أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ يٰعِبَادِىَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا‌ ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے : اے میرے وہ بندو جو (گناہ کرکے) اپنی جانوں پر زیادتی کرچکے ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا، بیشک وہی بہت بخشنے والا، بےحدرحم فرمانے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

آپ کہیے : اے میرے وہ بندو جو (گناہ کرکے) اپنی جانوں پر زیادتی کرچکے ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا، بیشک وہی بہت بخشنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے اور تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کی اطاعت کرو اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے، تم اسلام لے آئو اور تمہارے رب کی طرف سے تم پر جو احکام نازل کیے گئے ہیں، ان میں سب سے اچھے احکام پر عمل کرو، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو (پھر ایسا نہ ہو کہ) کوئی شخص یہ کہے : ہائے افسوس ! میری ان کوتاہیوں پر جو میں نے اللہ کے متعلق کی ہیں، بیشک میں ضرور مذاق اڑانے والوں میں سے تھا یا یہ کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور متقین میں سے ہوجاتا یا عذاب دیکھتے وقت یہ کہے : کاش ! میرا دنیا میں لوٹنا ممکن ہوتا تو میں نیکوکاروں میں سے ہوجاتا کیوں نہیں، بیشک تیرے پاس میری آیتیں آئیں، سو تو نے ان کی تکذیب کی اور تو کافروں میں سے ہوگیا (الزمر :53-59)

الزمر : ٥٣ کے شان نزول میں متعدد روایات

الزمر : ٥٣ کے شان نزول میں مفسرین کا اختلاف ہے، بعض نے کہا : یہ مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے اور بعض نے کہا کہ یہ آیت کبیرہ گناہ کرنے والے مسلمانوں کے متعلق نازل ہوئی ہے اور بعض نے کہا کہ یہ آیت حضرت حمزہ (رض) کے قاتل حضرت وحشی (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے، ان تینوں اقوال کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :

(١) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ ” آپ کہیے : اے میرے وہ بندو جو (گناہ کرکے) اپنی جانوں پر زیادتی کرچکے ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو “ تو اہل مکہ نے کہا کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کہتے ہیں کہ جو لوگ بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ کا شریک قراردیتے ہیں اور ناحق قتل کرتے ہیں، اس کی بخشش نہیں ہوگی، تو ہم کیسے ہجرت کریں اور اسلام لائیں، حالانکہ ہم نے بتوں کی عبادت کی ہے اور جن کے قتل کو اللہ نے حرام کردیا تھا ہم نے ان کو قتل کیا ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور یہ بتایا کہ تم میری رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ الحدیث(جامع البیان رقم الحدیث : ٢٣٢٤٣، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

(٢) حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کہتے تھے کہ ہماری ہر نیکی قبول کی جائے گی، حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی :

اطیعوا اللہ واطیعو الرسول ولا تبطلوا اعمالکم (محمد :33) اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو

پھر ہم نے کہا : ہمارے نیک اعمال کس چیز سے باطل ہوں گے ؟ تو ہم نے کہا : ناجازب کام اور بےحیائی کے کام ہمارے نیک کاموں کو باطل کردیں گے، پھر جب ہم کسی شخص کو کوئی ناجائز کام یا بےحیائی کا کام کرتے دیکھتے تو کہتے : یہ ہلاک ہوگیا حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوگئی :

ان اللہ لا یغفران یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء : (اللنساء :48-116) بیشک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم گناہ کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم نے اس طرح کہنا چھوڑ دیا، پھر اگر ہم کسی شخص کو ناجائز یا بےحیائی کا کام کرتے ہوئے دیکھتے تو ہمیں اس پر عذاب کا خطرہ ہوتا اور اگر وہ کوئی بُرا کام نہ کرتا تو ہم اس کی مغفرت کی امید رکھتے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٣٢٥٧، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

حضرت وحشی (رض) کا اسلام لانا

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حمزہ (رض) کے قاتل وحشی کی طرف کسی کو بھیج کر بلوایا اور اس کو اسلام کی دعوت دی، اس نے یہ جواب دیا کہ اے محمد ! آپ مجھے اپنے دین کی کس طرح دعوت دے رہے ہیں، حالانکہ آپ یہ کہتے ہیں کہ جس نے قتل کیا یا شرک کیا، زنا کیا، اس کو بہت گناہ ہوگا۔ قیامت کی دن اس کا عذاب دگنا کیا جائے گا اور اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور میں یہ سب کام کرچکا ہوں، کیا آپ میرے لیے کوئی رخصت پاتے ہیں ؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی :

الا من تاب وامن وعمل عملا صالحا فاولئک یبدل اللہ سیاتھم حسنت ط وکان اللہ غفورا رحیما (الفرقان :70)

مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اس نے نیک اعمال کیے تو اللہ اس کی برائیوں کو بھی نیک اعمال سے بدل دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے وحشی نے کہا : اے محمد ! یہ بہت سخت شرط ہے کہ وہ ایمان لانے کے بعد نیک اعمال کرے، ہوسکتا ہے کہ میں اس شرط پر پورا نہ اتر سکوں، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی :

ان اللہ لا یغفران یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء۔ (النساء : 48) بیشک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم گناہ کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔

وحشی نے کہا : اے محمد ! میں دیکھ رہا ہوں کہ اس میں بھی مغفرت اللہ کے چاہنے پر موقوف ہے۔ میں نہیں جانتا کہ میری مغفرت ہوگی یا نہیں۔ کیا اس کے علاوہ بھی کوئی اور صورت ہے ؟ تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی :

یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لاتقنطوا من رحمۃ اللہ ط ان اللہ یغفرالذنوب جمیعا ط انہ ھوالغفور الرحیم (الزمر :53) اے میرے وہ بندو جو (گناہ کرکے) اپنی جانوں پر زیادتی کرچکے ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا، بیشک وہی بہت بخشنے والا ہے، بےحد رحم فرمانے والا ہے وحشی نے کہا : اب ٹھیک ہے، پھر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لے آیا (رضی اللہ عنہ) ۔ لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! اگر ہم بھی وحشی کی طرح گناہ کر بیٹھیں۔ آپ نے فرمایا : یہ حکم تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔

(المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٤٨٠، شعب الایمان ج ٥ ص ٤٢٤، رقم الحدیث : ١٤٠، تاریخ دمشق الکبیر ج ٦٥ ص ٣١٦، رقم الحدیث : ٤١٤٨، مختصر تاریخ دمشق ج ٢٦ ص ٢٦٣، مجمع الزوائد ج ٧ ص ١٠١)

قنوط کا معنی اور عفو اور مغفرت کا فرق

اس آیت میں ” لا تقنطوا “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر قنوط ہے، قنوط کا معنی ہے : سب سے بڑی ناامیدی، قنوط کی تعریف یہ ہے : اللہ کی رحمت سے بالکل مایوس ہونا اور یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب فطرت سلیمہ اور اللہ پر ایمان لانے کی صلاحیت بالکل زائل ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے بندہ کو غرغرہ موت تک توبہ کرنے کی مہلت دی ہے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے تمام گناہوں کی مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے، خواہ گناہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ ہوں، خواہ ان کی تعداد سمندر کے جھاگ، درختوں کے پتوں، ریت کے ذروں اور آسمان کے ستاروں سے بھی زیادہ ہو اور یہ مغفرت عام ہے۔ خواہ یہ مغفرت کچھ سزا دینے کے بعد ہو یا بغیر سزا کے ہو اور یہ مغفرت بندوں کی توبہ سے ہو یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر انبیاء اور مقربین یا ملائکہ کی شفاعت سے ہو یا بغیر کسی کی شفاعت کے محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو۔

مفسرین نے عفو اور مغفرت میں بھی فرق کیا ہے، عفو کا معنی ہے : گناہوں کو مٹا دینا، جیسے فرمایا :

ان الحسنت یذھبن السیات۔ (ھود : 114) بیشک نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں۔ اور مغفرت کا معنی ہے : عذاب کو اٹھا دینا اور رحمت کا معنی ہے : ثواب عطا فرمانا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

الذین یجتنبون کبئر الاثم والفواحش الا اللمم ط ان ربک واسع المغفرۃ۔ (النجم : 32) جو لوگ کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں، ماسوا کسی چھوٹے گناہ کے، بیشک آپ کا رب بہت وسیع مغفرت والا ہے۔

النجم : ٣٢ کی تفسیر میں یہ حدیث ہے :

عن ابن عباس فال النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان تغفر اللھم تغفر جماوای عبدلک لا السما۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! جب تو مغفرت کرے تو سب کی مغفرت کردینا، تیرا وہ کون سا بندہ ہے جس نے کوئی چھوٹا موٹا گناہ نہیں کیا۔ (یہ حدیث حسن صحیح ہے، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٨٤، مسند احمد ج ١ ص ٤١٨۔ ٣٩٤، مسندابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٥٠١٨، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٩٠٥٠، المستدرک ج ٢ ص ٤٦٨ )

