أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّهُمۡ عِنۡدَنَا لَمِنَ الۡمُصۡطَفَيۡنَ الۡاَخۡيَارِؕ‏ ۞

ترجمہ:

بیشک وہ ہمارے نزدیک چنے ہوئے اور نیک ترین ہیں

عصمت انبیاء پر دلیل

ص ٓ: ٤٧ میں فرمایا :” بیشک وہ ہمارے نزدیک چنے ہوئے اور نیک ترین ہیں۔ “ انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پسندیدہ ہیں اور بنی نوع انسان میں سے ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ قرب حاصل ہے، وہ شر اور معصیت کی آمیزش سے مبرأمنزہ ہیں۔ اس آیت میں ان کو اخیار فرمایا ہے، اخیار خیّر کی جمع ہے اور صفت مشبہ ہے یا یہ اسم تفصیل ہے یعنی وہ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ نیکی کے خامل ہیں۔ اس آیت سے ہمارے علماء نے انبیاء (علیہم السلام) کی عصمت پر استدلال کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو علی الاطلاق اخیار فرمایا ہے، اگر کسی وجہ سے بھی ان کی زندگی میں معصیت اور گناہ در آئے تو وہ علی الاطلاق خیّر نہیں رہیں گے، اس لیے ان سے کوئی معصیت صادر نہیں ہوتی، نہ صغیرہ نہ کبیرہ، نہ سہواً نہ عمداً ، نہ حقیقتاً نہ صورتاً ، ہاں انبیا (علیہم السلام) سے اجتہادی خطا ہوجاتی ہیں اور بعض مصلحتوں کو پورا کرنے کے لیے اور امت کے لیے شرعی احکام میں نمونہ فراہم کرنے کے لیے ان سے بعض اوقات ایسے افعال صادر ہوتے ہیں جو بہ ظاہر مکروہ تنز یہی یا بہ ظالہر خلافِ اولیٰ ہوتے ہیں اور ان کا مکروہ تنز یہی یا خلافِ اولیٰ ہونا امت کے اعتبار سے ہوتا ہے اور انبیاء (علیہم السلام) کے اعتبار سے وہ افعال فرض کے حکم میں ہوتے ہیں، کیونکہ شرشریعت کا بیان کرنا انبیاء (علیہم السلام) پر فرض ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مکروہ تنز یہی کسی قسم کا گناہ نہیں ہے، نہ صغیرہ نہ کبیرہ۔

مکروہ تنزیہی اور خلاف ِاولیٰ کا گناہ نہ ہونا

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فرماتے ہیں : مکر وہ تنز یہی میں کوئی گناہ نہیں ہوتا، وہ صرف خلاف اولیٰ ہے، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان جواز کے لیے قصداً ایسا کیا اور نبی قصداً گناہ کرنے سے معصوم ہوتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ج ٩ ص ٤٥٠۔ ٤٤٩، طبع جدید، رضا فائونڈیشن، لاہور، ١٩٩٦ ء)

نیز اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں : نیکوں کے جو نیک کام ہیں مقربوں کے حق میں گناہ ہیں، وہاں ترک اولیٰ کو بھی گناہ سے تعبیر کیا جاتا ہے حالانکہ ترک اولیٰ ہرگز گناہ نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ج ٩ ص ٧٧ طبیع قدیم، مکتبہ رضویہ، کراچی)

