أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے سلیمان کو آزمائش میں مبتلا کیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، پھر انہوں نے (ہماری طرف) رجوع کیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور ہم نے سلیمان کو آزمائش میں مبتلا کیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، پھر انہوں نے ہماری طرف رجوع کیا (ص ٓ: ٣٤)

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا آزمائش میں مبتلا ہونا

اس آیت میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو آزمائش میں مبتلا کیا، اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو کس وجہ سے آزمائش میں مبتلا کیا تھا اور وہ کیا آزمائش تھی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو کس طرح اس آزمائش سے نجات ملی، قرآن مجید میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ قرآن مجید میں صرف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے اور ان کے استغفار کرنے کا ذکر ہے۔ جیسا کہ ص ٓ: ٣٥ میں عنقریب آئے گا۔ اسی طرح احادیث میں بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے متعلق یہ ذکر نہیں ہے کہ فلاں تقصیر کی وجہ سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو کسی آزمائش میں مبتلا کیا گیا اور نہ یہ بیان ہے کہ وہ کیا آزمائش تھی۔ البتہ بعض احادیث صحیحہ میں صرف اتنا مذکور ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ آج رات میں اپنی تمام ازواج کے پاس جائوں گا اور ہر زوجہ سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا بیٹا پیدا ہوگا لیکن وہ انشاء اللہ کہنا بھول گئے تو صرف ایک نا تمام اور ادھورا بچہ پیدا ہوا، لیکن ظاہر ہے کہ اس واقعہ کا کسی بڑی آزمائش اور ابتلاء سے کوئی تعلق نہیں ہے جو اس آیت کی تفسیر بن سکے۔ پس جب اللہ اور اس کے رسول نے اس آزمائش کے متعلق کوئی ذکر نہیں کیا تو ہمیں بھی اس کی تفتیش کے درپے نہیں ہونا چاہیے۔ وہب بن منبہ اور کعب احبار نے اس سلسلہ میں اسرائیلی روایات بیان کی ہیں جن کو امام محمد بن اسحاق، سدی، مجاہد اور قتادہ وغیرہم نے ان سے روایت کیا ہے اور ہمارے مفسرین نے ان روایات کو اپنی تفسیروں میں درج کردیا ہے۔ ہمارے نزدیک وہ تفسیریں محض جھوٹ اور باطل ہیں، تاہم میں ان بعض روایات کو یہاں نقل کررہا ہوں، تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اسرائیلی روایات میں انبیاء (علیہم السلام) کی شان کے خلاف کیا کچھ لکھا گیا ہے۔

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کے متعلق اسرائیلی روایات

علامہ ابوالحسن بن محمد الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :

جس فتنہ کی وجہ سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر عتاب کیا گیا اس کے متعلق حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) حسن بصری نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی بعض ازواج کے ساتھ حالت حیض میں قربت کی تھی۔ حسن بصری کی یہ روایت بہت مستبعد ہے، اللہ کا نبی جس کو اللہ تعالیٰ نے حکومت اور نبوت سے سرفراز کیا ہو وہ ایسا قبیح فعل نہیں کرتا جس کی جرأت عام مسلمان بھی نہیں کرسکتے۔

(٢) حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی جرادہ نام کی ایک بیوی تھی۔ جرادہ اور ایک قوم کے درمیان کوئی خصومت تھی، انہوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس اپنا مقدمہ پیش کیا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا، لیکن ان کی خواہش یہ تھی کہ ان کی بیوی جرادہ کے حق میں یہ فیصلہ ہوجاتا، تب ان سے یہ کہا گیا کہ عنقریب آپ پر ایک مصیبت آئے گی، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو یہ پتا نہیں تھا کہ آسمان کی طرف سے یہ مصیبت آئے گی یا زمین کی طرف سے۔

ہر چند کہ حضرت ابن عباس (رض) کی طرف اس حدیث کی سند قوی ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ حضرت ابن عباس نے اس قصہ کو یہودی علماء سے سنا ہے اور یہودیوں میں ایک ایسا فرقہ بھی تھا جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نبوت کا معتقد نہیں تھا، اس لیے وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر جھوٹ باندھتے تھے اور ان کا سب سے بڑا جھوٹ یہ تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ازواج پر ایک جن مسلط تھا اور تمام ائمہ سلف نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اواج کو اس جن کے تسلط سے محفوظ رکھا اور یہ آپ کی ازواج کی تکریم کے لیے تھا۔

