أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حٰمٓ‌ ۞

ترجمہ:

حا میم

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

حامیم یہ الرحمن الرحیم کی طرف سے نازل کیا ہوا کلام ہے یہ ایسی کتاب ہے جس کی آیتوں کی تفصیل کی گئی ہے، علم والوں کے لیے عربی قرآن ہے ثواب کی خوشخبری دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا، پس ان میں سے اکثر نے منہ پھیرلیا سو وہ نہیں سنیں گے اور انہوں نے کہا : جس دین کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں، ہمارے دلوں میں اس سر، پردے ہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان حجاب ہے، سو آپ اپنا کام کیجئے، ہم اپنا کام کرنے والے ہیں (حٰم ٓ السجدۃ : 1-5)

حٰم ٓ کے معانی

وہ سات سورتیں جن کو حٰم ٓ سے شروع کیا گیا ان میں حٰم ٓ السجدۃ دوسری سورت ہے، مفسرین نے کہا ہے کہ حٰم ٓ اس سورت کا نام ہے اور بعض نے کہا ہے کہ حٰم ٓ قرآن مجید کا نام ہے اور اس کا قرآن مجید پر اطلاق حقیقتاً ہے، ایک قول یہ ہے کہ ح سے حبیب کی طرف اور م سے محبوب کی طرف اشارہ ہے گویا کہ یوں فرمایا : یہ حبیب سے محبوب کی طرف خطاب ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ح سے حکمت کی طرف اور میم سے منت کی طرف اشارہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر منت اور احسان ہے کہ اس نے اپنی حکمت سے معمور کلام کو ان کی طرف نازل فرمایا، اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اور اس کی رحمت ہر چیز کو محیط اور شامل ہے، اسی وجہ سے اس نے تمام موجودات کو پیدا فرمایا۔

قرآن مجید کی دس صفات

ہم نے حٰم ٓ کے معانی میں ایک یہ معنی بیان کیا ہے کہ حٰم ٓ قرآن مجید کا نام ہے، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تین آیتوں میں قرآن مجید کی دس صفات بیان فرمائی ہیں :

(١) قرآن مجید کا نام حٰم ٓ ہے اور اس کی صفت یہ ہے کہ یہ منزّل ہے یعنی اس کو تھوڑا تھوڑا کرکے حسب ضرورت و مصلحت ناز کیا گیا ہے۔

(٢) اس کو نازل کرنے والا الرحمن اور الرحیم ہے اور جس طرح اس نے اپنی رحمت کے تقاضے سے صحت مند لوگوں کے لیے مقوی غذائیں پیدا فرمائیں ہیں اور بیماروں کے لیے دوائیں پیدا فرمائی ہیں اسی طرح قرآن مجید میں اپنی رحمت تقاضے سے بندوں کو اس واحد ذات کی طرف ہدایت دی ہے جو ان کی اطاعت اور عبادت کا مستحق ہے اور دنیا میں صالح حیات گزارنے کے لیے جامع دستور عطا فرمایا ہے جس پر عمل کرکے انسان دنیا اور آخرت میں فوز و فلاح حاص کرسکتا ہے۔

(٣) (ا) اس کلام کو کتاب فرمایا ہے اور کتاب اس چیزکو کہتے ہیں جہ چند مضامین کی جامع ہو اور یہ کلام اولین اور آخرین کے اہم اور ضروری قصص اور واقعات کا جامع ہے (ب) یہ کلام ہدایت کی تمام انواع اور اقسام کا جامع ہے (ج) انسان کو اپنی دائمی فوز و فلاح کے حصول میں جن چیزوں سے مجتنب ہونا ضروری ہے اور جن چیزوں سے متصف ہونا ضروری ہے یہ کلام ان تمام چیزوں کا جامع ہے۔

(٤) اس کلام کی آیات کی تفصیل کی گئی ہے، یعنی اس کی آیات متعدد انواع کی ہیں : (ا) بعض آیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے وجود کا بیان ہے (ب) بعض آیات میں اللہ کی ان چیزوں سے تنزیہ بیان کی گئی ہے جو اس کے لیے موجب نقص ہیں اور اس کی شان کے لائق نہیں ہیں (ج) بعض آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات کو بیان فرمایا ہے (د) بعض آیات میں اس کے وجود پر دلائل ہیں (ہ) بعض آیات میں اس کی توحید کے دلائل ہیں اور اس کے استحقاق عبادت کے براہین ہیں (و) بعض آیات میں نبیوں اور رسولوں کی ضرورت اور ان کی صفات کا بیان ہے (ز) بعض آیات میں احکام شرعیہ کا ذکر ہے (ح) بعض آیات میں قیامت اور حشر ونشر کے دلائل ہیں (ط) بعض آیات میں گزشتہ امتوں کے صالحین اور فاسقین کے قصص ہیں ہیں (ی) بعض آیات میں اعمال کے حساب، میزان، شفاعت، جنت، دوزخ اور ثواب اور عذاب کی تفصیلات ہیں، سو یہ آیات کی دس انواع ہیں۔