اور اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں : پھر کراہت تنزیہ کا حاصل صرف اس قدر کہ ترک اولیٰ ہے نہ کہ فعل ناجائز ہو، علماء تصریح فرماتے ہیں کہ یہ کر اہٹ جامع جواز واباحت ہے، جانب ترک میں اس کا وہ رتبہ ہے جو جہت فعل میں مستحب کا، کہ مستحب کیجئے تو بہتر، نہ کیجئے تو گناہ نہیں۔ مکروہ تنزیہ یہی نہ کیجئے تو بہتر کیجئے تو گناہ نہیں، پس مکرو تنز یہی کو داخل دائرہ اباحت مان کر گناہ صغیرہ اور اعتیاد کو کبیرہ قرار دینا جیسا کہ فاضل لکھنوی سے صادر ہوا، پھر سید مشہدی، پھر کردی اس کے تابع ہوئے، سخت لغزش وخطائے فاسد ہے، یا رب ! مگر وہ گناہ ہے کون سا جو شرعاً مباح ہو اور وہ مباح کیسا جو شرعاً گناہ ہو۔ فقیر غفرلہ المولیٰ القدیر نے اس خطائے شدید کے رد میں ایک مستقل تحریر مسمیٰ بہ ” جمل مجلیہ ان المکروہ تنزیھا لیس بمعصیۃ “ تحریر کی۔ (فتاویٰ رضویہ ج ١١ ص ٤٤ طبع قدیم، مکتبہ رضویہ، کراچی)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضافاضل بریلوی نے اس موضوع پر عربی میں ایک راسلہ تصنیف فرمایا جس کا نام ” جمل مجلیہ ان المکروہ تنزیھا لیس بمعصیۃ “ رکھا ہے، اس کے ص ٣٧ سے ص ٤٤ تک اس مسئلہ پر بحث فرمائی ہے، یہ رسالہ غیر مطبوعہ ہے، ہم نے اس کا عکس حاصل کیا، اس کی ابتدائی چند سطور کا ترجمہ حسب ذیل ہے :

جس چیز پر ہمیں کامل یقین اور اعتماد ہے وہ یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی بالکل گناہ نہیں ہے، نہکبیرہ نہ صغیرہ اور اس کے ارتکاب سے بندہ کسی قسم کی سزا کا مستحق نہیں ہوتا، نہ ہلکی نہ بھاری اور یہی خالص حق ہے، جس سے انحراف کی کوئی صورت نہیں، بہ کثرت علماء نے اس کی تصریح کی ہے، روالمحتار کے حضر واباحت کی بحث میں علامہ شامی نے تلویح کے حوالے سے لکھا ہے : رہا مکروہ تنزیہی تو وہ اتفاقاً جواز کے زیادہ قریب ہے، اس معنی میں کہ مکروہ تنز یہی کے مرتکب کو اصلاً سز انہیں دی جائے گی۔ البتہ اس کے ترک کرنے والے کو کچھ ثواب ملے گا اور علامہ ابو سعود کے حوالے سے لکھا ہے کہ مکروہ تنزیہی اباحت کے ساتھ جمع ہوتا ہے۔ (علامہ شامی نے یہ ابن حاجب کے حوالے سے لکھا ہے نہ کہ ابو سعود کے حوالے سے، روالحتارج ١ ص ٢١٨، سعیدی غرلہ) (جمل مجلیہ ان المکرو تنزیہی لیس بمعصیۃ (غیر مطبوعہ) ص ٣٧)

اعلیٰ حضرت نے تلویح کا جو حوالہ دیا ہے اس کی تخریج یہ ہے : تلویح مع التوضیح ج ١ ص ٢٣، مطبوعہ اصح المطابع، کراچی اور اعلیٰ حضرت نے علامہ شامی کے جو حوالے ذکر کیے ہیں، ان کی تفصیل اس طرح ہے، علامہ شامی فرماتے ہیں : مکروہ تنز یہی مباح کو بھی شامل ہوتا ہے کیونکہ مکروہ تحریمی لازماً ممنوع ہوتا ہے۔ (ردالمحتارج ١ ص ٢١٨، ملخصا، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٩ ھ)

نیز علامہ شامی نے لکھا ہے کہ مستحب کے ترک پر ملامت نہیں جاتی۔ (روالمحتار ج ١ ص ٢٢١) پھر آگے چل کر لکھا ہے :

