مرد اور عورت کی نماز میں فرق

اور

غیر کے مقلدین کے جہالت کا رد بلیغ

از قلم : اسد الطحاوی الحنفی

فیسبک پر اس مخلوق نے طوفان بد تمیزی شروع کر رکھا ہے جو بات انکی کھوپڑی میں انکے مولوی گھسا دیں ۔۔۔ اسکے خلاف اگر کوئی موقف بیان کرے تو اسکو یہ سنت رسولﷺ کا مخالف گردان دیتے ہیں

اس مخلوق کی سب سے بڑی جہالت جو کہ نمایا ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک کسی خاص مسلہ کے تحت ایک ایسی روایت پیش کرینگے کہ جو کہ عمومی ہوگی جس میں مسلہ خاص کی تصریح نہ ہوگی

لیکن یہ یہ پلاسٹکی مخلوق اس پر ڈٹ جاتے ہیں اور اپنا قیاس جھاڑتے ہیں کہ بس تم نے ہماری بیان کردہ حدیث کے مطابق ہمارے والا موقف نہیں رکھا پس تم حدیث کے منکر ہو

ایسی گھامڑ مخلوق سے ہمارا واسطہ پڑا ہے

جن مسائل میں یہ اجھل مخلوق منہ سے جھاگ نکالتے ہوئے بڑبڑاتے ہیں ان میں سے ایک مسلہ ہے

مرد اور عورت کی نماز

ان بغلول قوم کے نزدیک عورت بالکل ویسے نماز پڑھے جیسے مرد پڑھا ہے یعنی سجود میں انکی عورتیں ڈگی اٹھا کر سجدہ کریں ۔ مردوں کی طرح بیٹھیں اور غالبا نماز میں انکی عارتیں ٹانگیں پھیلا کر ہی ٹھہرتی ہونگی

اب ان جہلاء کی تحریرات دیھکی جائیں تو پتہ چلتے ہیں اکیسویں صدی کے یہ مجتہدین کا ٹولہ ہے

بلکہ مجتہدین کے ٹرک انکے ہاں سے ایکسپورٹ ہوتے ہیں گلی گلی نکر نکر ان بغلولوں کے مجتہدین کا رش لگا ہوتا ہے

اب انکا دعویٰ ہے کہ :

عورت اور مرد کی نماز میں کوئی فرق نہیں ہے

دلیل کیا دیتے ہیں :

کہ حدیث رسولﷺ ہے کہ انہوں نے فرمایا تم ویسے نماز پڑھو جیسا کہ مجھے دیکھتے ہو۔

اب اس عمومی روایت سے یہ خلائی مخلوق اپنا قیاس کا پہیہ گھماتے ہوئے کہتی ہے کہ

نبی اکرمﷺ نے یہ عمومی حکم دیا ہے تو اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں

اور ابن حزم ظاہری کی یہ باقیات ہر چیز میں ظاہری الفاظوں پر ایمان لا کر بیٹھ جاتے ہیں

اب کوئی ان سے کہے نبی اکرمﷺ نے یہ بات ظاہری بات ہے مسجد میں کہی ہوگی اور مخاطب بھی صحابہ ہونگے

پھر نبی اکرمﷺ کا ہی فرمان ہے کہ سب سے افضل نماز باجماعت ہے

یہ بھی تو عمومی حدیث ہے تو پھر نبی اکرمﷺ نے یہ کیوں فرمایا کہ عورت کی افضل نماز گھر کے اندر ہے ؟؟؟؟؟

کیا نبی اکرمﷺ گھر میں نماز پڑھتے تھے ؟ کیا انکی افضل نماز گھر میں تھی ؟ بالکل بھی نہیں

تو اسکا جواب ان خبث مخلوق کے دماغوں میں یہ گھسایا گیا ہے کہ یہاں چونکہ حدیث آگئی ہے

اور عورت و مرد کی نماز میں فرق کی حدیث نہیں ہے اس لیے مرد و عورت کی نماز ایک جیسی ہے

اب کوئی انکے دماغوں پر ڈنڈا مار کر پوچھے کہ یعنی اب تم یہ بات تسلیم کر چکے ہو کہ عمومی حکم میں بھی تخصیص ہوتی ہے یہ قطعی قائدہ نہیں کہ ہر وقت عمومی حکم میں ہر کوئی شامل ہو اور استثناء کی صورت نہ ہو

واہبیوں کے نزیدک تو ننگے سر نماز جائز ہے تو پھر اسی حدیث کے تحت عورت کی بھی نماز ہو جانی چاہیے

