أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا ‌ ‌ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک آپ نے اپنا خواب سچا کر دکھایا اور بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں

تفسیر:

حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا حلقوم کٹنے سے محفوظ رہنا ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے تھا

الضّٰفّٰت : ١٠٥ میں ہے : بیشک آپ نے اپنا خواب سچا کر دکھایا۔

اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ خواب تو سچا ہی ہوتا جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل کو ذبح کردیتے، واقع میں تو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ذبح نہیں ہوئے تھے پھر ان کا خواب کس طرح سچا ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خواب میں انہوں نے یہ نہیں دیکھا تھا کہ انہوں نے حضرت اسماعیل کو ذبح کردیا ہے انہوں نے خواب میں صرف اتنا دیکھا تھا کہ وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے گلے پر چھریپ پھیر رہے ہیں سو انہوں نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے گلے پر چھری پھیری، اب اگر چھری نے گلا نہیں کاٹا اور خون نہیں بہا تو اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فعل ذبح میں کوئی کمی نہیں آئی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اسی طرح تھی کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل پھیلے کیونکہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نور اب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) میں منتقل ہوچکا تھا، اور جس میں آپ کا نور ہو اس کو چھری کیسے کاٹ سکتی ہے، آپ نے خود فرمایا ہے کہ ہر چیز کو یہ علم ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں (المعجم الکبیرض ٢ ص ٢٦٢) نیز ابھی آپ کا نور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے دوسرے نفوس قدسیہ میں منتقل ہونا تھا تاکہ ان کی نسل سے ہمارے نبی خاتم الانبیاء سیدنامحمدمصطفٰی علیہ التحیتہ والثناء اس عالم آب و گل میں رونق افروز ہوں جیسا ا کہ آپ کا خودارشاد ہے :

حضرت واثلہ بن الاسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کرلیا، اور کنانہ کی اولاد میں سے قریش کو منتخب کرلیا اور قریش میں سے بنوہاشم کو منتخب کرلیا اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو چن لیا۔(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فضل نسب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : الرقم الحدیث بلاتکرار : ٢٢٧٦۔ الرقم المسلسل : ٥٨٢٨ )

امام ترمذی کی روایت اس طرح ہے :

حضرت واثلہ بن الاسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے حضرت اسماعیل کو چن لیا اور حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے بنو کنانہ کی چن لیا۔ اور بنو کنانہ میں سے قریش کو چن لیا اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو چن لیا۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٦٠٥‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٧٤٨٥‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث ٦٢٤٢ ‘، المعجم الکبیر ج ٢٢ ص ١٦١‘ دلائل النیھوۃ للبیہقی جا ص ١٦٦‘ شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٦١٣)

سو جب حضرت اسما عیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیدا ہونا اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں تھا تو بلوغت سے پہلے حضرت اسماعیل کس طرح ذبح ہوسکتے تھے، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس وقت سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی جان کا محفوظ رہنا یہ بھی ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تصدق تھا۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد کہ میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہوں

امام ابوالقاسم الحسن بن علی ابنالعسا کر المتوفی ٥٧١ ھ لکھتے ہیں :

ایک جماعت کا یہ مسلک ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ السلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبح کریں اور اس میں دلیل یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انا ابن الذ بیحین ” میں دہ ذبیحوں کا بیٹا ہوں “۔

(تاریخ دمشق الکبیر ج ٦ ص ٢٠٥‘ رقم الحدیث : ١٦٦٩‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ)

امام ابو عبد اللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عبداللہ بن سعید الصنابحی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سعاویہ بن ابو سفیان کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، بعض لوگوں نے کہا کہ ذبیح حضرت اسماعیل ہیں اور بعض لوگوں نے کہا کہ ذبیح حضرت اسحٰق ہیں ‘ حضرت معاویہ (رض) نے کہا تم لوگوں نے اس شخص کے سامنے یہ مسئلہ ذکر کیا ہے جس کو اس کی خبر ہے ‘ انہوں نے کہا کے ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اعرابی نے آکر کہا میرے پیچھے شہر خشک ہوچکے ہیں ان کا پانی سوکھ گیا ہے اور بچے ضائع اور ہلاک ہوچکے ہیں تو یا ابن الذبیحین (اے دو ذبیحوں کے بیٹے) آپکو جو اللہ نے مال عطا کیا اس میں سے ہم کو کچھ عنایت فرمائے ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے اور آپ نے اس پر انکار نہیں فرمایا ‘ پھر ہم نے کہا اے امیرالمومنین دو ذبیح کون ہیں ؟ حضرت معاویہ نے کہا جب حضرت عبدالمطلب نے زمزم کو کھودنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے یہ نذر مانی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لے زمزم کی کھدائی کو آسان کردیا تو وہ اپنے کسی بیٹے کو ذبح کردیں گے ‘ جب انہوں نے اپنے بیٹوں کی قرعہ اندازی کی تو حضرت عبداللہ کا نام نکل آیا ‘ انہوں نے حضرت عبداللہ کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو بنو مخزوم میں جو ان کے ماموں تھے انہوں نے اس سے منع کیا اور کہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کی زمین بہت وسیع ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بیٹے کا فدیہ دے دیجئے تو حضرت عبدالمطلب نے حضرت عبداللہ کے فدیہ میں سو اونٹ ذبح کردیئے تو حضرت معاویہ نے کہا دو ذبیحوں میں سے ایک ذبیح حضرت عبداللہ ہیں اور دوسرے ذبیح حضرت اسماعیل ہیں۔ (المستدرک ج ٢ ص ٢٥٤ طبع قدیم ‘ المستدرک رقم الحدیث : ٤٠٣٦)

علامہ زمخشری متوفی ٥٣٨ ھ نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے اور اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشادِگرامی بھی ہے اناابن الذبیحین ” میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہوں “ حافظ ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے مگر اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں ‘ اسی طرح حافظ سیوطی متوفی ٩١١ ھ نے بھی اس روایت کا ذکر کیا ہے۔ (الکشاف ج ٤ ص ٥٨‘ تفسیر ابن کثیرج ٤ ص ٢٠‘ الدرالمثور ج ٧ ص ٩٣)

امام عبدالملک بن ہشام متوفی ٢١٣ ھ ‘ علامہ ابوالقاسم عبدالرحمان بن عبداللہ السہیلی المتوفی ٥٨١ ھ اور حافظ اسماعیل ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ نے حضرت عبدالمطلب کی نذر ماننے کا واقعہ اس طرح بیان کیا ہے۔

امام ابن اسحاق نے کہا کے جب زمزم کی کھدائی کے وقت حضرت عبدالمطلب کی قریش سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو دس بیٹے عطا کیے اور وہ سب جوان اور صحت مند ہو کر ان کی مہمات میں ان کے معاون ہوئے تو وہ ان میں سے کسی ایک کو اللہ کی رہ میں ذبح کردیں گے ‘ سب سے چھوٹے اور محبوب بیٹے حضرت عبداللہ تھے ‘ جب وہ جوانی کی عمر کو پہنچ گئے تو حضرت عبدالمطلب نے ان کے سامنے اپنی نذر کا تذکرہ کیا ‘ ان سب نے سعادت مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہم سے جس کو بھی حکم دیں گے وہ اپنے آپ کو قربانی کے لیے پیش کر دے گا ‘ سب مل کر بیت اللہ میں جمع ہوئے اور فال نکالنے والے کو بلایا گیا ‘ ہر بیٹے کا نام ایک تیر پر لکھ دیا گیا ‘ جب فال نکالی گئی تو حضرت عبداللہ کے نام والا تیر نکل آیا ‘ حضرت عبدالمطلب ان کو ذبح کرنے کے لئے اور حضرت عبداللہ ذبح ہونے کو تیار تھے مگر قریش کے سرداروں نے مزاحمت کی اور کہا اگر بیٹوں کی ذبح کرنے کی رسم چل پڑی تو پھر کسی شخص کا بیٹا سلامت نہیں رہے گا ‘ غرض حجاز کی ایک کاہنہ سے فیصلہ کرایا گیا اس نے کہا دس اونٹوں اور حضرت عبداللہ کے نام کی قرعہ اندازی کرو ‘ اگر دس اونٹ نکل آئیں تو ان کو ذبح کردینا اور اگر پھر بھی عبداللہ کا نام نکلے تو دس اونٹ اور بڑھا دینا اور پھر دوبارہ قرعہ اندازی کرنا ‘ اور اسی طری دس دس اونٹ بڑھاتے رہنا حتیٰ کہ حضرت عبداللہ کے بجائے سو اونٹوں کے نام قرعہ فال نکل آئے ‘ غرض جب سو اونٹوں اور عبداللہ کے نام کا قرعہ نکالا گیا تو سو اونٹ نکل آئے اور حضرت عبداللہ کی جگہ سو اونٹوں کو ذبح کردیا گیا۔

(ا لسیرۃ النویہ لابن ہشام ج ا ص ١٩٢۔ ١٨٨ ملخصا داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٥ ھ ‘ الروض الائف ج ا ص ٢٧٢۔ ٧١ ٢‘ ملخصا ‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ ‘ البدایہ دالنہایہ ج ٢ ص ٢٠٠ ملخصا ‘ دارالفکر بیرو ت ‘ ١٤١٩ ھ)

علامہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی متوفی ٤٥٠ ھ اس واقعہ کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

جب حضرت عبداللہ کے فدیہ میں سو اونٹ ذبح کردیئے گئے تو عرب میں یہ رسم مقرر ہوگی کہ انسان کی دیت سو اونٹ ہوگی ‘ سو اونٹ ذبح کرنے کے بعد حضرت عبدالمطلب اپنے بیٹے حضرت عبداللہ کو لے کر خوشی خوشی گھر لوٹ گئے اور اس وقت سے حضرت عبداللہ ذبیح کے نام سے مشہور ہوگئے ‘ اسی وجہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انا ابن الذبیحین ” میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہوں “ ایک ذبیح حضرت اسماعیل بن ابراہیم (علیہما السلام) ہیں اور دوسرے ذبیح آپ کے والد گرامی حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر خصوصی فضل اور انعام ہے۔

(اعلام النبوۃ ص ٢٣٣ ا۔ ٢٣٢‘ ملخصا داراحیاء العلوم بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ)

صرف حضرت اسماعیل نہیں بلکہ ہر مسلمان آپ کی وجہ سے ذبح ہونے سے محفوظ رہا

حضرت آدم (علیہ السلام) کی توبہ اس وقت قبول ہوئی جب انہوں نے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے توبہ کی ‘ بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا پیدا ہونا ہی ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے تھا ‘ حدیث میں ہے :

