أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا اخۡتَلَـفۡتُمۡ فِيۡهِ مِنۡ شَىۡءٍ فَحُكۡمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ‌ ؕ ذٰ لِكُمُ اللّٰهُ رَبِّىۡ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُۖ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ۞

ترجمہ:

اور جس چیز میں تمہارا کچھ بھی اختلاف ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کی طرف راجع کرو، یہی اللہ (حاکم) ہے جو میرا رب ہے، اسی پر میں نے توکل کیا ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور جس چیز میں تمہارا کچھ بھی اختلاف ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کی طرف راجع کرو، یہی اللہ (حاکم) ہے جو میرا رب ہے، اسی پر میں نے توکل کیا ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں وہ آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے بنائے اور مویشیوں سے جوڑے بنائے، وہ تمہیں اس میں پھیلاتا ہے، اس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے، وہ ہر بات کو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے “

نزاعی اور اختلافی امور کو اللہ پر چھوڑ دینے کی متعدد تفسیریں

اس سے پہلی آیتوں میں یہ بتایا تھا کہ کافروں کو مومن بنادینا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قدرت اور اختیار میں نہیں ہے اور اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ کسی معاملہ میں بھی بحث نہیں کرنی چاہیے، ان کافرون کے ساتھ جس چیز میں بھی اختلاف ہو ان کو چاہیے کہ اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں، اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن اہل حق کو جزا دے گا اور اہل باطل کو سزا دے گا، اس آیت کی مفسرین نے حسب ذیل محامل بیان کیے ہیں :

(١) مسلمانوں کا جس سے بھی اختلاف ہو تو وہ اس معاملہ میں صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فیصلہ کرائیں، کسی اور سے فیصلہ نہ کرائیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فان تنازعتم فی شیء فردوۃ الی اللہ والرسول “ (النساء :59) اگر تمہارا کسی چیز میں اختلاف ہو تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو ۔

(٢) جب تمہارا کسی ایسی چیز میں اختلاف ہو جس کے علم اور اس کی حقیقت تک رسائی کا تمہارے پاس کوئی ذریعہ نہ ہو تو اس چیز کے فیصلہ کو تم اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دو جیسے روح کی حقیقت کو جاننے کا مسلمانوں کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے، قرآن مجید میں ہے : ویسئلونک عن الروچ قل الروح من امر ربی۔ (بنواسرائیل :85) اور یہ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ کہیے کہ روح میرے رب کے امر سے ہے۔

(٣) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ مسلمانوں سے یہ فرمائیں کو جب تمہارا کسی معاملہ میں کفار سے اختلاف ہو تو ان سے بحث نہ کرو اور اس معاملہ کو اللہ پر چھوڑ دو ۔

(٤) اس آیت میں علماء کو یہ ہدایت دی ہے کہ جب ان کے سامنے کوئی نیا مسئلہ آئے تو اس کا حل قرآن مجید، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت اور اجماع امت میں تلاش کریں۔

(٥) عام مسلمانوں کو جب کوئی مسئلہ در پیش ہو اور ان کو اس کا شرعی حکم معلوم نہ ہو تو وہ خود اپنی عقل سے اس کا حکم نہ تلاش کریں بلکہ اہل علم اور اہل فتویٰ علماء سے اس کا حل دریافت کریں، قرآن مجید میں ہے :

فسئلوا اھل الذکر ان کنتم تعلمون (الانبیاء : 7) اگر تم کو کسی چیز کا علم نہ ہو تو اہل علم سے اس کو دریافت کرو

کیونکہ عقل کے ساتھ وہم اور خیال کی آمیزش اور آویزش ہے اور شیطان انسان کی عقل میں شبہات ڈالتا رہتا ہے اور توحید میں اگر معمولی ساشبہ بھی پڑجائے تو انسان کا دین اور ایمان خطرہ میں پڑجاتا ہے، بدمذہب اور گمراہ فرقے اسی طرح وجود میں آئے کہ انہوں نے محض اپنی رائے اور سوچ سے نئے نئے نظریات اپنا لیے اور دین میں طرح طرح کی بدعات نکال لیں، ہمارے زمانہ میں بعض جاہل پیروں نے اپنی وضع اور اپنا تشخص قائم کرنے کے لیے مخصوص وضع کو دین میں لازم اور ضروری قرار دے دیا، خود ساختہ طریقوں کو رواج دیا۔ بعض مباحات اور مستحبات کے ساتھ فرض اور واجب کا معاملہ کیا، آج کل ان جہلاء کا غلبہ ہے اور ان کی طاقت کے سامنے اہل حق بہت کمزور دکھائی دیتے ہیں۔