مستحب کو ترک کرنا مکروہ تنز یہی ہے۔ (ردالمحتارج ١ ص ٢٢٣) اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی کے فعل پر ملامت نہیں کی جاتی۔

نیز علامہ شامی لکھتے ہیں : مکروہ تنزیہی جواز کے زیادہ قریب ہے، یعنی ان کے فاعل کو بالکل سز نہیں دی جائے گی اور اس کے تارک کو کچھ ثواب ملے گا، تلویح۔ (ردالمحتارج ٩ ص ٤٠٩، درا احیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٩ ھ)

عصمت کی تعریف اور معصوم اور محفوظ کا فرق

عصمت پر بحث کے دوران مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عصمت کی تعریف بھی کردی جائے۔ علامہ میر سید شریف علی بن محمد الجر جانی المتوفی ٨١٦ ھ لکھتے ہیں : گناہوں پر قدرت کے باوجود گناہوں سے اجتناب کے ملکہ (مہارت) کو عصمت کہتے ہیں۔ (کتاب التعریفات ص ١٠٧، دارالفکر، بیروت، ١٤١٨ ھ، وحاشیۃ الخیالی ص ١٤٦، لکھنو)

قاضی عبدالنبی بن عبدالرسل الاحمد نگری لکھتے ہیں : عصمت کی تعریف یہ ہے : گناہوں پر قدرت کے باوجود گناہوں سے اجتناب کا ملکہ اور اس کی دوسری تعریف یہ ہے : اللہ کی طرف سے بندہ میں ایک ایسی قوت جو بندہ کو گناہوں پر قدرت اور اختیار کے باوجود اسے گناہوں اور مکروہات کے فعل سے روکتی ہے، گناہوں سے اجتناب کے ملکہ کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ یہ بندہ میں اللہ کی طرف سے ایک ایسی صفت ہے جو اس کو خیر اور نیکی پر ابھارتی ہے اور اس کو شر اور بُرائی سے روکتی ہے، اس کے باوجود کہ بندہ میں گناہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار باقی رہتا ہے تاکہ اس میں امتحان اور ابتلاء کا معنی متحقق ہو، اسی وجہ سے شیخ ابو منصور ماتریدی (رح) نے فرمایا ہے کہ عصمت آزمائش اور مکلف ہونے کی صفت کو زائل نہیں کرتی۔ اس تحقیق سے یہ واضح ہوگیا کہ شیعہ اور معتزلہ کی عصمت کی بیان کردہ تعریف فاسد اور باطل ہے۔ انہوں نے یہ تعریف کی ہے : کسی شخص کے نفس ناطقہ میں ایسی خاصیت یا اس کے بدن میں ایسی صفت ہو جس کی وجہ سے اس سے گناہوں کا صدور محال ہو اس کو عصمت کہتے ہیں۔ یہ تعریف اس لیے باطل ہے کہ اگر بندہ سے گناہوں کا صدور محال ہو تو اس کو گناہوں کے ترک کرنے کا مکلف کرنا صحیح نہیں ہوگا اور نہ اس کو گناہوں کے ترک کرنے پر ثواب عطا کرنا صحیح ہوگا، علامہ تفتازانی نے شرح العقائد (ص ١٠٩، کراچی) میں اسی طرح لکھا ہے اور جنہوں نے عصمت کی یہ تعریف کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بندہ میں گناہ کو پیدا نہ کرنا، اس کے باوجود کہ بندہ میں گناہ پر قدرت اور اختیار باقی ہو، اس تعریف کا مآل بھی وہی ہے، کیونکہ عصمت کی حقیقت صرف گناہوں سے بچنے کا ملکہ ہے۔ انبیاء معصوم ہوتے ہیں اور اولیاء محفوظ ہوتے ہیں اور ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ انبیاء اور اولیاء دونوں میں گناہوں پر قدرت اور اختیار ہوتا ہے، لیکن انبیاء جب گناہ کا ارادہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان میں گناہ پیدا نہیں کرتا اور اولیاء اگر گناہ کا ارادہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ان میں گناہ پیدا کردیتا، لیکن وہ گناہ کا ارادہ کرتے ہی نہیں ہیں۔ (دستور العلماء ج ٢ ص ٢٣٤۔ ٣٣٢، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)