(٣) سعید بن مسیب نے نقل کیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) تین دن لوگوں سے محتجب رہتے تھے اور ان کے کسی مقدمہ کا فیصلہ نہیں کرتے تھے اور نہ انصاف کرکے مظلوم کا حق ظالم سے دلواتے تھے، تب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی کہ میں نے آپ کو اس لیے خلیفہ نہیں بنایا کہ آپ میرے بندوں سے چھپے رہیں، بلکہ میں نے آپ کو اس لیے خلیفہ بنایا ہے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں اور مظلوم کا حق ظالم سے لے کردیں۔

یہ اثر سعید بن مسیب تک سند ضعیف سے ثابت ہے اور دلائل قطعیہ کے معارض نہیں ہوسکتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کی عصمت دلائل قطعیہ سے ثابت ہے اور یہ اثر ضعیف ہے۔

(٤) شہر بن جوشب نے روایت کیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سمندر کے جزائر میں سے کسی جزیرہ میں بادشاہ غزان کی بیٹی کو گرفتار کیا تھا، جس کا نام صیدون تھا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دل میں اس کی محبت ڈال دی گئی تھی اور وہ آپ سے اعراض کرتی تھی، بہت کم آپ کی طرف دیکھتی تھی اور بہت کم آپ سے بات کرتی تھی، پھر ایک دن اس نے آپ سے یہ سوال کیا کہ آپ اس کے باپ کی صورت کا ایک مجسمہ بنادیں، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی خواہش کے مطابق اس کے باپ کی صورت کا مجسمہ بنادیا، وہ اس مجسمہ کی بہت تعظیم کرتی تھی اور اس کو سجدہ کرتی تھی اور اس کی سہیلیاں بھی اس کے ساتھ سجدہ کرتی تھیں، اس طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گھر میں ایک بت کی پرستش کی جاتی تھی اور وہ اس سے لاعلم تھے، حتیٰ کہ چالیس دن گزر گئے اور یہ خبر بنی اسرائیل میں پھیل گئی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی اس کی خبر ہوگئی، آپ نے اس بت کو توڑ کر اس کو جلا ڈالا اور اس کی راکھ ہوا میں اڑا دی۔

شہر بن حوشب کی یہ روایت اسرائیلیات میں سے ہے اور عقائد قطعیہ کے مخالف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

(٥) مجاہد نے کہا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے آصف نامی شیطان سے پوچھا : تم لوگوں کو کس طرح گمراہ کرتے ہو ؟ شیطان نے کہا : آپ مجھے اپنی انگوٹھی دیں، پھر میں آپ کو اس کا جواب دوں گا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو اپنی انگوٹھی دے دی، اس نے وہ انگوٹھی سمندر میں پھینک دی حتیٰ کہ آپ کا ملک چلا گیا۔ (النکت والعیون ج ٥ ص ٩٥۔ ٩٤، درارالکتب العلمیہ، بیروت)

حافظ ابنکثیر متوفی ٧٧٤ ھ نے قتادہ سے اس واقعہ کو اس طرح روایت کیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ بیت المقدس اس طرح کریں کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنائی دے، آپ نے اس طرح بنانے کی کئی تدبیریں کیں لیکن کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی، پھر آپ کو معلوم ہوا کہ سمندر میں صخر نام کا ایک شیطان ہے، وہ کسی ترکیب سے بیت المقدس کی اس طرح تعمیر کرسکتا ہے، اس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی دی گئی یا اس کے کندھوں کے درمیان اس انگوٹھی کی مہر لگادی گئی جس سے وہ بےبس ہوگیا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت بھی اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی، آپ نے صخرکو اس طرح بیت المقدس کی تعمیر کرنے کا حکم دیا اور اس نے اس کی تعمیر شروع کردی، حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب بیت الخلاء یا حمام میں جاتے تھے تو انگوٹھی اتار کر جاتے تھے، ایک دن آپ حمام میں جارہے تھے اور یہ صخر نامی شیطان بھی آپ کے ساتھ تھا، اس وقت آپ فرض غسل کرنے جارہے تھے، آپ نے انگوٹھی اس کو دی اور خود غسل کرنے چلے گئے، اس نے وہ انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور اس شیطان پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شکل و صورت ڈال دی گئی اور آپ سے تاج وتخت چھن گیا اور ان سب چیزوں پر اس شیطان نے قبضہ کرلیا۔ ماسوا آپ کی ازواج کے، ادھر اس شیطان سے بہت سی ایسی باتیں ظاہر ہونے لگیں جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے معمولات کے خلاف تھیں، اس زمانہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی امت میں ایک شخص ایسے صاحب فراست اور صاحب الہام تھے جیسے ہماری امت میں حضرت عمررضی اللہ عنہ ہیں۔ انہوں نے سوچا : یہ شخص حضرت سلیمان (علیہ السلام) معلوم نہیں ہوتا، انہوں نے اس سے سوال کیا : اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور سردی کی وجہ سے طلوع آفتاب تک غسل نہ کرسکے تو کوئی حرج نہیں ؟ اس نے کہا : کوئی حرج نہیں۔ صخر چالیس دن تک حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر بیٹھ کر حکومت کرتا رہا، پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو مچھلی کے پیٹ سے وہ انگوٹھی مل گئی، اس انگوٹھی کو پہنتے ہی آپ پر تمام چیزوں پر قابض اور متصرف ہوگئے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٣٨ خ ملخصا، دارالفکر، بیروت، ١٤١٩ ھ)