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب حضرت آدم (علیہ السلام) سے (اجتہادی) خطا سرزد ہوگئی تو انہوں نے سر اٹھا کر عرش کی طرف دیکھا اور کہا : میں تجھ سے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے بخش دے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ محمد کیا ہے ! اور کون ہیں ؟ تب انہوں نے کہا تیرا نام برکت والا ہے تو نے جب مجھے پیدا کیا تھا تو میں نے عرش کی طرف سر اٹھا کر دیکھا تو اس پر لکھا ہوا تھا لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ تو میں نے جان لیا کہ اس سے زیادہ مرتبہ والا شخص کون ہوگا جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ ملا کر لکھا ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی اے آدم ! وہ تمہاری اولاد میں آخرالنبیین ہیں اور ان کی امت تمہاری اولاد میں آخری امت ہے ‘ اور اے آدم اگر وہ نہ ہوتے تو میں تم کو ( بھی) پیدا نہ کرتا۔(المعجم الصغیر ج ٢ ص ٨٣‘ مکتبہ سلفیہ مدینہ منورہ المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٦٤٩٨‘ ریاض المتدرک ج ٤ ص ٦١٥‘ دلائل النبوۃ للہ بعی ج ٥ ص ٤٨٩‘ البدایہ والنہایہ ج ا ص ٨١ ج ٢ ص ٣٢٢‘ دارالفکر ‘ مجموعۃ الفتاویٰ لابن تمییہ ج ٢ ص ٩٦‘ دارالجیل ‘ ١٤١٨ ھ)

اسی طرح حضرت نوح (علیہ السلام) جو طوفان میں غرق ہونے سے محفوظ رہے اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت ان کی پشت میں جلوہ گر تھے اور ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو وہ بھی اس آگ میں جلنے سے اس لئے محفوظ رہے کہ اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی پشت میں موجود تھے ‘ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے گلے پر بھی چھری اس لیے نہیں چلی کہ اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے اندر موجود تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والد گرامی حضرت عبداللہ (رض) جو ذبح ہونے سے بچ گئے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نور ان میں منتقل ہوچکا تھا ‘ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لیکر جناب عبداللہ تک اپنے تمام آباء کے وجود سے مشرف ہونے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وسیلہ ہیں ‘ ہوتا یہ ہے کہ باپ کی وجہ سے بیٹے کا وجود ہوتا ہے اور بیٹے کے وجود پر اس کے باپ کا احسان ہوتا ہے مگر ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے منفرد بیٹے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے تمام آباء پر احسان ہے اور حضرت آدم ( علیہ السلام) سے حضرت عبداللہ تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سلسلہ نسب میں اس قدر آباء ہیں ان میں سے جو بھی وجود سے مشرف ہوا وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے موجود ہوا۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

ثُمَّ اَوْحَیًْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْراھِیْمَ حَنِیْفًا پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی کہ آپ ملت ابراہیم کی پیروی کریں (انحل : ١٢٣) جو باطل سے الگ حق کی طرف مائل تھے۔

اس آیت میں ہمیں بھی حضرت ابراہیم کی ملت کی پیروی کا حکم ہے ‘ اور حدیث میں ہے :

حضرت زیدبن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ کے اصحاب نے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ قربانیاں کیسی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تمہارے باپ ابراہیم ( علیہ السلام) کی سنت ہیں۔(سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٢٧‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٦٨‘ الطبرانی رقم الحدیث : ٥٠٧٥)

اس کا معنی یہ ہوا کہ اگر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے ہاتھوں حضرت اسماعیل ذبح ہوجاتے تو پھر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی سنت یہ ہوتی کہ ہر باپ اپنے بیٹے کو ذبح کرے اور ہمیں ملت ابراہیم کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے تو ہم پر بھی لازم ہوتا کہ ہم اپنے بیٹوں کو ذبح کریں ‘ سو سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی پشت میں جلوہ گر ہونے کی وجہ سے صرف ان کی جان نہیں بچی بلکہ قیامت تک کے تمام مسلمانوں کے بیٹوں کی گردنیں بچ گئیں اور ہر شخص کی بقا میں اس کی گردن پر سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا احسان ہے ‘ یہ صرف حضرت آدم ( علیہ السلام) کی تخلیق اور حضرت اسماعیل کی بقا کی بات نہیں ہے کائنات کے ہر شخص کی تخلیق اور اس کی بقا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے ہوئی بلکہ کائنات کا ذرہ ذرہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیرِ ِاحسان ہے۔

حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے خواب کا سچا ہونا اور ہمارے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خواب کا سچا ہونا

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خواب میں حکم دیا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کریں اور بیداری میں یہ حکم نہیں دیا گیا ‘ اس کی حکمت یہ تھی کہ اس حکم پر عمل کرنے میں ذبح کرنے والے اور ذبح کیے جانے والے دونوں کے لیے بےحدمشقت تھی ‘ اس لئے پہلے انہیں خواب میں یہ دکھایا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں پھر اس کی تاکید کے لیے خواب میں ان کو یہ حکم دیا گیا تاکہ اس پُر مشقت حکم کا ان کو بہ تدریج مکلف کیا جائے اور اس حکم پر عمل کرنا ان کے لیے آسان ہوجائے۔

دوسری و جہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے خواب بھی حق اور وحی ہوتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی متعلق فرمایا :

لَقَدْصَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرًّئْ یَابِِا لْحَقِّ ج لَتَدْ خُلُنَّ الْمَسْجِِدَ الْحَرَامَ ۔ ( الفتح : ٢٧ )

بیشک اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا حق کے ساتھ تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہو گے۔

اور اس واقع میں ایسا ہی ہوا سات ہجری میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ حدیبیہ کی قضاء کرنے کے لیے مسجد حرام میں اپنے اصحاب کے ساتھ داخل ہوگئے ‘ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب اس طرح مذکور ہے :

اِنَِّیِْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ کَوْ کَبََا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَ اَیْتُہُمْ لِیْ سٰجِدِ یْنَ ۔ (یوسف : ٤)

میں نے گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو دیکھا میں نے دیکھا کہ وہ میرے لیے سجدہ ریز ہیں۔

پھر اس خواب کا صدق اس طرح ظاہر ہوا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گیارہ بھائیوں اور ان کے ماں باپ نے آپ ( علیہ السلام) کو سجدہ تعظیم کیا ‘ اور یہ خواب معنوی طور پر صادق ہوگیا کہ گیارہ ستاروں کی جگہ ان کے گیارہ بھائیوں نے سجدہ کیا اور سورج اور چاند کی جگہ ان کے والدین نے ان کو سجدہ کیا ‘ اور ان کا یہ خواب معنوی طور پر صادق ہوا۔

اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا خواب اس طرح مذکور ہے :

یٰبُنَیَّ اِنِّیْٓ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْٓ اَذْبَحُک (الصّٰفّٰف : ١٠٢) َ اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس خواب کا صدق اس طرح ظاہر ہوا کہ وہ اپنے بیٹے کے گلے پر چھری چلا رہے تھے کہ ان کی چھری کے نیچے مینڈھا لا کر رکھا دیا گیا اور حضرت اسماعیل کی جگہ مینڈھا ذبح کردیا گیا اور یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خواب بھی معنوی طور پر صادق ہوا۔

انبیاء (علیہم السلام) کے خواب سچے ہوتے ہیں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اور حضرت یوسف ( علیہ السلام) دونوں کے خواب صادق تھے لیکن معنوی طور پر اور تاویل سے صادق ہوئے اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس طرح خواب دیکھا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوئے واقع میں ایسا ہی ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرۃ القضاء کے موقع پر اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوئے۔ سو دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے خواب معناََ اور تاویلاََ صادق ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خواب ظاہراََ اور حسّاََ صادق ہیں ‘ اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواب میں اپنے رب کو حسین صورت میں دیکھا (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٣٣) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شبِ معراج واقع میں اپنے رب کو دیکھ لیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ خواب بھی ظاہراََ اور حساََ صادق ہے ‘ سو خوابوں کے اعتبار سے جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صادق ہیں کائنات میں کوئی ایسا صادق نہیں ہے ‘ سب نبیوں اور ولیوں نے سن کر کہا اللہ ایک ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھ کر کہا اللہ ایک ہے ‘ سب نے سُن کر اس کے واحد ہونے کی شہادت دی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھ کر اس کے واحد ہونے کی شہادت دی ‘ سو واضح ہوگیا کہ کائنات میں نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسا کوئی صادق ہے نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسا کوئی شاہد ہے۔

حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قربانی کے اسرار اور نکات بیان کرنے کے بعد اب ہم قربانی کے فضائل اور احکام سے متعلق احادیث بیان کر رہے ہیں :

قربانی کے فضائل کے متعلق احادیث

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عیدالاضحی کے دن قربانی کے جانور کا خون بہانے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو کوئی عمل محبوب نہیں ہے ‘ اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں ‘ اپنے بالوں اور اپنے کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے پاس پہنچ جاتا ہے سو تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔

امام ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ملے گی۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٤٩٣‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٢٦‘ المستدرک ج ٤ ص ٢٢١‘ شرح السنہ رقم الحدیث : ١١٢٤ )

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دس سال مدینہ میں رہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر سال قربانی کرتے تھے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥٠٧‘ سنداحمد ج ٢ ص ٣٨)

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فاطمہ ! اپنی قربانی کے جانور کی نگہبانی کرو اور اس کے ہاں موجود رہو کیونکہ اس کے خون کے ہر قطرہ کے بدلہ میں تمہارے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ‘ اُنہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا اس کا اجر صرف اہل بیت کے لیے خاص ہے یا ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلکہ ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ (مسندالبز اررقم الحدیث : ٥٩٣٤‘ حافظ الہیشمی نے کہا اس حدیث کی سند میں عطیہ بن قیس ہے اس پر کافی جرح کی گئی ہے ‘ لیکن اس کی توثیق کی گئی ہے ‘ مجمع الزوائدج ٤ ص ١٧)

حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فاطمہ ! اپنی قربانی کے پاس موجود رہو کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ تمہارے ہر کیے ہوئے گناہ کی مغفرت کردی جائے گی ‘ اور تم یہ دعا کرو : ان صلوتی ونسکی و محیای ومماتی للہ رب العلمٰین لاشریک لہ وبذالک امرت وانامن المسلمین حضرت عمران (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! آیا یہ فضیلت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل بیت کے لیے خاص ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔(المعجم الکبیرج ١٨ ص ٢٣٩‘ حافظ الہیشمی نے کہا اس کی سند میں ابو حمزہ الشمالی ‘ ضعیف راوی ہے ‘ مجمع الزجوائدج ٤ ص ١٧ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عیدالاضحی کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ وہ روپیہ ہے جو قربانی کرنے کے لیے خرچ کیا جائے۔(المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٠٨٩٤‘ حافظ الہیشمی نے کہا اس کی سند میں ابراہیم بن یزید الخوزی ضعیف راوی ہے ‘ مجمع الزوائد ج ٤ ص ١٨)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عیدالاضحی کے دن فرمایا : اس دن اللہ کے نزدیک کوئی عمل اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے کہ قربانی کے جانور کا خون بہایا جائے ماسوا اس کے کہ کوئی شخص کٹے ہوئے رشتہ کو جوڑے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٥٩٣٩‘ حافظ الہیشمی نے کہا اس کی سند میں الحسن بن یحییٰ الخشنی ضعیف ہے لیکن ایک جماعت نے اس کو ثقہ قرار دے ہے۔ مجمع الزوائد ج ٤ ص ١٨)

حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا قربانیاں کیسی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تمہارے باپ ابراہیم کی سنت ہیں ! مسلمانوں نے پوچھا ان میں ہمارے لیے کیا اجر ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! اس کے خون کے ہر قطرہ کے بدلہ میں ایک نیکی ہے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٢٧‘ مسند احمدج ٤ ص ٣٦٨ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنی قربانیوں کے لیے عمدہ جانور تلاش کرو کیونکہ وہ پل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گے۔ (الفردوس بما ثور الخطاب رقم الحدیث : ٢٦٨‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ٢٩٢٠‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ١٢١٧٧‘ حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے ‘ تلخیص الحبیرج ٤ ص ١٤٨٤)

قربانی کے فضائل میں ہم نے جن احادیث کا ذکر کیا ہے ان میں اکثر کی اسانید ضعیف ہیں لیکن فضائل اعمال میں ان کا اعتبار کیا جاتا ہے۔

قربانی کے شرعی حکم سے متعلق احادیث

حضرت مخنف بن سلیم (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ میدانِ عرفات میں وقوف کر رہے تھے ‘ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سُنا ‘ اے لوگو ! ہر گھر والے پر ہر سال میں اضحیہ (قربانی) اور عتیرہ ہے ‘ کیا تم جانتے ہو عتیرہ کیا چیز ہے ؟ یہ وہی ہے جس کو تم رجبیہ کہتے ہو۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٧٨٨‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٥١٨‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٢٣٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٢٥‘ مسند احمد ج ٤ ص ٢١٥‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨١٥٩ )

اس حدیث پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ عتیرہ تو ابتدائے اسلام میں مشروع تھا بعد میں منسوخ ہوگیا تھا ‘ اور اس حدیث میں عتیرہ کے وجوب کا حجۃ الوداع کے موقع پر ذکر کیا گیا اور وہ عہد رسالت کا آخیر زمانہ ہے۔

علامہ المبارک بن محمد ابن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

عرب نذر مانتے تھے کہ اگر فلاں کام ہوگیا تو وہ رجب میں ایک قربانی کریں گے اس کو وہ عتیرہ اور جبیہ کہتے تھے ‘ عتیرہ ابتداء اسلام میں تھا بعد میں منسوخ ہوگیا ‘ علامہ خطابی نے کہا اس حدیث میں عتیرہ کی تفسیر یہ ہے کہ جو بکری رجب میں ذبح کی جاتی تھی اس کو عتیرہ اور رجبیہ کہتے تھے ‘ بہ ابتداء اسلام میں مشروع تھا اور جو عتیرہ زمانہ جاہلیت میں مروج تھا یہ وہ ذبیحہ تھا جو بتوں کے لیے ذبح کیا جاتا تھا اور اس کا خون بتوں کے سروں پر ڈال دیا جاتا تھا۔ (جامع الاصول فی احادیث الرسول ج ٣ ص ٢٤٥‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا کیا اضحیہ (قربانی) واجب ہے ‘ انہوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کی ہے ‘ اس نے اپنا سوال دہرایا تو حضرت ابن عمر نے کہا کیا تم کو عقل ہے ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥٠٦‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٢٤ )

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں دس سال رہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قربانی کیا کرتے تھے۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥٠٧‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٨‘ مسند احمد ج ٢ ص رقم الحدیث : ٤٩٥٤‘ دارا الکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ)

حضرت عبداللہ بن عمر وبن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس امت کے لیے (یوم الاضحی کو) عید کا دن قرار دوں ‘ ایک شخص نے پوچھا یارسول اللہ ! یہ بتایئے کہ اگر مجھ کو منیحہ (عاریۃُ لی ہوئی بکری) کے سوا اور کوئی بکری نہ ملے تو کیا میں اسی کو ذبح کر دوں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں ! لیکن تم اپنے بالوں کو اور ناخنوں کو کاٹ لینا اور مونچھوں کو تراش لینا اور زیرناف بال مونڈ لینا تو اللہ کے نزدیک یہ تمہاری پوری قربانی ہوجائے گی۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٧٨٩‘ سنن النسانی رقم الحدیث : ٤٣٧٧)

ایک جانور کی قربانی میں کتنے افراد شریک ہوسکتے ہیں

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تمتع کیا ہم نے گائے کی قربانی کی اور اس میں سات آدمی شریک ہوئے۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣١٨‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٨٠٧‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٤٤٠٥‘ مسند احمدج ٣ ص ٣٠٤)

حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے ‘ پس عید الاضحی کا دن آگیا سو ہم گائے میں سات افراد شریک ہوئے اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہوئے۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٩٠٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٣١‘ صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٢٩١٤‘ مسند احمد ض ١ ص ٢٧٥)

اسحٰق بن راھویہ نے اس ظاہر حدیث پر عمل کیا ہے اور وہ اونٹ میں دس آدمیوں کی شرکت کو جائز کہتے ہیں ‘ اور جمہور فقہا نے کہا ہے کہ اونٹ میں بھی صرف سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں اور ان کا استدلال درج ذیل حدیث سے ہے :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گائے کی قربانی بھی سات افراد کی طرف سے ہوسکتی ہے اور اونٹ کی قربانی بھی سات افراد کی طرف سے ہوسکتی ہے۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٨٠٨)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ (نفلی) قربانی کی اونٹ بھی سات آدمیوں کی طرف سے اور گائے بھی سات آدمیوں کی طرف سے۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٨٠٩)

حجیہ بن عدی (رح) بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے ہوسکتی ہے ‘ میں نے پوچھا اگر وہ بچہ دے دے ؟ فرمایا کہ اس کے بچے کو بھی اس کے ساتھ ذبح کردو ‘ میں نے کہا کہ اگر وہ لنگڑی ہو ؟ فرمایا جب وہ قربانی کی جگہ تک چل کر جاسکے (تو جائز ہے) میں نے پوچھا اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو ؟ فرمایا کوئی حرج نہیں ‘ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ ہم اس کی آنکھوں کو اور اس کے کانوں کو اچھی طرح دیکھ لیں۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥٠٣‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٤٠٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٤٣‘ سنن الداری رقم الحدیث : ١٩٥٧‘ صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٢٩١٤‘ مسند احمد ج ١ ص ٩٥)

جو جانور لنگڑا ہو اور اس کا لنگ ظاہر ہو اس کی قربانی جائز نہیں ہے جیسا کہ عنقریب اس کی تصریح آئے گی۔

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ قربانی کے جانور شنی یا اس سے زیادہ عمر کے ہونے چاہیں۔ (موطا امام مالک رقم الحدیث : ٨٧٠‘ کتاب المج باب العمل فی الھدی حین یساق)

شنی سے مراد دو دانت والا ‘ اور اس کا مصداق ایک سال کا بکرا ہے اور دو سال کی گائے اور پانچ سال کا اونٹ (جامع الاصول ج ٢ ص ٢٥٠ )

حضرت ابوایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم مدینہ میں صرف ایک بکری ذبح کرتے تھے ‘ ایک آدمی اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری ذبح کیا کرتا تھا ‘ پھر اس کے بعد لوگوں نے اس پر فخر کرنا شروع کردیا اور قربانی فخر اور امارت کے اظہار کا ذریعہ ہوگئی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥٠٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٤٧‘ موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٠٦٩‘ باب الثرکۃ عن الضحایا)

امام احمد کا مسلک اس ظاہر حدیث کے مطابق ہے کہ ایک بکری میں بھی کئی افراد شریک ہوسکتے ہیں ‘ غیر مقلدیں کا بھی یہی مسلک ہے اور امام مالک کا بھی ایک قول یہی ہے ‘ اور فقہاء احناف اور جمہور فقہاء کے نزدیک ایک بکری میں متعد افراد شریک نہیں ہوسکتے صرف گائے اور اونٹ میں سات افراد تک شریک ہوسکتے ہیں ( یحفۃ الاحوذی ج ٥ ص ٧٢‘ داراحیاء الترث العربی بیروت ‘ ١٤١٩ ھ) جمہور فقہاء کے نزدیک اس کا محمل یہ ہے کہ گھر کے متعدد افراد جن پر قربانی واجب نہ ہو ان سب کی طرف سے ایک بکری کی قربانی جائز ہے جس طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی تمام امت کی طرف سے ایک بکری کیا قربانی کیا کرتے تھے۔ لیکن جن پر قربانی واجب ہے تو ایک شخص ایک بکری کی قربانی کرے گا یا گائے اور اونٹ میں ایک حصہ ڈالے گا اور جن متعدد افراد پر قربانی واجب ہے وہ ایک بکری میں شریک نہیں ہوسکتے۔

اس حدیث میں دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ لوگ قربانی کو فخر کے اظہار کا ذریعہ بنالیں گے ‘ جیسا کہ ہمارے زمانہ میں لوگ پچاس ساٹھ ہزار کا بہت قدآور اور بہت فربہ بکرا خریدتے ہیں یا کئی کئی لاکھ کا بہت اونچا اور بہت جسیم بیل خریدتے ہیں اس کو قالین پر بٹھاتے ہیں اور لوگوں کو بلا بلا کر اس کی نمودو نمائش کرتے ہیں اور صاحب حیثیت لوگ ایسے کئی کئی جانور خریدتے ہیں اور انکی وڈیو بنواتے ہیں لیکن یہی لوگ جب صدقہ فطر ادا کرتے ہیں تو دو کلو گندم فی نفر کے حساب سے دیتے ہیں چار کلو کھجوریں یا کشمش کے حساب سے نہیں دیتے کیونکہ خاموشی سے تنگ دست اور غریب کے ہاتھ پر پیسے رکھ دینے سے ان کے امیرانہ ٹھاٹھ باٹھ اور شان و شوکت کا اظہار نہیں ہوتا۔

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے حج میں حضرت عائشہ کی طرف سے ایک گائے ذبح کی۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣١٩‘ مسند احمد ج ٣ ص ٣٧٨)

حنش بن المعتمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (رض) کو دیکھا انہوں نے دومینڈھے ذبح کیے اور کہا یہ ایک مینڈھا میری طرف سے ہے اور دوسرا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ہے اور کہا مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا حکم دیا تھا یا کہا اس کی وصیت کی تھی۔

(سنن ابوداـئودرقم الحدیث : ٢٧٩٠‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٤٩٥‘ مسند احمد ج ١ ص ١٠٧‘ رقم الحدیث : ٨٤٣‘ دارالکتب العلمیہ بیروت)

قربانی کے جانور کی کم از کم کتنی عمر ضروری ہے

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم صرف ایک سال کا بکرا ذبح کرو اگر وہ تم پر دشوار ہو تو چھ ماہ کا دنبہ (مینڈھا) ذبح کردو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٦٣‘ سنن ابوداـئودرقم الحدیث : ٧٩٧ ٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٤١‘ صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٢٩١٨‘ مسند احمد ج ٣ ص ٣١٢‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٤٣٩٠)

حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب میں بکریاں تقسیم کیں میرے حصہ میں صرف چھ ماہ کی بکری آئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کی صرف تم قربانی کرسکتے ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٥٠٠۔ ٢٣٠٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٦٥‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥٠٠‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٣٨‘ مسند احمد ج ٤ ص ١٤٩ )