قیاس کی نفی اور امام رازی کے نقل کردہ دلائل

اس آیت سے بعض علماء نے قیاس کی نفی پر استدلال کیا ہے، امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں وہ احتمال ہیں یا تو اس کا معنی یہ ہے کہ ہر مسئلہ کا حل اللہ تعالیٰ کے منصوص اور صریح حکم میں موجود ہے اور یا اس کا معنی یہ ہے کہ ہر مسئلہ کا حل قیاس سے ثابت ہے، دوسرا احتمال تو باطل ہے کیونکہ ہم بدابۃ جانتے ہیں کہ ہر مسئلہ کا حل قیاس سے ثابت نہیں ہے، پس ضروری ہوا کہ ہر مسئلہ کا حل اور تمام احکال اللہ تعالیٰ کی نص اور صریح حکم سے ثابت ہوں اور اس سے قیاس کی نفی ہوجاتی ہے، اس دلیل پر یہ اعتراض ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ ہر مسئلہ کا حل اللہ تعالیٰ کے بیان اور دلیل شرعی سے حاصل ہو خواہو وہ بیان اور دلیل شرعی نص صریح پر مشتمل ہو یا قیاس پر مشتمل ہو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں جو فرمایا ہے کہ تم اپنے اختلافات کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دو ، اس سے مقصود اختلاف کو ختم کرنا ہے اور جب کسی معاملہ کے فیصلہ میں قیاس کی طرف رجوع کیا جائے گا تو اس سے اختلاف ختم نہیں ہوگا بلکہ اختلاف اور زیادہ قوی ہوگا، پس واجب ہے کہ ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی نصوص اور صریح احکام کی طرف رجوع کیا جائے (اور قیاس کی طرف رجوع نہ کیا جائے) ۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٥٨١، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

نفی قیاس کی امام رازی کی دلیل پر مصنف کا تبصرہ

امام رازی نے یہ فرمایا ہے کہ تمام احکام اور مسائل میں اللہ تعالیٰ کی نصوص کی طرف رجوع کرنا واجب ہے اور کسی مسئلہ میں قیاس نہیں کرنا چاہیے، بظاہر یہ بہت مشکل ہے کیونکہ تمام مسائل اور معاملات میں اللہ تعالیٰ کے صریح احکام مذکور نہیں ہیں، بلکہ تمام مسائل اور معاملات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صریح ارشادات بھی مذکور نہیں ہیں اور نہ تمام پیش آمدہ مسائل میں اجماع علماء کا ثبوت ہے اور نہ ہر تازہ مسئلہ میں فقہاء متقدمین کی تصریحات مذکور ہیں، زمانہ کی تیز رفتار ترقی اور سائنس کی ایجادات سے ایسے نئے نئے مسائل سامنے آگئے ہیں جن کے صریح ذکر سے ہماری فقہ کا ذخیرہ خالی ہے، مثلاً ٹیلی فون پر نکاح کے جواز یا عدم جواز کا معاملہ، خاندانی منصوبہ بندی کی ناگزیر صورتیں، ٹیسٹ ٹیوب بےبی کے ذریعہ پیدائش کا حصول، ریڈیو اور ٹیوی کے اعلان پر روزہ رکھنے اور عید کرنے کا جو ازیاعدم جواز، پر ائز بانڈز اور انشورنس کے احکام، چلتی ٹرین اور اڑتے ہوئے طیارہ میں نماز پڑھنے کا معاملہ، انجکشن سے روزہ ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کا مسئلہ، انتقال خون، پوسٹ مارٹم اور ایسے بہبت سے مسائل جن کے حل کا صراحت سے ذکر قرآن مجید میں ہے نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت میں، نہ آثار صحابہ میں، نہ اجماع علماء میں، نہ فقہاء متقدمین کے فتاویٰ میں تو ایسے مسائل اور معاملات میں اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ ان تمام معاملات میں قیاس سے ان مسائل کا حل تلاش کیا جائے اور امت کی رہنمائی کی جائے اور قیاس کی مشروعیت پر حسب ذیل دلائل ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

قیاس کی مشروعیت پر دلائل

فاعتبرویاولی الابصار (الحشر :2) اے آنکھوں والو ! عبرت حاصل کرو

اس آیت میں قیاس کی دلیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعتبار کرنے کا حکم دیا ہے اور اعتبار کا معنی ہے : کسی چیز کو اس کی نظیر کی طرف لوٹانا، یعنی جو حکم اصل شئے کے لیے ثابت ہوگا، وہی حکم اس کی نظیر کے لیے ثابت ہوگا۔ اس آیت میں مسلمانوں کو عبرت پکڑنے کا حکم دیا ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ جس کام کے سبب سے کفار اہل کتاب پر عذاب نازل ہوا ہے تم وہ کام نہ کرنا، ورنہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہوگا اور یہی قیاس ہے کہ علت کے اشتراک کی وجہ سے حکم مشترک ہو۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان رتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی میری بہن فوت ہوگئی اور اس پر مسلسل دو ماہ کے روزے تھے، آپ نے فرمایا : یہ بتائو، اگر تمہاری بن پر فرض ہوتا تو کیا تم اس کو ادا کرتیں ؟ اس نے کہا : ہاں ! آپ نے فرمایا : تو اللہ کا حق ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے۔

(صحیح البخاری ج ٢، رقم الحدیث ١٩٥٣، صحیح مسلم صیام ص ١٥٤ (١١٤٨) ٢٦٥١، سنن ترمذی ج ٢، رقم الحدیث : ٧١٦، سنن ابودائود ج ٢، رقم الحدیث : ٣٣١٠، سنن ابن ماجہ ج ١، رقم الحدیث : ١٧٥٩، سنن کبریٰ للنسائی ج ٢، رقم الحدیث : ٢٩١٢، جامع المسانید ابن عباس رقم الحدیث : ٥١١)

