أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ‌ؕ بَلۡ هِىَ فِتۡنَةٌ وَّلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

پس جب انسان کو، کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہم کو پکارتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرماتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ کہ یہ نعمت تو مجھے صرف ایک علم کی بناء پر دی گئی ہے، بلکہ درحقیقت یہ آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

پس جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہم کو پکارتا ہے، پھر جب ہم اس کو اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرماتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ نعمت تو مجھے صرف ایک علم کی بناء پر دی گئی ہے، بلکہ درحقیقت یہ آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے بیشک اس سے پہلے بھی لوگوں نے یہ بات کہی تھی سو ان کی کمائی ان کے کسی کام نہیں آئی پس ان کے برے کاموں کا عذاب انہیں آپہنچا اور ان لوگوں میں جو ظالم ہیں انہیں بھی ان کے برے کاموں کا وبال پہنچے گا اور وہ اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہیں کیا انہوں نے یہ نہیں جانا کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں (الزمر :49-52)

راحت اور مصیبت کے ایام میں اللہ تعالیٰ سے رابطہ رکھنا

زمر : ٤٩ میں فرمایا : ” پس جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہم کو پکارتا ہے، پھر جب ہم اس کو اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرماتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ نعمت تو مجھے صرف ایک علم کی بناء پر دی گئی ہے۔ “

اس آیت میں ” خولنہ “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر تخویل ہے، اس کا معنی ہے : ضرورت کی چیز عطا کرنا، بخشنا، بعض چیزوں کو بطور جزاء اور صلہ عطاء کیا جاتا ہے اور بعض چیزوں کو محض فضل اور احسان کے طور پر عطا کیا جاتا ہے، تخویل کا اطلاق دوسرے اعتبار سے کیا جاتا ہے۔

اس آیت میں کفار کو برے اعمال میں سے یہ بیان فرمایا ہے کہ جب ان کو تنگ دستی یا بیماری لاحق ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہیں، پھر جب اللہ اپنے فضل سے وہ مصیبت ان سے دور فرما دیتا ہے اور ان کو مال و دولت کی فراوانی یا صحت اور عافیت کی نعمت عطا فرماتا ہے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ نعمت ان کو ان کی اپنی ذہانت اور محنت اور مشقت کی بناء پر حاصل ہوئی ہے یا ان کو صحیح علاج کی وجہ سے صحت حاصل ہوئی ہے۔

کافر یہ کہتا ہے کہ ” یہ نعمت تو مجھے ایک علم کی بناء پر حاصل ہوئی ہے “ اس کی کئی تفسیریں ہیں، ایک تفسیر یہ ہے کہ اللہ کے علم میں یہ تھا کہ میں اس نعمت کا مستحق ہوں، اس وجہ سے مجھے یہ نعمت حاصل ہوئی ہے، اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ مجھے یہ عمل تھا کہ میں اس نعمت کا مستحق ہوں اور اس کی تیسری تفسیر یہ ہے کہ مجھے یہ علم تھا کہ مجھے کس ذریعہ سے مال حاصل ہوگا یا مجھے یہ علم تھا کہ کون سے علاج سے مجھے شفا حاصل ہوگی یا کس طریقہ سے مجھ سے یہ مصیبت دور ہوگی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 39 الزمر آیت نمبر 49