میں کہتا ہوں کہ علامہ عبدالنبی نے معصوم اور محفوظ میں جو فرق بیان کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے، اولاً اس لیے کہ گناہ کبیرہ کا ارادہ کرنا بھی گناہ کبیرہ ہے اور انبیاء اس سے معصوم ہیں، لہٰذا وہ گناہ کا ارادہ نہیں کرتے، نیز یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ انبیاء گناہ کبیرہ کا ارادہ کرتے ہیں لیکن اللہ ان میں گناہ کبیرہ پیدا نہیں کرتا، کیونکہ بندہ جس فعل کا ارادہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں وہی فعل پیدا کردیتا ہے اور اگر انبیاء (علیہم السلام) گناہ کا ارادہ کریں اور اللہ ان میں گناہ پیدا نہ کرے تو پھر وہ دنیا میں گناہوں کے ترک پر تحسین اور آخرت میں اس پر اجر کے مستحق نہیں ہوں گے اور علامہ عبدالنبی نے محفوظ ہونے کا یہ معنی بیان کا ہے کہ اگر اولیاء گناہ کا ارادہ کرتے تو اللہ ان میں گناہ کو پیدا کردیتا لیکن وہ گناہ کا ارادہ کرتے ہی نہیں، اس پر یہ اعتراض ہے کہ پھر تو اولیاء اللہ انبیاء سے بڑھ گئے، کیونکہ علامہ عبدالنبی کے نزدیک انبیاء، تو گناہ کا ارادہ کرتے ہیں اور جب اولیاء گناہ کا ارادہ نہیں کرتے تو وہ انبیاء سے بڑھ گئے۔

اس لیے انبیاء کے معصوم ہونے اور اولیاء کے محفوظ ہونے میں صحیح فرق یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سے کبھی بھی کسی مال میں کسی قسم کا گناہ صادر نہیں ہوتا، صغیرہ نہ کبیرہ، سہواً نہ عمداً ، صورتاً نہ حقیقتاً اور اولیاء کرام سے بعض اوقات گناہ صادر ہوجاتا ہے، لیکن وہ اس سے جلد توبہ کرلیتے ہیں یا ان پر حد جاری ہوجاتی ہے اور وہ گناہوں سے پاک ہوجاتے ہیں، جیسے حضرت حسان بن ثابت، حضرت مسطح اور حضرت حمنہ بنت جحش (رض) نے حضرت عائشہ (رض) پر تہمت لگائی، پھر ان پر حد جاری ہوئی اور وہ پاک ہوگئے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٤٧٤، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٧٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٥٦٦٧، جامع المسانید والسنن مسند عائشہ رقم الحدیث : ٣٥٤٧) بنو مخزوم کی ایک عورت فاطمہ بنت اسود نے چوری کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٧٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٨٨، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٣٧٣، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٤٣٠، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٩١٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٥٤٧) حضرت ماعز بن مالک (رض) کو زنا کی وجہ سے رجم کیا گیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٨٢٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٩١، سنن ابودائو رقم الحدیث : ٤٤٢٠، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٤٢٩) جہینہ کی ایک خاتون زنا سے ١٩٥٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٥٥٥) حضرت عبداللہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہنسایا کرتے تھے، ان کا لقب حمار تھا، وہ بار بار شراب پیتے تھے اور بار بار ان پر حد لگائی جاتی تھی، ایک شخص نے ان کے متعلق کہا : اس پر لعنت کر، اس کو کتنی بار سزا دی گئی ہے (اور یہ باز نہیں آتا ! ) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو لعنت نہ کرو، مجھ کو صرف یہ علم ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٧٨٠)