امام عبدالرحمان بن محمد ابن ابی حاتم متوفی ٤٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں :

حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بیت الخلاء جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے اپنی انگوٹھی اتار کر اپنی بیوی جرادہ کو دے دی، وہ آپ کو اپنی تمام ازواج میں سب سے زیادہ محبوب تھیں۔ شیطان حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی صورت میں ان کے پاس گیا اور ان سے کہا : لاو میری انگوٹھی دے دو ، انہوں نے اس کو انگوٹھی دے دی، جب اس نے وہ انگوٹھی پہن لی تو تمام جن، انسان اور شیطان اس کے تابع ہوگئے، ادھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب بیت الخلاء سے آئے تو آپ نے جرادہ سے کہا : لائو میری انگوٹھی دو ۔ اس نے کہا : میں وہ انگوٹھی سلیمان کو دے چکی ہوں۔ انہوں نے کہا : میں سلیمان ہوں، جرادہ نے کہا : تم جھوٹ بولتے ہو، تم سلیمان نہیں ہو۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جس کے پاس بھی جاکر کہتے کہ میں سلیمان ہوں وہ آپ کو جھٹلاتا، حتیٰ کہ بچے آپ کو پتھر مارتے، جب آپ نے یہ حال دیکھا تو آپ نے سمجھ لیا کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے، ادھر شیطان حکومت کرتا رہا، جب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ان کی سلطنت لوٹا دے تو اس نے لوگوں کے دلوں میں اس شیطان کی نفرت ڈال دی، سو لوگوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بیویوں سے یہ معلوم کرایا کہ آپ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے افعال میں کوئی نیا فعل بھی دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! وہ حیض کے ایام میں بھی ہم سے مقاربت کرتے ہیں اور وہ اس سے پہلے ایسا نہیں کرتے تھے اور جب شیطان نے دیکھا کہ اس کی پول کھل گئی ہے تو اس نے جان لیا کہ اس کے دن پورے ہوگئے، پھر شیاطین نے کتابوں میں جادو کرنے کے طریقے لکھے اور ان کتابوں کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی کے نیچے دفن کردیا، پھر لوگوں میں یہ بات پھیلا دی کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جادو کے زور سے حکومت کرتے تھے اور لوگوں کے سامنے ان کی کرسی کے نیچے سے وہ کتابیں نکال کر پڑھوائیں اور کہا : اس کی بناء پر مسلمان لوگوں پر غالب تھے اور ان پر حکومت کرتے تھے۔ پھر لوگوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا کفر کیا اور لوگ اسی طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا کفر کرتے رہے۔ ادھر ایک آدمی نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بلایا اور کہا : یہ مچھلیاں اٹھا کر میرے لیے لے چلو گے ؟ پھر وہ اس کے گھر گئے اور اس آدمی نے وہ مچھلی اٹھا کر ان کو اجرت میں دے دی جس کے پیٹ میں وہ انگوٹھی تھی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس مچھلی کو کاٹا تو اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکل آئی، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے وہ انگوٹھی پہن لی، انگوٹھی پہنتے ہی تمام جن، انسان اور شیاطین سب آپ کے تابع ہوگئے اور آپ اپنے حال کی طرف لوٹ آئے اور وہ شیطان بھاگ کر سمندر کے کسی جزیرہ میں چلا گیا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو تلاش کرایا، ایک دن وہ سویا ہوا تھا تو آپ کے کارندوں نے اس کو زنجیروں میں جکڑ لیا، آپ نے اس کو لوہے کے ایک صندوق میں بند کرکے سمندر میں پھنکوادیا اور وہ قیامت تک وہیں رہے گا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٨٣٥٥، ج ١٠ ص ٣٢٤٤۔ ٣٢٤١، مکتبہ نزار مصطفی، ١٤١٧ ھ)

امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ نے اس واقعہ کو زیادہ وضاحت سے بیان کیا ہے، اس میں اس طرح مذکور ہے کہ شیطان نے چالیس دن لوگوں پر حکومت کی، جب لوگوں کو اس پر شبہ ہوگیا اور انہوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بیویوں سے اس کی تفتیش کرائی تو وہ ڈر کر سمندر کی طرف بھاگ گیا اور اسی اثناء میں وہ انگوٹھی اس سے سمندر میں گرگئی، جس کو ایک مچھلی نے اٹھا کر منہ میں ڈال لیا۔ ادھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) سمندر کے کنارے محنت مزدوری کرتے تھے، ایک دن ان کو اجرت میں وہ مچھلی ملی جس کے پیٹ میں وہ انگوٹھی تھی، اس انگوٹھی کی وجہ سے ان کی حکومت ان کو واپس مل گئی اور انہوں نے اس شیطان کو گرفتار کراکر لوہے کے ایک صندوق میں بند کروا کر سمندر میں پھنکوادیا، وہ قیامت تک وہی رہے گا، اس شیطان کا نام حبقیق تھا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٢٩٨٢، جز ٢٣ ص ١٨٩۔ ١٨٨، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ) امام ابواسحاق احمد بن ابراہیم الثعلبی المتوفی ٤٢٧ ھ نے بھی اس روایت کا ذکر کیا ہے، اس میں ہے کہ جب لوگوں نے اس شیطان کے غیر مانوس اور غیر شرعی احکام سنے تو آصف اس کی تحقیق کے لئے حضرت سلیمان کی بیویوں کے پاس گیا اور ان سے پوچھا : آیا تم نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) میں کوئی غیر مانوس فعل دیکھا ہے، انہوں نے کہا : ہاں ! وہ ایام حیض میں ہم سے مجامعت کرتے ہیں اور غسل جنابت نہیں کرتے۔ آصف نے کہا : انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ یہ ضرور کھلی آزمائش ہے، اس کے بعد حسب سابق قصہ ہے۔ امام ثعلبی نے لکھا ہے کہ اس شیطان کا نام صخر تھا۔ (الکشف والبیان ج ٨ ص ٢٠٤۔ ٢٠٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٢ ھ)

اامام الحسین بن مسعود البغوی المتوفی ٥١٦ ھ، امام ابن الجوزی المتوفی ٥٩٧ ھ، حافظ ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ وغیرہم مفسرین نے اس روایت کا ذکر کیا ہے، ان کی کتب کے حوالہ جات حسب ذیل ہیں : (معالم التنزیل ج ٤ ص ٧٠، زادالمسیر ج ٧ ص ١٣٦۔ ١٣٥، تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٤٠۔ ٣٩)

یہ تمام اسرائیلی روایات ہیں، ان میں سے کوئی بھی صحیح اور قابل قبول نہیں ہے، ہم نے ان روایات کو ان تفاسیر کے حوالوں سے اس لیے ذکر کردیا ہے کہ اگر کوئی شخص ابن جریر، ابن ابی حاتم، الماوردی، الثعلبی اور ان کثیر کے حوالوں سے ان روایات کو بیان کرے تو آپ ان تفسیروں کے حوالے سن کر مرعوب نہ ہوں اور یہ یقین رکھیں کہ یہ روایات باطل ہیں اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی عصمت جو دلائل قطعیہ سے ثابت ہے یہ روایات اس کے خلاف اور متصادم ہیں اور قابل اعتماد مفسرین نے ان روایات کو رد کردیا ہے۔

اسرائیلی روایات کا رد علامہ زمخشری سے

علامہ ابو القاسم محمود بن عمر الزمخشری الخوارزمی المتوفی ٥٣٨ ھ لکھتے ہیں :

محققین علماء نے ان روایات کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ یہودیوں کی باطل روایات میں سے ہیں اور شیطاطین اس قسم کے کام کرنے پر قادر نہیں ہیں جن کا ان روایات میں ذکر کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنے بندوں پر اس طرح مسلط کرتا جس سے وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو مغیر کرسکیں اور نہ یہ ممکن ہے کہ ان کو انبیاء (علیہم السلام) کی ازواج پر اس طرح مسلط کردیا جائے کہ وہ ان سے بدکاری کریں، رہا مجسموں کا بنانا تو وہ بعض شریعتوں میں جائز تھا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