(٥) حٰم ٓ سے مراد قرآن مجید ہے اور اس کی ایک صفت یہ ہے کہ یہ قرآن ہے، قرآن لفظ قرء سے بنا ہے یا قرن سے، اگر قرء سے بناہو تو قرء کا معنی ہے پڑھنا اور اس کو قرآن اس لیے فرمایا کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے، قرآن مجید کے سوا دنیا میں کسی کتاب کا کوئی حافظ نہیں ہے، ایک بار پنڈت رام چند نے صدرالافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی سے کہا : کہ مجھے تمہارے قرآن کے چودہ پارے حفظ ہیں، تم بتائو تمہیں ہمارا وید کتنا حفظ ہے ؟ صدر الافاضل نے فرمایا : یہ تو میرے قرآن کا کمال ہے کہ وہ دشمن کے سینہ میں بھی چلا گیا اور یہ تمہارے وید کا نقص ہے کہ تمہیں خود بھی وید کی عبارت حفظ نہیں ہے، مکمل وید کو حفظ کرنا تو الگ رہا تم مجھے اس کے چند صفحات کی عبارت ہی زبانی سنادو، یہ سن کر پنڈت رام چند لاجواب ہوگیا اور اگر قرآن کا لفظ قرن سے بنا ہو تو اس کا معنی ہے ملنا اور ملانا، سو اس کو قرآن اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی تمام سورتیں اور آیتیں باہم مربوط اور ملی ہوئی ہیں اور یہ قرآن بندوں کو خدا سے ملا دیتا ہے۔

(٦) قرآن عربی زبان میں ہے کیونکہ اللہ تعالٰ کا ارشاد ہے :

وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ۔ (ابراہیم : 4) ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں مبعوث فرمایا ہے۔

اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں ” استبرق “ کا لفظ ہے (الکہف :31) کا معنی ہے ریشم اور سونے کے تاروں کا بنا ہوا کپڑا اور یہ فارسی زبان کا لفظ ہے اور قرآن مجید میں ” سجیل “ کا لفظ ہے (ھود :82) اس کا معنی ہے کنکر اور یہ بھی فارسی کا لفظ ہے، اور قرآن مجید میں ” مشکوۃ “ کا لفظ ہے (النور :35) اس کا معنی ہے طاق اور یہ حبشی زبان کا لفظ ہے اور قرآن مجید میں ” الطور “ کا لفظ ہے (الطور :1) اس کا معنی ہے پہاڑ اور یہ سریانی زبان کا لفظ ہے اور قرآن مجید میں ” التنور “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے تندور اور یہ ہندی زبان کا لفظ ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ الفاظ لغات متد اخلہ میں سے ہیں، یعنی ان زبانوں میں بھی مستعمل ہیں اور عربی میں بھی مستعمل ہیں، دوسرا جواب یہ ہے کہ ہرچند کو یہ الفاظ دوسری زبانوں کے تھے لیکن جب عربوں نے ان الفاظ کو قبول کرلیا اور عربوں میں یہ الفاظ بولے جانے لگے تو گویا کہ عربی زبانوں کے تھے لیکن جب عربوں نے ان الفاظ کو قبول کرلیا اور عربوں میں یہ الفاظ بولے جانے لگے تو گویا کہ یہ عربی زبان میں نازل ہوا ہے بلکہ اس کا یہ معنی ہے کہ یہ عربی اسلوب پر نازل ہوا ہے لیکن یہ جواب صحیح نہیں ہے اور بعض علماء نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اس کے تمام الفاظ عربی ہیں بلکہ اس کا یہ معنی ہے کہ اس کے اکثر الفاظ عربی ہیں، یہ جواب صحیح تو ہے لیکن عمدہ جواب نہیں ہے۔