عاصم بن کلیب اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت مجاشع بن سلیم کے ساتھ تھے کہ ایک منادی نے ندا کی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے ہیں چھ ماہ کا دنبہ شنی کے بدلہ میں کافی ہوتا ہے۔ (شنی کے معنی ہے دو دانت والا ‘ یہ ایک سال کا بکرا اور دو سال کی گائے اور پانچ سال کا اونٹ ہے) (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٧٩٩‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٤٠ )

وہ عیوب جن کی وجہ سے کسی جانور کی قربانی جائز نہیں ہے

عبید بن فیروز بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت البراء (رض) سے پوچھا کون سے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے ‘ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا : چار جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے ایسا کا نا جس کا کا نا پن ظاہر ہو ‘ ایسا بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو ‘ ایسا لنگڑا جس کا لنگ ظاہر ہو ‘ جس کی ہڈی میں مغز نہ ہو ‘ میں نے کہا جس کی عمر کم ہو وہ مجھے ناپسند ہے انہوں نے کہا جو تم کو ناپسند ہو اس کی قربانی نہ کرو اس کو کسی اور کے لیے حرام نہ کرو۔ سنن ترمذی کی ایک روایت میں ہے نہ اتنی کمزور اور لاغر ہو جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو۔ ( سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٨٠٢‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٤٩٧‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٣٨١‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٤ ا ٣‘ سنن داری رقم الحدیث : ١٩٥٦‘ مسند احمد ج ٤ ص ٢٨٤)

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان کو اچھی طرح دیکھ لیا کریں اور اس کی قربانی نہ کریں جس کے کان کا اگلا حصہ کٹا ہوا ہو اور نہ اس کی قربانی کریں جس کے کان کا پچھلا حصہ کٹا ہوا ہو ‘ اور نہ اس کی قربانی کریں جس کا کان چرا ہوا ہو ‘ اور نہ اس کی قربانی کریں جس کے کان میں سوراخ ہو اور نہ اس کی قربانی کریں جس کے سینگ کا نصف حصہ یا اس سے زائد ٹوٹا ہوا ہو۔

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٨٠٦۔ ٢٨٠٥۔ ٢٨٠٤‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٤٩٨‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٣٨٧۔ ٤٣٨٦۔ ٢٣٨٥)

یزید ذومضر بیان کرتے ہیں کہ میں عتبہ بن عبدالسلمی کے پاس گیا اور میں نے کہا اے ابوالولید ! میں قربانی کے جانور ڈھونڈنے کے لیے گیا مجھے صرف ایک جانور پسند آیا جس کے دانت گر چکے تھے ‘ سو میں نے اس کو پسند کیا تو آپ کیا کہتے ہیں انہوں نے کہا اس کو لے آئو ‘ میں نے کہا سبحان اللہ ! وہ قربانی آپ کے لیے جائز ہوگی جو میرے لیے جائز نہیں ہے ! انہوں نے کہا ہاں ! کیونکہ تم شک کر رہے ہو اور میں شک نہیں کر رہا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف اس کی قربانی سے منع کیا ہے جس کا کان جڑ سے کٹا ہو اور صرف اس کا سوراخ ہو اور اس سے منع فرمایا ہے جس کا سینگ جڑ سے ٹوٹا ہوا ہو ‘ اور اس سے منع فرمایا ہے جس کی آنکھ چھوٹی ہوئی ہو اور اس سے منع فرمایا ہے جو اس قدر دبلی ہوبکریوں کے ساتھ چل کر نہ جاسکے اور جس کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہو۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٨٠٣‘ مسند احمد ج ٤ ص ١٨٥)

نماز عید پڑھنے سے پہلے قربانی کرنے کی ممانعت

حضرت البراء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بردہ بن نیار (رض) نے عید الاضحی کی نماز سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کردیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ اس کے بدلہ میں دوسری قربانی کرو ‘ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ میرے پاس اب چھ ماہ کا بکرا ہے ‘ جو ایک سال کے بکرے سے زیادہ فربا ہے ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اس کی قربانی کردو ‘ لیکن تمہارے بعد یہ قربانی کسی اور کے لیے کافی نہیں ہوگی ‘ اور ایک روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس دن کا جو کام ہم سب سے پہلے کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اس کے بعد واپس آ کر قربانی کرتے ہیں جس نے اس طرح کیا تو اس نے ہمارے طریقہ کو پا لیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا تو اس نے اپنے گھروالوں کے لیے گوشت مہیا کیا ہے اور یہ قربانی بالکل نہیں ہے ‘ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ہماری ( فرض کردہ) نماز پڑھی اور ہماری (واجب کردہ) قربانی کی وہ نماز پڑھنے سے پہلے قربانی نہ کرے ‘ تو میرے ماموں نے کہا میرے بیٹے نے تو قربانی کردی ہے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ وہ چیز ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی مہیا کی ہے ‘ انہوں نے کہا میرے پاس ایک بکری ہے جو دو بکریوں سے بہتر ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کی قربانی کردو وہ تمہاری بہترین قربانی ہے۔ یہ امام بخاری اور امام مسلم کی روایت ہیں اور امام ترمذی کی روایت ہے : انہوں نے کہا عید الاضحی کے دن ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیا اور فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک قربانی نہ کرے حتیٰ کہ نماز عید پڑھ لے ‘ میرے ماموں نے کھڑے ہو کر کہا : یا رسول اللہ ! اس دن میں یہ گوشت پسندیدہ ہے اور میں نے اپنے گھر والوں کو کھلانے کے لیے ( نماز عید سے پہلے) جلدی سے قربانی کرلی ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دوسری قربانی کرو ‘ میرے ماموں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک دودھ پیتا بکری کا بچہ ہے اس میں دو بکریوں سے بہتر گوشت ہے کیا میں اس کو ذبح کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں وہ تمہاری سب سے بہترین قربانی ہے ! اور تمہارے بعد اور کسی سے کفایت نہیں کرے گی۔ اور امام ابوداؤد اور امام نسائی کی روایت اس طرح ہے : انہوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عیدالاضحی کے دن نماز عید کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہماری طرح قربانی کی اس نے ہماری قربانی کو پا لیا اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی وہ اس کی بکری کا گوشت ہے ‘ پس حضرت ابو بردہ بن نیار کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے نماز عید کی طرف جانے سے پہلے قربانی کرلی اور پڑسیوں کو کھلایا ‘ تب رسول اللہ نے فرمایا یہ بکری کا گوشت ہے ‘ انہوں نے کہا میرے پاس چھ ماہ کا ایک بکری کا بچہ ہے اور اس میں دو بکریوں سے بہتر گوشت ہے کیا یہ مجھ سے کفایت کرے گی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں ‘ اور تمہارے بعد اور کسی سے کفایت نہیں کرے گی۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦٧٣۔ ٥٥٦٣۔ ٥٥٦٠۔ ٥٥٥٧۔ ٥٥٥٦۔ ٩٨٣۔ ٩٧٦۔ ٩٦٨۔ ٩٦٥۔ ٩٥٥۔ ٩٥٤۔ ٩٥١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٦١‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٨٠٠‘ سنن الترمزی رقم الحدیث : ١٥٠٨‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ١٥٨٨۔ ١٥٦٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٥١‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٤٤٨٥‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٠٢)

حضرت جندب بن عبد اللہ البجلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں عید الا ضحیٰ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا ‘ نماز عید سے فارغ ہونے کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ کچھ لوگوں نے نماز عید سے پہلے قربانیاں کردی ہیں ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کی ہے وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے۔ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٩٨٥‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٦٠‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٣٩٧‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٥٢‘ مسند الحمیدی رقم الحدیث : ٧٧٥)

حضرت جابر بن عبد اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ عید الا ضحیٰ کے دن ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں نماز عید پڑھائی ‘ کچھ لوگوں نے پہلے نحر کرلیا تھا (اونٹ کو کھڑا کرکے اور اس کا ایک پیر باندھ کر اس کے سینہ کے بالائی حصہ پر نیزہ مار کر قربانی کی جاتی ہے اس کو نحر کہتے ہیں) ان کا یہ گمان تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نحر کرچکے ہیں ‘ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا کہ جس شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے نحر کیا ہے وہ دوبارہ نحر کرے ‘ اور جب تک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نحر نہ کریں وہ نحر نہ کریں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٦٢‘ مسند احمد ج ٣ ص ٣٤٨‘ ج ٣ ص ٢٩٤‘ ج ٣ ص ٣٢٤ )

قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کی کیفیت

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سینگوں والے مینڈھے کو لانے کا حکم دیا جس کے پیر سیاہ ہوں ‘ آنکھیں سیاہ ہوں اور باقی جسمانی اعضاء سیاہ ہوں ‘ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قربانی کرنے کے لیے لایا گیا ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ چھری لاؤ‘ پھر فرمایا اس کو پتھر پر تیز کرو ‘ پھر چھری لے کر مینڈھے کو پکڑ کر گرایا ‘ پھر اس کو ذبح کرنے لگے اور پڑھا بسم اللہ ! اے اللہ اس کو ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آل (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور امتّ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے قبول فرما ‘ پھر اس کو قربان کردیا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٦٨‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٧٩٢)

حضرت جابر بن عبد اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عید الاضحی کے دن دوسرمئی رنگ کے خصی مینڈھے ذبح کیے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو قبلہ کی طرف متوجہ کیا تو یہ دعا پڑھی :

انی وجھت و جھی للزی فطر السموات والارض علی ملۃ ابراہیم حنیفا وماانا من المشرکین ان صلوتی و نس کی ومحیای و مماتی للہ رب العلمین ‘ لا شریک لہ وبذالک امرت و انا من المسلمین اللھم منک ولک الھم من محمد وامتہ بسم اللہ واللہ اکبر۔

میں نے اپنا منہ اس ذات کی طرف کرلیا جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے یہ حضرت ابراہیم کی ملت پر ہے جوادیانِ باطلہ سے اعراض کرنے والے تھے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں ‘ بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے اس کا کوئی شریک نہیں ‘ اور مجھے اسی ( کی عبادت) کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ‘ اے اللہ یہ قربانی تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے اے اللہ ( اس کو قبول فرما) سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اور ان کی امت کی طرف سے اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے۔

پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ذبح کردیا۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٧٩٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ٣١٢١‘ سنن داری رقم الحدیثـ١٩٥٢‘ صحیح ابن رقم الحدیث : ٢٨٩٩‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٧٥)

زیاد بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابن عمر (رض) ایک شخص کے پاس گئے وہ اس وقت ایک اونٹ کو بٹھا کر اس کو نحر کر رہا تھا ‘ حضرت ابن عمر نے فرمایا اس کو کھڑا کرو اس حال میں کہ اس کا ایک پیر بندھا ہوا ہو ‘ یہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٧١٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٢٠‘ سنن ابوداـئودرقم الحدیث : ٧٦٨ ا ‘ صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٢٨٩٣‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٦٢٣٦‘ دارالکتب العلمیہ بیروت)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب اونٹی کو نحر کرتے تھے اس کا الٹاپیر باندھا ہوا ہوتا تھا اور وہ اپنے باقی پیروں پر کھڑی ہوتی تھی۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ١٧٦٧ )