اس حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے حق کو بندے کے حق پر قیاس کیا ہے اور جس شخص پر روزے ہوں اور وہ فوت ہوجائے تو اس کا ولی اس کی طرف سے فدیہ دے گا۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے حج کی نذر مانی، پھر وہ فوت ہوگئی۔ اس کا بھائی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور اس کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا : یہ بتائو، اگر تمہاری بن پر قرض ہوتا تو کیا تم اس کو ادا کرتے ؟ اس نے کہا : ہاں ! آپ نے فرمایا : پھر اللہ کا حق ادا کرو، وہ ادائیگی کے زیادہ حق دار ہے۔ (صحیح البخاری ج ٢، رقم الحدیث : ١٨٥٢، ج ٧، رقم الحدیث : ٦٦٩٩، ج ٨، رقم الحدیث : ٧٣١٥، سنن النسائی ج ٥، رقم الحدیث : ٢٦٣١، جامع المسانید والسنن مسند ابن عباس رقم الحدیث : ٣٥٩ )

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاذ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا : تم کس طرح فیصلہ کرو گے ؟ انہوں نے کہا : میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا : اگر (وہ مسئلہ) کتاب اللہ میں نہ ہو ؟ انہوں نے کہا : پھر سنت رسول اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا : اگر (وہ مسئلہ) سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نہ ہو ؟ انہوں نے کہا : میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ آپ نے فرمایا : اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توفیق عطا فرمائی۔ (سنن الترمذی ج ٣، رقم الحدیث : ١٣٣٢، سنن ابودائود ج ٢، رقم الحدیث : ٣٥٩٢، مسند احمد ج ٥ ص ٢٣٦۔ ٢٣٠)

عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ ایک دن لوگوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے بہت زیادہ سوالات کیے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : ایک زمانہ تھا کہ ہم بالکل فیصلہ نہیں کرتے تھے اور ہم اس مقام پر فائز نہ تھے۔ پھر اللہ عزوجل نے ہمارے لیے وہ چیز مقدر کردی جو تمدیکھ رہے ہو۔ سو آج کے بعد جس شخص کو فیصلہ کرنا پڑے، وہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرے۔ پھر اگر کوئی ایسا مسئلہ در پیش ہو جس کا حل کتاب اللہ میں نہ ہو، تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کرے اور اگر کوئی ایسا مسئلہ در پیش ہو جس کا حل نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے مطابق فیصلہ کیا ہو تو جس طرح صالحین نے اس کا فیصلہ کیا ہو، اس کے مطابق فیصلہ کرے اور اگر کوئی ایسا امردر پیش ہو جس کا حل نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا فیصلہ کیا ہو اور نہ صالحین نے اس کا فیصلہ کیا ہو، پھر وہ اپنی رائے سے اجتہاد کرے اور یہ نہ کہے کہ میں ڈرتا ہوں اور میں خوف زدہ ہوں، کیونکہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ امور مشتبہ ہیں تو جس چیز میں تمہیں شک ہو، اس کو چھوڑ کر غیر مشکوک امر کو اختیار کرو۔ امام ابو عبدالرحمن نسائی نے کہا : یہ حدیث بہت جید (عمدہ) ہے۔ (سنن النسائی ج ٨، رقم الحدیث : ٥٤١٢۔ ٥٤١٣، مطبوعہ دارالمعرفہ، بیروت)

اس حدیث میں تصریح ہے کہ مسائل کے استنباط اور احکام کے اثبات کے لیے کتاب، سنت، اجماع اور قیاس کی ترتیب کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔

علاوہ ازیں اس آیت میں یہ معنی متعین نہیں ہے کہ اے مسلمانو ! تم ہر پیش آمدہ مسئلہ کے حل کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرو بلکہ یہ معنی اس آیت کے متعدد محامل میں سے ایک محمل ہے اور ظاہر یہ ہے کہ اس سے پہلے کفار کا ذکر تھا تو اس کا محمل یہ ہے کہ جب تمہارا کفار سے کسی معاملہ میں اتخلاف ہو تو تم ان سے بحث مت کرو بلکہ اس معاملہ کو اللہ پر چھوڑ دو اور اگر یہ آیت مسلمانوں کے ساتھ مخصوص ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ جب کسی آیت کی تاویل تم پر مشتبہ ہوجائے تو تم اپنی عقل سے اس کا معنی تلاش نہ کرو بلکہ کتاب اور سنت کی طرف رجوع کرو یا آیات متشابہات کی تاویل نہ کرو اور ان کی مراد کو اللہ پر چھوڑ دو ، یا اگر تمہارا کسی سے جھگڑا ہوجائے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہوتے ہوئے کسی اور کو حاکم نہ بنائو، اس طرح اس آیت کے متعدد صحیح محامل ہیں اور اس آیت کا یہ معنی معین نہیں ہے کہ اپنے ہر پیش آمدہ معاملہ میں صرف اللہ کی طرف رجوع کرو، حتیٰ کہ پھر نہ احادیث حجت رہیں نہ اجماع نہ قیاس۔ اللہ تعالیٰ امام رازی پر رحم فرمائے انہوں نے کیسی عجیب بات کہی ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اور آپ کے ہوتے ہوئے اجتہاد کرنے کی تحقیق