حافظ ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی المالکی المتوفی ٥٤٣ ھ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں :

اس حدیث میں حسب ذیل اصولی باتیں ہیں :

١) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہرچند کہ کلام موزوں ہے تاہم یہ شعر نہیں ہے۔

٢) آپ نے فرمایا : وہ تیرا کون سا بندہ ہے جس نے کوئی چھوٹا گناہ نہ کیا ہو، حضرت ابوہریرہ (رض) نے اس کی تفسیر میں کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کا زنا سے حصہ لکھا دیا ہے، جس کو وہ لامحالہ پائے گا، پس آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا (غیر محرم کو) دیکھنا ہے اور زبان کا زنا (فحش) کلام ہے اور نفس تمنا کرتا ہے اور بری خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦١٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢١٥٢) پس یہ گناہ جو انسان کے لیے مقدر کیے گئے ہیں یہ ان کی کثیر گناہوں میں داخل ہیں جو معاف کردیئے جائیں گے۔

(٣) اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کے زنا کا حصہ لکھ دیا ہے، اس سے انبیاء (علیہم السلام) مستثنیٰ ہیں، ان کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے کیونکہ وہ معصوم ہیں۔

(٤) شرم گاہ کے علاوہ جو زنا ہے وہ عبادات سے معاف ہوجائے گا اور شرم گاہ کا زنا توبہ سے یا زیادہ عبادت سے یا محض اللہ کے فضل سے یا کچھ عرصہ کے بعد دوزخ سے نکال کر معاف کردیا جائے گا، یا محض اللہ کے فضل سے معاف کردیا جائے گا اور انسان کا چھوٹے چھوٹے گناہوں میں مبتلا ہوئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ یہ عادت بشری اور خلقت جبلی ہے۔ (عارضہ الاحوذی ج ١٢ ص ١٢٥، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٨ ھ)

اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت سے مایوسی کی ممانعت کے متعلق آیات، احادیث اور آثار

اس آیت کریمہ میں تمام گناہ گاروں کو خواہ وہ مومن ہوں یا کافر توبہ کرنے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے سارے گناہ معاف فرمادے گا، خواہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہوں اور اس آیت کو بغیر توبہ کے مغفرت پر محمول کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ بغیر توبہ کے شرک کی مغفرت نہیں ہوتی اور اس مطلوب پر حسب ذیل احادیث میں دلیل ہے :

(١) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ بعض مشرکین نے بہت زیادہ قتل کیے تھے اور بہت زنا کیا تھا، وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور انہوں نے کہا : آپ ہمیں جس دین کی دعوت دے رہے ہیں وہ بہت خوب ہے کاش ! آپ ہمیں یہ بتاتے کہ ہماری بداعمالیوں کا کوئی کفارہ ہے ؟ تب یہ آیات نازل ہوئی :

والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخرولا یقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق ولا یزنون ومن یفعل ذلک یلق اثاما یضعف لہ العذاب یوم القیمۃ ویخلدو فیہ مھاتا الا من تاب وامن وعمل عملا صا لحا فاو لئک یبدل اللہ سیاتھم حسنت وکان اللہ غفور الرحیما (الفرقان :68-70)

اور جو لوگ الیہ کے ساتھ کسی اور معبود کی عبادت نہیں کرتے اور وہ کسی ایسے شخص کو ناحق قتل نہیں کرتے جس کے قتل کو اللہ نے حرام کردیا ہو اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جو شخص ان کاموں کو کرے گا اس کو سخت عذاب ہوگا قیامت کے دن اس کے عذاب کو دگنا کیا جائے گا اور وہ ذلت کے ساتھ اس میں ہمیشہ رہے گا سو ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، اللہ ان کے گناہوں کو بھی نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے

اور یہ آیت نازل ہوئی :

قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفرالذنوب جمیعا۔ (الزمر : 53) آپ کہیے : اے میرے وہ بندوں جنہوں نے (گناہ کرکے) اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٨١٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٢٧٤، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٩٩٢)

(٢) حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر مجھے اس آیت : (الزمر : ٥٣) کے بدلہ میں دنیا اور مافیہا بھی مل جائے تو مجھے پسند نہیں ہے، ایک شخص نے پوچھا : یارسول اللہ ! اور جو شخص مشرک ہو ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے، پھر آپ نے تین بار فرمایا : ماسوا مشرکین کے (یعنی اس آیت کے عموم میں مشرکین کی مغفرت داخل نہیں ہے) ۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٢٧٥ طبع قدیم، مسند احمد ج ٣٧ ص ٤٥ رقم الحدیث : ٢٢٣٦٢، مؤسستہ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢١ ھ)

فرقان : ٧٠۔ ٦٨ میں توبہ کرنے کی دعوت دی ہے اور یہ دعوت مؤمنین اور مشرکین دونوں کو عام ہے اور الزمر : ٥٣ میں صرف مغفرت کا ذکر ہے خواہ وہ مغفرت توبہ کے ساتھ ہو یا بغیر توبہ کے اور یہ مغفرت مؤمنوں کے ساتھ مخصوص ہے، مشرکین کو شامل نہیں ہے جیسا کہ مسند احمد کی مذکور الصدر حدیث سے واضح ہوگیا۔ اس سلسلہ میں تیسری حدیث یہ ہے :

(٣) حضرت عمر بن عبسہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کی بہت بوڑھا شخص آیا جو ایک لاٹھی کے سہارے آیا تھا، اس نے کہا : یارسول اللہ ! میں نے بہت عہد شکنیاں کی ہیں اور بہت گناہ کیے ہیں، کیا میری مغفرت ہوجائے گی ؟ آپ نے پوچھا : کیا تم اس کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ؟ اس نے کہا : کیوں نہیں اور میں اس کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے فرمایا : تمہاری عہد شکنیوں اور گناہوں کی مغفرت کردی گئی۔ (مسند احمد ج ٤ ص ٣٨٥ طبع قدیم، مسند احمد ج ٣٢ ص ١٧١، مؤسستہ الرسالتہ، ١٤٢٠ ھ، رسائل ابن ابی الدنیا، حسن الظن باللہ رقم الحدیث : ١٤٥، ، مجمع الزوائد ج ١ ص ٣٢، المطالب العالیہ رقم الحدیث : ٢٨٤٧، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٣٤٣٣، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٣٤٢، المعجم الصغیر رقم الحدیث : ١٠٢٥، الاحاد والمثانی رقم الحدیث : ٢٧١٨، مسند البزار رقم الحدیث : ٣٢٤٤، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧٢٣٥)

اور حسب ذیل آیات میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے کی تلقین فرمائی ہے :

الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ۔ (التوبہ 104:) کیا ان لوگوں کو یہ علم نہیں کہ بیشک اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔

ومن یعمل سوء اویظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ بحد اللہ غفورا رحیما (النساء :110)

جو شخص کوئی بُرائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے استغفار کرے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا، بےحد مہربانی کرنے والا پائے گا لقد کفر الذین قالوان اللہ ثالث ثلتۃ وما من الہ الا الہ واحد وان لم ینتھوا عما یقولون لیمسن الذین کفرو امنھم عذاب الیم افلایتوبون الی اللہ ویستغفرونہ واللہ غفور رحیم (المائدہ : 73-74) بیشک وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا : اللہ تین میں کا تیسرا ہے اور ایک معبود کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور اگر یہ لوگ اپنے اس قول سے باز نہیں آئے تو ان میں سے کفر کرنے والوں پر ضرور عذاب عظیم آئے گا یہ لوگ اللہ کی طرف توبہ کیوں نہیں کرتے اور اس سے استغفار کیوں نہیں کرتے اور اللہ بہت بخشنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے

اس آیت میں عیسائیوں کو توبہ کی تلقین فرمائی ہے۔ یہ اس کا انتہائی کرم ہے کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے دوستوں کو قتل کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی توبہ اور استغفار کی دعوت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کا اندازہ اس حدیث سے کیا جاسکتا ہے :

حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بنی اسرائیل میں ایک شخص نے ننانوے انسان کو قتل کردیا، پھر وہ لوگوں سے سوال کرنے نکلا، اس نے ایک راہب (پیر) سے سوال کیا : آیا اس کی توبہ ہوسکتی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، اس شخص نے اس کو بھی قتل کردیا، پھر وہ شخص سوال کرنے کے لیے نکلا تو ایک شخص (مسلم کی روایت میں ہے، عالم) نے اس سے کہا : فلاں فلاں بستی میں جائو، تو اس کو موت نے آلیا، اس نے اپنا سینہ اس بستی کے قریب کرلیا، پھر رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں اس کے متعلق بحث ہوئی تو اللہ نے اس زمین کو حکم دیا کہ وہ قریب ہوجائے اور اس زمین کو حکم دیا کہ وہ دور ہوجائے اور فرمایا : ان دونوں زمینوں کی پیمائش کرلو، تو وہ زمین ایک بالشت زیادہ قریب تھی سو اس کی مغفرت کردی گئی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٧٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٦٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٦٢٤، مسند احمد ٣ ص ٧٢، ٠ ہقدیم، مسند احمد ج ١٧ ص ٢٤٤، رقم الحدیث : ١١١٥٤، مسند ابویعلیٰ رقم الحدیث : ١٠٣٣، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦١١)

