أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰٮهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ وَّخَتَمَ عَلٰى سَمۡعِهٖ وَقَلۡبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً  ؕ فَمَنۡ يَّهۡدِيۡهِ مِنۡۢ بَعۡدِ اللّٰهِ‌ ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

پس کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالیا اور اللہ نے اس کو علم کے باوجود گمراہ کردیا اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا، پس اللہ کے بعد اس کو کون ہدایت دے سکتا ہے، تو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے

اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف اپنی خواہشوں پر عمل کرنا اپنی خواہشوں کی عبادت کرنا

الجاثیہ : ٢٣ میں فرمایا : ” پس کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالیا “۔ الاٰیۃ

کتنی بار ایسا ہوتا ہے کہ ہمارا دل کسی کام کرنے کو چاہتا ہے اور ہم کو علم ہوتا ہے کہ اللہ سبحانہ ‘ نے اس کام سے منع کیا ہے اور وہ اس سے ناراض ہوتا ہے لیکن ہم اللہ تعالیٰ کے منع کرنے کے باوجود اس کام کو کرتے ہیں اور اپنی خواہش پر عمل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل نہیں کرتے، سو بتائیں کہ ان مواقع پر ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی عبادت کرتے ہیں یا اپنی خواہش کی اتباع اور اپنے نفس کی اطاعت اور اس کی عبادت کرتے ہیں، اگر ہم اپنے دن اور رات کے تمام کاموں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکام کے سامنے دن اور رات میں کم سرجھکاتے ہیں اور اپنی خواہش کے سامنے زیادہ سر جھکاتے ہیں۔ اسی طرح کوئی شخص اپنی خواہش سے حضرت عیسیٰ یا حضرت عزیر کی عبادت کرتا ہے، کوئی رام اور کرشن کی عبادت کرتا ہے، کوئی لات اور منات کی عبادت کرتا ہے، کوئی ستاروں کی عبادت کرتا ہے، کوئی آگ اور پیپل کی عبادت کرتا ہے، یہ سب اپنی خواہش کے بنائے ہوئے بتوں کی پوجا کرتے ہیں، اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔

بعض بندوں کو رسول بنانے اور بعض کو گمراہ بنانے کی توجیہ

اس کے بعد فرمایا :” اور اللہ نے اس کو علم کے باوجود گمراہ کردیا “۔

اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا، اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے احکام کے مقابلہ میں اپنے نفس کی اطاعت کی اور اپنی خواہش کے آگے سر جھکایا، حالانکہ اس کو علم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کاموں سے راضی نہیں ہے اور اس نے ان کاموں سے منع فرمایا ہے، اس کے باوجود اس نے اپنے علم کے تقاضے پر عمل نہیں کیا اور اس نے علم کے باوجود گمراہی کو اختیار کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر گمراہی کو پیدا کردیا اور اس معنی کو اللہ تعالیٰ نے یوں تعبیر فرمایا : ” اور اللہ نے اس کو علم کے باوجود گمراہ کردیا۔ “

اللہ تعالیٰ کو اس کے متعلق علم تھا کہ اس کی روح کا جو ہر نیکی اور پرہیزگاری کو قبول نہیں کرے گا اور جب اس کو اختیار دیا جائے گا تو وہ ہدایت کے مقابلہ میں گمراہی کو اختیار کرے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے کفر اور گمراہی کو مقدر کردیا اور جس کے متعلق اللہ کو علم تھا کو اس کی روح کا جو ہر نیکی کو اور تقویٰ اور طہارت کو قبول کرے گا وہ نہ صرف نیک ہوگا بلکہ دوسروں کو نیک بنائے گا اور اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ اور اشاعت کے راستے میں ہر قسم کی مشقت اور صعوبت کو برداشت کرے گا، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبوت اور رسالت کو مقدر کردیا، لہٰذا فرمایا :

اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ۔ (الانعام :124)