یعملون لہ ما یشآء من محاریب وتماثیل۔ (سبا : ١٣) قلعے اور مجسمے جو کچھ سلیمان چاہتے تھے جنات ان کے لیے بنا دیتے تھے۔ (الکشاف ج ٤ ص ٩٦، داراحیال التراث العربی، بیرون، ١٤١٧ ھ)

اسرائیلی روایات کا ردامام رازی سے

امام فخر الدین محمد بن عمررازی متوفی ٦٠٦ ھ نے حسب ذیل وجوہ سے ان روایات کو رد کردیا ہے :

(١) اگر شیطان انبیاگ (علیہم السلام) کی صورت کی مثل بنانے پر قادر ہو تو پھر شریعت پر کوئی اعتماد نہیں رہے گا، کیونکہ لوگوں نے سیدنا محمد، حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ (علیہم السلام) کو دیکھا ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ وہ انبیاء نہ ہوں بلکہ شیطان نے ان کی صورت بنالی ہو اور اس طرح پھر دین بالکلیہ باطل ہوجائے گا۔

(٢) اگر شیطان اس قسم کے کام اللہ کے نبی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی صورت بن کر، کرسکتا ہے تو پھر وہ علماء اور زاہدوں کے ساتھ بھی ایسی کاروائی کرسکتا ہے اور اس صورت میں اس پر واجب ہے کہ وہ ان علماء کو قتل کردے، ان کی تصانیف کو پھاڑ دے اور ان کے گھروں کو منہدم کردے اور جب علماء کے ساتھ اس کی یہ کاروائی باطل ہے تو انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ اس کی یہ کاروائی بہ طریقہ اولیٰ باطل ہے۔

(٣) یہ کس طرح ممکن ہے کہ شیطان کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ازواج کے ساتھ بدکاری پر قدرت حاصل ہوگئی ہو۔

(٤) اگر یہ کہا جائے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بیوی جرادہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اجازت سے بت کی پرستش کی تھی تو یہ اس کا گناہ ہے اور اس کی وجہ سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس فتنہ میں مبتلا کیا گیا، وہ فتنہ یہ ہے کہ شیاطین نے یہ کہا کہ اگر یہ حضرت سلیمان کا بیٹا زندہ رہا تو اپنے باپ کی طرح یہ ہم پر مسلط ہوجائے گا تو اب نجات کی یہی صورت ہے کہ ہم اس کو قتل کردیں اور جبحضرت سلیمان (علیہ السلام) کو شیاطین کے اس منصوبہ کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کی پرورش کے لیے بادلوں میں رکھ دیا، پھر جبحضرت سلیمان (علیہ السلام) کسی کام سے واپس آئے تو تخت پر ان کا بیٹا مردہ پڑا ہوا تھا اور ان کو بتایا گیا کہ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالٰ پر توکل نہیں کیا تھا اس لیے ایسا ہوا، پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور استغفار کیا۔

(٥) نیز حدیث صحیح میں ہے : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت سلیمان بن دائود (علیہما السلام) نے کہا : آج رات میں سو یا ننانوے عورتوں سے مقاربت کروں گا اور ان میں سے ہر ایک سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا پیدا ہوگا، ان کے صاحب نے کہا : انشاء اللہ ! حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے انشاء اللہ نہیں کہا تو ان ازواج میں سے صرف ایک زوجہ حاملہ ہوئی اور اس سے ایک ناتمام (کچا اور ادھورا) بچہ پیدا ہوا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے، اگر وہ انشاء اللہ کہہ دیتے تو ان سب سے ایسے بچے پیدا ہوتے جو سب اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہوتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٨١٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٢٥٤، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٨٤٠، مسند الحمیدی رقم الحدیث : ١١٧٤، مسند ابویعلیٰ رقم الحدیث : ٦٢٤٤، مسند احمد ج ٢ ص ٢٧٥، سنن کبریٰ للبیہقی ج ١٠ ص ٤٤) پس حضرت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جس آزمائش میں مبتلا کیا گیا وہ یہ آزمائش تھی نہ کہ وہ چیز جس کا اسرائیلی روایات میں ذکر ہے۔