حضرت عبداللہ بن قرط (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ جل کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا قربانی کا دن ہے پھر اس کے بعد دوسرا دن ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پانچ یا چھ اونٹنیاں لائی گئیں وہ سب آپ کے قریب ہو رہیں تھیں کہ آپ کس سے قربانی کی ابتداء کرتے ہیں ‘ جب وہ سب پہلو کے بل گرگئیں تو آپ نے آہستہ سے کوئی بات کہی جس کو میں نہیں سمجھ سکا ‘ میں نے پوچھا آپ نے کیا فرمایا ہے ؟ فرمایا جو چاہے ان کا گوشت کاٹ کرلے جائے۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ١٧٦٥‘ صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٢٨٦٦‘ مسند احمدج ٤ ص ٣٥٠ )

ہم لوگ رسیوں سے قربانی کے جانور کو باندھ کر زبردستی اپنے قریب کرتے ہیں پھر اس کو ذبح کرتے ہیں ‘ اور اونٹنیاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچانتی تھیں اس لیے از خود آگے بڑھ بڑھ کر اپنی گردن آپ کے سامنے پیش کر رہی تھیں کہ کون سب سے پہلے آپ کے ہاتھوں ذبح ہونے کا شرف حاصل کرتی ہے۔

ہمہ آہوانِ صحرا سرخود نہا دہ برکف بہ امید آنکہ روزے بہ شکار خواہی آمد

جنگل کی تمام ہر نیاں اپنے سروں کو اپنی ہتھیلیوں پر لیے پھر رہی ہیں اس امید پر کسی روز وہ محبوب شکار کرنے کے لیے آئے گا

( اس کو ہمارا سر کاٹنے کی زحمت نہ ہو ہم خود ہی اپنے سروں کو اپنے ہتھیلیوں پر لیے پھر رہی ہیں)

قربانی کی کوئی چیز قصائی کو اجرت میں نہ دی جائے

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھیجا میں نے قربانی کی اونٹنیوں کی نگہبانی کی اور ان کے گوشت کو تقسیم کیا ‘ پھر مجھے حکم دیا کہ ان کی جھول ( قربانی کے جانور کے اوپر ڈالا ہوا کپڑا) اور ان کی کھال کو بھی تقسیم کردوں ‘ اور ایک روایت میں ہے کہ مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا کہ میں قربانی کی اونٹنیوں کی حفاظت کروں اور اس میں سے کوئی چیز قصائی کی اجرت میں نہ دوں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ہمیں اس کے گوشت ‘ کھال اور جھول کو صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اس میں سے قصاب کو اجرت دینے سے منع فرمایا اور ہم اپنے پاس سے اس کو اجرت دیتے تھے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٧١٨‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣١٧‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ١٧٦٩‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٠٩٩‘ مسند الحمیدی رقم الحدیث : ٤١‘ مسند احمد ج ا ص ٧٩‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٥٩٣‘ سنن داری رقم الحدیث : ١٣٧٤)

قربانی کے فضائل اور احکام سے متعلق احادیث بیان کرنے کے بعد اب قربانی کے حکم میں مذاہب فقہاء بیان کر رہے ہیں اور اس کے بعد انشاء اللہ قربانی کے ایام کی تعداد کی تحقیق کریں گے۔

قربانی کے حکم میں فقہاء شافعیہ کا مذہب

علامہ ابواسحاق ابراہیم بن علی شیرازی شافعی متوفی ٤٥٥ ھ لکھتے ہیں :

قربانی کرنا سنت ہے، کیونکہ انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے ‘ حضرت انس نے کہا میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا ہوں۔ صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٧١٢۔ ١٧١٤ صحیح مسلم میں اس طرح ہے حضرت انس (رض) نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو سینگوں والے سرمئی مینڈھوں کی قربانی کی اور ان کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور بسم اللہ پڑھی اور اللہ اکبر کہا اور ان کے سینوں پر اپنا پیررکھا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٦٦‘ السنن الکبریٰ للبیہقی ج ٦ ص ٢٦٥) اور قربانی کرنا واجب نہیں ہے کیونکہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمررضی اللہ عنہا اس لیے قربانی نہیں کرتے تھے کہ قربانی کو واجب نہ سمجھ لیا جائے۔ (السنن الکبریٰ ج ٩ ص ٢٦٥۔ ٢٦٤‘ معرفۃ السنن والا ثار ج ٧ ص ١٩٧)(المہذب ج ا ص ٢٣٧‘ دارالفکر بیروت)

اس اثر کا جواب یہ ہے کہ امام بیہقی نے اس کو سند منقطع سے روایت کیا ہے اس لیے یہ حجت نہیں ہے ثانیا اس کی توجیہ یہ ہے کہ جن سالوں میں حضرت ابوبکر اور عمر نے قربانی نہیں کی ان سالوں میں ان پر قربانی واجب نہیں تھی کیونکہ ان سالوں میں وہ صاحب نصاب نہیں تھے۔

علامہ یحییٰ بن شرف نو دی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں :

امام شافعی اور ان کے اصحاب کے نزدیک قربانی کرنا سنت مؤکدہ ہے اور یہ شعار طاہر ہے اور جو شخص قربانی کرنے پر قادر ہو اس کو قربانی کی حفاظت کرنی چاہیے۔ (شرح المہذب ج ٩ ص ٤٠٤‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ٤٢٣ اھ)

علامہ شرازی نے قربانی کے سنت ہونے پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فعل سے جو استدلال کیا ہے اس سے و جوب کی نفی نہیں ہوتی ‘ کیونکہ فرض اور واجب کو بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ادا کیا ہے مثلاََحج کیا ہے ‘ فرض نمازیں پڑھی ہیں تو اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ حج اور پانچوں وقت کی نمازیں سنت ہیں ‘ اسی طرح آپ نے جو قربانی کی ہے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ صرف سنت ہو اور واجب نہ ہو ‘ رہا یہ کہ امام بیہقی نے روایت کیا ہے حضرت ابوبکر اور عمر قربانی نہیں کرتے تھے تو یہ روایت بلاغات سے ہے اور منقطع ہے اور منقطع اثر حجت نہیں ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ ان سالوں میں ان پر قربانی واجب نہیں تھی جیسا کہ ہم ابھی بتا چکے ہیں۔

قربانی کے حکم میں فقہاء حنبلیہ کا مذہب

علامہ موفق الدین عبداللہ بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں :

قربانی کرنا سنت مؤکدہ ہے ( پہلی دلیل وہی ہے جس کا علامہ شیرازی شافعی نے ذکر کیا ہے اور دوسری دلیل یہ ہے کہ) حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب ذوالحجہ کے دس دن داخل ہوں اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ کرے تو وہ قربانی کرنے تک نہ اپنے بال کاٹے نہ ناخن کاٹے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٧٧‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٤٩‘ سنن کبریٰ ج ٩ ص ٢٦٦‘ مسند احمد ج ٦ ص ٢٨٩) اس حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کرنے کو قربانی کرنے والے کے ارادہ کی طرف مفرض کیا ہے اگر قربانی واجب ہوتی تو آپ اس طرح نہ فرماتے۔ (الکافی ج ا ص ٥٤٣۔ ٥٤٢‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)

اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منشاء یہ ہے کہ جس شخص نے اس قربانی کو ادا کرنے کا ارادہ کیا ہے جو واجب ہے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے ‘ جس طرح کہا جاتا ہے کہ جو شخص زکوٰۃ دینے کا ارادہ کرے تو ان فقراء سے ابتداء کرے جو اس کے رشتہ دار ہوں یا جو شخص نماز فجر پڑھنے کا ارادہ کرے تو رات کو جلدی سو جائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ زکوٰۃ اور نماز فجر فرض نہ ہوں۔

قربانی کے حکم میں فقہاء مالکیہ کا مذہب

علامہ ابوالبرکات احمد الدردبر مالکی متوفی ١١٩٧ ھ لکھتے ہیں :

آزاد شخص خواہ مرد ہو یا عورت ‘ بڑا ہو یا چھوٹا ‘ اپنے وطن میں ہو یا سفر میں ‘ اس پر قربانی کرنا بعینہ سنت ہے ‘ بہ شرطی کہ وہ حج کرنے والا نہ ہو۔ (الشرح الکبیر ج ٢ ص ١١٨‘ دارالفکر بیروت)

اور علامہ محمد عرفۃ اندسوقی المالکی المتوفی ١٢١٩ ھ لکھتے ہیں :

مشہور قول یہی ہے کہ قربانی کرنا سنت ہے اور ایک قول یہ ہے کہ قربانی کرنا واجب ہے۔

( حاشیۃ الد سوقی علی شرح الکبیرج ٢ ص ١١٨‘ دارالفکر بیروت)

علامہ ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی مالکی متوفی ٥٤٣ ھ لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ کرے تو وہ قربانی کرنے تک نہ اپنے بال کاٹے نہ ناخن ‘ اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ قربانی کرنا واجب نہیں ہے ‘ کیونکہ واجبات ارادہ پر موقوف نہیں ہوتے۔

(عارضۃ الاحوذی ج ٦ ص ٢٤١‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٨ ھ)

ائمہ ثلاثہ جو قربانی کے وجوب کی نفی کرتے ہیں ان سب کی دلیل یہی حدیث ہے ‘ اور ہم اس کا جواب ذکر کرچکے ہیں ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قربانی کرنا واجب ہے اب ہم فقہاء احناف کا مذہب اور ان دلائل پیش کریں گے۔

قربانی کے حکم میں فقہاء احناف کا مذہب

علامہ علاء الدین ابوبکر مسعود الکاسانی الحنفی المتوفی ٥٨٧ ھ لکھتے ہیں :

قربانی غنی (صاحب نصاب) پر واجب ہے نہ کہ فقیر پر بغیر نذر کے اور بغیر قربانی کا جانور خریدنے کے ‘ بلکہ یہ زندگی کی نعمت کا شکر ادا کرنے کے لیے واجب ہے ‘ اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی میراث کو زندہ کرنے کے لیے جب ان کو اللہ عزوجل نے مینڈھا ذبح کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ ان کے فرزند ارجمند کا فدیہ ہوجائے اور مسلمانوں کے لیے پل صراط کی سواری ہوجائے ‘ اور ان کے گناہوں کی بخشش اور ان کی خطاؤں کا کفارہ ہوجائے ‘ اس معنی پر احادیث کثیرہ ناطق ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ ‘ امام محمد ‘ امام زفر ‘ امام حسن بن زیاد کا قول ہے اور امام ابو یوسف سے بھی ایک یہی روایت ہے۔

امام ابو یوسف کی دوسری روایت یہ ہے کہ قربانی واجب نہیں ہے ‘ اور یہی امام شافعی (رح) کا مذہب ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جو مجھ پر فرض کی گئی ہیں اور تم پر فرض نہیں کی گئیں ‘ وتر ‘ چاشت کی نماز اور قربانی۔ (مسند احمد ج ا ص ٢٣١‘ سنن دار قطنی ج ٢ ص ٢١‘ المستدرک ج ا ص ٣٠٠‘ السنن الکبریٰ ج ٢ ص ٤٦٨)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ امام احمد ‘ امام بیہقی ‘ امام ابن الصلاح ‘ امام ابن الجوزی اور علامہ نودی وغیر ھم نے کہا اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ (تلخیص الحبیر ج ٢ ص ٥٠٣)

