وَلَا يَمۡلِكُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنۡ شَهِدَ بِالۡحَـقِّ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 86
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلَا يَمۡلِكُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنۡ شَهِدَ بِالۡحَـقِّ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اور جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں وہ شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، ہاں وہ لوگ شفاعت کا اختیار رکھتے ہیں جو حق کی شہادت دیں اور انہیں اس کا یقین ہو
تفسیر:
غیر اللہ کی عبادت کا باطل ہونا
الزخرف : ٨٦ میں فرماتا : ” اور جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں وہ شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، ہاں وہ لوگ شفاعت کا اختیار رکھتے ہیں جو حق کی شہادت دیں اور انہیں اس کا یقین ہو “
اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اولاد کی نفی فرمائی تھی اور اس آیت میں اللہ سبحانہ اپنے شرکاء کی نفی فرمارہا ہے، اس آیت کی دو تفسیریں ہیں : ایک تفسیر یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر حضرت عیسیٰ ، حضرت عزیر اور فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں وہ سن لیں کہ قیامت کے دن وہ ان ہی لوگوں کی شفاعت کریں گے جو حق کی شہادت دیں گے یعنی جو یقین کے ساتھ اس بات کی شہادت دیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔
اس آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر کسی کی بھی عبادت کرتے ہیں خواہ وہ عیسیٰ ہوں یا عزیر ہوں، یا فرشتے ہوں، یا دوسرے خود ساختہ معبود ہوں، مثلاً ستارے ہوں یا درخت ہو یا پتھر کے تراشیدہ بت ہوں، ان میں سے کوئی بھی از خود کسی کی شفاعت کرنے کا مالک نہیں ہے، مگر جو یقین کے ساتھ اللہ کے واحد ہونے کی شہادت دے اور وہ فرشتے ہیں اور انبیاء (علیہم السلام) ہیں اور اولیاء کرام اور علماء عظام ہیں کیونکہ ان کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت اور وجاہت ہے اور سب سے زیادہ کرامت اور وجاہت ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہے اور وہی سب سے زیادہ شفاعت فرمائیں گے۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 86