اللہ کی رحمت اور مغفرت اس قدر وسیع ہے کہ سو آدمیوں کا قاتل بھی اس سے توبہ کرے تو وہ معاف فرما دیتا ہے، اس لیے انسان سے خواہ کتنا بڑا گناہ کیوں نہ ہوجائے اس کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن مجید میں مؤمنین کی مغفرت کے متعلق متعدد آیات ہیں اور یہ ان میں سب سے اہم آیت ہے۔ بعض علماء نے کہا : موجدین کے لیے سب سے زیادہ امید افزاء یہ آیت ہے :

ان اللہ لایغفران یشرک بہ ویغفرمادون ذلک لمن یشاء۔ (النساء :48) بیشک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم گناہ جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے بخشش کے متعلق سب سے امید افزاء یہ آیت ہے :

ولسوف یعطیک ربک فترضی (الضحیٰ : 5) عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا دے دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : آپ کی رضا یہ ہے کہ آپ کی تمام امت جنت میں داخل کردی جائے۔ (شعب الایمان ج ٣ ص ١٦٤، رقم الحدیث : ١٤٤٥ )

الخطیب نے ایک اور سند کے ساتھ ” تلخیص المتشابہ “ میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ اگر آپ کی امت کا ایک شخص بھی دوزخ میں ہو تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) راضی نہیں ہوں گے۔

(الدرالمنثور ج ٨ ص ٤٩٨، روح المعانی جز ٣٠ ص ٣٨٨)

امام مسلم نے اپنی ” صحیح “ میں حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جبرائیل سے فرمائے گا اے جبرائیل ! محمد کے پاس جائو اور ان سے کہو کہ آپ کو آپ کی امت کے متعلق راضی کردیں گے اور رنجیدہ ہونے نہیں دیں گے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٢، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٢٦٩ )

حافظ ابو نعیم احمد بن عبداللہ اصبہانی متوفی ٤٣٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حرب بن شریح روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین سے کہا : میں آپ پر فدا کیا جائوں، یہ بتائیے کہ یہ شفاعت جس کا اہل عراق ذکر کرتے ہیں آیا یہ حق ہے یا نہیں ؟ امام نے پوچھا : کس کی شفاعت ؟ میں نے کہا : سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی، امام نے کہا : ہاں اللہ کی قسم ! مجھے میرے چچا محمد بن حنفیہ نے حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہوئے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اپنی امت کے لیے شفاعت کروں گا، حتیٰ کہ میرا رب عزوجل ندا فرمائے گا : اے محمد ! کیا آپ راضی ہوگئے، میں کہوں گا : ہاں ! اے میرے رب ! میں راضی ہوگیا، پھر امام نے مجھ سے کہا : اے اہل عراق کی جماعت ! تم یہ کہتے ہو کہ قرآن مجید میں سب سے امید افزاء آیت یہ ہے : ” یعبادی الذین اسرفو علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ط ان اللہ یغفر الذنوب جمعیا “ (الزمر : ٥٣) میں کہتا ہوں کہ یہ آیت بھی ہے لیکن ہم اہل بیت یہ کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ امید افزاء یہ آیت ہے : ” ولسوف یعطیک ربک فترضی “ (الضحیٰ : ٥) اور یہ شفاعت کی آیت ہے۔ (حلیۃ الاولیاء ج ٣ ص ١٧٩ قدیم، حلیۃ الاولیاء ج ٣ ص ٢٠٩، رقم الحدیث : ٣٧٢٥، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٨ ھ، مسند البزار رقم الحدیث ٢٤٦٦، الترغیب والترہیب للمنذریج ٤ ص ٤٦٦، مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٣٧٧، کنزالعمال رقم الحدیث : ٣٩٧٥٨، معالم التنزیل ج ٥ ص ٢٦٧، الدرالمنثور ج ٨ ص ٤٩٨، روح المعانی جز ٣٠ ص ٢٨٨)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 39 الزمر آیت نمبر 53