اس حدیث کا جواب یہ ہے کہ اول تو اس حدیث کی سند ضعیف ہے ثانیاََ اس میں قربانی کی فرضیت کی نفی ہے وجوب کی نفی نہیں ہے۔

ہماری دلیل یہ ہے کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :

فَصَلِِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ۔ (الکوثر : ٢) آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑہیے اور قربانی کیجئے۔

اس دلیل پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ وَانْحَرْ کا معنی جس طرح ہے : قربانی کیجئے اسی طرح اس کا معنی یہ بھی ہے کہ نماز میں اپنے ہاتھ سینہ پر رکھیے یا نماز میں اپنا سینہ قبلہ کی طرف رکھیے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ موخرالذ کر دونوں معنی تو فَصَلِّ سے حاصل ہوگئے اب اگر وَانْحَرْ کا بھی یہی معنی ہو تو تکرار ہوگی اور جب وَانْحَرْ کا معنی کیا جائے گا قربانی کیجئے تو اس سے فائدہ جدیدہ حاصل ہوگا سو وَانْحَرْ کو قربانی پر محمول کرنا واجب ہے۔

اور قربانی کرنے کا وجوب حسب ذیل احادیث سے ثابت ہے ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :

ضحواوطیبو ابھا انفسکم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔

(سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٤٩٣‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٢٢٣٤۔ ٨١٦٧ قدیم ‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٢٦‘ المستد رک ج ٤ ص ٢٢١‘ شرح السنہ رقم الحدیث : ١١٢٤ )

اس حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کرنے کا حکم دیا ہے اور امراصل میں وجوب کے لیے آتا ہے ‘ خصوصاََ جب کہ قرائن صارنہ سے خالی ہو۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

علی اھل کل بیت فی کل عام اضحیۃ و عتیرۃ ہر گھر والے پر ہر سال قربانی اور عتیرہ ہے۔

(سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٧٨٨‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥١٨‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٢٢٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٢٥ )

اور علیٰ وجوب کے لیے آتا ہے یعنی ہر گھر والے پر ہر سال قربانی کرنا واجب ہے اور عتیرہ ابتدائے اسلام میں منسوخ ہوگیا تھا ‘ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :

من لم یضح فلا یقربن مصلانا جو قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔

( سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٢٣‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٢١‘ المستدرک ج ٢ ص ٣٨٩‘ ج ٤ ص ٢٣١‘ سنن کبریٰ ج ٩ ص ٢٦٠ )

اس حدیث میں قربانی نہ کرنے پر وعید ہے اور وعید صرف واجب کے ترک پر ہوتی ہے ‘ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :

من ذبح قبل الصلاۃ فلیعد اضحیتہ جس نے عید کی نماز سے پہلے قربانی کی وہ اپنے قربانی دہرائے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٥٥٦‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٥٥٢‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥٠٨‘ مسند احمد ج ٤ ص ٢٩٧)

اس حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی دوبارہ کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ واجب کی علامت ہے۔

(بدائع الصنائع ج ٦ ص ٢٨٠۔ ٢٧٥‘ ملخصا دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

قربانی کے حکم میں مذاہب فقہاء بیان کرنے کے بعد اب ہم قربانی کے دنوں کے تعیین اور تحدید بیان کررہے ہیں ‘ ائمہ ثلاثہ (امام ابوحنیفہ ‘ امام احمد اور امام مالک) کے نزدیک قربانی صرف تین دن (١٢‘ ١١‘ ١٠ تاریخوں) میں کرنا جائز ہے اور امام شافعی اور غیر مقلدین کے

نزدیک چوتھے دن قربانی کرنا بھی جائز ہے ‘ اب ہم اس مسئلہ کی تفصیل اور تحقیق کر رہے ہیں :

قربانی کے دنوں کی تعین اور تجدید میں فقہاء شافعیہ کا مذہب

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں :

قربانی کرنے کے ایام قربانی کا دن ( دس ذوالحجہ) اور تین ایام تشریق ہیں ‘ یہ ہمارا مذہب ہے اور حضرت علی بن ابی طالب (رض) ‘ حضرت جبیر بن مطعم ‘ حضرت ابن عباس (رض) ‘ عطائ ‘ حسن بصری ‘ عمر بن عبدالعزیز مکحول اور داؤد ظاہری کا بھی یہی مسلک ہے، اور امام مالک ‘ امام ابوحنیفہ اور امام احمد کا مذہب یہ ہے کہ قربانی کرنے کا جواز قربانی کے دن اور اس کے بعد دو دن تک ہے ‘ حضرت عمر بن الخطاب ‘ دوسری روایت کے مطابق حضرت علی ‘ حضرت ابن عمر اور حضرت انس (رض) کا بھی یہی مذہب ہے ‘ امام مالک اور ان کے موافقین کی یہ دلیل ہے کہ دنوں کی تعیین اور تحدیدنص سے ثابت ہوتی ہے یا انفاق سے ‘ اور انفاق صرف تین دنوں کی تحدید پر ہے ‘ ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت جبیربن مطعم سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

کل ایام التشریق ایام ذبح تمام ایام تشریق ایام ذبح ہیں۔

(مسند احمد ج ٤ ص ٨٢‘ رقم الحدیث : ١٦٧٥٦‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ١٠٠٨‘ سند البزار رقم الحدیث : ١١٢٦)

حضرت جبیر کی حدیث کو امام بیہقی نے معودس اسانید سے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے ‘ سلیمان بن موسیٰ نے اس حدیث کو حضرت جبیر بن مطعم سے روایت کیا ہے اور اس نے ان کے زمانہ نہیں پایا ‘ امام بیہقی نے اس حدیث کو اسانید متصلہ سے بھی بیان کیا ہے لیکن وہ تمام اسانید ضعیف ہیں (سنن کبریٰ للبیہقی ج ٩ ص ٢٩٦) کیونکہ اسانید کا مدار معاویہ بن یحییٰ الصدفی پر ہے اور وہ ضعیف ہے۔

محمد بن سیرین نے کہا قربانی صرف ایک دن یعنی یوم نحر (دس ذوالحجہ) کو کرنا جائز ہے۔

(شرح المہذب ج ٩ ص ٤١٩۔ ٤١٤‘ ملخصا دارالکتب الطمیہ بیروت : ١٤٢٣ ھ)

قربانی کے دنوں کی تعیین اور تحدید میں فقہاء مالکینہ کا مذہب

علامہ قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی اندلسی متوفی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں :

ہمارے اصحاب کا مذہب یہ ہے کہ صرف تین دن تک قربانی کرنا جائز ہے ‘ دس ذوالحجہ اور دو دن بعد ‘ کیونکہ قرآن مجید میں ہے

وَیَذْکُرُوا اسْمََ اللہ فِیّٓ اَیَّام

مَّعْلُوْمٰتٍٍِِِ عَلیٰ مَا رَزَقَھُمْ

مِّنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعاَمِ ج فَکُلُوْ ا مِنْھَا وَاَطْعِمُوا الْبَآ ئِسَ الْفَقِیْرَ ۔ (الحج : ٤٨ )

اور ان معروف اور معین دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کے نام کا ذکر کریں جو اللہ نے ان کو عطا کیے ہیں پھر تم خود بھی ان جانوروں کے گوشت سے کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔

اس آیت میں ان لوگوں (محمد بن سیرین اور ان کے متبعین) کے قول کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ قربانی صرف دس ذالحجہ کے دن جائز ہے کیونکہ اس آیت میں ایام کا لفظ ہے اور یہ جمع کا صیغہ ہے اور اس کو یوم واحد سے تعبیر نہیں کیا جاتا اور اکثر اہل اصول کے نزدیک جمع کا اطلاق کم از کم تین افراد پر کیا جاتا ہے پس تین دن تک قربانی کرنا یقینی ہے ‘ لہٰذا اس آیت کو یقینی مقدار پر محمل کیا جائے گا اور تین دن سے زیادہ ایام مراد لینے کے لیے مستقل دلیل کی ضرورت ہے اور وہ ہے نہیں سو قربانی کرنے کا جو ازصرف تین دن میں منحصرر ہے گا۔ ( اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ٦ ص ٤٠٢‘ دارالوفاء بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

قربانی کے دنوں کی تعیین اور تحدید میں فقہاء حنبیلہ کا مذہب

علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں :

صرف تین دن قربانی کرنا جائز ہے ‘ دس ذوالحجہ اور اس کے بعد دو دن ‘ حضرت عمر ‘ حضرت علی ‘ حضرت ابن عمر ‘ حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ اور حضرت انس (رض) کا یہی نظریہ ہے ‘ امام احمد حنبل (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں :

بکثرت صحابہ سے منقول ہے کہ قربانی تین دن ہے ‘ امام مالک ‘ امام ابوحنیفہ اور ثوری کا بھی یہی مسلک ہیـ‘ حضرت علی (رض) سے ایک روایت آخر ایام تشریق کی بھی ہے اور یہی امام شافعی کا مذہب ہے کیونکہ جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایام منی کلھامنحر ” تمام ایام منٰی قربانی کے دن ہیں “ نیز ان تمام دنوں میں تکبیریں پڑھی جاتی ہیں اور روزہ نہیں رکھا جاتا۔ پس یہ تمام ایام قربانی کا محل ہیں ‘ ابن سیرین نے کہا قربانی کرنا صرف یوم نحر میں جائز ہے۔

ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے سے منع فرمایا ہے ‘ اور جس دن گوشت کو ذخیرہ کرنا جائز نہیں اس دن قربانی کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔ نیز چوتھے دن رمی کرنا بھی واجب نہیں ہے ‘ لہٰذا اس دن قربانی کرنا بھی جائز نہیں ہے اور انہوں نے جو حدیث روایت کی ہے ” منی کلھامنحر “ اس میں ایام کا ذکر نہیں ‘ اور تکبیر قربانی سے عام ہے اسی طرح روزہ نہ رکھنا بھی قربانی سے عام ہے کیونکہ ایام تشریق کا پہلا دن جو یوم عرفہ ہے وہ بھی تکبیرات اور روزہ رکھنے کا دن ہے حالانکہ اس دن قربانی جائز نہیں ہے۔ ( المغنی ج ٩ ص ٣٥٩‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

قربانی کے دنوں کی تعین اور تحدید میں فقہاء احناف کا مذہب

شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی حنفی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں :

قربانی کا ادا کرنا صرف ایام نحر میں جائز ہے اور ہمارے نزدیک ایام نحر صرف تین دن ہیں کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایام نحر تین دن ہیں ان میں پہلا دن افضل ہے ‘ اور جب تیسرے دن سورج غروب ہوجائے تو پھر اس کے بعد قربانی جائز نہیں ہے ‘ اور امام شافعی (رض) نے کہا کہ چوتھے دن بھی قربانی جائز ہے ‘ اور یہ ضعیف ہے ‘ کیونکہ یہ قربانی ایام نحر کے ساتھ خاص ہے نہ کہ ایام تشریق کے ساتھ ‘ کیا تم نہیں دیکھتے کہ پہلے دن یعنی دس ذوالحجہ کو قربانی کرنا افضل ہے اور وہ یوم نحر ہے۔

