حنفی محدثین میں سے ایک متقن امام وکیع بن الجراح کا تعارف!

ازقلم: اسد الطحاوی

امام وکیع بن الجرح امام ابو حنیفہ کے بہترین حفاظ شاگردوں میں سے ایک تھے جنکا ڈنکا اصحاب الحدیث پر بڑے زور سے چلتا تھا اور یہ متفقہ علیہ متقن محدثین میں سے ایک تھے

لیکن اپنے حفظ اور اتقان کے باوجود یہ مسائل فروع میں اکثر امام ابو حنیفہ کی رائے پر چلتے اور انکے مطابق فتویٰ دیتے تھے

امام وکیع کے حفظ اور حدیث میں اعلیٰ درجے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جسکو ابن ابی حاتم نے اپنی کتاب الجرح و تعدیل کے مقدمہ میں نقل کیا ہے :

حدثنا عبد الرحمن نا علي بن الحسين بن الجنيد.

قال سمعت ابن نمير يقول: كانوا إذا رأوا وكيعا سكتوا – يعني في الحفظ والإجلال

امام ابن نمیر (ناقدو محدث) فرماتے ہیں کہ جب امام وکیع نظر آتے تو تمام (محدثین) خاموشی اختیار کر لیتے تھے یعنی انکے حافظے اور علمی جلالت کے سبب

(مقدمہ الجرح والتعدیل ، وسند صحیح )

اسی طرح امام ذھبی انکے بارے سیر اعلام میں محدثین کے اقوال نقل کرنے سے پہلا انکا تعارف ان الفاظ میں لکھتے ہیں :

وكيع بن الجراح بن مليح بن عدي الرؤاسي

الإمام، الحافظ، محدث العراق، أبو سفيان الرؤاسي، الكوفي، أحد الأعلام.

وكان من بحور العلم، وأئمة الحفظ.

کہ امام وکیع محدث عراق ، حافظ الحدیث اور اعلام میں سے ایک تھے یہ علم کا سمند ر تھے اور حافظوں کے بھی امام تھے

اسکے بعد امام ذھبی نقل کرتے ہیں :

الفضل بن محمد الشعراني: سمعت يحيى بن أكثم يقول: صحبت وكيعا في الحضر والسفر، وكان يصوم الدهر، ويختم القرآن كل ليلة.

امام یحییٰ بن اکثم کہتے ہیں میں امام وکیع کے ساتھ سفر میں ساتھ رہا ہوں وہ ہمیشہ روزے رکھتے اور ایک رات میں مکمل قرآن ختم کرتے تھے

امام ذھبی آگے فرماتے ہیں :

ومع هذا فكان ملازما لشرب نبيذ الكوفة الذي يسكر الإكثار منه،

اور اسکے ساتھ وہ نبیذ بھی بہت پیتے تھے جیسا کہ کوفہ میں یہ بہت زیادہ پی جاتی تھی

(نوٹ : نبیذ کھجوروں کو گرم کرنے سے تیار ہوتی ہے اور امام ابو حنیفہ نے اسکو جائز قرار دیا تھا غیر مقلدین اس فتوے پر بھی ابو حنیفہ پر تبرہ کرتے ہیں معلوم نہیں امام وکیع کے اس امر پر جو انہوں نے امام ابو حنیفہ کے فتوے پر عمل کر کے کیا کرتے تھے غیر مقلدین کیا موقف رکھتے ہیں )

قال يحيى بن معين: وكيع في زمانه كالأوزاعي في زمانه.

امام ابن معین فرماتے کہ وکیع اپنے زمانے کا ویسا (عالم) ہے جیسا کہ اوزاعی اپنے زمانے میں تھے

وقال أحمد بن حنبل: ما رأيت أحدا أوعى للعلم ولا أحفظ من وكيع.

امام احمد کہتے کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو علم سے اتنا شغف رکھتا ہو جیسا کہ وکیع اور نہ ہی کسی کو اتنا حافظ دیکھا جیسا کہ وکیع تھے

وقال بشر بن موسى: سمعت أحمد بن حنبل يقول:

ما رأيت قط مثل وكيع في العلم، والحفظ، والإسناد، والأبواب، مع خشوع وورع.

بشر بن موسیٰ امام احمد سے بیان کرتے ہیں :

وہ کہتے ہیں میں نے وکیع کی مثل کوئی نہیں دیکھا علم اور حفظ میں ، اور اسناد (حدیث ) میں اور ابواب (فقہی آراء) میں باوجو اسکے کہ ان میں عاجزی اور زیادہ عبادت گزاری تھی

اسکو نقل کرنے کے بعد امام ذھبی فرماتے ہیں :

قلت: يقول هذا أحمد مع تحريه وورعه، وقد شاهد الكبار، مثل هشيم، وابن عيينة، ويحيى القطان، وأبي يوسف القاضي، وأمثالهم.

