أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِزِيۡنَةِ اۨلۡكَوَاكِبِۙ ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزین فرمایا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزیں فرمادیا اور ( اس کو) ہر سرکش شیطان سے محفوظ کردیا وہ عالم بالا کے فرشتوں ( کی باتوں) کو سننے کے لیے کان نہیں لگا سکتے اور ان پر ہر جانب سے ضرب لگائی جاتی ہے ان ( کو بھگانے) کے لیے اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے مگر جو شیطان کوئی بات اچک لے تو فوراً چمکتا ہوا انگارہ اس کا پیچھا کرتا ہے (الصّٰفّٰت : ١٠۔ ٦)

آسمان دنیا کا ستاروں سے مزین ہونا

الصّٰفّٗت : ٦ میں یہ بتایا ہے کہ ہم نے آسمان دنیا کو جو ستاروں سے مزین کیا ہے اس کی ددوج ہیں ہیں ایک زینت اور آرائش اور دوسری وجہ ہے آسمان کو چوری چھپے فرشتوں کی باتیں سننے والے سرکش شیطانوں سے محفوظ کرنا۔ آسمان دنیا کو جو ستاروں سے مزین فرمایا ہے اس کو پوری تفصیل اور تحقیق انشاء اللہ ہم الملک : ٥ میں بیان کریں گے۔

آسمان دنیا کی ستاروں سے مزین ہونے کی کیفیت کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) نور اور روشنی آنکھوں کو بھاتی ہے اور جب آسمان کی سطح پر یہ روشنیوں کا جال نظرآتا ہے تو بہت حسین و جمیل لگتا ہے۔

(٢) مختلف ستاروں کے اجتماع سے عجیب و غریب اشکال بن جاتی ہیں کہیں پر شیر کی شکل بن جاتی ہے ‘ کہیں بکری کی کہیں میزان کی اور کہیں ڈول کی علیٰ ہٰذا القیاس ان ہی شکلوں کے اعتبار سے بارہ برجوں کے نام رکھے گئے ہیں۔

(٣) جب اندھیری رات میں انسان آسمان کی نیلی سطح پر ان چمکتی ہوئی روشنیوں کو دیکھتا ہے تو یہ اس کو بہت حسین لگتی ہیں۔ آسمان پر ستاروں کے متعلق جدید ترین تحقیق یہ ہے :

یہ کائنات ہمارے اندازوں سے کہیں زیادہ وسیع و عریض ہے ‘ مٹھی بھرریت میں بھی دس ہزار ذرات ہوتے ہیں اور یہ تعداد برہنہ آنکھ سے نظر آنے والے ستاروں سے زیادہ ہے ‘ لیکن جو بھی سیارے ہم دیکھ سکتے ہیں وہ دراصل ستاروں کی تعداد سے انتہائی کم ہیں۔ رات کو ہم جو کچھ آسمان پر ملاخط کرتے ہیں ‘ وہ قریبی ستاروں کا افق ہے ‘ جب کہ کون ومکاں کا دامن لا محدود ستاروں سے لبریز ہے۔ کائنات میں موجود کل ستارے زمین پر موجود تمام ساحلوں کے تمام ریت کے ذرات سے بھی زیادہ تعداد میں ہیں۔

ماہرین فلکیات کی اکثریت اس امر پر متفق ہے کہ ہماری اور دوسری کہکشاؤں میں ایسے سورج موجود ہوسکتے ہیں جنہوں نے اپنے سیاروں پر مشتمل اپنے نظام شمسی بھی تشکیل دئیے ہوں ‘ جن میں شایدزمین جیسے سیارے ہوں اور ان میں حیات اور نشوونماکے لیے سازگار ماحول بھی موجود ہو۔ ١٩٤٠ ء کے عشرے میں امریکی ماہر فلکیات فرینگ ڈریگ نے ہماری دودھیا ‘ کہکشاں میں ایسے سیاروں کی تعداد کے تعین کے لیے کہ جہاں حامل فہم وادراک مخلوق پائی جاسکتی ہے ایک کلّیہ وضع کیا۔ اس بنیاد پر بہت سے ایسے ماہرین نے جو دوسرے سیاروں میں غیرارضی تہذیب کی موجودگی کے بارے میں خاصے پُر امید ہیں ‘ صرف ملکی وے میں جس کے ایک کنارے پر ہمارے نظام شمسی کا وجود ہے ‘ ایک لاکھ پچیس ہزار سیاروں کا اندازہ لگایا ہے جہاں زندگی پائی جاسکتی ہے۔ ہماری کہکشاں میں تقریباً چار سو بلین سورجوں کی موجودگی اور ان کے درمیان نامیاتی سالمات کا پایا جانا اسی خیال کو مزید تقویت عطا کرتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق نظام شمسی کی پیدائش چار ارب سال قبل ہوئی تھی۔ اس عرٖصے کے دوران مادرارض پر ” ہومیواسپین “ یعنی زیرک انسان وجود ہیں آیا۔ اس طرح دوسرے سیاروں پر بھی اس طرح کی زندگی پروان چڑھ سکتی ہے۔ (جنگ سنڈے میگزیں ٣٠ مارچ ٢٠٠٣ ئ)