(٦) حضرت سلیمان (علیہ السلام) ایک شدید بیماری میں مبتلا ہوگئے تھے اور اس مرض کی شدت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے تخت پر ڈال دیا تھا اور جس شخص کا جسم کسی بیماری کی وجہ سے نحیف اور لاغر ہوجائے اس کو عرب کہتے ہیں : یہ گوشت کا لوتھڑا ہے یہ یہ بےجان جسم ہے، پس اس آیت میں جس کی آزمائش اور ابتلاء کا ذکر فرمایا ہے اس سے مراد ان پر اس بیماری کا مسلط ہونا ہے اور اس کے بعد جو فرمایا ہے : ” انہوں نے رجوع کیا “ تو اس سے مراد بیماری کے حال سے صحت کی طرف رجوع کرنا ہے۔

(٧) اور میں یہ کہتا ہوں کہ یہ بھی مستبعد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کسی کا خوف مسلط کردیا تھا یا ان کو خطرہ تھا کہ کسی طرف سے ان پر کوئی مصیبت آنے والی ہے اور اس خوف کی شدت سے وہ بہت کمزور ہوگئے اور ان کو دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے ایک بےجان جسم تخت پر پڑا ہوا ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس خوف کو دور کردیا اور ان کی قوت اور ان کے دلی اطمینان کو دوبارہ ان پر لوٹا دیا، قرآن مجید کی اس آیت کا معنی مؤخر الذکر تینوں صورتوں میں صادق آسکتا ہے اور ان صورتوں پر اس آیت کو محمول کرنا اس سے کہیں بہتر ہے کہ اس کو ان اسرائیلی روایات پر محمول کیا جائے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی صریح توہین کو مستلزم ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٣٩٤۔ ٣٩٣، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

اسرائیلی روایات کا رد علامہ ابوالحیان اندلسی سے

علامہ محمد بن یوسف الوالحیان اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں :

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جس فتنہ میں مبتلا کیا گیا تھا اور ان کو تخت پر جس جسم کو ڈالا گیا تھا، اس کی تفسیر میں مفسرین نے ایسے اقوال نقل کردیے ہیں جن سے انئیاء (علیہم السلام) کی تنزیہ اور برأت واجب ہے اور یہ ایسے اقوال ہیں جن کو نقل کرنا جائز نہیں ہے اور ان اقوال کو یہودیوں زور زندیقوں نے گھڑ لیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں بیان فرمایا کہ وہ آزمائش کیا تھی اور نہ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر جو اس نے جسم ڈال دیا تھا اس کا مصداق کون ہے (اور نہ احادیث صحیحہ میں ان چیزوں کا بیان ہے) اس کی تفسیر کے زیادہ قریب وہ حدیث ہے جس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے اس قول کا ذکر ہے کہ میں آج رات ایک سو بیویوں کے پاس جائوں گا اور ہر ایک سے ایک مجاہد فی سبیل اللہ پیدا ہوگا، انہوں نے انشاء اللہ نہیں کہا تھا اور اس کی پاداش میں ایک ادھورا بچہ پیدا ہوا، سو یہی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش تھی کہ وہ انشاء اللہ کہتے ہیں یا نہیں، اسی تقصیر کے سبب سے وہ ادھورا بچہ تخت پر ڈال دیا گیا اور جب انہوں نے انشاء اللہ نہ کہنے پر استغفار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف فرما دیا اور اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ وہ سخت بیمار پڑگئے اور وہ تخت پر بےجان جسم کی طرح پڑے ہوئے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی صحت اور قوت کو دوبارہ لوٹا دیا، اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ کفار قریش وغیرہ کی باتوں پر صبر کریں، پھر آپ کو حکم دیا کہ آپ حضرت دائود، حضرت سلیمان اور حضرت ایوب (علیہم السلام) کے قصوں کو یاد کریں، تاکہ ان کی سیرت پر عمل کریں اور یاد کریں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنا کس قدر قرب عطا کیا تھا اور ظاہر ہے کہ ان مفسرین نے ان انبیاء (علیہم السلام) کی طرف جن افعال کو ان روایات کی بناء پر منسوب کردیا ہے وہ ایسے افعال نہیں ہیں جو سیرت کا بہترین نمونہ ہوں۔ نہ وہ افعال لائق فخر اور قابل تقلید ہیں۔ بلکہ ان میں سے بعض افعال عقلاً اور شرعاً محال ہیں۔ مثلاً شیطان کا نبی کی صورت میں آنا حتیٰ کہ لوگ شیطان کو نبی سمجھ لیں اور اگر یہ چیز ممکن ہو تو پھر کسی نبی کا آنا لائق اعتماد اور قابل بھروسا نہیں ہوگا، ان روایات کو زندیقوں نے گھڑ لیا ہے، ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ذہنوں اور ہماری عقلوں کو ان روایات کے فتنہ سے محفوظ رکھے۔ (البحر المحیط ٩ ص ١٥٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٢ ھ)