اور جو پردے کی روایت ہے اسکو ظاہری طور پر اس حدیث کے مخالف قرار دے دیا جائے

نبی اکرمﷺ تو سجود میں اپنی کہنیاں جسم سے اتنی دور رکھتے تھے کہ انکے بغلوں کے بالوں کی سفیدی صاف عیاں ہوتی تھی

کیا وابیوں کی عورتیں بھی اسی طرح اپنا جسم پھیلا کر نماز پڑھتی ہونگی ؟ اگر انکی نماز ایسی ہے تو عورت کا نماز میں جو پردہ کے احکامات ہیں انکی کیا حیثیت رہہ جائے گی ؟

ہم سب سے پہلے صحابہ کے اقوال پیش کرتے ہیں جس سے معلوم ہو کہ صحابہ میں عورتوں کے لیے رفع الیدین اور رکوع و سجود کے طریعقہ میں فرق کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا پردے کی بنیادی پر کیونکہ شریعت نے عورت ک لیے نماز میں بھی پردے کا خاص احتمام رکھا ہے

امام ابن ابی شیبہ اپنی مصنف میں ایک باب قائم کرتے ہیں اس مسلے پر

یہ وہی امام ابن ابی شیبہ ہیں جن سے وہابی خارجی ابو حنیفہ کے خلاف لکھا گیا باب دکھاتے نہیں تھکتے بلکہ ایک ٹانگ پر ناچتے ہیں اور ابن ابی شبیہ کو ابو بنا لیتے ہیں

لیکن یہاں انکی نانی فوت ہو جاتی ہے !!!!

باب:ُ المرأة كيف تكون في سجودها؟

عورتیں سجدہ کیسے کریںگی ؟

حضرت ابن عباس کافتویٰ!

حدثنا أبو بكر قال: نا أبو عبد الرحمن المقري، عن سعيد بن أيوب، عن يزيد بن حبيب، عن بكير بن عبد الله بن الأشج، عن ابن عباس أنه سئل عن صلاة المرأة، فقال: «تجتمع وتحتفر»

امام بکیر بن عبداللہ حضرت ابن عباس کے تعلق سے فرماتے ہیں :

ابن عباسؓ سے سوال ہوا کہ عورت کیسے نمازپڑھے ؟

فرمایا جسک کو سکیڑ کر اور ملا کر رکھے

[مصنف ابن ابی شیبہ برقم : 2778 ، وسند حسن]

اس روایت کے سارے راوی ثقہ ہیں یہ اعتراض کسی وابی کو ہو سکتا ہے کہ

کہ بکیر کا سماع ابن عباس سے ثابت ہے یا نہیں ؟

تو بکیر صغیر تابعین میں سے ہیں اور متعدد صحابہ سے انکا سماع ہے

انکی وفات 127ھ میں ہوئی تھی

اور حضرت ابن عباس کی وفات 70ھ کے لگ بھگ تو

دونوں کی وفات میں 57 سال کا فرق ہے اگر ابن عباس کی وفات کے وقت اسکی عمر 20 سال بھی رکھی جائے تو بھی راوی کی عمر 77 سال بنتی ہے اور کسی نے انکے سماع کی نفی نہیں کی ابن عباس سے

تو یہ روایت حسن بنتی ہے

اسی طرح دوسر فتویٰ حضرت مولا علی کا موجود ہے

حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص، عن أبي إسحاق، عن الحارث، عن علي، قال: «إذا سجدت المرأة فلتحتفر ولتضم فخذيها»

حارث بیان کرتا ہے مولا علی کے حوالے سے :

حضرت علی فرماتے ہیں : کہ جب عورت سجدہ کرے تو اپنے جسم کو سکیڑ لے اور اپنی رانوں کو ملا کر رکھے ۔

[مصنف ابن ابی شیبہ برقم : 2777]

اسکی سند میں حارث حسن الحدیث ہے اور باقی ابو اسحاق مدلس ہیں تیسرے درجے کے لیکن حضرت ابن عباس سے معتبر شاہد موجود ہونے کی وجہ سے یہ علت رفع ہو جاتی ہے

مجتہد کوفہ امام ابراہیم النخعی تابعی کافتویٰ

حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص، عن مغيرة، عن إبراهيم، قال: «إذا سجدت المرأة فلتضم فخذيها، ولتضع بطنها عليهما»

مغیرہ ابراہیم النخعی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں :

ابراہیم النخعی فرماتے ہیں : جب عورت سجدہ کرے تو اپنی رانوں کو ملائے اور اپنے پیٹ کو ان پر رکھ دے ۔

[ایضا ، برقم : 2779]

اسکی سند میں ایک علت یہ کہ مغیرہ پر جرح مفسر ہے کہ یہ ابراہیم سے روایت میں تدلیس کرتے تھے

