أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَللّٰهُ لَطِيۡفٌۢ بِعِبَادِهٖ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ‌ۚ وَهُوَ الۡقَوِىُّ الۡعَزِيۡزُ۞

ترجمہ:

اللہ اپنے بندوں پر بہت نرمی کرنے والا ہے، وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ بہت قوت والا، بےحد غلبہ والا ہے

الشوریٰ : ١٩ میں فرمایا : ” اللہ اپنے بندوں پر بہت نرمی کرنیوالا ہے، وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ بہت قوت والا، بےحد غلبہ والا ہے “

بندوں پر اللہ تعالیٰ کے لطیف ہونے کا معنی

اس آیت میں فرمایا ہے : ” اللہ اپنے بندوں پر لطیف ہے “۔

علامہ عبدالقادر رازی حنفی متوفی ٦٦٠ ھ لکھتے ہیں : جو چیز باریک ہو اس کو لطیف کہتے ہیں اور کسی کام میں نرمی اور ملائمت کرنے کو لطیف عمل کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لطیف ہونے کا معنیٰ ہے : وہ نیکی کی توفیق دینے والا ہے اور گناہوں سے حفاظت فرمانے والا ہے۔ (مختار الصحاح ص ٣٤٧، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٩ ھ)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اس آیت کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر شفیق ہے، عکرمہ نے کہا : وہ بندوں کے ساتھ نیکی کرنیوالا ہے۔ سدی نے کہا : وہ ان کے ساتھ نرمی کرنے والا ہے۔ مقاتل نے کہا : وہ نیک اور بد دونوں کے ساتھ لطیف ہے، کیونکہ وہ بدکاروں کے گناہوں کی وجہ سے ان کو بھوکا نہیں مارتا، کیونکہ اس نے فرمایا ہے : وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ مومن اور کافر میں سے جس کو چاہتا ہے رزق عطا فرماتا ہے۔ امام جعفر صادق نے فرمایا : اللہ تعالیٰ رزق عطا فرمانے اور دو اعتبار سے لطیف ہے، ایک یہ کہ اس نے تم کو طیبات سے رزق عطا فرمایا ہے، دوسرے یہ کہ اس نے تم کو ایک ہی بار سب رزق نہیں عطا فرمایا بلکہ وہ تم کو بتدریج رزق عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ قوی اور عزیز ہے، یعنی وہ ہر اس چیز پر قادر ہے جس کو چاہے اور وہ سب سے زیادہ اور سب پر غالب ہے۔ (اللباب فی علوم الکتاب ج ١٧ ص ١٨٣، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٩ ھ)

امام غزالی نے فرمایا : لطیف وہ ہے جو اشیاء کی باریک ترین مصلحتوں کو جاننے والا ہو اور ہر مصلحت کو اس کے مستحق تک نرمی اور آسانی سے پہنچانے والا ہو، اللہ تعالیٰ کے لطف کے آثار میں سے یہ ہے کہ اس نے ماں کے پیٹ میں بچے کو رحم کے تین تاریک پردوں میں پیدا کیا اور پیٹ میں اس کی حفاظت فرماتا رہا اور ناف کے ذریعہ سے ماں کے پیٹ میں اس کی غذا پہنچاتا رہا، حتیٰ کہ وہ ماں کے پیٹ سے باہر آگیا اور اپنے منہ کے ذریعہ غذا کو کھانے پر قادر ہوگیا، پھر اس کے اندر یہ بات ڈالی کہ وہ ماں کا دودھ پیتا رہا خواہ دن ہو یا رات ہو اور یہ کام اس بچہ کو کسی نے سکھایا تھا نہ اس نے کسی کو پہلے اس طرح دودھ پیتے ہوئے دیکھا تھا، اسی طرح مرغی کے انڈے سے جیسے ہی چوزہ باہر آتا ہے وہ دانہ دنکا چگنے لگتا ہے، کہتے ہیں کہ فطرت ہر جاندار کو جینے کے طور طریقے سکھادیتی ہے، لیکن اس فطرت کا خالق کون ہے، انسان پر اللہ تعالیٰ کا پہلا کرم یہ ہے کہ اس نے انسان کو جمادات کے عالم سے نباتات کے عالم کی طرف منقل کیا یعنی انسان اپنی خلقت کے پہلے مرحلہ میں قطرہ آب کی طرح جامد تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں نشو و نما رکھ کر اس کو نباتات کے عالم میں منتقل کیا۔ پھر عالم نباتا سے اس کو حیوانات کے عالم میں داخل کیا اور اس کے اندر حس اور حرکت ارادیہ رکھی، پھر اس میں نطق رکھ کر اس کو انسان بنایا، پھر اس کو قلیل مدت کی فانی اور متناہی زندگی دی اور اس قلیل مدت میں نیک اعمال کرنے کے بعد اس کو غیر متناہی اور لافانی زندگی کا حق دار بنایا اور یہ اللہ تعالیٰ کا انسان پر بےحد لطف و کرم ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 42 الشورى آیت نمبر 19