أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَيَـطۡمَعَ الَّذِىۡ فِىۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ۞

ترجمہ:

اے نبی کی بیویو ! تم (عام) عورتوں میں سے کسی ایک کی (بھی) مثل نہیں ہو ‘ بہ شرطی کہ تم اللہ سے ڈرتی رہو ‘ سو کسی سے لچک دار لہجہ میں بات نہ کرنا کہ جس کے دل میں بیماری ہو وہ کوئی (غلط) امید لگا بیٹھے ‘ اور دستور کے مطابق بات کرنا

تفسیر:

ازواج مطہرات اور سیدتنا فاطمہ (رض) کی باہمی فضیلت میں محاکمہ 

نیز فرمایا : اے نبی کی بیویو ! تو (عام) عورتوں میں سے کسی ایک کی بھی مثل نہیں ہو۔ (الاحزاب : ٣٢)

یعنی ازواج مطہرات کا شرف اور ان کی فضیلت دنیا کی تمام عورتوں سے زیادہ ہے ‘ کیونکہ ان کے علاوہ کسی عورت کو یہ شرف اور فضیلت حاصل نہیں ہے کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ ہو اور تمام مومنوں کی ماں ہو۔

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس سے یہ لازم آئے گا کہ ازواج مطہرات سید تنا فاطمہ زہراء (رض) سے بھی افضل ہوں ‘ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

اس عتراض کا یہ جواب دیا گیا ہے بیشک ازواج مطہرات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج ہونے کی حیثیت سے اور امہات المومنین ہونے کی حیثیت سے سیدتنا فاطمہ (رض) سے افضل ہیں لیکن تمام حیثیات کے لحاظ سے ان سے افضل نہیں ہیں ‘ اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ دیگر حیثیات کے لحاظ سے حضرت فاطمہ ان سے افضل ہوں ‘ بلکہ جس حیثیت سے سیدتنا فاطمہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جسم کا جز ہیں اس حیثیت سے تو وہ تمام خلفاء اربعہ (رض) اجمعین سے بھی افضل ہیں۔

(روح المعانی جز ٢٢ ص ٦‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

عورت کا مردوں سے اپنی آواز کو مستور رکھنے کا حکم 

نیز اس کے بعد فرمایا : سو کسی سے لچک دار لہجہ میں بات نہ کرنا کہ جس کے دل میں بیماری ہو وہ کوئی غلط امید لگا بیٹھے اور دستور کے مطابق بات کرنا (الاحزاب : ٣٢)

اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اجنبی مردوں کے ساتھ بہ وقت ضرورت سخت اور کھر لہجے میں بات کریں ‘ نرم اور لچک دار لہجہ میں بات نہ کریں جیسے آوارہ عورتیں اجنبی مردوں سے باتیں کرتی ہیں اور جس سے فساق کے دلوں میں نفسانی خواہشات بیدار ہوتی ہیں۔

علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ روایت ہے کہ بعض ازواج مطہرات جب کسی ضررورت کی بناء پر اجنبی مردوں سے بات کرتیں تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیتی تھیں مادان کے آواز میں کوئی نرمی یا لچک ہو ‘ اور جب عکورت اپنے اوند کے علاوہ کسی اور شخص سے بات کرے اور اس سے سخت لہجہ میں بات کرے تو اس کو زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں میں اس عورت کا محاسن سے شمار کیا جاتا تھا۔ اور وہ جو بعض اشعار میں مطلقاً عورت کی خوش گلوئی نغمہ سرائی کو اس کی خوبیوں سے شمار کیا جاتا ہے وہ محض جہالت ہے۔(روح المعانی جز ہ ٢ ص ٩۔ ٨‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

ہمارے زمانہ میں خواتین کا مردوں کے ساتھ عام اور آزادانہ میل جول ہے ‘ یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم کا رواج ہے اور شرعی حدود وقیود کے بغیر عورتیں مردوں کے دوش بدوش مختلف اداروں میں آزادی کے ساتھ کام کرتی ہیں ‘ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ممبر بنتی ہیں اور تقریریں کرتی ہیں بلکہ بعض خواتین وزراء جلسوں میں تقریریں بھی کرتی ہیں حالانکہ اسلام کا حکم یہ ہے کہ شرعی ضرورت کے بغیر خواتین اجنبی مردوں سے باتیں نہ کریں خصوصاً نرم و نازک لہجہ میں ‘ قرآن مجید میں ہے :

ولایضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن۔ (النور : ٣١) اور عورتیں اپنے پائوں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں تاکہ لوگوں کو ان کی چھپی ہوئی زینت کا علم ہوجائے۔

علامہ ابو کبر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ عورت کو اتنی بلند آواز کے ساتھ کلام کرنے سے منع کیا گیا ہے جس کو اجنبی مرد سن لیں ‘ کیونکہ پازیب کی آواز سے اس کی اپنی آواز زیادہ فتنہ انگیز ہے ‘ اسی وجہ سے ہمارے فقہاء نے عورت کی اذان کو مکروہ قرار دیا ہے۔ کیونکہ اذان میں آواز بلند کرنی پڑتی ہے اور عورت کو آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے۔(احکام القرآن ج ٣ ص ٣١٩‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

علامہ موفق الدین عبد اللہ بن احمد بن قدامہ جنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں :

حضرت اسماء بنت یزید روات کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” عورتوں پر اذان اور اقامت نہیں ہے “ کیونکہ اذان اصل میں خبر دینے کے لیے ہے اور عورتوں کے لی خبر دینا ‘ مشروع نہیں ہے ‘ اور اذان میں آواز بلند کی جاتی ہے اور عورتوں کے لیے آواز بلند کرنا مشروع نہیں ہے۔ (المغنی ج ١ ص ٢٥٣‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ( نماز میں امام کو متنبہ کرنے کے لیے) مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٢٠٤‘ سنن ابوداوئد رقم الحدیث : ٤٩٠‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٧٨٤) 

علامہ بدر الدین عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

شارع (علیہ السلام) نے عورت کے سبحان اللہ کہنے کو اس لیے مکروہ قرار دیا ہے کہ اس کی آو واز فتنہ ہے اس لیے اس کو اذان ‘ امامت اور نماز میں بلند آواز کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے سے منع کیا جاتا ہے۔(عمدۃ القاری ج ٧ ص ٢٧٩‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیر یہ ‘ ١٣٤٨ ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں عورت کو زمین پر پیر مارنے سے منع کیا ہے تاکہ اس کی پازیب کی آواز اجنبی مردوں کو نہ سنائی دے ‘ اور حدیث میں عورت کو نماز میں سبحان اللہ کہنے کے بجائے تالی بجانے کا حکم دیا ہے ‘ کیونکہ عورت کا آواز بلند کرنا ممنوع ہے ‘ فقہاء احناف کے نزدیک عورت کی آواز عورت ہے اور جس طرح ماسوا ضرورت کے وہ اجنبیوں پر چہرہ ظاہر نہیں کرسکتی اسی طرح وہ بغیر ضرورت کے اجنبی مردوں پر اپنی آواز کو بھی ظاہر نہیں کرسکتی ‘ اور فقہاء مالکیہ ‘ فقہاء حنبلیہ اور فقہاء شافعیہ کے نزدیک عورت کا آواز بلند کرنا ممنوع ہے اور پست اور کرخت آواز کے ساتھ وہ بہ وقت ضرورت اجنبی مردوں سے کلام کرسکتی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 32