ہٰۤاَنۡتُمْ ہٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۟ فَمَنۡ یُّجٰدِلُ اللہَ عَنْہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَمۡ مَّنۡ یَّکُوۡنُ عَلَیۡہِمْ وَکِیۡلًا ﴿۱۰۹﴾

ترجمۂ کنزالایمان: سنتے ہو یہ جو تم ہو دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے جھگڑے تو ان کی طرف سے کون جھگڑے گا اللہ سے قیامت کے دن یا کون ان کا وکیل ہوگا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اے لوگو!) سن لو، یہ تم ہی ہو جودنیا کی زندگی میں ان کی طرف سے جھگڑے تو قیامت کے دن ان کی طرف سے اللہ سے کون جھگڑے گایا کون ان کا کارساز ہوگا؟

{ ہٰۤاَنۡتُمْ ہٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا:سن لو، یہ تم ہی ہو جودنیا کی زندگی میں ان کی طرف سے جھگڑے۔} یہاں عام لوگوں سے اور بطورِ خاص طعمہ کی قوم سے خطاب فرمایا گیا ہے کہ اے لوگو! سن لو، تم جوآج دنیا کی زندگی میں ان خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑتے ہو توجب قیامت کے دن خیانت کرنے والا مجرم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش ہوگا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے عذاب کا فیصلہ فرما دے گاتو اس وقت کون ان کی طرف سے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے جھگڑے گا یا کون ان کا وکیل و کارساز ہوگا؟ یعنی جیسے دنیا میں تم فیصلہ کرنے والے کو دھوکہ دیدیتے ہو اس طرح دھوکہ دینے کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں جھگڑنا ناممکن ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّسے کچھ پوشیدہ نہیں۔

شفاعت کا ثبوت:

یاد رہے کہ اس آیت میں شفاعت کا انکار نہیں کیونکہ محبوبوں کی شفاعت اور چھوٹے بچوں کا اپنے ماں باپ کی بخشش کے لئے رب تعالیٰ سے ناز کے طور پر جھگڑنا آیات و احادیث سے ثابت ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:

ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشْفَعُ عِنْدَہٗۤ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ؕ (سورۂ بقرہ: ۲۵۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں شفاعت کرسکے۔

اور حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ قیامت کے دن جب کچے بچے کے ماں باپ کو اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل کرے گاتو وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے جھگڑے گا۔ فرمایا جائے گا ’’اَیُّھَا السَّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّہٗ‘‘ اے کچے بچے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے جھگڑنے والے ! اپنے ماں باپ کو جنت میں لے جا، تب وہ انہیں اپنے ناف سے کھینچے گا حتّٰی کہ انہیں جنت میں داخل کردے گا۔(ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فیمن اصیب بسقط، ۲/۲۷۳، الحدیث: ۱۶۰۸)

مگر یہ جھگڑا رب کریم کی بارگاہ میں ناز کا ہو گانہ کہ مقابلے کا۔