لیکن یہ قول دوسری سند سے بھی امام ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے

لیکن اس سے پہلے امام ابراہیم النخعی سے ایک روایت پیش کرتے ہیں

جیسا کہ امام احمد نے اپنی مسند میں نقل کی ہے

حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا سفيان، عن منصور، عن إبراهيم، قال بلغني: ” أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا سجد رئي بياض إبطيه

امام منصور ابراہیم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں

حضرت ابراہیم النخعی فرماتے ہیں مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی اکرمﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنی کہنیوں کو جسم سے اس طرح علیحدہ کرتے کہ انکی بغلوں کی سفیدی نظر آتی ۔۔۔

[مسند احمد ، برقم : 3446]

یعنی نبی اکرمﷺ کے عمل اور انکی سنت پر یہ مجتہدین مطلع تھے بلکہ آج کی پوری غیر مقلدین کی تعداد بھی آج تک اس دنیا میں پیدا نہیں ہوئی جتنی روایات اور سنت پر مطلع امام ابراہیم النخعی اور ان جیسے مجتہدین تھے

اب انکا فتویٰ موجود ہے جیسا کہ وہ فرماتے ہیں :

حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع، عن سفيان، عن منصور، عن إبراهيم، قال: «إذا سجدت المرأة فلتلزق بطنها بفخذيها، ولا ترفع عجيزتها، ولا تجافي كما يجافي الرجل»

منصور ابراہیم النخعی سے بیان کرتے ہیں : وہ فرماتے ہیں کہ عورت جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو ملا کر رکھے اور اپنی سرین کو بلند نہ کرے اور مردوں کی طرف جسم کو کشادہ نہ کرے

[مصنف ابن ابی شیبہ برقم : 2782، وسند صحیح ]

اس سے معلوم ہوا ایسی روایات جنکو وہابی اٹھائے پھر رہے ہیں مجتہدین نے ان سے عورتوں کے احکام کو استثناء دیا ہے ۔۔

بلکہ عورتوں کا حکم اس میں داخل نہیں کیونکہ عورتوں کے لیے نماز میں ستر کا حکم مرد کے حکم سے الگ ہے

اس لیے احادیث رسولﷺ میں وہ باتیں جن عورت کے ستر اور اسکے پردے کے احکامات کے حوالے سے خلل ہو تو اس میں عورتوں کو مستثناء قرار دیا ہے صحابہ ، تابعین اور مجتہدین نے

امام حسن بصری کا فتویٰ!!

یہ وہی حسن بصری ہیں جن سے رفع الیدین کے ثبوت دکھاتے ہوئے منہ سے جھاگ نکالتے ہوئے شور مچا رہے ہوتے ہیں

انکا موقف بھی دیکھ لیں عورتوں کے بارے :

حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مبارك، عن هشام، عن الحسن، قال: «المرأة تضطم في السجود»

امام حسن بصری فرماتے ہیں :

عورت سجدوں میں اپنا جسم ملا کر رکھے گی

[مصنف ابن ابی شیبہ برقم : 2781 وسند صحیح ]

بعد والے مجتہدین جیسا

امام اعظم ابو حنیفہ:

قَالَ الْاِمَامُ الْاَعْظَمُ فِی الْفُقَھَائِ اَبُوْحَنِیْفَۃَ:وَالْمَرْاَۃُ تَرْفَعُ یَدَیْھَاحِذَائَ مَنْکَبَیْھَا ھُوَ الصَّحِیْحُ لِاَنَّہٗ اَسْتَرُ لَھَا.

امام اعظم ؓفرماتے ہیں کہ عورت اپنے ہاتھوں کو اپنے کندھوں تک اٹھائے کیونکہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔

وَقَالَ اَیْضاً:وَالْمَرْاَۃُ تَنْخَفِضُ فِیْ سُجُوْدِھَاوَتَلْزَقُ بَطْنَھَا بِفَخْذَیْھَا لِاَنَّ ذٰلِکَ اَسْتَرُ لَھَا.

