وَلَا تَنۡکِحُوۡا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ؕ اِنَّہٗ کَانَ فٰحِشَۃً وَّمَقْتًا ؕ وَسَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۲۲﴾٪

ترجمۂ کنزالایمان: اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرومگر جو ہو گزرا وہ بیشک بے حیائی اور غضب کا کام ہے اور بہت بری راہ ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اپنے باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کروالبتہ جو پہلے ہوچکا (وہ معاف ہے۔) بیشک یہ بے حیائی اور غضب کا سبب ہے، اور یہ بہت برا راستہ ہے۔

{ وَلَا تَنۡکِحُوۡا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمۡ: اور اپنے باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو۔} زما نہ ٔجاہلیت میں رواج تھا کہ باپ کے انتقال کے بعد بیٹا اپنی سگی ماں کو چھوڑ کر باپ کی دوسری بیوی سے شادی کر لیتا تھا، اس آیت میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا۔ (تفسیر قرطبی، النساء، تحت الآیۃ: ۲۲، ۳/۷۳، الجزء الخامس)

یہاں اگر نکاح سے مراد عَقدِ نکاح ہے تو معلوم ہوا کہ سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے اگرچہ باپ نے خلوت سے پہلے اسے طلاق دے دی ہو اور اگر نکاح سے مراد صحبت ہے تو معلوم ہوا کہ جس عورت سے اپنا باپ صحبت کرے خواہ نکاح کر کے یا زنا کی صورت میں یا لونڈی بنا کر بہر صورت وہ عورت بیٹے پر حرام ہے کیونکہ یہ بیٹے کی ماں کی طرح ہے۔

{ مَا قَدْ سَلَفَ:جو ہو گزرا۔} یعنی جاہلیت کے زمانہ میں تم نے جو ایسے نکاح کر لئے اور اب وہ عورتیں مر بھی چکیں تم پر اس کا گناہ نہیں کیونکہ وہ گناہ قانون بننے سے پہلے تھے۔ یہاں ایک مسئلہ یاد رکھیں کہ اگر مجوسی اسلام لائے اور اس کے نکاح میں اپنی ماں یا بہن ہے تو اسے چھوڑ دینا فرض ہے لیکن اس نے زمانہ کفر میں جو نکاح کئے ہوں ، ان سے جو اولاد ہو چکی ہو وہ اولاد حلالی ہو گئی، کیونکہ کفار پر اس طرح کے شرعی احکام جاری نہیں۔