اللہ خوب علم ہے کہ وہ اپنی رسالت کو کہاں رکھے گا۔ امام فخر الدین محمد بن عمررازی متوفی ٦٠٦ ھ فرماتے ہیں :

تحقیق یہ ہے کہ ارواح بشر یہ کے جو ہرا مختلف ہوتے ہیں، ان میں سے بعض مشرقہ نورانیہ علویہ الٰہیہ ہوتے ہیں جن کا اللہ کی ذات وصفات کی طرف میلان ہوتا ہے اور بعض میلے سفلیہ ہوتے ہیں جن کا جسمانی شہوتوں کی طرف بہت زیادہ میلان ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے جوہر ذات کے اعتبار سے اور اس کی حقیقت اور اس کی صلاحیت کے اعتبار سے اس کے متعلق ارشاد فرمایا : پس مردودین کے متعلق فرمایا :

واضلہ اللہ علی علم۔ (الجاثیہ :23) اور اس کو اللہ نے علم کے باوجود گمراہ کردیا۔ اور مقبولین کے متعلق فرمایا :

اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ۔ (الانعام : 124) اللہ کو خوب علم ہے کہ وہ اپنی رسالت کو کہاں رکھے گا۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٦٧٨، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

کفار کے کان اور دل پر مہر لگانے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈالنے کی توجیہ

اس کے بعد فرمایا : ” اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا “۔

اس کے کان پر مہر لگادی یعنی اس کے کان کو ایسا بنادیا کہ وہ وعظ اور نصیحت کو قبول نہیں کرتا اور حق بات کو قبول نہیں کرتا اور اس کے دل پر مہر لگانے کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید کے دلائل اور نشانیوں میں غور وفکر نہیں کرتا اور اس کے احکام پر عمل کرنے کا ارادہ نہیں کرتا اور حق کے پیغام کو قبول نہیں کرتا اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا، جو دیکھنے اور اعتبار کرنے سے مانع ہے، غشاوۃ سے مراد وہ پردہ ہے جو آنکھوں کو ڈھانپ لے اور اس کے لیے دیکھنے اور اعتبار کرنے سے مانع ہو۔ اور غشاوۃ میں تنکیر تنویع کے لیے ہے، یعنی یہ ایک خاص نوع کا پردہ ہے اور یا تنوین تعظیم کے لیے ہے یعنی بہت عظیم پردہ ہے۔

اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے :

اللہ سبحانہ ‘ نے کفار مکہ کے ککان پر مہر لگا دی، پس ان کو ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطاب سننے سے محروم رکھا اور ان کے دل پر مہر لگادی تو ان کو آپ کے خطاب کے سمجھنے اور اس کے حقائق اور دقائق، اس کے نکات اور اس کے اسرار و رموز سمجھنے سے محروم رکھا اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تو ان کو آپ کے حسن و جمال کے دیدار کرنے سے محروم رکھا۔

قرآن مجید میں ہے :

وان تدعوتھم الی الھدی لا یسمعوا وترھم ینظرون الیک وھم لا یبصرون۔ (الاعراف :198)

اور اگر آپ ان کو ہدایت کی طرف دعوت دیں تو وہ نہیں سنیں گے اور آپ ان کو اس حال میں دیکھیں گے کہ وہ (بظاہر) آپ کی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور وہ (حقیقت میں آپ کو) بالکل نہیں دیکھ سکتے شاہ ولی اللہ اپنے والد شاہ عبدالرحیم سے حکایت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