عورت سجدوں میں اپنے جسم کو پست کرے اور اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے ساتھ ملائے کیونکہ اس کے جسم کو زیادہ چھپانے والا ہے۔

[الھدایۃ فی الفقہ الحنفی ج1 ص84، ص92]

امام شافعی کا فتویٰ:

قَالَ الْاِمَامُ مُحَمَّدُ بْنُ اِدْرِیْسَ الشَّافَعِیّ:وَقَدْ اَدَّبَ اللّٰہُ النِّسَائَ بِالْاِسْتِتَارِ وَاَدَّبَھُنَّ بِذَالِکَ رَسُوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاُحِبُّ لِلْمَرْاَۃِ فِی السُّجُوْدِ اَنْ تَنْضَمَّ بَعْضَھَااِلٰی بَعْضٍ وَتَلْصَقُ بَطَنَھَا بِفَخِذَیْھَا وَتَسْجُدُ کَاَسْتَرِمَایَکُوْنُ لَھَاوَھٰکَذَا اُحِبُّ لَھَا فِی الرُّکُوْعِ وَ الْجُلُوْسِ وَجَمِیْعِ الصَّلَاۃِ اَنْ تَکُوْنَ فِیْھَا کَاَسْتَرِ َمایَکُوْنُ لَھَا.

امام شافعی فرماتے ہیں :

اللہ تعالی نے عورت کو پردہ پوشی کا ادب سکھایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی ادب سکھایا ہے۔ اس ادب کی بنیاد پر میں عورت کے لیے یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ سجدہ میں اپنے بعض اعضاء کو بعض کے ساتھ ملائے اور اپنے پیٹ کو رانوں کے ساتھ ملا کر سجدہ کرے‘ اس میں اس کے لیے زیادہ ستر پوشی ہے۔ اسی طرح میں عورت کے لیے رکوع ،قعدہ اور تمام نماز میں یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ نماز میں ایسی کیفیات اختیار کرے جس میں اس کے لیے پردہ پوشی زیادہ ہو

[کتاب الام للشافعی ج 1ص 286ص 287ب]

اور فقہ حنبلی کے مصنف ابن قدامہ نے المغنی اور شرح الکبیر میں احمد بن حنبل کا بھی یہی فتویٰ لکھا ہے

قَالَ الْاِمَامَ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ:وَالْمَرْاَۃُ کَالرَّجُلِ فِیْ ذٰلِکَ کُلِّہٖ اَنَّھَا تَجْمَعُ نَفْسَھَا فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ وَتَجْلِسُ مُتَرَبِّعَۃً اَوْتَسْدُلُ رِجْلَیْھَافَتَجْعَلُھُمَا فِیْ جَانِبِ یَمِیْنِھَا۔۔۔۔۔ قَالَ اَحْمَدُ:اَلسَّدْلُ اَعْجَبُ اِلَ

احمد بن حنبل کہتا ہے:

سب احکام میں مرد کی طرح ہے مگر رکوع و سجود میں اپنے جسم کو سکیڑ کر رکھے اور آلتی پالتی مار کر بیٹھے یا اپنے دونوں پاؤں اپنی دائیں جانب نکال کر بیٹھے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:عورت کا اپنے دونوں پاؤں اپنی دائیں جانب نکال کر بیٹھنا میرے ہاں پسندیدہ عمل ہے

[لمغنی لابن قدامۃ ج1 ص635]

الغرض سلف و حلف کا یہی موقف ہے کہ مرد کی نماز کی طرح عورت ارکان نماز ادا کرےگی

لیکن سجود ور رفع الیدین کے مقام اور تشہد میں اپنے جسم کو اس طرح سکیڑ کر بیٹھے گی کہ اسکے اعضاء ظاہر نہ ہو یا پردے کے احتمام میں خلل نہ آئے کیونکہ جس شریعت کا مقصود یہ ہے کہ عورت با جماعت نماز نہ پڑھے بلکہ گھر میں پڑھے

وہ شریعت یہ حکم کیسے دے سکتی ہے کہ عورت جھکنے اور اٹھنے میں اپنے اعضاء کی بے پرواہی کرتی رہے ۔۔۔

لیکن ان سب دلائل کے بعد وابی کیا کہتے ہوئے کپڑے جھاڑ کر نکل جائیں گے ؟

کہ یہ سب لوگوں کا موقف اس حدیث کے خلاف ہے جس میں عمومی حکم ہے

اور یہ عمومی حکم ہے اس ان بدھوں پر وحی نہیں اتری بلکہ یہ خبث قوم خود بھی قیاس جھاڑ رہے ہیں

اور کن کے خلاف قیاس جھاڑ رہے ہیں صحابہ و تابعین اور متجدہین کے خلاف

اور انکو یہ بکتے شرم نہیں آتی کہ جو ہم نے قیاس جھاڑا ہے یہی حدیث رسولﷺ عین ہے جو ہمارے اس قیاس سے اختلاف کریگا یعنی کہ یہ روایات عمومی نہیں

تو اس نے حدیث رسول کا انکار کیا

ایسے پلاسٹکی مجتہدین سے فیسبک اور وابیوں کا ہر گھر بھرا پڑا ہے

دعاگو: اسد الطحاوی