أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا انْتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

پھر جب انہوں نے ہمیں ناراض کیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پھر ہم نے اس سب کو غرق کردیا

تفسیر:

الزخرف : ٥٥ میں فرمایا : ” پھر جب انہوں نے ہمیں ناراض کیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پھر ہم نے اس سب کو غرق کردیا “

اس آیت میں ” اسفونا “ کا لفظ ہے، علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ اس کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

اسف کا معنی ہے : غم وغصہ اور کبھی یہ صرف غم اور صرف غضب کے معنی میں بھی آتا ہے اور اس کا حقیقی معنی ہے : انتقام لینے کے لیے خون کا جوش میں آنا، اگر انسان کو اپنے سے کم مرتبہ اور کمزور شخص پر غصہ آئے تو اس کو غضب کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں اور اگر اپنے سے طاقتور شخص پر افسوس ہو تو اس کو غم کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں، اسف کا حقیقت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ پر اطلاق محال ہے، اس لیے یہاں پر اسف کا معنی ہے : کراہت کا اظہار کرنا اور کسی چیز کو ناپسند کرنا اور اس سے ناراض ہونا، سو اس آیت کا معنی ہے : پس جب انہوں نے ہمیں ناراض کیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا یعنی ان کو سزا دی۔ اور اس کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ جب انہوں نے حضرت موسیٰ کو غضب ناک کیا اور ان کو متاسف کیا اور اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے کو غضب ناک کرنا درحقیقت اللہ کو غضب ناک کرنا ہے۔ (المفردات ج ١ ص ٢١، مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 55