علامہ محمود بن عمرزمخشری متوفی ٥٣٨ ھ اور ان کی اتباع میں علامہ نظام الدین حسین بن محمود نیشاپوری متوفی ٧٢٨ ھ، علامہ محمد بن مصلح الدین القوجوی المتوفی ٩٥١ ھ اور علامہ اسماعیل حقی متوفی ١١٣٧ ھ نے اسی آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اجتہاد جائز نہیں ہے۔ (الکشاف ج ٤ ص ٢١٧، غرائب القرآن جز ٢٥ ص ٦٩، حاشیہ شیخ زادہ علی البیضاوی ج ٧ ص ٤٠٩، روح البیان ج ٨ ص ٣٩٠)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

اس مسئلہ میں اختلاف ہے، اکثر علماء نے کہا ہے کہ یہ اجتہاد عقلاً جائز ہے اور بعض علماء نے اس کو محال کہا ہے اور جن علماء نے آپ کے زمانہ میں اجتہاد کو جائز کہا ہے ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ اس اجتہاد پر عمل کرنا جائز نہیں ہے، ابوعلی جبائی اور اس کے بیٹے ابو ہاشم اور زمخشری کا یہی مذہب ہے اور بعض علماء نے یہ دعویٰ کیا کہ اس اجتہاد پر عمل ہوا ہے، ایک قول یہ ہے کہ یہی صحیح ہے اور ایک قول توقف کا ہے اور ہمارا کہنا یہ ہے کہ اس آیت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اجتہاد کی ممانعت پر استدلال کرنا قطعی نہیں ہے ہاں اس آیت میں یہ احتمال ہے۔ (روح المعانی جز ٢٥ ص ٢٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

عہد رسالت میں اجتہاد کے ثبوت پر احادیث

میں کہتا ہوں کہ ان تمام لوگوں کا کلام اندازوں پر مبنی ہے، ان کی احادیث پر نظر نہیں ہے، کیونکہ بکثرت احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اور آپ کے عہد میں اجتہاد کرتے تھے، ہم اس سلسلہ میں چند احادیث پیش کررہے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر (غزوہ تبوک) میں جارہے تھے کہ زادراہ ختم ہوگیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خیال تھا کہ بعض اونٹ ذبح کردیئے جائیں۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کاش ! آپ لوگوں کے بچے کھچے کھانے کو جمع کرکے اس پر برکت کی دعا فرمائیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا ہی کیا۔ پھر جس شخص کے پاس گندم تھی وہ گندم لے آیا اور جس کے پاس کھجوریں تھیں وہ کھجوریں لے آیا۔ مجاہد نے کہا : اور جس کے پاس گٹھلیاں تھیں، وہ گٹھلیاں لے آیا۔ روای کہتا ہے : میں نے مجاہد سے پوچھا کہ گٹھلیوں کا وہ لوگ کیا کرتے تھے ؟ مجاہد نے کہا : ان کو چوس کر پانی پی لیتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تمام چیزوں کو اکٹھا کرکے دعا فرمائی جس کی برکت سے وہ کھانا اس قدر زیادہ ہوگیا کہ تمام لوگوں نے اپنے برتنوں کو بھر لیا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧، الرقم المسلسل ١٣٧، السنن الکبریٰ رقم الحدیث : ٨٧٩٤)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اور آپ کی مجلس میں اجتہاد کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے کے خلاف اپنی رائے پیش کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر کی رائے پر عمل فرمایا اور اس میں یہ دلیل ہے کہ اکابر کو اپنی رائے کے خلاف اصاغر کے مشورہ پر عمل کرنا چاہیے اور اس کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔

حضرت ابوہریرہ یا حضرت ابوسعید خدری (رض) نے بیان فرمایا کہ غزوہ تبوک کے سفر میں لوگوں کو سخت بھوک لگی ہوئی تھی، صحابہ کرام نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم پانی لانے والے اونٹوں کو ذبح کرکے کھا لیں اور چربی کا تیل بنالیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دے دی، اتنے میں حضرت عمر (رض) آگئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر آپ نے ایسا کیا تو سواریاں کم ہوجائیں گی، البتہ آپ لوگوں کا بچا ہوا کھانا منگوا لیجئے اور اس پر برکت کی دعا کیجئے۔ اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ برکت عطا فرمائے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھیک ہے اور ایک دستر خوان بچھا دیا، پھر لوگوں کا بچا ہوا کھانا منگوایا، کوئی شخص اپنی ہتھیلی میں جوار اور کوئی کھجوریں اور کوئی روٹی کے ٹکڑے لیے چلاآرہا تھا، یہ سب چیزیں مل کر بہت تھوڑی مقدار میں جمع ہوئیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے برکت کی دعا فرمائی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سب اپنے اپنے برتنوں میں کھانا بھر لیں۔ چناچہ تمام لوگوں نے اپنے اپنے برتن بھر لیے یہاں تک کہ لشکر کے تمام برتن بھر گئے اور سب نے مل کر کھانا کھایا اور سیر ہوگئے اور کھانا پھر بھی بچ گیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دیکھ کر فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور جو شخص بھی اس کلمہ پر یقین کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرے گا وہ جنتی ہوگا۔ (صحیح مسلم الرقم المسلسل : ١٣٨)

