لٰکِنِ اللہُ یَشْہَدُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکَ اَنۡزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ ۚ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یَشْہَدُوۡنَ ؕ وَکَفٰی بِاللہِ شَہِیۡدًا ﴿۱۶۶﴾ؕ

ترجمۂ کنزالایمان: لیکن اے محبوب اللہاس کا گواہ ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا وہ اس نے اپنے علم سے اتارا ہے اور فرشتے گواہ ہیں اور اللہ کی گواہی کافی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: لیکن اے حبیب! اللہ گواہی دیتا ہے اس کی جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا، اس نے اسے اپنے علم کے ساتھ نازل فرمایاہے اور فرشتے گواہی دیتے ہیں اور اللہ کافی گواہ ہے۔

{ لٰکِنِ اللہُ یَشْہَدُ: لیکن اللہ گواہی دیتا ہے۔} اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں دو طرح کے اقوال ہیں ، ان کا خلاصہ یہ ہے (1)… مَشْہُودْ لَہ یعنی جس کے حق میں گواہی دی جارہی ہے وہ قرآنِ پاک ہے کیونکہ یہودیوں نے آسمان سے یکبارگی کتاب اتارنے کا مطالبہ کیا تھا (النساء ،آیت ۱۵۳)

اس آیت میں ان کے مطالبے کا جواب ہے۔ اس صورت میں مفہوم یہ بنتا ہے کہ یہودی اگرچہ قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کو نہ مانیں لیکن اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی طرف اترنے والے قرآن کی حقانیت کی گواہی دیتا ہے اور اس کے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے نازل ہونے کے فرشتے بھی گواہ ہیں ، اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی گواہی کافی ہے۔

(2)… دوسرا مفہوم یہ ہے کہ مَشْہُودْ لَہ یعنی جس کے حق میں گواہی ہے وہ خاتَمُ الْمُرْسَلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نبوت ہے اور جس کے ذریعے گواہی دی جارہی ہے وہ قرآنِ پاک ہے اور معنیٰ یہ بنا کہ یہودیوں نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نبوت کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نبوت کی گواہی قرآن کے ذریعے دی اور فرشتے بھی نبوت پر گواہ ہوئے۔(تفسیر کبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۱۶۶، ۴/۲۶۸-۲۶۹، صاوی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۶۶، ۲/۴۶۰، ملتقطاً)

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی گواہی یہ ہے کہ اس نے گزشتہ کتابوں میں سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خبر دی اور سرکارِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو معجزات عطا فرمائے جیسے وزیر یا حاکم کا شاہی تمغہ بادشاہ کی گواہی ہے۔