درخواست ہے کہ ضرور پڑھئیے گا ۔ ایمان اور توکل مزید پختہ ہوگا۔ حوصلہ بڑھے گا

واہ رے مؤمن ! تیرے رب کو تجھ سے اتنی محبت ہے

اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے :

🌹 وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ

(سورة الأنبياء/ 35 )

( ترجمہ) اور ہم آزمائیں گے تمھیں برے اور بھلے کے ساتھ ۔

✒️ باہمی تعلقات ہوں تب کچھ مواقع پر آزمائشیں ہوتی ہے ۔ کوئی راہ و رسم ہی نہ ہو تو کیا لینا دینا ۔ درج بالا آیت میں بھی دیگر متعدد آیات طیبات میں بیان شدہ حقیقت ہی واضح کی گئی ہے کہ

تم مؤمنین ( اپنے ) ہو سو آزمائشیں تو آئیں گی اور آئیں گی بھی ہماری جانب سے۔ کبھی نعمتیں عطاء کر کے اور کبھی نعمتیں واپس لے کر کے ۔ گاہے احوال بڑے ستم زدہ سے لگ رہے ہوں گے اور گاہے وسعت و عافیت نصیب ہو گی ۔ کبھی مَصَائِب کا سامنا ہوگا اور پھر نعمتوں کی بارش ۔

دنوں کے اس الٹ پھیر کا مقصد یہ ہے کہ واضح ہو جائے کون ہر حال میں شاکر و صابر ہے اور کون آسائشات میں اپنا دکھائی دینے والا بوقت قربانی و آزمائش تعلقات توڑنے والا ، شکوے شکایات پر اتر جانے والا ہو جاتا ہے ؟۔ کس کی آس ہمارے ہی ساتھ جڑی رہتی ہے اور کون آس امید کا دامن جھٹک کر ناشکرگذاری اختیار کر لیتا ہے؟ ۔

کون ہے جو صحت و سلامتی میں بھی عبادات بجا لاتا رہتا ہے اور مرض و الم میں بھی؟ ، خوشحالی اور تنگدستی دونوں حالتوں میں حسب توفیق ہمارے لیئے خرچ کرنے والے کون کون ہیں ؟ ۔

یہ سب یہیں اسی دنیا میں اہل دنیا پر واضح ہو جائے ۔

💚 اللّٰہ تبارک وتعالیٰ خیر کے ذریعے آزماتا ہے ، اس کی ایک صورت فقیر کے ذہن میں

یہ بھی آتی ہے کہ کوئی بندہ کسی کار خیر کی انجام دہی میں مصروف عمل ہوتا ہے ( اور امور خیر اور ان کی بجاآوری آسان ہدف کبھی نہیں ہوتا ۔) خیر کے اس کام میں مشغولیت کے دوران ہی کوئی اور کار خیر مشیت ایزدی اس کے سامنے لے آتی ہے اور وہ بھی اس طور پر کہ یہ پہلے والے سے بھی زیادہ بڑھ کر اہم ، اور مقدم لگتا ہے۔ چنانچہ اب مزید مساعی ، پہلے سے زیادہ تفکرات و تدابیر کو اختیار کرنا لازم ہو جاتا ہے ۔ کام زیادہ کیا جائے تو شاباش اور مزدوری بھی تو زیادہ ہی ملتی ہے ۔

✅ ان ابتلاؤں ، آزمائشوں ، مصیبتوں کا ایک مدعائے ربانی اور بھی ہے جو درج ذیل حدیث شریف میں بتایا گیا ہے ۔

” حضرت سَعْد کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا ،

: يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تمامی لوگوں میں سے زیادہ سخت آزمائشیں کن کی کی جاتی ہیں ؟

جواب ملا ،:

( الأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ ، فَيُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ ، فَإِنْ كَانَ دِينُهُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ ، فَمَا يَبْرَحُ البَلَاءُ بِالعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ مَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ”.

📗 جامع الترمذي، سنن النسائي ، سنن ابن ماجة ، مسند الدارمي، صحيح ابن حبان .

( ترجمہ): انبیاءِ کرام على نبينا و علیهم الصلاۃ والسلام کی،

پھر جو اُن سے درجہ بدرجہ زیادہ قریب ہوتا ہے، ہر آدمی کی آزمائش اس کے دینی مقام کے مطابق ہوتی ہے، جس کا ایمان مضبوط اس کی آزمائش بھی سخت اور بلند ، اور دین میں کمی ہو تو اسی دینی حالت کے بقدر آزمائش ہوتی ہے، بہرحال آزمائش بندہ مؤمن کے ساتھ لگی رہتی ہے یہاں تک کہ اسے اس حال میں کر چھوڑتی ہے کہ وہ زمین پر چلتا ہے اور اس پر کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔

🌷حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ تبارک وتعالیٰ علیہ و علی آلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا

: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ»[1]؛ رواه البخاري

📗 رياض الصالحين .

” اللہ تعالیٰ جس (مؤمن) کے ساتھ ارادہ خیر فرماتے ہیں اسے مبتلاء مصائب فرما دیتے ہیں۔ بخاری نے اسے روایت کیا ہے ۔

🤲 یا اللہ ہمیں تسلیم ہے کہ یہ مصائب و ابتلائیں ہمارے گناہوں اور خطاؤں کا کفارہ ہیں لیکن اے ہمارے کریم رب ، ہم کمزور ان کی سکت نہیں کرتے اور تو جبار ( کمزوریوں کو خود پورا کرنے والا ) ہے ، غفار ( گناہوں پر پردہ ڈالنے والا ) ہے رحمان و رحیم ہے ، آزمائش کے بغیر ہی ہمیں گناہوں اور خطاؤں سے جنم دن کی طرح پاک صاف بنا دے اے ارحم الراحمین ۔