(٧) علم والوں کے لیے عربی قرآن ہے، علم والوں کے لیے اس وجہ سے فرمایا کہ عربی اسلوب اور عربی قواعد کے اعتبار سے جو اس کے نکات ہیں ان کو علم والے ہی سمجھ سکتے ہیں، مثلاً مبتداء کسی جگہ مقدم ہوتا ہے، کسی جگہ مؤخر ہوتا، کہیں اسم ظاہر لایا جاتا ہے کہیں اسم ضمیر کو لایا جاتا ہے، کہیں حصر ہوتا ہے، کہیں فصل اور وصل ہوتا ہے، کہیں اجمال اور کہیں تفصیل ہوتی ہے، کہیں کسی لفظ سے حقیقت مراد ہوتی ہے کہیں اس سے مجاز مرسل اور کہیں مجاز بالا استعارہ مراد ہوتا ہے، کہیں کسی چیز کو ذکر کیا جاتا ہے اور کہیں حذف کردیا جاتا ہے، کہیں مقتضیٰ ظاہر حال کے موافق کلام ہوتا ہے کہیں خلاف مقتضیٰ ظاہر حال کلام ہوتا ہے، علی ہٰذا القیاس اور یہ ایسے امور ہیں کہ ان کو فضاحت و بلاغت اور فنون عربیہ کے جاننے والے ہی سمجھ سکتے ہیں اسی لیے فرمایا ہے :

وتلک الامثال نضربھا للناس وما بعقلھا الا العلمون (العنکبوت : 43) ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لیے بیان فرما رہے ہیں، ان کو صرف علماء ہی سمجھ سکتے ہیں

(٨) یہ قرآن بشارت دینے والا ہے، یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں اور برے کاموں سے بچتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ان کے لیے قرآن مجید آخرت میں دائمی نعمتوں اور اجروثواب کی بشارت دینے والا ہے۔

(٩) یہ قرآن ڈرانے والا ہے، یعنی جو لوگ اللہ اور رسول پر ایمان نہیں لاتے، شرک اور کفر کرتے ہیں اور فسق وفجور کے کام کرتے ہیں اور لوگوں پر ظلم کرتے ہیں، ان کے لیے قرآن مجید آخرت میں دائمی عذاب اور دوزخ کی وعید سنانے والا ہے۔

(١٠) کافروں نے قرآن مجید کے پیغام پر کان نہیں دھرا اور اس سے اعراض کیا، بظاہر قرآن مجید کو سنتے ہیں لیکن وہ اس میں غور و فکر نہیں کرتے اور اس کی ہدایت کو قبول نہیں کرتے اور ہدایت یافتہ وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے اور جس کو وہ گمراہی میں چھوڑ دے وہ گمراہ ہے، اس سے پہلے قرآن مجید کی جو نوصفات بیان فرمائی ہیں ان کا تقاضا یہ ہے کہ قرآن مجید کے معانی میں غور و فکر کیا جائے، تدبر اور تفکر کیا جائے کیونکہ اس کو الرحمن اور الرحیم نے نازل کیا ہے، اس لیے اس میں لوگوں کی دائمی رحمت کا سامان ہے اور یہ عربی زبان میں ہے، اس لیے اس سے استفادہ کرنا آسان ہے اور اس میں ثواب کی خوشخبری اور عذاب کی وعید ہے، اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ ان احکام کو جانے جن پر عمل کرنے سے وہ ثواب کا مستحق ہوگا اور ان کاموں کی واقفیت حاصل کرے جن کے نتیجہ میں وہ عذاب کا مستحق ہوگا، اس کے باوجود انہوں نے قرآن مجید سے اعراض کیا اور اس کی طرف توجہ نہیں کی، اللہ تعالیٰ کو یہ شکوہ کافروں سے ہے، لیکن اب اکثر مسلمانوں نے بھی عملاً قرآن کریم سے اعراض کیا ہوا ہے، وہ قرآن کو اللہ کا کلام مانتے ہیں، اس کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں، مخمل کے غلاف میں اس کو لپیٹ کر رکھتے ہیں، لیکن اس کی تلاوت نہیں کرتے، کوئی عزیز فوت ہوجائے تو بس سورة یٰسین کی تلوات کرلیتے یا کسی دینی مدرسہ سے کچھ طلبہ بلوا کر ختم قرآن کر الیتے ہیں، اس کے معانی کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے اس کے احکام پر عمل کرنا بہت دور کی بات ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 41 فصلت آیت نمبر 1