اس حدیث میں بھی یہ تصریح ہے کہ حضرت عمر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اور آپ کی مجلس میں اجتہاد کیا اور آپ نے ان کے اجتہاد کو برقرار رکھا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد بیٹھے ہوئے تھے اور ہمارے ساتھ ابوبکر صحابہ کے علاوہ حضرت ابوبکر صدیق اور عمر فاروق (رض) بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کر چلے گئے اور کافی دیر تک تشریف نہ لائے تو ہمیں خوف ہوا کہ کہیں خدانخواستہ آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو، اس خیال سے ہم سب کھڑے ہوگئے، سب سے پہلے میں گھبرا کر آپ کو تلاش میں نکلا اور انصار بنی نجار کے باغ تک پہنچ گیا، میں باغ کے چاروں طرف گھومتا رہا لیکن مجھے اندر جانے کے لیے کوئی دروازہ نہ ملا، اتفاقاً ایک نالہ دکھائی دیا جو باہر کے کنوئیں سے باغ کے اندر کی طرف جارہا تھا، میں لومڑی کی طرح سمٹ کر اس نالہ کے راستہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا : جی یارسول اللہ ! حضور نے فرمایا : کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے، پھر آپ اچانک اٹھ کر تشریف لے گئے، آپ کی واپسی میں دیر ہوگئی، اس وجہ سے ہمیں خوف دامن گیر ہوا کہ کہیں دشمن آپ کو تنہا دیکھ کر پریشان نہ کریں۔ ہم سب گھبراکر اٹھ کھڑے ہوئے اور سب سے پہلے میں آپ کی تلاش میں نکلا۔ پس میں اس باغ تک پہنچا اور لومڑی کی طرح سمٹ کر باغ کے اندر آگیا، باقی صحابہ میرے پیچھے آرہے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے نعلین مبارک مجھے عطا فرمائے اور فرمایا : اے ابوہریرہ ! میری یہ دونوں جوتیاں لے کر چلے جائو اور باغ کے باہر جو شخص تم کو اس حال میں ملے کہ وہ صدق دل سے یہ کہتا ہو کہ ” اشھدان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہٗ ورسولہ “ اس کو جنت کی بشارت دے دو ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ باغ کے باہر سب سے پہلے میری ملاقات حضرت عمر (رض) سے ہوئی۔ انہوں نے پوچھا : اے ابوہریرہ ! یہ کیسی جوتیاں ہیں ؟ میں نے کہا : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جوتیاں ہیں، جو حضور نے مجھے اس لیے دی ہیں کہ جو شخص بھی مجھے اس حال میں ملے کہ وہ صدق دل سے یہ کہتا ہو کہ ” اشھدان لا الہ الا اللہ واشھدان محمدا عبدہ ورسولہ “ اس کو جنت کی بشارت دے دوں۔ یہ سن کر حضرت عمر نے میرے سینہ پر ایک تھپڑ مارا جس کی وجہ سے میں پیٹھ کے بل گرپڑا، حضرت عمر نے مجھ سے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں واپس جائو۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچ کر رونے لگا، ساتھ ہی حضرت عمر بھی پہنچ گئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا : سب سے پہلے میری ملاقات حضرت عمر سے ہوئی، میں نے ان کو آپ کا پیغام پہنچایا، انہوں نے میرے سینہ پر تھپڑ مار کر مجھے پیٹھ کے بل گرادیا اور کہا : واپس چلے جائو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر سے پوچھا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ حضرت عمر نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا واقعی آپ نے ابوہریرہ کو اپنی جوتیاں دے کر بھیجا تھا کہ جو شخص اسے اس حال میں ملے کہ وہ صدق دل سے یہ کہتا ہو کہ ” اشھدان لا الہ الا اللہ واشھدان محمدا عبدہٗ ورسولہ “ اس کو یہ جنت کی بشارت دے دے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! حضرت عمر نے عرض کیا : حضور ایسا نہ کریں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ پھر کلمہ پر ہی بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے، ان کو عمل کرنے دیجئے۔ آپ نے فرمایا : اچھا پھر انہیں عمل کرنے دو ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣١، الرقم المسلسل : ١٤٦، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٣٩)

اس حدیث میں بھی اس کی تصریح ہے کہ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اور آپ کی مجلس میں اجتہاد کیا۔

صریح حدیث پر عمل کرنے سے حضرت عمر کے منع کرنے کی توجہیات

حضرت عمر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اجتہاد کیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کے خلاف اپنی رائے پیش کی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر کی رائے کی طرف رجوع فرمالیا، اس کی توضیح اور تشریح میں شارحین حدیث کی متعدد عبارات ہیں جن کہ ہم سطور ذیل میں پیش کررہے ہیں۔

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں :

حضرت عمر (رض) نے جو حضرت ابوہریرہ (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دی ہوئی بشارت پہنچانے سے منع کیا تھا اور حضور کو بھی یہی مشورہ دیا تھا، یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراض نہیں تھا اور نہ انہوں نے آپ کے حکم کو رد کیا تھا، حضرت عمر کی رائے یہ تھی کہ اس بشارت کو عام لوگوں سے چھپانا ان کے حق میں زیادہ بہتر ہے اور ان کے اعمال کو زیادہ پاکیزہ کرنے والا ہے اور ان کے اجروثواب کو زیادہ کرنے والا ہے، ورنہ یہ خدشہ ہے کہ لوگ اسی بشارت پر اعتماد کرکے نیک اعمال کو ترک کردیں گے اور جب حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اپنی یہ رائے پیش کی تو آپ نے اس رائے کو صحیح اور درست قرار دیا۔ حضرت عمر کی رائے عام لوگوں کے اعتبار سے تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو بشارت دینے کا حکم دیا تھا وہ خاص لوگوں کے اعتبار سے تھا اور حضرت عمر کو یہ خطرہ ہوا کہ کہیں یہ بشارت خاص لوگوں سے نکل کر عام لوگوں تک نہ پہنچ جائے۔

اس حدیث سے یہ فقہی مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ علماء کو چاہیے کہ وہ امام اور سربراہ مملکت کو مشورہ دیا کریں اور اس کی خیر خواہی کیا کریں، خواہ امام اور سربراہ ان سے مشورہ نہ کریں اور امام اور سربراہ کو چاہیے کہ وہ علماء اور اہل خیر کے مشورہ پر عمل کرکے اپنی سابق رائے اور سابق حکم سے رجوع کرلیا کریں۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ١ ص ٣٦٥۔ ٣٦٤، دارالوفاء بیروت، ١٤١٩ ھ)

علامہ محمد بن خلیفہ وشتانی ابی مالکی متوفی ٨٦٨ ھ اور علامہ محمد بن محمد السنوسی مالکی متوفی ٨٩٥ ھ نے بھی قاضی عیاض کی اس عبارت کا خلاصہ نقل کرکے اس پر اعتماد کیا ہے۔ (اکمال اکمال المعلم ج ١ ص ٢٠٥، مکمل اکمال الاکمال ج ١ ص ٢٠٥، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابو العباس احمد بن عمر قرطبی مالکی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں :

حضرت عمر (رض) نے جو حضرت ابوہریرہ (رض) کو مارا تھا وہ ان کو ایذاء دینے کے لیے نہ تھا بلکہ اس وقت تک ان کو اس بشارت دینے سے روکنے کے لیے تھا جب تک وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلہ میں مشورہ نہ کرلیں اور یہ حضرت عمر کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراض نہ تھا اور نہ آپ کے حکم کو رد کرنا تھا، بلکہ وہ اس حکم کی مصلحت جاننے کی ایک کوشش تھی کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس حکم کا منشا اپنے اصحاب اور اپنی امت کے دلوں کو خوش کرنا تھا اور حضرت عمر کی رائے یہ تھی کہ اس بشارت سے سکوت کرنا امت کے حق میں زیادہ مفید ہے تاکہ وہ اسی بشارت پر اعتماد کرکے اپنے نیک اعمال کو کم نہ کرلیں اور اجر وثواب سے محروم نہ ہوجائیں اور ہوسکتا ہے کہ حضرت عمر نے اس بشارت سے سکوت کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن لیا ہو جب آپ نے حضرت معاذ (رض) سے فرمایا تھا : جو شخص بھی صدق دل سے یہ شہادت دے گا کہ ” ان لا الہ الا اللہ وان محمد عبدہ ورسولہ “ اللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کو حرام کردے گا، حضرت معاذ نے پوچھا : میں لوگوں کو یہ بشارت نہ دے دوں ؟ آپ نے فرمایا : پھر وہ اسی بشارت پر اعتماد کرلیں گے، تب حضرت معاذ نے موت سے پہلے یہ حدیث بیان کی تاکہ وہ علم کو چھپانے کی وعید میں داخل نہ ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٢٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٢) تو گویا حضرت عمر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یاد دلایا کہ آپ تو خود عام لوگوں تک اس بشارت کے پہنچانے سے منع فرما چکے تھے کہ کہیں وہ اس بشارت پر اعتماد کر کے نیک اعمال کو ترک یا کم نہ کردیں۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ کسی مصلحت کی وجہ سے عام میں تخصیص کرنا جائز ہے اور یہ کہ امام اور سربراہ کو مشورہ دینا چاہیے خواہ انہوں نے مشورہ طلب نہ کیا ہو۔ (المفہم ج ١ ص ٢٠٨۔ ٢٠٧، دارابن کثیر، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ جب امام اور سربراہ کوئی حکم مطلق دے اور اس کے متبعین میں سے کسی شخص کی رائے اس کے خلاف ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ امیر اور سربراہ کے سامنے اپنی رائے پیش کرے تاکہ امیر اس پر غور کرے، پس اگر امیر پر یہ منکشف ہو کہ اس متبع کی رائے صحیح ہے تو وہ اس کی طرف رجوع کرلے ورنہ اس متبع کے شبہ کو زائل کرے اور اس کی تسلی کرے۔ (جیسے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات سے واپس ہوتے ہوئے حضرت اسامہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مغرب کی نماز یادلائی تو آپ نے فرمایا : نماز آگے چل کر پڑھنی ہے یعنی مزولفہ میں۔ صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٩، سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٩٢١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٠١٩) (صحیح مسلم بشرح النوادی ج ١ ص ٥٨١، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ١١٩ ھ لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو حکم دیا تھا کہ وہ مخصوص لوگوں کو بشارت دیں جو اہل معرفت ہوں اور جن کے متعلق یہ اطمینان ہو کہ وہ اس بشارت پر اعتماد کرکے نیک اعمال کو ترک نہیں کریں گے اور اس بشارت سے دھوکا نہیں کھائیں گے۔ (الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج ج ١ ص ١٦٤، ادارۃ القرآن، کراچی، ١٤١٢ ھ)

