أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ الَّذِىۡ فِى السَّمَآءِ اِلٰـهٌ وَّفِى الۡاَرۡضِ اِلٰـهٌ‌ ؕ وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ ۞

ترجمہ:

وہی آسمان میں عبادت کا مستحق ہے اور وہی زمین میں عبادت کا مستحق ہے اور وہی بہت حکمت والا اور بےحد علم والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وہی آسمان میں عبادت کا مستحق ہے اور وہی زمین میں عبادت کا مستحق ہے اور وہی بہت حکمت والا اور بےحد علم والا ہے اور بہت برکت والا ہے وہ جس کی آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان کی ہر چیز پر حکومت ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے اور جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں وہ شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، ہاں وہ لوگ شفاعت کا اختیار رکھتے ہیں جو حق کی شہادت دیں اور انہیں اس کا یقین ہو (الزخرف : 84-86)

اس پر دلائل کہ حضرت عیسیٰ ، حضرت عزیر اور فرشتے اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں ہیں

آسمان اور زمین میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ کا ظرف نہیں ہے، اللہ تعالیٰ زمین میں مستقر ہے نہ آسمان میں مستقر ہے، بلکہ زمین میں بھی وہی عبادت کا مستحق ہے اور آسمان میں بھی وہی عبادت کا مستحق ہے، آسمانوں میں فرشتے اس کی عبادت کرتے ہیں اور زمین میں تمام نبیوں اور رسولوں نے اس کی عبادت کی ہے، حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر سمیت سب مقدس انسان اس کی عبادت کرنے والے تھے، اس سے واضح ہوا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں نہ حضرت عیسیٰ اور عزیر اللہ کے بیٹے ہیں۔ نیز نصاریٰ حضرت عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دینے پر ایک یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو کسی مرد کے واسطے کے بغیر محض کلمہ کن سے پیدا فرمایا، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام آسمانوں اور زمینوں کو ابتداء بغیر کسی واسطے کے محض کلمہ کن سے پیدا فرمایا اور جب اس بلاواسطہ تخلیق سے یہ آسمان اور زمینیں اللہ کی اولاد نہیں ہیں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے کیسے ہوسکتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 84