أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سُبۡحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الۡعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

آپ کا رب غالب ہے اور ہر اس عیب سے پاس ہے جس کو وہ بیان کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کا رب غالب ہے اور ہر اس عیب سے پاک ہے جس کو وہ بیان کرتے ہیں اور رسولوں پر سلام ہو اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے (الصفت : ١٨٢۔ ١٨٠)

اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے اور رسولوں پر سلام بھیجنے میں مناسبت

اللہ تعالیٰ کے سورة الصفت کو ان تین آیتوں پر ختم فرمایا ہے جو تمام اہم مطالب کی جامع ہیں ‘ کیونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی زیادہ سے زیادہ جو معرفت حاصل ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام عیوب اور نقائص سے بری اور پاک ہے اس پر لفظ سبحان ربک دلالت کرتا ہے اور یہ کہ تمام محاسن اور تمام کمالات اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں اور اس پر رب العزت دلالت کرتا ہے۔

تمام مخلوق ناقص ہے اور ناقص کو کس مکمل کی احتیاج ہوتی ہے جو اس کو حصول کمال کی طرف رہ نمائی کرے اور اس کو عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ کی ہدایت دے اور وہ صرف انبیاء (علیہم السلام) اور رسل عظام ہیں اس لیے جو ناقص ہیں ان پر کامل کی اتباع واجب ہوتی ہے اس لیے مخلوق پر واجب ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی اطاعت کریں اور ان کے اسوۃ حسنہ پر عمل کریں اور ان کی اتباع کریں اور ان کے نقش قدم پر چلیں ‘ سو اللہ تعالیٰ نے اپنی تقدیس اور اپنی حمد و ثنا کے بعد اپنے رسولوں پر سلام بھیجا اور اس میں ہم کو بھی ہی ہدایت دی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے عبد رسولوں کو سلام بھیجا کریں ‘ اور آخر میں الحمد للہ رب العلمین فرمایا ‘ کیونک حمد کا اسحقاق کسی عظیم انعام کی وجہ سے ہوتا ہے ‘ سو اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ منعم ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ وہ تمام العلمین سے غنی ہے ‘ کیونکہ انعام وہی کرتا ہے جو غنی ہو اور غنی کی شان یہ ہے کہ وہ ناداروں اور مسکینوں پر فضل اور احسان کرتا ہے ‘ ضرورت مندوں پر اور اپنے قصور پر معافی چاہنے والوں پر رحم اور کرم فرماتا ہے ان کو معاف کردیتا ہے ‘ بخشتا ہے اور نوازتا ہے ‘ سو اس میں تنبیہ فرمائی ہے کہ لوگو ! اس سے اپنی خطائوں پر معافی چاہو اپنی حاجات کو اس سے طلب کرو ‘ اور اس سورت کے آخر میں اس آیت کو ذکر کرکے یہ اشارہ فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ سے یہ توفیق طلب کرو کہ تمہارا آخر اور تمہارا خاتم بھی اللہ تعالیٰ کی حمد پر ہو۔

ان تین آیات کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :

امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم ثعلبی متوفی ٤٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم مجھ پر سلام بھیجو تو تمام رسولوں پر سلام بھیجو کیونکہ میں بھی تمام رسولوں میں سے ایک رسول ہیں۔

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سلام پھیرنے سے پہلے یہ تین آیتیں پڑھا کرتے تھے : سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین

(الکشف والبیان ج ٨ ص ١٨٤‘ تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ١٠ ص ٣٢٣٤‘ جامع البیان جز ٢٢ ص ١٣٩۔ ١٣٨‘ النکت والعیون ج ٥ ص ٧٤‘ الجامع لا حکام القرآن جز ١٥ ص ١٢٨۔ ١٢٧‘ تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٢٨۔ ٢٧‘ الدرالمثور ج ٧ ص ١٢٣۔ ١٢٢‘ روح المعانی جز ٢٢ ص ٢٣٣)