اسرائیلی روایت کا رد علامہ اسماعیل حقی متوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں :

قاضی عیاض متوفی ٥٤٤ ھ نے کہا ہے کہ اگر یہ سوال کیا جائے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس قصہ میں انشاء اللہ کیوں نہیں کہا تھا تو اس کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) زیادہ صحیح جواب یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہنا بھول گئے تھے تاکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت تفاضے پورے ہوں۔

(٢) جبحضرت سلیمان (علیہ السلام) کے صاحب نے ان کو انشاء اللہ کہنا یاد دلایا تھا وہ اس وقت کسی کام میں مشغول تھے اور اس کی بات پر توجہ نہیں کرسکے۔ (الشفاء ج ٢ ص ١٤٨) بعد میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی بھول پر بھی اللہ تعالیٰ سے معافی چاہی اور اس بات پر استغفار کیا کہ وہ کسی اور کام میں کیوں اس قدر زیادہ مشغول ہوئے کہ ان کو انشاء اللہ کہنا یاد نہیں رہا اور یہ ترک اولیٰ ہے اور انبیاء (علیہم السلام) ترک اولیٰ کو بھی اپنی لغزش قرار دیتے ہیں کیونکہ ابرار کی نیکیاں بھی مقربین کے نزدیک برائیوں کے حکم میں ہوتی ہیں، کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روح کے متعلق، اصحاب کہف کے متعلق اور ذوالقرنین کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : میں تمہیں کل اس کے متعلق خبر دوں گا، اور آپ نے انشاء اللہ نہیں کہا، تو کئی روز تک آپ سے وحی روک لی گئی، پھر یہ آیت نازل ہوئی :

ولا تقولن لشایء انی فاعل ذلک غدا الا ان یشاء اللہ واذکر ربک اذا نسیت۔ (الکہف : ٢٤۔ ٢٣ )

اور آپ کسی کام کے متعلق ہرگز یوں نہ کہیں کہ میں اس کام کو کل کرنے والا ہوں مگر اس کے ساتھ انشاء اللہ کہیں اور اپنے رب کو یاد کریں جب آپ بھول جائیں۔ نیز علامہ اسماعیل حقی اس بحث میں لکھتے ہیں :

ص ٓ: ٤٤ میں ہے : ” اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا “ ان اسرائیلی روایات میں اس آیت کو اس پر محمول کیا ہے کہ صخرنامی شیطان چالیس دن تک حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی پر بیٹھ کر حکومت کرتا رہا، یہ تاویل حسب ذیل وجوہ سے صحیح نہیں ہے :

(١) قرآن مجید میں القاء کا لفظ ہے جس کا معنی ہے ایک جسم کو سخت پر ڈال دیا، اس کا معنی یہ کرنا کہ ایک شیطان کرسی پر بیٹھ گیا بغیر ایک بعید تاویل اور تکلف کے درست نہیں ہوسکتا اور اس تاویل اور تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

(٢) اس اسرائیلی روایت میں ہے کہ شیطان حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی صورت بنا کر ان کی بیوی جرادہ کے پاس گیا اور ان سے انگوٹھی لے لی، یہ بات اس لیے غلط اور باطل ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) اس چیز سے معصوم ہیں کہ شیطان ان کی صورت اختیار کرسکے خواہ نیند میں، خواہ بیداری میں، تاکہ حق باطل کے ساتھ مشتبہ نہ ہو، کیونکہ تمام انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کے اس ہادی کے مظہر ہیں اور شیطان اللہ تعالیٰ کے اسم مضل (گمراہ کرنے والا) کا مظہر ہے اور ہدایت اور ضلالت دونوں ضدیں ہیں دو ضدیں نہیں ہوسکتی، اس لیے ان میں سے کوئی بھی دوسرے کی صورت میں نہیں آسکتا۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ عزوجل کی عظمت ہر عظمت والے سے بڑھ کر ہے اور جی شیطان انبیاء (علیہم السلام) کی صورت میں نہیں آسکتا تو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صورت میں بہ طریق اولیٰ نہ آسکے حالانکہ بہ کثرت لوگوں کے خواب میں وہ لعین اللہ تعالیٰ کی صورت میں آیا اور اس نے ان کو یہ بتایا کہ وہ حق تعالیٰ ہے تاکہ وہ ان کو گمراہ کرسکے اور ان لوگوں نے اس کا کلام سن کر یہ گمان کیا کہ ان سے اللہ عزوجل ہم کلام ہورہا ہے۔ ہم اس کے جواب میں یہ کہیں گے کہ ہر صاحب عقل کو یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی ایسی صورت معینہ معلومہ نہیں ہے کہ اگر کوئی اس صورت میں آجائے تو اس پر اللہ تعالیٰ کا اشتباہ ہو، اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھنا جائز ہے، خواہ وہ کسی صورت میں نظر آئے، کیونکہ خواب میں جو صورت نظر آئے گی وہ اللہ تعالٰ کی غیر ہے، اس کی کوئی صورت نہیں ہے، اس کے برخلاف انبیاء (علیہم السلام) کی معین اور معلوم صورتیں ہیں جو اشتباہ اور التباس کی موجب ہیں۔