یہ حضرات صحابہ کرام (رض) ہیں، ان سے معصیت کا صدور ہوا اور پھر وہ اس معصیت سے تائب ہوئے، ان پر حد جاری ہوئی اور وہ اس معصیت سے پاک ہوگئے اور صحابہ کرام تمام بعد کے اولیاء کرام سے زیادہ افضل اور مکرم اولیا اللہ ہیں۔ اس لیے گناہوں سے محفوظ ہونے کی صحیح تعریف یہی ہے کہ ان نفوس قدسیہ سے کبھی کبھی کسی گناہ کا صدور ہوجاتا ہے لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو جلد ہی توبہ کی توفیق دے دیتا ہے اور وہ گناہوں سے پاک اور صاف ہوجاتے ہیں اور عام لوگ ان کی بہ نسبت زیادہ گناہوں میں اور نفسانی خواہشوں کے پورا کرنے میں مبتلا ہوتے ہیں اور توبہ کرنے میں سستی کرتے ہیں اور توبہ کرنے کے بعد بار بار گناہ کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں اور صحابہ کرام اور اولیا عظام کا گناہوں سے محفوظ ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ بہ کثرت گناہوں کا ارتکاب کرنے اور توبہ میں سستی کرنے سے محفوظ ہوتے ہیں اور توبہ کو توڑنے سے محفوظ ہوتے ہیں، ان کی توبہ توبۃ النصوح ہوتی ہے اور وہ ان آیات کے مصداق ہوتے ہیں :

والذین اذ فعلوا فاحشۃ اوظلموا انفسھم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی ما فعلوا وھم یعلمون اولٓئک جزآوء ھم مغفرۃ من ربھم وجنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ط ونعم اجر العملین (آل عمران : ١٣٦۔ ١٣٥)

اور جب یہ (محسنین) کوئی بےحیائی کا کام کر بیٹھیں یا کوئی اور گناہ کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرلیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں پر مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کون گناہوں کو بخشے گا، اور انہوں نے جو (گناہ) کیا ہے اس پر دانستہ اصرار نہیں کرتے ان لوگوں کی جزاء ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور نیک کام کرنے والوں کا کیسا اچھا اجر ہے نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