(المبسو ط ج ١٢ ص ١٢‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

قربانی کے جواز کے لیے صرف تین دنوں کی تخصیص اور تحدید کے متعلق احادیث

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا قربانی صرف قربانی کے دن اور اس کے دو دن بعد تک ہے۔ (موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٠٧٧‘ دارالمعرفہ بیروت ١٤٢٠ ھ ‘ جامع الاصول رقم الحدیث : ١٦٦٩ )

تین دن تک قربانی کی تخصیص پر حسب ذیل احادیث میں ثبوت ہے۔

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ پہلے ہم اپنی قربانیوں کا گوشت تین دن کے بعد نہیں کھاتے تھے ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس کے بعد گوشت کھانے اور لے جانے کی اجازت دے دی۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٩٩٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٧٢‘ مسند احمد ج ٣ ص ٣٨٨)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین دن تک قربانی کا گوشت کھاؤ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦١٨٨‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٧٠‘ مسند احمد ج ٢ ص ٩ )

حضرت سلمہ بن الاکوع (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے جو شخص بھی قربانی کرے تو تین دن کے بعد اس کے پاس گوشت میں سے کوئی چیز بچی نہ رہے ‘ جب دوسرا سال آیا تو ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا ہم اس سال بھی پچھلے سال کی طرح کریں ؟ آپ نے فرمایا تم خودکھاؤ اور کھلاؤ اور ذخیرہ کرو ‘ اس سال لوگ تنگی میں تھے ‘ پس میں نے ارادہ کیا کہ تم تنگی میں ان کی مدد کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٥٦٩‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٧٤)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ہم قربانی کے گوشت میں نمک لگا کر رکھتے تھے ‘ اور اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے مدینہ میں پیش کرتے تھے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اس کو صرف تین دن کھایا کرو ‘ اور آپ نے سختی سے منع نہیں فرمایا ‘ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارادہ یہ تھا کہ اس گوشت کو تنگ دستوں کو کھلایا جائے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٥٧٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٧١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥١١‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٥٩‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٦٤٧٥‘ عالم الکتب بیروت)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قربانی میں سے تین دن تک کھاؤ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٥٧٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٧٠)

اس طرح کی اور بہت احادیث ہیں ‘ اور ان تمام احادیث میں تین دن کی تخصیص میں اس پر دلیل ہے کہ قربانی کرنے کا جواز تین دنوں میں منحصر ہے ‘ نیز ہم کہتے ہیں کہ چوتھے دن قربانی کرنا بہر حال مشکوک ضرور ہے : غیرمقلدین حضرات کو چاہیے کہ اس دن قربانی کریں جس دن یقینی طور پر قربانی ہوجائے حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ غیر مقلدین حضرات دانستہ چوتھے دن قربانی کرتے ہیں۔

قربانی کے منکرین کے شبہات کا ازالہ

قربانی کے منکرین کہتے ہیں کہ قربانی صرف حجاج کے لیے مشروع ہے ‘ اور ہر سال اور شہر میں قربانی کرنا ‘ سنت ابراہیمی ہے نہ سنت محمدی ہے۔

اس کے جواب اولاََ گزارش ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قربانی ادا کرنے کا امر عموم اور اطلاق سے فرمایا ہے۔ حج کے ساتھ مقید نہیں کیا۔ چناچہ ارشاد ہوا فصل لربک وانحر ( اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر) (الکوثر : ٢) اور احادیث رسول میں اس عموم کی تائید موجود ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کے بعد صرف ایک بار حج کیا اور مدینہ میں قیام کی پوری مدت میں ہر سال قربانی ادا فرماتے رہے ( ترمذی رقم الحدیث : ١٥٠٧) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ طیبہ میں ہمیں عید کی نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ بعض لوگوں نے نماز عید سے پہلے ہی قربانی کرلی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہیں دوبارہ قربانی کرنی ہوگی ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٦٠) حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دست اقدس سے مدینہ طیبہ میں دو مینڈھوں کی قربانی کی ہے (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٧٩٥) پس ظاہر ہوگیا کہ قربانی کا حکم حجاج اور مکہ کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ یہ حکم ہر صاحب نصاب مسلمان کے لیے ہر شہر میں ہے۔ ثانیاََ چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو غذا اور دوسرے فوائد کے لیے جانوروں کو مسخر کردیا ہے اس لیے اس نعمت کے شکر کے طور پر جانوروں کی قربانی کا حکم دیا اور یہ نعمت چونکہ حجاج اور غیر حجاج دونوں پر ہے اس لیے قربانی کا حکم بھی دونوں کے لیے ہے۔ ثالثاََ قربانی سنت ابراہیم ہے لقولہ (علیہ السلام) سنۃ ابیکم ابراہیم (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٢٧) اور سنت ابرہیم کی پیروی حجاج وغیرحجاج دونوں کے لیے لازم ہے ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا (النحل : ١٢٣) ملت ابراہیم کی پیروی کرو ‘ پس قربانی بھی حجاج وغیر حجاج دونوں پر لازم ہے۔

رہامال کو ضائع کرنے کا شبہ ‘ تو اس کے جواب میں اولاََگزارش ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے میں جو مال خرچ ہوتا ہے وہ اسی شخص کے نزدیک ضائع کہلایا جاسکتا ہے جو خدا اور آخرت پر یقین نہ رکھتا ہو ‘ ثانیاََ قربانی کا گوشت خود کھایا جاتا ہے ‘ احباب کو کھلایا جاتا ہے اور غرباء کو صدقہ کیا جاتا ہے ‘ اب اس میں ضائع کیا چیز ہوئی ‘ اپنے کھانے کو تو ضائع نہیں کہہ سکتے اور احباب کے ہدیہ اور غرباء پر صدقہ کو ضائع وہی شخص کہہ سکتا ہے جس کے دل میں نہ اپنے رشتہ داروں کی محبت ہو اور نہ غرباء کے لیے ہمدردی۔

فقہاء احناف کے نزدیک قربانی کے جانور کا معیار

عالم گیری میں ہے :

٭ قربانی کا جانور تمام عیوب فاحشہ سے سلامت ہونا چائیے۔ (بدائع الصنائع)

٭ جس جانور کا خلقۃ ‘ سینگ نہ ہو یا اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو اس کی قربانی جائز ہے۔ (کافی)

٭ اگر سینگ کی ٹوٹ ہڈی کے جوڑ تک پہنچ گئی تو پھر قربانی جائز نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع)

٭ اگر جانور اندھا ‘ کا نہ یا لنگڑا ہو اور اس کے عیوب با لکل ظاہر ہوں تو اس کی قربانی جائز نہیں ‘ اسی طرح اگر اس کی بیماری ظاہر ہو ‘ جس کے دونوں کان کٹے ہوئے ہوں یا جس کی چکتی یا دم بالکل کٹی ہوئی ہو یا جس کا پیدائشی کان نہ ہو اس کی قربانی جائز نہیں ‘ جس کا کان چھوٹا ہو اس کی قربانی جائز ہے ‘ جس کا ایک کان پورا کٹا ہوا ہو یا جس کا پیدائشی صرف ایک کان ہو اس کی قربانی جائز نہیں ‘ اگر کان ‘ چکتی دُم اور آنکھ کا زیادہ حصہ ضائع ہوگیا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں اور کم ضائع ہوا ہو تو پھر جائز ہے ‘ تہائی یا اس سے کم حصہ اگر ضائع ہوا تو جائز ہے اور تہائی سے زیادہ حصہ ضائع ہوگیا تو ناجائز ہے۔(جامع صغیر و کافی)

٭ جس جانور کے دانت نہ ہوں تو اگر وہ چارا کھا لیتا ہے تو اس کی قربانی جائز ہے ورنہ نہیں۔ (محیط سر خسی)

٭ جس جانور کے دانت ٹوٹ گئے ہوں تو اگر اتنے دانت باقی ہیں وہ چارا کھا سکتا ہے تو اس کی قربانی جائز ہے ورنہ نہیں۔ (قاضی خاں برحاشیہ عا لمگیری ج ٣ ص ٣٥٣)

٭ جو جانور مجنون ہوگیا ہو تو اگر وہ چارا کھا سکتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے ورنہ نہیں ‘ خارش زدہ جانور اگر فربہ ہو تو اس کی قربانی جائز ہے ورنہ نہیں۔ جس جانور کا کان طول کی جانب سے چیرا ہوا ہو اس کی قربانی جائز ہے اسی طرح جس کے کان کا اگلا یا پچھلا حصہ کٹا ہوا ہو اسکی قربانی جائز ہے یا جس کا کان پھٹا ہوا ہو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔ حدیث میں جو ایسے جانوروں کی قربانی کی ممانعت ہے وہ کرہت تنزیہی پر محمول ہے۔ (بدائع الصنائع)

٭ جس جانور کی ناک کٹی ہوئی ہو اس کی قربانی جائز نہیں۔ (ظہیریہ)

٭ جو جانور بھینگا ہو یا جس کا اون کاٹ لیا گیا ہو اس کی قربانی جائز ہے۔ (قاضی خاں)

٭ جس کے تھن کاٹ لیے گئے ہوں ‘ جس کے تھن خشک ہوگئے ہوں یا جو اپنے بچے کو دودھ نہ پلا سکے اس کی قربانی جائز نہیں۔ (محیط سرخسی)

٭ اگر بکری کی زبان کٹی ہوئی ہو اور وہ چارہ کھا سکتی ہو تو اس کی قربانی جائز ہے ورنہ نہیں۔ (تتارخانیہ)

٭ اگر بکری کی زبان نہ ہو تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر گائے کی زبان نہ ہو تو پھر جائز نہیں۔ (خلاصہ)

٭ (جلالہ) جو جانورلید اور گوبر وغیرہ کھاتا ہو اس کی قربانی جائز نہیں ‘ اگر جلالہ اونٹ ہو تو اس کو چالیس دن بند کرنا ضروری ہے ‘ گائے کو بیس دن ‘ بکری کو دس دن اور مرغی کو تین دن۔ (قاضی خاں)

٭ جس جانور کی چار ٹانگوں میں سے ایک ٹانگ کٹی ہوئی ہو اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔ (خزانہ تتارخانیہ)

٭ مشائخ نے یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ وہ ہر عیب جو کسی منفعت کو بالکل زائل کر دے یا جمال کو بالکل ضائع کر دے اس کی وجہ سے قربانی جائز نہیں ہے اور جو عیب اس سے کم درجہ کا ہو اس کی وجہ سے قربانی ممنوع نہیں ہے۔

٭ صاحب نصاب نے اس قسم کے عیب والے جانور کو خریدایا خریدنے کے بعد اس میں ایسا عیب پیدا ہوگیا جس کی وجہ سے قربانی ممنوع ہے تو ہر صورت میں صاحب نصاب کا اس جانور کی قربانی کرنا جائز نہیں اور جو صاحب نصاب نہ ہو وہ ہر صورت میں اس جانور کی قربانی کرسکتا ہے۔ (محیط) ( فتایٰ عالم گیری ج ٥ ص ٢٩٩۔ ٢٩٧‘ ملخصا ‘ مطبعہ امیر یہ کبریٰ بو لاق مصر ‘ ١٣١٠ ھ)