شہاب ثاقب سے مراد آگ کے گولے ہیں یا آسمان دنیا کے ستارے

الصّٰفّٰت : ٦

میں مذکور ہے : بیشک ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزین فرما دیا۔ اس آیت پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ فرشتے شیطانوں کو جو شہاب ِ ثاقب مارتے ہیں آیا وہ شہاب ثاقب اس ستاروں سے ہیں یا نہیں ؟ اگر فرشتے ان ہی ستاروں سے شیطانوں پر ضرب لگاتے ہیں تو پھر ستاروں کی تعداد بہ تدریج کم ہونی چاہیے نیز اس سے آسمان کی زینت میں بھی بہ تدریج کمی آنی چاہیے ‘ اور اگر وہ شہاب ِ ثاقب اس ستاروں سے نہیں ہیں بلکہ فرشتے کوئی اور آگ کے گولے اٹھا کر ان فرشتوں پر مارتے ہیں تو یہ سورة الملک کی اس آیت کے خلاف ہے :

وَلَقَدْزَیَّنَّاالسَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَا بِِیْحَ وَ جَعَلْنٰھَا رُجُوْ مًالِّلشَّیٰطِیْنِ ۔ (الملک : ٥)

اور بیشک ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین فرما دیا ہے اور اور ان کو شیطان کے مارنے کا ذریعہ بنادیا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے شیطان کو جس شہاب ثاقب سے مارا جاتا ہے وہ یہ ستارے نہیں ہیں جن سے آسمان دنیا کو مزین فرمایا ہے بلکہ کسی اور قسم کے آگ کے گولے ہیں ‘ اور سورة الملک میں جو فرمایا ہے ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین فرمایا ہے اور ان کو شیطان کو مارنے کا ذریعہ بنایا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو فضا کی بلندیوں میں روشن اور چمکتی ہوئی نظر آتی ہے وہ زمین والوں کو روشن چراغوں اور ستاروں کی طرح نظر آتی ہیں ‘ سورة الملک : ٥ میں شہاب ثاقب کو چراغ اور آسمان دنیا کی زینت لوگوں کو دکھائی دینے کے اعتبار سے فرمایا ہے۔

شہابِ ثاقب گرانے پر چند دیگر شہاب کے جوابات

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ جب شیطانوں کو یہ پتا ہے کہ جیسے ہی وہ آسمان ِدنیا کے قریب پہنچیں گے تو ان پر شہاب ثاقب پھینکا جائے گا اور ان کو ان کا مقصود حاصل نہیں ہو سکے گا تو پھر وہ آسمانوں کے قریب کیوں جاتے ہیں ‘ ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ آسمان دنیا سے ان پر شہاب ثاقب مارنے کی ایک معین جگہ نہ ہو اور وہ ہر بار اس امید سے جگہ بدل کر جاتے ہوں کہ یہاں سے ان پر شہاب ثاقب نہیں گرایا جائے گا ‘ یا اس کی وجہ یہ ہو کہ ان پر شہاب ثاقب گرائے جانے کے واقعات شاذونا در ہوں اور جِنّات اور شیاطین کے درمیان وہ اس قدر مشہور نہ ہوں۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ جِنّات اور شیاطین آگ سے بنائے گئے ہیں تو ان پر آگ کے گولے مارنا یا ان کو دوزخ کی آگ سے آخرت میں عذاب دینا ان کے لیے موجب عذاب کس طرح ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان مٹی سے بنایا گیا ہے اس کے باوجود جب اس کو اینٹیں اور پتھر مارے جائیں تو اس سے انسان کو بہر حال درد اور تکلیف ہوتی ہے سو اسی قیاس پر جِنّات اور شیاطین کو بھی سمجھنا چاہیے۔

مارد ‘ الملأ الاعلیٰ اور شہاب ثاقب وغیرہ کے معنی اور ان کی وضاحت

اس آیت میں شیطان کے ساتھ اس کی صفت مارد کا ذکر ہے ‘ مارد کا معنی ہے جو ہر قسم کی خیر اور بھلائی سے خالی ہو ‘ جس درخت پر پتے نہ ہوں اس کو شجرِامرد کہتے ہیں ‘ ریت کے جس ٹکڑے پر کوئی سبزہ یا روئیدگی نہ ہو اس کو رملۃ مرداء کہتے ہیں ‘ اور جس لڑکے کے چہرے پر ڈاڑھی نہ آئی ہو اس کو امرد کہتے ہیں اور اس آیت میں مارد کا معنی وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرما نبرداری سے خالی ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 37 الصافات آیت نمبر 6