میں کہتاہوں یہ قول احمد کا ہے امام کویع کے بارے جو کہ ان بڑے کبار ائمہ کو دیکھ چکے تھے جیسا کہ ہثیم ، ابن عینہ ، یحییٰ بن سعید القطان ، اور امام ابو یوسف القاضی اور انکے جیسے

(اسکے اوجود انہوں نے وکیع کو لا مثل کہا )

اسکے بعد امام ذھبی امام یحییٰ بن معین سے تصریح نقل کرتے ہیں :

علي بن الحسين بن حبان: عن أبيه: سمعت ابن معين يقول: ما رأيت أفضل من وكيع.

قيل: ولا ابن المبارك؟

قال: قد كان ابن المبارك له فضل، ولكن ما رأيت أفضل من وكيع، كان يستقبل القبلة، ويحفظ حديثه، ويقوم الليل، ويسرد الصوم، ويفتي بقول أبي حنيفة -رحمه الله- وكان قد سمع منه كثيرا

علی بن حسین اپنے والد سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں نے امام یحییٰ بن معین کو سنا

وہ کہتے ہیں میں نے امام وکیع سے افضل کوئی نہیں دیکھا ہے

ان سے کہا گیا کہ عبداللہ ابن مبارک (بھی ان جیسے افضل ) نہیں ؟

تو انہوں نے پھر کہا ابن مبارک بھی فضیلت کے مالک ہیں ۔۔۔ لیکن۔۔۔۔

میں نے امام وکیع سے افضل نہیں دیکھا جو کہ قبلہ جانب ہو کر عبادات میں مشغول رہتے ، احادیث کو حفظ کرتے اور روزے رکھتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امام ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دیتے تھے

اور میں نے ان سے بہت زیادہ سماع کیا ہے

(نوٹ: امام وکیع اتنے بڑے حدیث کے علام ہونے کے باوجود مسائل اجتیہاد میں امام ابو حنیفہ کے فتاویٰ کے پیروی کرتے )

قال صالح بن محمد جزرة: سمعت يحيى بن معين يقول: ما رأيت أحدا أحفظ من وكيع.

اور صالح بن جزرہ کہتے ہیں میں نے امام یحییٰ بن معین سے سنا وہ کہتے ہیں ؛ میں نے امام وکیع سے بڑا حافظ (الحدیث) کوئی نہیں دیکھا ہے

(سیر اعلام النبلاء،برقم: 48)

امام صیمری نے بھی اپنی کتاب میں اسکو مکمل اپنی سند صحیح سے بیان کیا ہے :

اور باب باندھتے ہیں :

فمن أخذ عنه العلم وكان يفتي بقوله وكيع بن الجراح

(ابی حنیفہ) سے علم سیکھنے والوں اور انکے قول پر فتویٰ دینے والوں میں سے امام وکیع بن الجراح

أخبرنا عمر بن إبراهيم قال أنبأ مكرم قال أنبأ علي بن الحسين بن حبان عن أبيه قال سمعت يحيى بن معين قال ما رأيت أفضل من وكيع بن الجراح قيل له ولا ابن المبارك قال قد كان لإبن المبارك فضل ولكن ما رأيت أفضل من وكيع كان يستقبل القبلة ويحفظ حديثه ويقوم الليل ويسرد الصوم ويفتي بقول أبي حنيفة وكان قد سمع منه شيئا كثيرا قال يحيى بن معين وكان يحيى بن سعيد القطان يفتي بقول أبي حنيفة أيضا

ابن معین فرماتے ہیں کہ امام وکیع سے افضل میں نے نہیں دیکھا کہ جو رات کو قیام کرتے قبلہ جانب ہو کر احادیث یاد کرتے ، اور مسلسل روزے رکھتے

اور امام ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دیتے

اسکو بیان کرنے کے بعد امام یحیٰ بن معین فرماتے ہیں :

میں نے ان سے بہت زیادہ سنا ہے ۔ اور (میرے شیخ ) امام یحییٰ بن سعید القطان بھی امام ابو حنیفہ کے قول پر ہی فتویٰ دیتے تھے

(اخبار ابی حنیفہ للصیمری وسند صحیح )

اسی طرح امام وکیع بھی ترک رفع الیدین کے قائل تھے

جیسا کہ امام بخاری نے اہل کوفہ کے بارے جب یہ بیان کیا کہ اہل کوفہ میں نماز میں رفع الیدین کو ترک کرنے والوں میں امام سفیان الثوری اور امام وکیع بن الجراح ہیں

(جز رفع الیدین للبخاری)

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی

.