أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذۡنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيۡرًا ۞

ترجمہ:

اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سراج کہنے کی توجیہ 

اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سراج منیر فرمایا ہے اور سراج کا معنی ہے چراغ ‘ اس پر یہ اعتراض ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شمس کیوں نہیں فرمایا حالانکہ شمس کی روشنی چراغ سے زیادہ ہوتی ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک چراغ سے دوسرا چراغ روشن ہوجاتا ہے اور ایک سورج سے دوسرا سورج نہیں بنتا ‘ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدایت سے آپ کے اصحاب بھی ھادی بن گئے ‘ حدیث میں ہے میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پاجائوگے۔ (مشکوۃ رقم الحدیث : ٦٠١٨)

القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 46