شاہ عبدالرحیم فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت سے مشرف ہوا اور آپ سے یہ سوال کیا کہ جمال یوسف کو دیکھ کر مصر کی عورتوں نے انگلیاں کاٹ لی تھیں، پھر کیا وجہ ہے کہ آپ کو دیکھ کر کسی نے اپنی انگلیاں نہیں کاٹیں ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے غیرت کی وجہ سے میرے جمال کو لوگوں کی نگاہوں سے مخفی رکھا۔ (انفاس العارفین ص ١٠٢، ملخصا، مطبوعہ اسلامک بک فائونڈیشن، لاہور، ١٣٩٨ ھ، الدرالثمین ص ٧، مطبوعہ دہلی)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام کو سننا اور آپ کا ادراک کرنا اور آپ کے جمال جہاں آراء کو دیکھنا ایک نعمت ہے۔ کفار کو ان کے کفر کی وجہ سے اس نعمت سے محروم رکھا گیا، آپ کے کلام کو سننے کے لیے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کے کان ہونے چاہئیں اور آپ کے چہرہ انور کو دیکھنے کے لیے حضرت عثمان اور حضرت علی (رض) کی آنکھیں چاہئیں، کفار کی آنکھیں کب اس لائق تھیں کہ آپ کا دیدا کرسکتیں، کفار یہ کہتے تھے :

وقالو قلونبا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ وفی اذاننا وقرو من بیننا وبینک حجاب (حٰم ٓ السجدۃ :5)

کفار نے کہا : جس دین کی طرف آپ ہمیں دعوت دے رہے ہیں اس کے متعلق غور کرنے کے لیے ہمارے دلوں میں پردے ہیں اور اس کو سننے کے متعلق ہمارے کانوں میں ڈاٹ (بہرہ پن) ہے، اور ہمارے اور آپ کے درمیان حجاب ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ کفار نے کہا : ہم آپ کے پیغام کے متعلق سوچتے نہیں، آپ کا کلام سنتے نہیں اور آپ کو دیکھتے نہیں، اللہ تعالیٰ نے الجاثیہ : ١٣ میں فرمایا : اس کے کان اور اس کے دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈالدیا اور اس طرح یہ بتایا کہ واقعہ یہ نہیں ہے کہ تم ان کو سنتے نہیں ہو اور ان کو دیکھتے نہیں ہو، بلکہ ہم تمہیں ان کا کلام سناتے نہیں اور ان کا جمال دکھاتے نہیں۔

اس آیت کی ایک اور توجیہ اس طرح ہے کہ جب کوئی چیز اپنے مقصد اور غرض دغایت سے خالی ہو تو گویا کہ وہ چیز نہیں ہے، سو اللہ تعالیٰ نے کان اس لیے دئیے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو آپ سے بغور سنیں، دل اس لیے دیا تھا کہ آپ کے پیغام کو دل سے قبول کریں اور آنکھیں اس لیے دی تھیں کہ آپ کے حسن و جمال کو محبت سے دیکھیں اور جب انہوں نے آپ کے پیغام کو بغور نہیں سنا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” صم “ (البقرہ : 18) یہ بہرے ہیں اور جب زبان سے آپ کا کلمہ نہیں پڑھا تو فرمایا : بکم “ (البقرہ :18) یہ گونگے ہیں اور جب آپ کو محبت کی آنکھ سے نہیں دیکھا تو فرمایا : ” عمی “ (البقرہ :18) اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی۔ حاصل یہ ہے کہ آنکھیں اس کی ہیں جو محبت سے آپ کو دیکھے، کان اس کے ہیں جو محبت سے آپ کی باتیں سنیں اور زبان اس کی ہے جو محبت سے آپ کا کلمہ پڑھے۔

سورۃ البقرہ اور سورة الجاثیہ دونوں میں کانوں اور دلوں پر مہر لگانے کے الگ الگ محامل

اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کے کانوں اور دلوں پر مہرا اور ان کی آنکھوں پر پردے کا ذکر، سورة البقرہ : ٧ میں بھی کیا ہے اور یہاں الجاثیہ : ٢٣ میں بھی اس کا ذکر فرمایا ہے، اب ہم یہاں بتانا چاہتے ہیں کہ ان دونوں آیتوں میں کیا فرق ہے۔

سورۃ البقرہ میں فرمایا : ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلی ابصارھم غشاوۃ (البقرہ : ٧)

اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی اور ان کے کانوں پر، اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔

اور یہاں فرمایا : وختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشوۃ۔ (الجاثیہ : ٢٣ )

اللہ نے ان کے کان اور اس کے دل پر مہر لگادی اور اس کے آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔

سورۃ الجاثیہ میں اللہ تعالیٰ نے پہلے کان کا ذکر فرمایا ہے اور پھر دل کا ذکر فرمایا ہے اور سورة البقرہ میں پہلے دل کا ذکر فرمایا ہے اور پھر کان کا، کان اور دل کے مدرکات میں فرق یہ ہے کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان پہلے ایک کلام کو سنتا ہے پھر اس کا دل میں اثر ہوتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں پہلے سے کسی کے خلاف بغض اور حسد ہوتا ہے تو جب وہ اس کا کلام سنتا ہے تو اس بغض کی بناء پر بےتوجہی سے سنتا ہے اور پہلی صورت میں اس کے ظاہری اعضاء کا اثر دل پر ہوتا ہے اور دوسری صورت میں اس کے دل کا اثر اس کے ظاہری اعضاء پر ہوتا ہے، سورة الجاثیہ میں پہلے کان کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد دل کا اثر دل پر ہوتا ہے، کفار مکہ لوگوں سے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق یہ کہتے ہیں تھے کہ یہ کاہن اور شاعر ہیں اور انہوں نے ملک اور اقتدار کے حصول کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، پس جب ناواقف لوگ کفار مکہ سے یہ باتیں سنتے تو ان کے دلوں پر اثر ہوتا تو ان کے دلوں میں آپ کے خلاف غم وغصہ پیدا ہوتا اور وہ آپ سے متنفر ہوجاتے اور یہ کانوں سے دل کے متاثر ہونے کی صورت ہے اور اس پر سورة الجاثیہ محمول ہے اور دل کا اثر کانوں پر ہونے کا سورة البقرہ میں ذکر ہے کیونکہ جب دل میں کسی کے خلاف بغض اور حسد ہو تو وہ اس کی بات سنتاہی نہیں یا بےدلی اور بےتوجہی سے سنتا ہے اور اسکی طرف سورة البقرہ میں اشارہ ہے، اس لیے وہاں پہلے دلوں کا ذکر فرمایا اور پھر کانوں کا۔

جو اللہ، رسول اور ائمہ کو ہادی نہیں مانے گا وہ شیطان کا متبع ہوگا

اس کے بعد فرمایا : ” پس اللہ کے بعد اس کو کون ہدایت دے سکتا ہے، تو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے “

یعنی جب اللہ تعالیٰ نے کفار کی سرکشی، ان کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کی بناء پر ان کو اندھا، بہرا اور گونگا بنادیا اور ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے تو اب ان کو ہدایت دینے پر کون قادر ہوسکتا ہے، پس تم کو یہ جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہدایت دینے پر قادر نہیں ہے تو اب تم کیوں نصیحت کو قبول نہیں کرتے۔

اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ جو شخص صرف عقل کو رہنما مانتا ہے اور قرآن اور حدیث کو رہنما نہیں مانتا اور ائمہ مجتہدین میں سے کسی کی تقلید نہیں کرتا اور اپنے زمانہ کے اہل فتویٰ علماء کو حجت تسلیم نہیں کرتا اور قانونِ شریعت کا قلادہ اپنے گلے میں نہیں ڈالتا اور اپنی نفسانی خواہشوں کو پورا کرنے میں لگارہتا ہے اور دہریوں اور بےدینوں کے افکار کا تابع ہے، ان کے عقلی شبہات کو براھین قاطعہ سمجھتا ہے اور شیطان کے جال میں پھنسا ہوا ہے، وہ ہر قسم کی گمراہی میں بھٹکا ہوا ہے اور اس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 45 الجاثية آیت نمبر 23