کیا امام عبدالغنی مقدسی حنبلی کا فتوی یزید کی خلافت کے بارے میں صحیح سند سے ثابت ہے؟؟
کیا امام عبدالغنی مقدسی حنبلی کا فتوی یزید کی خلافت کے بارے میں صحیح سند سے ثابت ہے؟؟
سنابلی صاحب لکھتے ہیں:
وسئل عن يزيد بن معاوية؟ فأجاب: خلافته صحيحة. قال: وقال بعض العلماء: بايعه ستون من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، منهم ابن عمر.
اور (امام عبدالغنی سے) یزید بن معاویہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نےجواب دیا: اس (یزید بن معاویہ) کی خلافت صحیح ہے اور بعض علما کے بقول ساٹھ صحابہ نے ان کی بیعت کی تھی جن میں ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
[یزید بن معاویہ ص 841]
فضل چشتی لاہوری صاحب نے بھی یہی فتوی استدلال کے طور پر لکھا ہے اپنی کتاب “بیعت یزید سے انکار کا سبب” ص 43-44 پر۔
الجواب: ان صاحبان نے یہ فتوی تو نقل کر دیا ہے لیکن اس فتوے کی سند کی تحقیق نہیں کی آیا کہ یہ صحیح سند سے ثابت ہے کہ بھی نہیں!!
جب کہ یہ صاحبان اورجگہ تو بے سند اور ضعیف اقوال کا نعرہ لگا کر کئی اقوال اور فتاوی جات کو رد کر دیتے ہیں۔
خیر تحقیقی نقطہ نظر سے یہ فتوی امام عبدالغنی سے صحیح سند سے ثابت نہیں جیسے کہ امام ابن رجب اس فتوے کے ماخذ کے بارے میں لکھتے ہیں:
ذكر شيء من فتاوى الحافظ عبد الغني ومسائله نقلته من خط السيف بن المجد
فتاوی عبدالغنی اور ان کے مسائل سے کچھ چیزوں کا ذکر (کیا) ہے، میں نے ان کو السیف بن المجد کے خط سے نقل کیا۔
[ذیل طبقات الحنابلۃ لابن رجب ج1 ص 195]
امام ابن رجب کی بات سے ایک بات واضح ہوتی ہے انہوں نے ان فتاوی جات کو اپنی سند سے ذکر نہیں کیا بلکہ حافظ السیف بن المجد کے خط سے نقل کیا۔
حافظ السیف بن المجد نے امام عبدالغنی کا زمانہ نہیں پایا۔ ان کا پورا نام ابوالعباس سیف الدین بن المجد الدین عیسی بن موفق الدین عبداللہ بن احمد بن محمد بن قدامہ المقدسی الحنبلی ہے اور یہ 605 ہجری کو پیدا ہوئے تھے ان کی تاریخ پیدائش کے بارے میں امام ذہبی اس طرح لکھتے ہیں:
ولد سنة خمس وست مئة.
(یہ) پیدا ہوئے چھ سو پانچ سن (ہجری) کو
[سیراعلام النبلاء ج 23 ص 118 رقم 91]
اور امام عبدالغنی بن عبدالواحد بن علی بن سرور بن رافع بن حسن بن جعفر الجماعیلی المقدسی کی وفات 601 ہجری کو ہوئی جس کا ثبوت یہ ہے امام ابن رجب لکھتے ہیں:
وتوفي يوم الأربعاء خامس عشر من ربيع الأول إحدى وستمائة.
اور ان کا وصال بدھ کے دن 15 ربیع الاول سن 601 ہجری کو ہوا
[ذیل طبقات الحنابلۃ لابن رجب ج1 ص 196]
لہذا ثابت ہوا کہ حافظ السیف بن المجد امام عبدالغنی کی وفات کے 4 سال بعد پیدا ہوئے لہذا امام عبدالغنی اور حافظ السیف بن المجد کے درمیان انقطاع ہے۔
لہذا امام ابن رجب حنبلی نے امام عبدالغنی کے فتووں کو حافظ السیف بن المجد کے خط سے نقل کیا ہے اور انہوں نے حافظ السیف بن المجد کے خط کی متصل سند امام عبدالغنی تک بیان نہیں کی لہذا یہ انقطاع ہے۔
اس کے علاوہ حافظ السیف بن المجد جب اپنی سند بیان کرتے ہیں امام عبدالغنی تک تو اس میں کبھی دو تو کبھی ایک راوی کا واسطہ ہوتا ہے جس کا ثبوت یہ ہے:
قرأت بخط السيف أحمد ابن المجد: سمعت أحمد بن سلامة النجار يقول: إن الحافظين عبد الغني وعبد القادر أرادا سماع كتاب اللالكائي
[سیر اعلام النبلاء ج 21 ص 27 رقم 1]
وقرأت بخط السيف بن المجد: قال أبو الربيع سليمان بن إبراهيم الأسعردي: سمعت عبد القادر الرهاوي الحافظ يقول للحافظ عبد الغني:
[ذیل طبقات الحنابلۃ ج 1 ص 185]
لہذا ثابت ہوا کہ السیف بن المجد اور امام عبدالغنی کے درمیان ایک یا دو واسطوں کا فاصلہ ہے۔
لہذا تحقیق سے ثابت ہوا یہ فتوی امام عبدالغنی سے متصل صحیح سند سے ثابت نہیں ۔
لہذا سنابلی صاحب اور فضل چشتی صاحب کا اس فتوے کو دلیل بنانا باطل ہے۔
واللہ اعلم
خادم اہل بیت وصحابہ رضی اللہ عنہم
✍️رضاءالعسقلانی الشافعی غفراللہ لہ
11 محرم الحرام 1443ھ
20 اگست 2021ء