اختتامی کلمات

الحمد للہ رب العلمین آج ٦ ربیع الاول ١٤٢٤ ھ /٩ مئی ٢٠٠٣ ء بعد نماز جمعہ سورة الصفت کی تفسیر ختم ہوگئی اس سورت کی تفسیر ٢٤ محرم ١٤٢٤ ھ /٢٨ مارچ ٢٠٠٣ ء کو شروع کی تھی۔ اس طرح ایک ماہ اور تیرہ دنوں میں سورة الصفت کی تفسیر مکمل ہوگئی۔

اس کے ساتھ ہی تبیان القرآن کی نویں جلد بھی مکمل ہوگئی ‘ ٢٣ جون ٢٠٠٢ ء کو اس جلد کی ابتداء کی تھی اور آج ٩ مئی ٢٠٠٣ ء کو یہ جلدمکمل ہوگئی اس طرح تقریباً دس ماہ ١٧ دن میں نویں جلد کی تکمیل ہوگئی ‘ فالحمد للہ علی ذالک حمدا کثیرا۔

میں دس رمضان المبارک ١٣٥٦ ھ/١٤ نومبر ١٩٣٧ ء کو پیدا ہوا تھا ‘ قمری تقویم کے اعتبار سے میری عمر ٦٨ سال ہوچکی ہے اور سمشی تقویم کے اعتبار سے میر عمر ٦٦ سال ہوچکی ہے ‘ اور یہ سن احطاط ہے ‘ اس سال دوران تصنیف میں کافی بیماررہا ہوں ‘ شوگر ‘ بلڈ پریشر اور کو لیسٹرول کے مسلسل پرہیز کی وجہ سے وزن کا فی کم ہوگیا ہے ‘ کچھ عمر کا تقاضا اور کچھ پرہیز کی بناء پر غذاء کے کم استعمال کی وجہ سے بہت زیادہ ضعیف رہتا ہے ‘ میں شہر کی دینی اور سماجی تقریبات میں شرکت نہیں کرتا پچھلے پانچ ‘ چھ سال سے میں نے جمعہ کا خطاب بھی چھوڑ دیا ہے ‘ کمر میں شدید درد رہتا ہے ‘ اور جسمانی تھکاوٹ بہت جلدہو جاتی ہے اور اب پہلی رفتار سے لکھنے کا کام نہیں ہو پاتا ‘ بہر حال جب تک جسمانی اعضاء ساتھ دیتے رہیں گے ‘ میں انشاء اللہ اس کام کو کرتا رہوں گا ‘ ہوسکتا ہے کہ قارئین کرام تک دسویں جلد اس معروف وقفہ کی بہ نسبت تاخیر سے پہنچے۔ بہر حال قارئین کرام سے دعائوں کی درخواست ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے رب کریم جس طرح آپ نے الصفت تک تفسیر مکمل کرادی ہے باقی تفسیر بھی مکمل کرادیں اور اس تفسیر کو موافقینکے لیے موجب طمانیت اور استقامت اور مخالفین کے لیے سبب رشد و ہدایت بنادیں ‘ اور محض اپنے فضل کو مصنف کے لیے ذریعہ نجات بنادیں ‘ اے مولائے رحیم ! مجھے ‘ میرے اساتذہ کو ‘ میرے والدین کو ‘ میرے اقرباء احباب ‘ میرے تلامذہ ‘ اس کتاب کے ناشر ‘ صحح ‘ کمپوزر ‘ جلد ساز ‘ جملہ معاونین ‘ اس کتاب کے قارئین اور تمام مسلمین کو دنیا اور آخرت کے مصائب اور آلام سے اور آخرت کے عذاب اور عتاب سے محفوظ اور مامون رکھ ‘ اور دنیا اور آخرت کی ہر نعمت اور ہر سعادت کو مقدر فرمادے وما ذالک علی اللہ بعزیز۔

واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد قائد المرسلین امام المتقین شفیع المذنبین وعلی اصحابہ الراشدین والہ الطاھرین وازواجہ المطھرات امھات المؤمنین وعلی اولیاء امتہ و علماء ملتہ وسائر امتہ اجمین۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 37 الصافات آیت نمبر 180