علامہ حسین بن محمد بن عبداللہ الطبی الشافعی المتوفی ٧٤٣ ھ لکھتے ہیں :

حضرت عمر کا حضرت ابوہریرہ کو روکنا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اپنی رائے پیش کرنا، آپ پر اعتراض نہیں تھا اور نہ آپ کے حکم کو رد کرنا تھا کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوہریرہ کو صرف اس لیے بھیجا تھا کہ اس بشارت کو پہنچانے سے آپ کی امت کے دل خوش ہوں اور حضرت عمر کی رائے یہ تھی کہ اس بشارت کو امت سے چھپانا امت کے حق میں زیادہ مفید ہے تاکہ وہ اس بشارت پر اعتماد کرکے نیک اعمال کو ترک نہ کردیں۔ (الکاشف عن حقائق السنن (شرح الطیمی) ج ١ ص ١٧٦، ادارۃ القرآن، کراچی، ١٤١٣ ھ)

ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ١٠١٤ ھ علامہ طیبی کی اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

خلاصہ یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیونکہ رحمۃ للعٰلمین ہیں اور مؤمنین پر رحیم ہیں اور بطریق کمال مظہر جمال ہیں اور ہرحال میں اپنی امت کے طبیب ہیں اور آپ ان کے خوف اور شدید اضطراب پر مطلع تھے، تو آپ نے اس بشارت سے ان کے علاج کا ارادہ کیا تاکہ ان کا اضطراب اور خوف زائل ہوجائے، کیونکہ علاج ضد سے ہوتا ہے اور حضرت عمررضی اللہ نہ جلال کے مظہر تھے اور ان کو یہ علم تھا کہ لوگوں پر سستی اور اعتماد غالب ہے، اس لیے ان کی رائے یہ تھی کہ لوگوں کے لیے زیادہ مفید معجون مرکب ہے، بلکہ لوگوں کے حال کے اعتبار سے خوف اور اضطراب ان کے حق میں زیادہ مفید ہے اور یہ حضرت عمر (رض) کی فضیلت ہے۔ (مرقاۃ ج ١ ص ٢٠٦، مکتبہ حقانیہ، پشاور)

یہاں تک ہم نے احادیث اور شارحین احادیث کی عبارات سے واضح کیا ہے کہ صحابہ کرام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اجتہاد کرتے تھے، اب ہم عہد رسالت میں صحابہ کرام کے اجتہاد کرنے کے متعلق چند احادیث پیش کررہے ہیں۔

عہد رسالت میں اجتہاد کرنے کے ثبوت میں مزیداحادیث

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ ٔ احزاب سے واپس آئے تو ہم سے فرمایا : تم میں سے ہر شخص بنو قریظہ میں پہنچ کر عصر کی نماز پڑھے، پس مسلمانوں کو راستہ میں عصر کی نماز کا وقت آگیا، بعض نے کہا : ہم بنو قریظہ میں پہنچ کر ہی عصر کی نماز پڑھیں گے اور دوسروں نے کہا : بلکہ ہم یہیں نماز پڑھیں گے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے اس کا ارادہ نہیں کیا تھا، پھر انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا، آپ نے ان میں کسی کو ملامت نہیں فرمائی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٩٤٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٧٠، جامع المسانید والسنن مسند ابن عمر رقم الحدیث : ٢١٢٤ )

اس حدیث میں صحابہ کرام کے دو گروہوں کے اجتہاد کا ذکر ہے، ایک گروہ نے کہا : حضور نے جو فرمایا ہے : تم بنو قریظہ میں پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز نہ پڑھنا، اس سے آپ کا منشاء یہ تھا کہ تم جلدی روانہ ہونا اور آپ کا منشاء یہ نہیں تھا کہ عصر کی نماز مؤخر کی جائے، لہٰذا انہوں نے راستہ میں عصر کی نماز پڑھ لی اور دوسرے گروہ نے کہا : ہم حضور کے الفاظ کے پابند ہیں، ہم بنو قریظہ میں پہنچنے سے پہلے نماز نہیں پڑھیں گے، ہر ایک صحابی نے اپنے اپنے اجتہاد پر عمل کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کو ملامت نہیں فرمائی۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٢ ھ بیان کرتے ہیں :

حضرت عمرو بن العاص (رض) ایک سرد رات میں جنبی ہوگئے، انہوں نے تیمم کیا اور یہ آیت پڑھی :

ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیم (النساء :29) اور تم اپنی جانوں کو قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر مہربان ہے

پھر انہوں نے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کو ملامت نہیں کی۔ (صحیح البخاری کتاب التیمم باب : ٧)

اس حدیث کی تفصیل یہ ہے :