ان الذین اتقوا اذا مسھم طٓئف من الشیطن تذکروا فاذا ھم مبصرون۔ (الاعراف : ٢٠١) بیشک جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں جب ان کے دل میں کسی شیطانی کام کا خیال آتا ہے توہ خدا کو یاد کرتے ہیں، پھر اچانک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں انما التوبۃ علی اللہ للذین یعملون السوٓء بجھالۃ ثم یتوبون من قریب فاولئٓک یتوب اللہ علیھم ط وکان اللہ علیما حکیما (النساء : ١٧) اللہ پر صرف ان ہی لوگوں کی توبہ کو قبول کرنا ہے جو (عذاب سے) جہالت کی بناء پر گناہ کے کام کرتے ہیں، پھر جلد ہی اس کام سے توبہ کرلیتے ہیں تو ان لوگوں کی توبہ کو اللہ قبول فرماتا ہے، اور اللہ بہت علم والا بےحد حکمت والا ہے اور جو لوگ مسلسل گناہ کرتے رہتے ہیں اور توبہ کو مؤخر کرتے رہتے ہیں حتین کہ ان کی موت آجاتی ہے وہ اس آیت کا مصداق بننے کا خطرہ میں ہیں۔ ولیست التوبۃ اللذین یعملون السیات ج حتی اذال حضر احدھم الموت قال انی تبت الئن۔ (النساء : ١٨) اور اللہ پر ان لوگوں کی توبہ کو قبول کرنا نہیں ہے مسلسل برے کام کرتے رہے ہیں، حتیٰ کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں نے اس توبہ کرلی۔ عام طور پر مشہور یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے معصوم ہونے اور اولیاء کے محفوظ ہونے میں یہ فرق ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے معصوم ہونے کا معنی یہ ہے کہ ان کو گناہ پر قدرت ہی نہیں اور گناہ کرنا ان کے لیے ممکن ہی نہیں، اس کے برخلاف اولیاء کرام کو گناہوں پر قدرت تو ہوتی ہے لیکن وہ بھی گناہ کا فعل نہیں کرتے۔ یہ دونوں تعریفیں باطل ہیں، اوّل اس لیے کہ اگر انبیاء (علیہم السلام) گناہ کے فعل پر قادر نہ ہوں تو ان کو گناہ کے ترک کرنے کا مکلف کرنا صحیح نہیں ہوگا اور نہ گناہ کے ترک کرنے پر وہ دنیا میں تحسین اور آخرت میں اجر وثواب کے مستحق ہوں گے اور ثانی اس لیے کہ اگر محفوظ ہونے کا یہ معنی ہو کہ وہ گناہ پر قادر تو ہوں لیکن کبھی اس کا فعل نہ کریں تو لازم آئے گا کہ صحابہ کرام اولیاء نہ ہوں کیونکہ انہوں نے گناہ کا فعل کیا اور بعد میں اس پر توبہ کی اور صحابہ کرام سے بڑھ کر تو کوئی اللہ کا ولی ہو نہیں سکتا۔ اس لیے انبیاء (علیہم السلام) کے معصوم ہونے کا صحیح معنی یہ ہے کہ ہرچند کہ وہ گناہ کے فعل پر قادر ہوتے ہیں لیکن ان پر خوف خدا کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی قصداً گناہ کا فعل نہیں کرتے اور اولیاء کرام کے محفوظ ہونے کا صحیح معنی یہ ہے کہ ہرچند کہ بشری تقاضے سے وہ کبھی گناہ کا فعل کر بیٹھتے ہیں لیکن فوراً خدا کو یاد کرکے سنبھل جاتے ہیں اور توبہ کرلیتے ہیں اور بالعموم وہ دوبارہ اس گناہ کو نہیں کرتے اور وہ بہت کم گناہ کا فعل کرتے ہیں، اس کے برخلاف عام لوگ بہ کثرت گناہ کرتے ہیں اور توبہ کرنے میں سستی کرتے ہیں اور بالعموم وہ توبہ کرنے کے بعد اس گناہ کا اعادہ کرتے ہیں۔ بہت عرصہ سے میرے دل میں یہ خواہش تھی کہ میں انبیاء علیم السلام کے معصوم ہونے اور اولیاء کرام کے محفوظ ہونے کو تفصیل سے لکھوں اور اب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ مضامین القاء کیے اور میں نے اس فرق کو دلائل کے ساتھ تفصیل سے لکھا۔ فالحمد للہ رب العٰلمین

میرا دل اور دماغ ان پاکیزہ نکات کے لائق تو نہیں لیکن وہ رب کریم ناپاک کھاد سے پاکیزہ رزق اور حسین و جمیل پھل اور پھول پیدا کردیتا ہے، قطرہ نیساں کو گہرا آب دار بنا دیتا ہے، اندھیرے سے روشنی نکال لاتا ہے سو وہ مجھ ایسے سیہ کار اور گنہگار کے دل و دماغ میں ایسے پاکیزہ اور لطیف نکات پیدا کردیتا ہے۔ فسبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم عصمت انبیاء (علیہم السلام) پر مفصل بحث اور عصمت پر اعتراضات کے جوابات شرح صحیح مسلم ج ٧ ص ٣٤٦۔ ٢٨٥ میں ملاحظہ فرمائیں، شاید اس سے زیادہ تفصیل اور تحقیق آپ کو اور کہیں نہ ملے۔

القرآن – سورۃ نمبر 38 ص آیت نمبر 47