فقہاء احناف کے نزدیک افضل قربانی کا بیان اور قربانی کے گوشت کے احکام

٭ خصی جانور کی قربانی نر کی بہ نسبت افضل ہے کیونکہ اس کا گوشت زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔ (محیط)

٭ اس میں مشائخ کا اختلاف ہے کہ اونٹ کا ساتواں حصہ افضل ہے یا بکری ؟ تحقیق یہ ہے کہ جس کی قیمت زیادہ ہو وہ افضل ہے۔ (ظہیریہ)

٭ اگر قیمت برابر ہو تو گائے کے ساتویں حصہ سے بکری افضل ہے کیونکہ بکری کا گوشت زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔ ( خلاصہ)

٭ زیادہ فربا ‘ زیادہ حسین اور زیادہ عظیم جانور کی قربانی مستحب ہے ‘ اور بکریوں کی جنس میں سرمئی رنگ کا سینگوں والا خصی مینڈھا افضل ہے ‘ نیز یہ مستحب ہے کہ چھری تیز ہو اور گلے پر چھری پھیرنے کے بعد اتنی دیر انتظار کرنا مستحب ہے جتنی دیر میں اس کے تمام اعضاء ٹھنڈے ہوجائیں اور اس کے تمام جسم سے جان نکل جائے اور اس کے جسم کے ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کی کھال اتارنا مکروہ ہے۔ (بدائع الصنائع)

٭ قربانی کے جانور سے خود کھانا اور دوسروں کو کھلانا مستحب ہے اور افضل یہ ہے کہ تیسرا حصہ صدقہ کرے اور تیسرے حصہ سے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کی ضیافت کرے اور باقی تیسرے حصہ کو ذخیرہ کرے اور غنی اور فقیر سے کو کھلائے۔ (بدائع الصنائع)

٭ قربانی کے گوشت کو جسے چاہے ہبہ کرے ‘ غنی کو ‘ فقیر کو ‘ مسلم کو اور ذمی کو۔ (غیاثیہ)

٭ اگر قربانی کا سارا گوشت صدقہ کردیا یا سارا گوشت اپنے لیے رکھ لیا تو جائز ہے ‘ اور اس کے لیے یہ جائز ہے کہ و تین دن سے زیادہ بھی گوشت کو ذخیرہ کرکے رکھے لیکن اس کو کھلانا اور صدقہ کرنا افضل ہے ‘ البتہ اگر کوئی شخص کثیر العیال ہو تو اس کے لیے افضل اپنے اہل و عیال کو کھلانا ہے۔ (بدائع الصنائع)

٭ اگر قربانی کے جانور کی نذر مانی تھی تو پھر اس کے گوشت کو خود کھانا جائز ہے اور نہ اس میں اغنیاء کو کھلانا جائز ہے عام ازیں کہ نذر ماننے والا امیر ہو یا فقیر ہو ‘ کیونکہ اس کا طریقہ اس کو صدقہ کرنا اور صدقہ کرنے والے کے لیے اپنے صدقہ کو خود کھانا جائز ہے نہ اغنیاء کو کھلانا جائز ہے۔ (فتاویٰ عالم گیری ج ٥ ص ٣٠٠۔ ٢٩٩‘ ملخصا ‘ مطبعہ امیر یہ کبری بولاق مصر)rnْقربانی کے دیگر مسائل

(١) قربانی کرنے سے چند ایام پہلے قربانی کے جانور کو باندھنا اس کے گلے میں ہار ڈالنا اور اس پر جل ڈالنا مستجب ہے ‘ اس کو آہستہ آہستہ قربان گاہ کی طرف لے جایا جائے اس کو سختی سے یا گھسیٹ کر قربان گاہ کی طرف نہ لے جایا جائے۔

(٢) قربانی کے بعد اس کے ہار اور اس کی جُل کو صدقہ کر دے۔ (سراجیہ)

(٣) جب کوئی بکری (یا گائے) قربانی کے لیے خریدے تو اس کا دودھ دوھ کر یا اس کے بال کاٹ کر نفع حاصل کرنا مکروہ ہے ‘ بعض مشائخ نے کہا ہے کہ یہ حکم اس کے لیے ہے جو صاحب نصاب نہ ہو اور صاحب نصاب کے لیے قربانی کے جانور کے دودھ یا اون سے نفع حاصل کرنا جائز ہے (بدائع) اور صحیح یہ ہے کہ اس مسئلہ میں صاحب نصاب اور غیر نصاب دونوں برابر ہیں۔ (غاثیہ)

(٤) قربانی کی کھال کو صدقہ کردے یا اس کی مشک یا جراب بنالے ( یا مصلے اور موزے بنا لے) اور قربانی کی کھال کو فروخت کر کے کسی ایسی چیز کو خریدنا استحسا ناً جائز ہے جس کو بعینہ کام میں لا جاسکے ( مثلاً کتاب یا پنکھا خرید لے) اور اس سے ایسی چیز خریدنا جائز نہیں ہے جس کو بعینہ کام میں نہ لایا جاسکے بلکہ اس کو خرچ کرنے کے بعد اس سے فائدہ حاصل کیا جاسکے جیسے طعام اور گوشت وغیرہ ‘ اور اگر کھال کو پیسوں کے عوض فروخت کردیا تاکہ صدقہ کیا جاسکے تو یہ جائز ہے ‘ کیونکہ یہ بھی کھال کی طرح صدقہ کرنا ہے۔ (تبیین الحقائق)

(٥) قربانی کے گوشت کے بدلہ میں جراب (چمڑے کا ظرف) خریدنا جائز نہیں ہے ‘ البتہ قربانی کے گوشت کے بدلہ میں غلہ یا گوشت خریدنا جائز ہے۔ (فتاویٰ قاضی خاں)

(٦) قربانی کرنے کے بعد اس کی چربی ‘ اس کی سری پائے اس کا اون ‘ اس کے بال اور دودھ وغیرہ کو ایسی چیز کے عوض فروخت نہ کرے جس سے بیعنہ فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا جیسے روپے پیسے اور کھانے پینے کی چیزیں ‘ اسی طرح ان چیزوں کو قصاب کی اجرت میں بھی نہ دے ‘ اور اگر اس نے ان چیزوں کو فروخت کردیا تو اس کی قیمت کو صدقہ کرے۔ (بدائع الصنائع)

(٧) اگر قربانی کے جانور کا بچہ ہوجائے تو اس بچہ کو بھی اس جانور کے ساتھ ذبح کردیا جائے اور اگر اس کو فروخت کردیا تو اس کی قیمت کو صدقہ کرنا واجب ہے ‘ اور اگر ایام نحر گذر گئے تو اس بچہ کو زندہ صدقہ کردیا جائے اور اگر بچہ کو ماں کے ساتھ ذبح کیا تو اس کا گوشت کھانا جائز ہے اور امام ابوحنیفہ سے ایک روایت یہ ہے کہ اس کا گوشت صدقہ کردیا جائے۔ (خلاصہ)

(٨) صاحب نصاب قربانی کے جانور کو فروخت کر کے اس کے بدلہ میں دوسرا جانور خرید سکتا ہے اور اگر کچھ پیسے بچ جائیں تو ان کو صدقہ کر دے۔ (سراجیہ) فتاویٰ عالم گیری ج ٥ ص ٣٠٢۔ ٣٠٠‘ ملخصا ‘ مطبعہ امیر یہ کبریٰ بوالاق مصر)

قربانی کے اسرار ورموز

اسوئہ اسماعیل کو تازہ کیا جاتا ہے۔

(١) اسلامی سال کا آغاز محرم اور اختتام ذوالحج پر ہوتا ہے اور دس محرم کو حضرت حسین کی اور دس ذوالحج کو حضرت اسماعیل کی قربانی ہے۔ پتہ چلا اسلام ابتداء سے انتہا تک قربانیوں کا نام ہے۔

(٢) اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں ہمیں اپنی مرضی سے تصرف کے لیے دی ہیں ‘ وہ چاہتا ہے کہ ان نعمتوں کا کچھ حصہ اس کی مرضی سے بھی خرچ کیا جائے سال بھر ہم اپنی خواہش سے جانور ذبح کرتے ہیں ‘ اللہ نے چاہا سال میں ایک مرتبہ ہم یہ جانور محض اس کی مرضی سے ذبح کردیں۔

(٣) اپنے ہاتھ سے جانور ذبح کرنے سے خاک و خون سے مناسبت پیدا ہوتی ہے اور اس سے جہاد کی استعداد حاصل ہوتی ہے کیونکہ جو شخص ایک جانور کو بھی ذبح نہ کرسکے اس سے کفار کو ہلاک کرنے کی توقع کب کی جاسکتی ہے۔

(٤) قربانی کے ذریعہ ہمیں یہ عادت ڈالی جاتی ہے کہ جس طرح اللہ کے حکم سے ہم نے آج اس جانور کی جان پیش کی ہے ‘ وقت آنے پر اپنی جان کو بھی اللہ کے حضور پیش کردیں۔

(٥) جس طرح بدن کا شکر نماز سے ‘ مال کا زکوۃ سے اور قوت کا شکر جہاد سے ہوتا ہے اسی طرح جانوروں کا شکر قربانی سے ہوتا ہے۔

(٦) کفار اپنی قربانیاں بتوں کے لیے کتے ہیں ہم قربانی اللہ کے لیے کرکے ان کے صحیح راہ عمل متعین کرتے ہیں۔

(٧) قربانی سے وحدت ملی اور تکبیرات تشریق کی وجہ سے غیر حجاج کو بھی حجاج سے مناسبت حاصل ہوتی ہے۔

(٨) قربانی سے وحدت ملی کو تقویت ملتی ہے اس دن تمام مسلمان ایک عمل اور ایک کھانے میں متحد ہوتے ہیں۔

(٩) قربانی اقارب اور احباب سے ملاقات ‘ ضیافت اور صلہ رحمی کا سبب بنتی ہے۔

(١٠) احباب کو قربانی کا تحفہ دینے سے یگانگت بڑھتی ہے اور صدقہ دینے سے غرباء کا پیٹ پلتا ہے اور ان کی دعائیں ملتی ہیں۔

(١١) انسان کی جسمانی نشو و نما کے لیے گوشت ایک ضروری عنصر ہے ‘ بہت سے لوگ ناداری کی وجہ سے گوشت سیر ہو کر نہیں کھا سکتے ‘ قربانی کے ایام میں ان کی یہ ضرورت پوری ہوتی ہے۔

( ١٢) قربانی کے ذریعہ ان کفار کے عقیدہ پر ضرب لگتی ہے جو جانوروں کی پرستش کرتے ہیں۔

(١٣) قربانی یہ سبق دیتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اس خارجی حیوان کو آہنی چھری سے ذبح کیا ہے۔ اسی طرح شریعت کی قربان گاہ پر اپنے داخلی حیوان کو بھی مخالفت نفس کی چھری سے ذبح کر ڈالو تاکہ باطن ظاہر کے موافق ہوجائے ‘ اور آیات آفاق کی معرفت کا مقتتضیٰ حیوان ظاہر کی قربانی سے اور آیات انفس کی معرفت کا مدعیٰ حیوان باطن کی قربانی سے پورا ہوجائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 37 الصافات آیت نمبر 105