حضرت عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل میں ایک رات کو مجھے احتلام ہوگیا، مجھے خطرہ تھا کہ اگر میں نے غسل کیا تو میں ہلاک ہوجائوں گا، پس میں نے تیمم کرکے اپنے اصحاب کو نماز پڑھا دی، میرے اصحاب نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا، آپ نے فرمایا : اے عمرو ! کیا تم نے اپنے اصحاب کو حالت جنابت میں نماز پڑھادی، پھر میں نے اپنے اس عذر کا ذکر کیا جس کی وجہ سے میں نے غسل نہیں کیا تھا اور میں نے کہا : میں نے اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :

ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما (النساء :29) اور تم اپنی جانوں کو قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر مہربان ہے

پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنسے اور آپ نے کچھ نہیں فرمایا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٣٤)

اس حدیث میں بھی یہ تصریح ہے کہ حضرت عمرو بن العاص (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اجتہاد کیا اور آپ نے اس کو مقرر رکھا۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : ہم ایک سفر میں گئے، ہم میں سے ایک شخص کے اوپر پتھر آکر لگا اور اس کا سر پھٹ گیا، پھر اس کو احتلام ہوگیا، اس نے اپنے اصحاب سے پوچھا : کیا میرے لیے تیمم کی رخصت ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم تمہارے لیے تیمم کی رخصت نہیں پاتے، کیونکہ تم پانی کے حصول پر قادر ہو، اس شخص نے غسل کیا جس سے وہ فوت ہوگیا، جب ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے تو ہم نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی، آپ نے فرمایا : ان لوگوں نے تو اس کو قتل کردیا، اللہ ان کو ہلاک کردے، ان کو جب مسئلہ کا علم نہیں تھا تو انہوں نے کسی اور سے سوال کیوں نہیں کیا، کیونکہ لاعلمی کا علاج سوال کرنا ہے، اس کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ تیمم کرلیتا یا اپنے زخم پر پٹی باندھ کر باقی جسم کو دھولیتا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٢٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٥٧٢، جامع المسانید مسند ابن عباس رقم الحدیث : ١٦٧٧)

اس حدیث میں بھی یہ تصریح ہے کہ عہد رسالت میں صحابہ کرام نے اجتہاد کیا اور ان کو اجتہاد میں خطا ہوئی اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مجتہد کی خطاء سے کوئی مرجائے تو اس پر تاوان نہیں ہوتا کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر دیت لازم نہیں کی۔ بہرحال ان متعدد احادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اور آپ کے عہد میں اجتہاد ہوتا تھا۔

اسی طرح اس سلسلہ کی یہ حدیث ہے :

حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (سات ہجری میں) ہمیں ایک لشکر میں بھیجا، ہم نے علی الصبح جہینہ کی بستیوں پر حملہ کیا، میں نے ایک شخص کو پکڑ لیا، اس نے کہا : لا الہ الا اللہ، میں نے اس کو نیزا گھونپ دیا، پھر میرے دل میں اضطراب ہوا، میں نے اس بات کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا اس نے لا الہ الا اللہ پڑھ لیا تھا، پھر تم نے اس کو قتل کردیا۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس نے حملہ کے خوف سے کلمہ پڑھا تھا، آپ نے فرمایا تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھا حتیٰ کو تم جان لیتے کہ اس نے جان کے خوف سے کلمہ پڑھا ہے یا نہیں، آپ بار بار یہی بات فرماتے رہے، حتیٰ کہ میں نے یہ تمنا کی کہ کاش ! میں اسی دن اسلام لایا ہوتا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٢٦٩۔ ٦٨٧٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٦، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٦٤٣، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٨٥٩٤)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت اسامہ پر نہ قصاص کو واجب کیا نہ دیت کو نہ کفارہ کو، اس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ یہ تمام چیزیں ساقط ہوگئیں لیکن کفارہ واجب ہے اور شبہ کی وجہ سے قصاص ساقط ہے کیونکہ ان کا گمان یہ تھا کہ وہ کافر ہے اور اس نے جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ لیا ہے، اس کلمہ پڑھنے سے وہ مسلمان نہیں ہوا اور دیت کے واجب ہونے میں امام شافعی کے دو قول ہیں۔ (صحیح مسلم بشرح النووی ج ١ ص ٧٥٨، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

بہرحال ان احادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ عہد رسالت میں صحابہ کرام اجتہاد کرتے تھے اور ان کا اجتہاد صحیح بھی ہوتا تھا اور غلط بھی۔

علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خفا جی حنفی متوفی ١٠٦٩ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں یہ دلیل نہیں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں یا آپ کے سامنے اجتہاد جائز نہیں تھا کیونکہ اصولیین کے نزدیک یا زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ اجتہاد واقع تھا۔ (حاشیۃ الشہاب ج ٨ ص ٣٣٦، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٧ ھ)

اس آیت (الشوریٰ :10) کی تفسیر بہت طویل ہوگئی، کیونکہ ” فحکمہ الی اللہ “ کی تفسیر میں امام رازی نے قیاس سے احکام ثابت کرنے کا انکار فرمایا، سو ہم نے قیاس کے حجت ہونے پر دلائل پیش کیے اور علامہ زمخشری، علامہ نیشاپوری، علامہ قوجوی وغیرھم نے اس آیت کی تفسیر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں اور آپ کے سامنے اجتہاد کا انکار کیا تو ہم نے ان کے رد میں بہت احادیث پیش کیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 42 الشورى آیت نمبر 10