اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ قَدْ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بـَعِیۡدًا ﴿۱۶۷﴾

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا بیشک وہ دور کی گمراہی میں پڑے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا بیشک وہ دور کی گمراہی میں جا پڑے۔

{ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا: بیشک جنہوں نے کفر کیا۔} یہاں یہودیوں کی حالت کا بیان ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نبوت کا انکار کیا اورحضور تاجدارِ انبیاءصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نعت وصفت چھپا کر اور لوگوں کے دلوں میں شبہ ڈال کر لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ سے روکا، بے شک وہ ان حرکتوں کی وجہ سے دور کی گمراہی میں جا پڑے کیونکہ ان میں گمراہ ہونا اور گمراہ کرنا دونوں چیزیں جمع ہو گئیں۔