کیا اب بھی ایسی ہی صحافت ہے ؟
کیا اب بھی ایسی ہی صحافت ہے ؟
اگر آپ کو صحافت سیکھنی ہے تو آپ کو1841 ء میں فرانسیسی اخبار مونتیور میں چھپنے والی سرخیوں سے سیکھنی چاہئے جنہوں نے نپولین بونا پارٹ کے پاور میں آنے سے پہلے اور پاور میں آنے تک کون سی سرخیاں لگائیں ان کا کچھ نمونہ سیکھ لیں تو آپ ایک کامیاب صحافی ہیں یہ اخبار نپولین کے سخت خلاف تھا اور اس کے خلاف سرخیاں لگاتا تھا آپ نیچے دی گئی سرخیوں سے نپولیں کی وکٹری مارچ کی تفصیل جان لیں گے اور ان کا انداز تحریر سیکھ لیں کامیاب رہیں گے
مثلا جب نپولین نے پیرس کی طرف سفر شروع کیا تو اس طرح کی خبر لکھی جاتی تھیں
۱۔ خونی درندہ اپنی کھچار سے باہر نکل آیا ہے
۲۔ کو رسیکا کا شیطان اب گولف جوان شہر تک پہنچ گیا ہے
۳ٹائیگر اب گیپ شہر میں پہنچ گیا
۴۔ عفریت بھوت نے گریمبول میں رات گزاری
۵ ۔ ظالم ترین انسان نے لین کراس کر لیا
۶۔ غاصب کیپٹل شہر سے نزدیک پہنچ رہا ہے
۷۔ بونا پارٹ آگے بڑھ رہا ہے لیکن پیرس میں کبھی داخل نہیں ہو سکے گا
۸ ۔ نپولین ہمارے شہر کے بارڈر تک پہنچ گیا ہے ۔
۹ ۔ شہنشا ہ پیرس کے نزدیکی شہر پہنچ گیا ہے
اور جب نپولین پیرس میں بطور فاتح داخل ہوا تو اسی اخبار نے یہ سرخی لگائی گئی
۱۰ ۔ عزت ماب شہنشاہ معظم کل پیرس میں داخل ہوگئے اور اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں
آج کی صحافت کیسی ہے
اسٹوڈنٹس ۔ جنگجو 😎
محموداصغرچودھری