ اور حضرت زبیر شہید ہوگئے اور اونٹ کے گرنے کے بعد ان کے لشکر کو شکست ہوگئی اور حضرت علی (رض) نے حضرت عائشہ (رض) کو بصرہ کی تیس معزز خواتین کے ساتھ عزت و احترا کے ساتھ مدینہ روانہ کردیا۔ (تاریخ ابن خلدون ج ١ ص ٥٠٤‘ ملخصا) حضرت عائشہ (رض) نیکو کا رہ تھیں ‘ اللہ سے ڈرنے والی تھیں ‘ پرہیز گار تھیں ‘ مجتہدہ تھیں انہوں نے اس معالمہ میں جو اجتہاد کیا تھا وہ اس اجتہاد میں برحق اور صحت اور صواب پر تھیں اور اس اجتہاد کے موافق انہوں نے جو کچھ کارروائی کی وہ اس میں اجروثواب کی مستحق ہیں اور ہم اصول میں بیان کرچکے ہیں کہ صحاب کرام کے آپس کے مناقشات اختلافات اور ان کی لڑائیوں کی بہترین تاویل کرنی چاہیے اور ان کو صحت اور صواب پر محمول کرنا چاہیے۔

(احکام القرآن ج ٣ ص ٥٧٠۔ ٥٦٩‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے بھی اس عبارت پر اعتماد کرکے اس کو نقل کیا ہے۔

(الجامع لاحکام القرآن جز ١٤ ص ١٦٤۔ ١٦٣‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

آیت تطھیر کے مصادیق 

اس آیت میں اہل بیت کی تفسیر میں تین قول ہیں :

(١) حضرت ابو سعید خدری ‘ حضرت انس بن مالک ‘ حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ (رض) سے منقول ہے کہ اس سے مراد حضرت علی ‘ حضرت فاطمہ ‘ حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) ہیں۔

(٢) حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت عکرمہ نے کہا اس سے مراد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات ہیں۔

(٣) صحاک نے کہا اس سے مراد آپ کے اہل اور آپ کی ازواج ہیں۔

اور فرمایا تم سے ہر قسم کی نجاست دور فرمادے ‘ یعنی گناہوں اور برائیوں کی الودگی سے حفاظت فرمائے گا ‘ اور فرمایا تم کو خوب ستھرا اور پاکیزہ کردے ‘ یعنی بری خواہشات ‘ دنیا کے میل کچیل اور دنیا کی طرف رغبت سے تم کو دور رکھے گا اور تمہارے دلوں میں بخل اور طمع نہ آنے دے گا اور تم کو سخاوت اور ایثار کے ذریعہ پاک اور صاف رکھے گا۔(النکت والعیون ج ٤ ص ٤٠١۔ ٤٠٠‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

آیت تطھیر سے ازواج مطہرات کا مراد ہونا 

اس سے پہلی آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج سے خطاب ہے : ینسآء النبی لستن کآحد منالنسآء :

(الاحزاب : ٣٣) اور اس کے بعد والی آیت میں بھی ازواج مطہرات سے خطاب ہے : واذکرن مایتلیٰ فی بیو تکن 

(الاحزاب : ٣٤) اس کا تقاضا ہے کہ اس : آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج سے خطا ہو۔

نیز قرآن مجید کا اسلوب ہے کہ بیت سے مراد بیت سکنی ہوتا ہے ‘ جیسا کہ اس آیت میں ہے :

قالو آ اتعجبین من امر اللہ رحمت اللہ و برکتہ علیکم اھل البیت۔ (ھود : ٧٣) فرشتوں نے (سارہ سے) کہا ‘ کیا تم اللہ کے کاموں پر تعجب کرتی ہو ؟ اے اہل بیت ! تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل نے مخلوق کی دو قسمیں کیں ‘ پس اللہ عزوجل نے مجھے ان میں سے بہترین قسم میں رکھا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وصحب الیمین وصحب الشمال (دائیں ہاتھ والے اور بائیں ہاتھ والے) سو میں دائیں ہاتھ والوں سے ہوں او دائیں ہاتھ والوں میں سے سب سے بہتر ہوں ‘ پھر دو قسموں کی تین قسمیں کیں ‘ فرمایا فاصحب المیمنۃ ‘ والسابقون السابقون ‘ سو میں سابقین میں سے ہوں اور سابقین میں سب سے بہتر ہوں ‘ پھر اس تیسری قسم کے قبائل بنائے پس مجھے سب سے بہتر قبیلہ میں رکھا اور اس کا ذکر اس آیت میں ہے :

وجعلنکم شعوباوقبآ ئل لتعارفوا ط ان اکرمکم عنداللہ اتقکم۔ (الحجرات : ١٣) اور تم کو مختلف گروہوں اور قبائل میں رکھا تاکہ تمہاری پہچان ہو اور اللہ کے نزدیک تم میں سب سے مکرم وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔

پھر ان قبائل کو گھروں میں تقسیم کیا اور مجھے سب بہتر گھر میں رکھا اس کا ذکر اس آیت میں ہے : انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھر کم تطھیرا (الاحزاب : ٣٣) پس میں اور میرے اہل بیت گناہوں سے پاک ہیں۔ (دلائل النبوۃ للبیھقی ج ١ ص ١٧١۔ ١٧٠‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ک ٢٦٧٤)

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ آیت (الاحزاب : ٣٣) بالخصوص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ عکرمہ نے کہا جو شخص چاہے میں اس سے اس بات پر مباہلہ کرسکتا ہوں کہ یہ آیت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (تاریخ دمشق الکبیر ج ٧٣ ص ١١١‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 33