(٣) یہ کس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ شیطان کو نبی کی کرسی پر بٹھا دے اور وہ اس کرسی پر بیٹھ کر مسلمانوں پر مسلط ہوجائے اور ان پر اپنے احکام جاری کرتا رہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

ولن یجعل اللہ للکفرین علی المومنین سبیلا (النساء : ١٤١) اور اللہ کافروں کے لیے مسلمانوں پر غلبہ کی کوئی صورت ہرگز نہیں بنائے گا

(٤) وہ انگوٹھی نورانی تھی، پس کیسے ممکن ہے کہ وہ شیطان کے ظلماتی ہاتھوں میں رہے، جب کہ یہ ثابت ہے کہ نور شیطان کو جلا دیتا ہے، جیسا کہ شہاب ثاقب مارنے سے شیطان جل جاتا ہے۔

(٥) اس اسرائیل روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت اس انگوٹھی کی وجہ سے تھی اور شیطان نے وہ انگوٹھی سمندر میں پھینک دی تھی تو پھر وہ شیطان اس انگوٹھی کے بغیر چالیس دن تک کیسے حکومت کرتا رہا۔ (روح البیان ج ٨ ص ٤٨۔ ٤٥ خ داراحیاء التراث العربی، بیرون، ١٤١٥ ھ)

اسرائیلی روایات کا رد علامہ آلوسی سے

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : علامہ ابوالحیان اندلسی نے کہا ہے کہ اس مقالہ کو بےدین یہودیوں نے گھڑ لیا ہے اور کسی صاحب عقل کے لیے اس کے صحیح ہونے کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں ہے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ شیطان نبی کی صورت میں آجائے حتیٰ کہ لوگ اس کو دیکھ کر یہ سمجھیں کہ یہ نبی ہے اور اگر یسا ہونا ممکن ہوتا تو کسی نبی پر اعتماد نہ ہوتا اور سب سے قبیح بات یہ ہے کہ ان روایات میں مذکور ہے کہ شیطان نے نبی کی ازواج سے حالت حیض میں مباشرت کی، اللہ اکبر ! یہ بہتان عظیم ہے اور اس حدیث کی حضرت ابن عباس (رض) کی طرف نسبت کرنا صحیح نہیں ہے، نیز خواص اور عوام میں یہ مشہور ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت اس انگوٹھی کی وجہ سے تھی اور یہ بہتان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ملک عطا کیا تھا اس کی عطا ایک انگوٹھی کے ساتھ مربوط تھی اور اگر اللہ تعالیٰ کی یہ عطا اس انگوٹھی کے ساتھ مربوط ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کا قرآن میں ضرور ذکر فرماتا۔ اور ایک قوم نے یہ کا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سخت بیمار ہوگئے تھے اور وہ جس حال میں اس تخت پر پڑے ہوئے تھے اس سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ ایک بےروح جسم تخت پر پڑا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو دوبارہ صحت اور توانائی عطا فرما دی۔ (روح المعانی جز ٢٣ ص ٢٩٣، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

میں نے اس آیت کی تفسیر میں زیادہ دلائل اور حوالہ جات اس لیے ذکر کیے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دامن عصمت اچھی طرح بےغبار ہوجائے، اللہ تعالیٰ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت دائود (علیہ السلام) کے فیوضات کو میری طرف متوجہ رکھے۔ (آمین)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 38 ص آیت نمبر 34